الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
سماع اور ذکر
ابتداءً صوفیاءمحفل سماع میں حاضر ہوتے جو کسی ایک خاص مکان میں منعقد ہوتی اور ایک اچھی آواز والا کچھ موسیقی کے ساتھ گاکر ایسے اشعار سناتا جس نے دل نرم ہوجاتے اور ان میں زہد کی ترغیب ہوتی پھر نرمی کرتے ہوئے وہ غزل اور لیلیٰ اور سعدیٰ کے تذکرے گانے لگے اور کہتے یہ کہ ہماری ان سے مراد...
ہڈ حرامی اوربگاڑ
ابتداءً صوفیاءعبادت وریاضت میں واقعی سچے تھے اگرچہ ان کے بعض اعمال خلاف سنت بھی تھے جیسا کہ ہم ذکر کرآئے ہیں اس کے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے تکیے اور مسندیں بنائیں اور عیش وآرام کی دوکانیں(آستانیں)کھول کر بیٹھ گئے محنت مزدوری سے جان چھڑا کر کھانے پینے اور رقص و سرور اور ڈھول...
ابن الجوزی غزالی کے اس کلام پر لکھتے ہیں:اس کلام کا ایک فقیہ سے صادر ہونا مجھ پر بڑا گراں ہے اس کی قباحت مخفی نہیں یہ درحقیقت بساط شریعت کو لپیٹ کررکھ دیتا ہے (تلبیس ابلیس:323)۔
حدیث سے اس صوفیانہ اعراض کے نتیجے میں انہوں نے ہر طرح کی صحیح وسقیم سچی جھوٹی احادیث اپنی کتابوں میں بھرمار کردی...
علم حدیث اور صوفیاء
صوفیاءکے لئے خاص کر متاخرین صوفیاءکے لئے علوم شریعت خاص کر علم فقہ وحدیث کا اہتمام بڑا ہی مشکل ہے کیونکہ ان علوم سے ان کی جہالت آشکارا ہوجائے گی اور جب یہ فقہ وحدیث ان مریدین کے دل ودماغ میں سماگئے تو کوئی ان کی سیوا کرنے والا نہیں بچے گا جبکہ متقدمین صوفیاءعلوم شرعیہ کا...
تابعین بھی اسی تربیت گاہ میں رہے چنانچہ وہ ناپسند کرتے تھے کہ ان کے شاگرد ان کے پیچھے چلیں(کتاب العلم از زھیر بن حرب:146)۔ اور کہتے کہ تابع اورمتبوع دونوں کے لئے باعث فتنہ ہے(کتاب العلم:138)۔
صحابہ سے معروف نہیں کہ وہ رسول اللہ کے ہاتھ کا بوسہ لیتے ہیں ایسابہت نادر ہے بعض علماءاسے مطلقاً حرام...
تربیت کا یہی غلط طریقہ باپوں میں بھی منتقل ہوگیا وہ بھی اپنی اولاد کی جبری تربیت کرنے لگے جس سے بچے کی اپنی شخصیت کمزور پڑجاتی ہے۔اس انداز تربیت پر ہمارا تبصرہ درج ذیل ہے:
1 مرید کی تربیت کے یہ آداب انتہائی مکروہ ہیں ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ شیخ کی دین سے جہالت پر پردہ ڈالا جائے اور احترام...
صوفیاءکی عملی بدعات
پسماندہ تربیت
صوفیاءنے اپنے مریدوں کی تربیت کے ایسے قواعد بنائے ہیں جن کا مقدمہ مرید کو شیخ کے سامنے بالکل ذلیل کردینا ہے کہ بیچارا مرید ایک ڈول کھینچنے والا آلہ بن جاتا ہے اس کی اپنی کوئی شخصیت نہیں رہتی جو اس سے کہہ دیاجائے وہ اسے بلاسوچے سمجھے دہراتا رہتا ہے بلکہ یہ اندھی...
عقل کے زوال کی انتہاءصوفیاءشطح یعنی بکواس کہتے ہیں وہ یہ کہ ان کاکوئی شیخ نامعقول یا کفریہ یا زندیقیہ باتیں شروع کردے۔صوفیاءکہتے ہیں کہ اس نے حالت جذب یا حالت مستی میں ایسا کہا اور ہوش کی حالت میں وہ ان سے رجوع کرلیتا ہے شطح کی تعریف میں کہا جاتا ہے ایسا کلمہ جس پر رعونت طاری ہو اور ایسا دعویٰ...
کوئی ہمیں جھوٹا اور ظالم نہ سمجھے صوفیاءکے یہ نامعقول قصے شعرانی کی کتاب "الطبقات الکبریٰ"سے ماخوذ ہیں وہ ان قصوں کو نقل کرتا ہے اور اس پر بالکل تنقید نہیں کرتا کیونکہ اس کے عقیدے کے مطابق یہ سب صحیح ہے بلکہ مجذوبوں کے قصے بیان کرکے انہیں بنظر تحسین دیکھتاہے حالانکہ یہ کہاجاتا ہے کہ یہ قصے ان کے...
بکواسیات اور نامعقولیات
یہ روایت صحیح ہویا نہ ہو حقیقت یہی ہے کہ صوفیت میں عام رجحان عقل وعقلانیت سے دوری ہی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ احوال اور مقامات تک پہنچنے کے لئے عقل زائل کرنا ضروری ہے اسی لئے وہ اپنے مشائخ کے لیے ایسے واقعات بیان کرتے ہیں جن کا عقل سے بالکل واسطہ نہیں ہوتا جبکہ عقل...
