الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جاہل کی علامت یہ ہےکہ ہرموقعہ پرغصہ کرےگا،رازکوافشاکرنے والاہوگا،ہرکسی پراعتمادکرےگا، غیرمناسب موقعہ پرنصیحت کرےگا۔
امام ابن منصور
سیراعلام النبلاء :12/ 213-214
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی آپکی ہر پسندیدہ چیز کو دوام (ہمیشگی) بخشیں تو ضروری ہے کہ آپ اللہ تعالی کی پسندیدہ چیز پہ ہمیشگی اختیار کریں۔"
[البداية والنهاية ١٠/٣٣٠]
ابن شوذب کہتے ہیں:
کچھ لوگ جمع ہوئے اور یہ بحث کرنے لگے کہ سب سے افضل نعمت کونسی ہے؟
تو ایک شخص نے کہا: ہمارے گناہوں کا ایک دوسرے سے چھپے رہنا!
حلية الأولياء [۱٣۱/٦]
امام ابن قیم رحمه اللہ فرماتے ہیں :
توکل علی اللہ تمام تر طاقتوں کا سرچشمہ ہے، جیسا کہ بعض سلف نے کہا: جس کی خواہش ہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قوت والا ہو اسے چاہیے کہ اللہ تعالی پر توکل کرے۔
[ زاد المعاد ٣٤٦/٢ ]
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
"کبھی کبھی ایک نیکی اس قدر سچائی (اخلاص) اور یقین پر مبنی ہوتی ہے کہ بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔"
(المستدرك على المجموع ٩٦/٣)
علم کے نافع ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ آدمی کو دنیا سے بیزار کرتا ہے، جس میں ریاست، شُہرت اور تعریف کی بھوک سرِ فہرست ہیں۔
(حافظ ابن رجب رحمہ الله || فضل علم السلف على الخلف : ٨٥)
”میں سمجھتا تھا کہ اس امت کا مسئلہ عقیدے کا ہے، مگر مجھ پر واضح ہوا کہ مسئلہ عقیدے اور اخلاق دونوں کا ہے۔“
[ الإمام الألباني رحمه الله || الهدى والنور، شريط : ٩٠٠ ]
ربیع بن خثیم رحمه اللّٰه فرماتے ہیں :
" لوگ دو قسم کے ہیں ایک مؤمن اور ایک جاھل، پس مؤمن کو تکلیف نا دو اور جاھل کے ساتھ (الجھ) کر جہالت نا کرو-"
[ الزهد لأحمد : ١٩٦٦ ]
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم زمین کے چراغ، انسانیت کے راہ نما اور علم کے منتہی تھے۔"
امام ابن قتیبہ الدینوری رحمہ اللہ
( تاویل مشکل القرآن : 148 طبع دار الكتب العلمیة بيروت)
حافظ ابن رجب رحمہ الله فرماتے ہیں :
” انسان استغفار یعنی طلب مغفرت کا سب سے زیادہ محتاج ہے کہ وہ دن رات خطائیں کرتا ہے ۔“
( جامع العلوم والحكم : 427 )
حافظ ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"ہم ایسے دور میں موجود ہیں کہ جہاں (تقریبا) ہر شخص انصاف پر مبنی گفتگو کرنے سے قاصر ہے۔ اللہ ہمیں ناانصافی سے محفوظ رکھے۔"
(السير ١١٣/٨)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"میں فجر کی نماز جماعت سے پڑهوں یہ مجھے اس بات سے زیاده محبوب کہ میں رات بھر قیام کروں۔"
[ شرح البخاري لابن بطال: ٢٧٩ /٢ ]
"اگر نہ جاننے والا خاموش رہتا تو خود بھی سکون پاتا اور دوسروں کے لیے بھی باعث راحت ہوتا غلطی کم ہوتی اور درستی زیادہ!"
حافظ مِزّی رحمہ اللہ
(تهذيب الكمال #362/4) .