الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مزید شرح درکار ہے۔ آیا جن لوگوں کو نیک کاموں کی مہلت ملی وہ بھی اسی کے مصداق ہیں یا جو لوگ ایمان لائے لیکن مہلت ملے بغیر فوت ہو گئے۔ جزاک اللہ خیرا۔
جس نے کبھی کوئی خیر کا کام نہیں کیا وہ بھی جنت میں داخل ہوگا (شرح حدیث شفاعت) :
اسی حدیث سے شیخ البانی وغیرہ نے...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
خَلِیْفَۃُ سے مراد ایسی قوم ہے جو ایک دوسرے کے بعد آئے گی اور یہ کہنا کہ انسان اس دنیا میں اللہ تعالٰی کا خلیفہ اور نائب ہے غلط ہے۔
سورہ بقرہ آیات 30 تفسیر احسن البیان
رہا یہ کہ تاریخ کے سفر میں انسان بہت سے اپنے ہی سائنسی نظریات بدلتا اور ردّ کرتا چلا آیا ہے، تو اِس سے یہ کہاں طے پا گیا کہ ہمیشہ ہی ایسا ہوتا رہے گا، اور کبھی کوئی نظریہ حتمی شکل اختیار ہی نہیں کر سکے گا؟ جب تک نظریات، مفروضہ (Hypothesis) کے phase میں ہوتے ہیں، اور ان کو تجربات کی مدد سے پرکھا...
خالق کے قائم کردہ ان طبیعی اصولوں کو ماننا نیچریت نہیں ہے۔ کیونکہ نیچرسٹ تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان اصولوں کو غیر استثنائی مانتے ہیں اور خود خالق کوایک طرح سے ان اصولوں کے آگے مجبور۔ جبکہ ایمان والے تو ہر ایک وقوعے کی نسبت خدائے علیم وحکیم کی طرف ہی کرتے ہیں۔اس کی انفرادی حیثیت میں بھی اور کسی...
کائنات میں موجود طبعی قوانین کو ملحدین نے اتنا بڑھایا کہ اسے خدا سمجھ لیا، طبیعی اصولوں کے کسی نظام کے پائے جانے کی وجہ سے خدا کی ضرورت کا ہی انکار کر بیٹھے ، انکی دلیل یہ ہے کہ جب ہر واقعہ کچھ لگے بندھے اصولوں کے تحت انجام پارہا ہے تو خدا کا ارادہ ہرواقعے کے پیچھے تو کارفرما نہ ہوا!
یہاں جو...
عقلیت پرستی کے دور کا دوسرا بڑا امام نیوٹن ہے. سائنس میں اس کا سب سے بڑا کارنامہ “کشش ثقل کے قانون” کی دریافت ہے. لیکن مغربی ذہن پر اس کا اثر بہت گہرا پڑا ہے. یہ قانون معلوم کر کے اس نے گویا یہ دکھا دیا کہ کائنات کا نظام چند واضح قوانین کے ذریعے چل رہا ہے. اگر انسان اپنی عقل (جزوی) کی مدد سے یہ...
عقل پرستی کا دور
عقلیت پرستی کی داستان یہ ہے. سترھویں صدی کے وسط تک لوگ یہ طے کر چکے تھے کہ انسان کی جدوجہد کا میدان یہ مادی کائنات ہے، اور انسان کا مقصد حیات تسخیر فطرت یا تسخیر کائنات ہونا چاہئے. بیکن نے مطالعہ فطرت کا طریقہ بھی مقرر کر دیا تھا. اب سوال یہ تھا کہ انسانی صلاحیتوں میں کونسی...