اقطاب واتاد
جب ولی کا معنی قرآنی مراد سے علاوہ اپنی منشاءومرضی کے مطابق اختیار کیا گیا تو نتیجتاً صوفیاءنے اقطاب ،ابدال ،اوتادکی اصطلاحات وضع کرلیں جن پر اللہ کی طرف سے کوئی دلیل نہیں اور پھر ان اصطلاحات کو مقام مرتبے تک کے اعتبار سے ترتیب دیا جس طرح عیسائی اپنے دینداروں کو مراتب میں تقسیم کرتے...
یہ صحیح واقعات صحابہ کے لئے ثابت ہیں اور ان سے زیادہ واقعات تابعین کے بعد رونما ہوئے اہل السنۃ بدعتیوں کی طرح کرامات کے منکر نہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جس اللہ نے اسباب اور مسببات کو پیداکیا وہ اپنے بندوں کے لئے ان خرق عادت امور پر بھی قادر ہے لیکن صوفیاءصرف اس کے وقوع کو ہی صاحب کرامت کی...
معنی ولی اور اس کے ارتقاءاور اس کے شرعی معنی کے بیان ووضاحت کے بعد کرامات کے متعلق اہل السنۃ کا موقف بیان کرنا ضروری ہے نیز یہ کیا صوفیاءنے اس موقف کا التزام کیا یا نہیں اور کیا ولایت وکرامت میں کچھ تعلق ہے؟۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کائنات کا پیدا فرمایااور اس میں ایک محکم ومضبوط نظام جاری...
صوفیاءنے اس عقیدے میں شیعہ کی تقلید کی ہے وہ بھی اپنے ائمہ کو معصوم عن الخطاءسمجھتے ہیں صوفیاءکبھی اسے حفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
کلابازی کہتے ہیں کہ :"اپنے انبیاءکی عصمت اور اولیاءکی حفاظت میں اللہ کے طور طریقے ...."ولی کا سب سے بلند رتبہ صوفیاءکے نزدیک فناءہے یہ ولایت کا دروازہ ومقام ہے۔
ابن...
اولیاءاور کرامات
اولیاءاوران کی کرامات کے عنوان پر صوفیت ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے اس سے متعلق کتاب وسنت کی تعلیمات پیش کرنے سے قبل ولی کی تعریف اور اس لفظ کی ارتقائی حیثیت ایک اصطلاح کے اعتبار سے کے متعلق گفتگو کرنا ضروری ہے اس کے بعد ہم قابل قبول اورناقابل قبول کرامات کے متعلق گفتگو کریں گے...
نظریہ وحدت ادیان
صوفیت کی بہت سی خرافات وبکواسیات میں سے ایک وحدت ادیان بھی ہے جو بیمار ذہن کی پیداوارہے جس کا خیال یہ ہے کہ وہ انسانیت کے ہمدرد ہیں جبکہ درحقیقت اورموجودہ حالات ہیں یہ بڑی ہی سنگین فکر ہے کیونکہ کائنات وحیات سے متعلق سنن الٰہیہ سے متصادم ہے جن میں ایک سنت حق وباطل ،خیر وشر کے...
طریقت محمدی
غلو کی وادیوں میں سے ایک وادی وہ بھی ہے جس میں صوفی واقع ہوئے بلکہ وہ کفر کی وادی ہے یہ رسول اللہ کے متعلق غلو کا اور صوفیاءکا انہیں یونانی فلسفہ سے متاثر ہوکر پہلی مخلوق قرار دینے کا اور اس نصرانیت سے متاثر ہونے کا عجیب امتزاج ہے جو عیسیٰ کو الٰہی صفات سے متصف کرتی ہے۔
جسے وہ طریقت...
اس چیز نے صوفیاءکو ایک دوسری اصطلاح ظاہر اورباطن پر شیر کردیا صوفیاءنے دعوی کیا کہ قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے ظاہر وہ ہے جو ا س کے الفاظ سے فہم عربی اور سیاق وسباق اور دیگر تفسیری اصول کے مطابق لیاجائے اس کا اہتمام علماءظاہر کرتے ہیں جنہیں صوفیاءبطور تحقیر "رسمی علماء" کہتے ہیں باطن ان...
شریعت وطریقت
ان اصطلاحات کو صوفیاءباربار دہراتے ہیں اور انہیں اپنی دیگر اصطلاحات ظاہر وباطن سے لاحق کردیتے ہیں اس بحث میں ہم ان اصطلاحات کے معانی اور ان کے باہمی تعلقات کو اجاگر کریں گے ۔شریعت ان کی نگاہ میں عملی اور تکلیفی احکام کے مجموعے کا نام ہے جسے فقہ اسلامی کہتے ہیں اور حقیقت (طریقت)ان...
اس بحث کے اختتام سے قبل مناسب ہوگا کہ ہم ابن عربی اور اس کے تلامذہ کے متعلق بعض علماءکی آراءنقل کردیں یعنی اس کی وجودی فکر کے اعتبار سے ۔شیخ ابومحمد بن عبدالسلام ابن عربی کے متعلق کہتے ہیں:وہ برا شیخ قبیح اور کذاب ہے وہ عالم کو قدیم کہتا تھااور شرم گاہ کو حرام نہ کہتا تھا(یعنی ماں بہنیں وغیرہ...