الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جی کرلیں شروع ۔
( احتیاطا اس کی ایک کاپی اپنے پاس بھی محفوظ رکھیں ۔ تاکہ اگر آپ کی کاوش فورم پر شائع ہونے کے قابل نہ ہوئی تو کسی اور جگہ اس کو شائع کرلیجیے گا ۔ )
ایک گزارش یہ بھی ہے کہ آپ صوفی اکٹھا کرنے پر بڑی محنت صرف کررہے ہیں ذرا قرآن وسنت سے اس کے دلائل کی تلاش پر بھی اپنی توجہ کا کچھ حصہ...
تمام اراکین ( بلا تفریق سنی و شیعہ ) سے گزارش ہےکہ علمی بحث و مباحثہ تک محدود رہیں ۔ ایک دوسرے پر جملے کسنے سے پرہیز کریں ۔
اور دوسری بات یہ کہ علمی بحث و مباحثہ میں صرف ’’ شراکتیں ‘‘ کرنے پر زور نہ دیں بلکہ پہلے مخالف کے دلائل کا جواب دیں پھر مزید اپنی بات رکھیں ۔
یہ ’’ لڑی ‘‘ حرب بن شداد صاحب...
حالیہ ’’ لڑی ‘‘ کے عنوان میں دعوی ہے کہ ’’ فقہ حنفی شریف کےمطابق مدینہ حرم نہیں ‘‘ ۔
اور چونکہ دعوی کی دلیل بزبان حنفی عالم دین بیان کردی گئی ۔ جس کی آپ کی طرف سے کسی قسم کی کوئی تردید نہیں ۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں دعوی درست ہے ۔ واللہ اعلم ۔
علامہ عینی کے بیان ’’ ليس للمدينة حرم كما كان لمكة ‘‘...
اشماریہ بھائی !
آپ پہلے یہ وضاحت فرمادیں کہ آپ ان دونوں باتوں میں کس کے قائل ہیں :
1۔ مدینہ اور مکہ دونوں حرم ہیں البتہ دونوں میں فرق ہے ۔
2۔حرم صرف مکہ ہے ۔ مدینہ حرم نہیں ۔
خلاصہ یہ کہ :
کسی بھی عبادت کے قابل قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر دو شرطیں پائی جائیں :
اول : اخلاص ، یعنی پختہ نیت یہ ہو کے عبادت صرف اللہ ہی کےلیے ہے ۔
دوم : اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یعنی عبادت سنت رسول کے مطابق ہو ۔اور یہ اسی وقت ممکن ہےجب اس کے اندر مذکورہ چھے اوصاف موجود...
بھائیو :
ایک اہم بات یہ بھی جان لینی چاہیے کہ کوئی بھی عمل اتباع رسول کے مطابق اسی وقت ہوگا جب اس کے اندر پائے جانے والے چھ اوصاف شریعت سے ثابت ہوں :
اول : سبب ( اس عبادت کا سبب شریعت سے ثابت ہونا چاہیے )
اگر کوئی انسان اللہ کی عبادت کسی ایسے سبب کی بناء پر کرتا ہے جو غیر شرعی ہے تو وہ عبادت...
يہاں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ :
بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو عہد نبوی میں معروف نہیں تھیں لیکن آج کل مسلمانوں کے ہاں وہ رواج پاگئی ہیں مثلا مدارس کا قیام کتابیں تصنیف کرنا ،اب یہ بھی بدعت ( نئی چیز ) ہیں لیکن ان کو سب ہی اچھا سمجھتے اور ان پر عمل کرتے ہیں بلکہ بہترین کام سمجھتے ہیں ۔
تو کیا مسلمانوں...
(ايك اشكال دو جواب : )
مجھے محسوس ہورہا ہےکہ آپ کے ذہنوں میں یہ اشکال کھٹک رہا ہے کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہم کو باجماعت قیام رمضان کی ذمہ داری سونپنا اور پھر فرمانا :
" نعمت البدعة هذه، والتي ينامون عنها أفضل من التي يقومون ".
[مؤطا مالك ص 114 ت...
اے مسلمان !
اگر گزشتہ باتوں کی صحیح سمجھ آگئی ہے تو پھر یہ جان لینا چاہیے کہ ہر وہ چیز جو دین کے اندر ایجاد کرلی جائے چاہے اچھی نیت سے ہی کیوں نہ ہو وہ گمراہی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ کے دین کے اندر طعن اور اللہ کے اس فرمان کو جھٹلانے کے مترادف ہے ۔
کیونکہ شریعت کے اندر نیا کام ایجاد کرنے والا یہ...
محترم بھائیو ! بعض لوگ قرآن کی آیت :
{وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ}( الأنعام : 38 )
''اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند...
الإبداع في بيان كمال الشرع و خطر الابتداع تأليف : فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمه الله
اردو ترجمہ بعنوان :
شريعت كا كمال اور بدعت كے خطرات
پر
ایک انوکھی تحریر
مترجم : حافظ خضر حيات ( متعلم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ )
( نوٹ : ترجمہ کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات اور احادیث و آثار کے حوالہ جات...
آپ اگر اس ’’ لڑی ‘‘ کا عنوان دیکھیں تو موضوع کا تعین ہو جائے گا ۔
جو کچھ مطلوب تھا ۔ اس کی وضاحت کردی گئی ۔ اہل حدیث جس نتیجے پر پہنچے ہیں اس سے کوئی اختلاف ہے تو بیان کریں ؟
کیونکہ اس موضوع کی انتہاء پر یا تو آپ بھی اس عقیدے کی بدعیت کے قائل ہوں گے یا پھر ہمارے لیے بھی اس کو سنت سے ثابت کردیں...
ٹھیک ہے اگر ماقبل کی بحث پر ہی ابھی سیر حاصل بحث نہیں ہوئی تو پھر نئے سوال کو ایک طرف کیجیے اور ذرا وضاحت فرمادیں کہ آپ کی کون سی بات یا اشکال ہے جو تشنہ بحث رہ گیا ہے ۔ میں نے اپنے تئیں تمام ضروری باتوں پر تبصرہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔
حافظ زبیر علی زئی صاحب رحمہ اللہ نے موطاء ( بروایۃ ابن القاسم ) کی تحقیق و تخریج کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے اور ساتھ حواشی بھی لگائے ہیں ۔
کتاب کے مقدمہ میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ مؤطا مالک کی مختلف روایات ہیں مثلا ’’ روایت یحیی بن یحیی ‘‘ ’’ روایت ابی مصعب ‘‘ اور روایت ابن...
مولانا حنیف ندوی صاحب نے ایک کتاب لکھی ہے :
افکار ابن خلدون
امید ہے اس کتاب کے مطالعہ سےآپ مطلوبہ معلومات تک پہنچ سکیں گے ۔
ابن خلدون کی کتاب ’’ مقدمہ ‘‘ بھی اردو میں موجود ہے ۔ اس کے شروع میں تقریبا 100 صفحات پر مشتمل مقدمہ ہے جو ابن خلدون اور اس کی تصنیفات اور منہج کے تعلق سے ہی ہے ۔
اراکین سے گزارش ہے کہ ’’ تعریضات ‘‘ میں ذرا احتیاط فرمائیں ۔ اور معزز ہستیوں کے بارے میں گفتگو میں بے احتیاطی پر مشتمل ’’ شراکتیں ‘‘ حذف بھی ہو سکتی ہیں ۔