الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
میرا خیال ہے کہ اس راہ میں بطور زاد راہ صبر ہی کام آتا ہے اور مجھے آپ کی گفتگو میں صبر ہی نظر آیا اللہ تعالی کی مدد آپ کے شامل حال ہو اور استقامت، ہمت، حوصلہ، سب اسی کی عطا ہے سو الحمدللہ یہ عطا آپ کو ملی ہے تو صبر کے ساتھ شکر بھی ادا کریں
میں ماضی قریب میں ہی اس صدمہ سے گزرا ہوں کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہے اور ہمارا ایمان تقدیر الہی پر رضامندی کا ہے اللہ آپ کو صبر وجمیل عطا کرے اور ان کے لیے ولد صالح بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللہم آمین
إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون
اللهم وسّع قبره واجعله روضة من رياض الجنة واجعل جنان الفردوس منزله مع الأنبياء والصديقين والشهداء والصالحين.. واجمعه مع من تحب في جنان الخلد يارب العالمين
عظم الله أجركم وأحسن عزاءكم وألهمكم الصبر والسلوان
إن لله ما أخذ، وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى فلتصبر...
جب خلافت راشدہ کے صوبے قائم ہونا شروع ہوئے تو وہاں بھی یہی ماڈل اختیار کیا گیا۔ ہر شہر کے گورنر کا تعین اس شہر کے لوگوں کی رائے کے مطابق ہوتا۔ مشہور ہے کہ اہل کوفہ اور اہل بصرہ نے حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ادوار میں کئی مرتبہ اپنے گورنر کو ہٹا کر کسی دوسرے کو گورنر بنانے کا مطالبہ...
اگر خلیفہ وقت کی رائے ، عام لوگوں کی رائے سے مختلف ہوتی تو وہ اس وقت تک اپنی رائے کو نافذ نہ کر سکتے تھے جب تک کہ وہ انہیں قائل نہ کر لیتے۔ مشہور واقعہ ہے کہ جب عراق کی زمینوں کے انتظام کا مسئلہ درپیش ہوا تو اکثر صحابہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں فاتحین میں تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ...
عام حکومتی معاملات کو ان ہی دس صحابہ کی ایک کابینہ مل کر چلایا کرتی تھی جس کا سربراہ خلیفہ وقت ہوتا تھا۔ بڑے اور اہم مسائل کے حل کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب فیصلہ کرنا مقصود ہوتا تو "صلوۃ الجامعہ" کا اعلان کر دیا جاتا جس سے دار الحکومت کے تمام افراد مسجد نبوی میں جمع ہو جاتے جن میں خواتین بھی...
ہر قبیلے سے متعلق معاملات اس قبیلے کے ساتھ مشورے ہی سے طے پاتے۔ مرکزی حکومت کے لیے طریقہ کار یہ اختیار کیا گیا کہ تمام قبائل نے متفقہ طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قبیلہ قریش کی حکومت کو تسلیم کریں گے۔ چنانچہ خلیفہ کے انتخاب کا معاملہ قبیلہ قریش کے سپرد کیا گیا کہ...
ہمارے ایک ساتھی مبشر نذیر صاحب لکھتے ہیں :
خلفائے راشدین نے اپنے دور کے لحاظ سے جو نظام حکومت اختیار کیا، اسے ہم قبائلی وفاق کا نظام کہہ سکتے ہیں۔ اس نظام میں مشورے کی روح پوری طرح کار فرما تھی۔ عرب میں دور جاہلیت سے بہت سے قبائل آباد تھے۔ ان قبائل کو اپنی خود مختاری بہت عزیز تھی اور یہی وجہ...
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے کسی ایک نظام حکومت کو اپنانے کا حکم نہیں دیا کیونکہ مختلف حالات میں مختلف نظام حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم قرآن میں ایک بنیادی اصول بیان کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان جو بھی نظام حکومت اپنائیں، اس کی بنیاد "مشورے" پر ہونی چاہیے اور حکومت کے تمام امور لوگوں کو مل...
یہ فیس بک سے لی گئی ایک پوسٹ ہے
اسلام کا سیاسی نظام
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے زیر اہتمام سیمینار : علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی بتاریخ : ٢٨ -٢٩ اپریل ٢٠١٢ء
اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) جہاں ایک طرف امت مسلمہ ہندیہ کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، وہیں مختلف تازہ موضوعات پر سمینار کر کے اور اس...
پروفیسر سعود عالم قاسمی (علی گڑھ) : اسلام میں حکمراں کے انتخاب کا طریقہ
پروفیسر عارف الاسلام(علی گڑھ) : مغربی جمہوریت اور اسلام
پروفیسر عبد الخالق( علی گڑھ) : اسلام کا سیاسی نظام
پروفیسر محسن عثمانی ندوی(حیدر آباد) : حکمرانوں کا احتساب۔ ایک فریضہ
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی(دہلی) : اسلامی مملکت میں...
میں آپ کی بات سے جزوی طور پر متفق ہوں اور سید مودودی کا جو کام پروفیسر خورشید نے مرتب کر کے شائع کروایا ہے وہ بھی میرے علم میں ہے صرف ایک مودودی اور بس
میرے بھائی عرب علماء کی تحقیقات تو موجود ہیں یہ تو میں بھی جانتا ہوں لیکن ہمارے پاک و ہند کے علماء نے ابھی تک کیا کیا ہے یہ اعتراض نہیں بلکہ ایک سوال ہے جو بطور تشجیع کیا جا رہا ہے میں جامعہ ابی بکر میں حاضر العالم الاسلامیہ پڑھاتا ہوں میرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی نیا موضوع شروع کرتا ہوں...
اور اب دوسرا مسئلہ جو اسی سے متعلق ہے اس کے بارے میں بھی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
بَلْ إذَا قَرَأَهُ النَّاسُ أَوْ كَتَبُوهُ بِذَلِكَ فِي الْمَصَاحِفِ : لَمْ يَخْرُجْ بِذَلِكَ عَنْ أَنْ يَكُونَ كَلَامَ اللَّهِ تَعَالَى حَقِيقَةً فَإِنَّ الْكَلَامَ إنَّمَا يُضَافُ حَقِيقَةً...
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ العقیدۃ الواسطیۃ میں لکھتے ہیں:
وأن الله تكلم به حقيقة
یعنی بے شک اللہ تعالی نے اس کے ساتھ حقیقتا کلام کیا
یہ بات اس اصول پر مبنی ہے کہ تمام صفات باری تعالی حقیقی ہیں جب کلام اللہ حقیقت ہے تو پھر اس کا مخلوق ہونا غیر ممکن ہے اور غیر حقیقی ہے اس لیے کہ وہ ایک صفت...