• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    8--- فلم میں مذہب پر عمل پیرا ہونے کی وجہ خوف کو قرار دیا گیا ہے ۔ عامر خان واضح طور پر کہتا ہے کہ ''جوڈرتا ہے، وہی مندر جاتا ہے ۔'' یعنی مذہب کی پیروی صرف اور صرف خوف کے تحت ہی کی جاتی ہے ۔ اس کے لئے امتحانات کے تناظر میں طلبہ کے خوف کو دکھایا گیا ہے ۔ دراصل ہمارے ہاں بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے...
  2. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    7---فلم میں ایسے ڈائیلاگ شامل ہیں جن سے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عبادات کے لئے پیسہ خرچ کرنے کی بجائے لوگوں کی مدد کی جائے۔ یہ سب ہندووں کی جانب سے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے کی جانے والی عبادات کے تناظر میں دکھایا گیا ہے ، مثلا ًدودھ پھینکنا وغیرہ ۔ ہمارے ہاں بھی باقاعدہ ایک طبقہ ایسا...
  3. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    6--- اسی طرح ہندووں کی عبادات کے مافوق الفطرت ہونے ، توہم پرستی اور انسانیّت سوز ہونے کا ذکر کرتے کرتے اسلامی عبادات کو بھی اس تناظر میں بھی دیکھنا انصاف کا تقاضانہیں ہے ۔ ہندو بھرت اور اسلامی روزہ ایک جیسی مذہبی عبادت نہیں ۔ روزہ صرف کھانا پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں ۔ ایک مسلمان کو روزہ رکھ...
  4. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    5---ایک موقعے پر عامرخان مندر کے چندہ بکس سے رقم چراتا ہے ، اور منطق یہ دیتا ہے کہ چونکہ اس کا کام نہیں ہوا، اس لئے وہ اپنی رقم واپس لینے آیا ہے ، وہ خدا کے مینیجرز کو یہ رقم استعمال نہیں کرنے دے گا ۔ اس سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ چندے وغیرہ کی رقم جیسے مذہبی رہنماؤں کی ذاتی ملکیت بن جاتی ہے اور...
  5. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    4---اس فلم میں مذہب پر ایک بنیادی اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ مذہب کی حقیقت ایک خاندانی روایت، اور دین آبا سے زیادہ کچھ نہیں۔ لوگ اسی لیے مختلف مذاہب پر عمل کرتے ہیں کیونکہ انکی نسل و خاندان کا وہی دین ہوتا ہے۔ مذہب کے جواز اور ضرورت کو صرف اس ظاہری پہلو اور خاندانی ٹھپّہ سے منسلک کردینا بھی اسلام...
  6. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    3--- ایک مو قعے پر مختلف روپ دھارے افراد کو پیش کیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ مذہب تو صرف ظاہری روپ کا نام ہے ۔جس نے جو روپ دھار لیا، وہ ہی اس کا مذہب ہو گیا۔ اگر اس اُصول کو ٹھیک مان لیا جائے تو آج کے اسلامی معاشرے کا ایک بڑا طبقہ تو مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔اسلامی طرزِ...
  7. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    2---فلم میں کئی مواقع پرخدا، رام یا اللہ کے 'مینیجرز 'کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ اس لفظ کا استعمال ہی ایک واضح پیغام ہے کہ دین سے منسلک افراد کو تجارتی اور ذاتی مفادات کے روپ میں دکھایا جائے ۔ اُنہیں اس طرح دیکھا جائے کہ جیسے وہ خدا کے نام پر تجارت اور لوگوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کے ذمہ دار ہیں...
  8. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    1--- فلم کا ہیرو عامر خان ایک موقعے پر کہتا ہے کہ ''اللہ کو ہماری مدد کی ضرورت نہیں ۔'' یہ انتہائی سادہ سا جملہ لگتا ہے ۔ لیکن کیا ایسا نہیں ہے کہ ایک پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ دعوتِ دین سے منسلک اور پیغامِ الٰہی کی دعوت دینے والے تمام علماے دین ،سکالرز اور دیگر افراد ایک فضول اور بے مقصد...
  9. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    یہ ٹھیک ہے کہ اس فلم میں ہندومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا اسلام سمیت کسی دوسرے مذہب کی حقا نیت ثابت کرنے کے لئے نہیں کیا گیا ۔ بلکہ اس کا واضح مقصد مذہب بیزاری، لادینیت اور سیکولرنظریات کا فروغ ہے ۔بظاہر ہندو پنڈت ، سادھو اور گرو ہدف بنائے گئے ہیں اور یہ فلم ان...
  10. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    میڈیا کی تعلیم اور موجودہ دور میں میڈیا کو معاشرتی تبدیلی کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے حقائق کے پیش نظر ہمیں یہ خیال ستانے لگا کہ چلو کچھ تو اس بارے میں اپنی رائے بھی دی جائے تاکہ بے دھیانی میں ایک خاص رو میں بہہ جانے والے اپنے مخلص احباب کو تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر آئے۔ سب سے...
  11. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    فلم 'پی کے'کی پذیرائی اور مقبولیت نے بہت سے دینی حلقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لاہور کے ایک ایسے ہفت روزہ جہادی اخبار میں بھی اس فلم کا تذکرہ ہوا کہ جو ہندوستان پر تنقید اور ہندومت کا پوسٹ مارٹم کرنے میں شہرت رکھتا ہے ۔ اس فلم کے سبق کو اسلام کی سچائی کی علامت قرار دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ...
  12. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    اوپر راقم اس ساری صورتحال کا جائزہ پیش کرچکا ہے جو بھارت میں ہندومت اور سیکولرازم کی کشمکش کے حوالے سے جاری ہے ۔ یہاں ہم حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم 'پی کے' کا جائزہ نذرِ قارئین کرتے ہیں جس نے نہ صرف مقبولیت اور کمائی کے ریکارڈ بنائے ہیں بلکہ کئی طرح کی نئی بحثوں کو بھی جنم دیا ہے۔ یوں تو فلم...
  13. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    میڈیا کی ایک اہم ترین تھیوری 'میجک بلٹ تھیوری 'ہے ۔ اس تھیوری کے مطابق میڈیا کسی بھی معاشرے پر گولی کی طرح اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔یعنی جیسے کسی ہتھیار سے نکلی ہوئی گولی آناً فاناً ہلاکت و تباہی کا باعث بنتی ہے، اسی طرح میڈیا بھی معاشرے میں ایسا ہی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت...
  14. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    فلم 'پی کے 'کی پذیرائی کا دوسرا رخ: اسلامی نظریات کے خلاف ذہن سازی ٹیکنالوجی کی ترقی نے میڈیا کو عالمی سیاست میں اہم ترین مقام عطا کر دیا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فوجی ، سیاسی یا اقتصادی طاقت کی بجائے میڈیا کو استعمال کرنے لگی ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ اب فوجی طاقت کے ذریعے کسی کو...
  15. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    حاصل کلام یہ کہ پاکستان کے دینی حلقوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف بھارت میں جاری مذہب اور سیکولرازم کے درمیان کشمکش پر بھرپور نظر رکھیں بلکہ بھارتی فلموں اور دیگر مواقع پر اسلامی نظریات و عقائد کو انتہائی غلط انداز میں پیش کرنے کی کوششوں سے بھی بھرپور آگاہ ہوں۔ زبان کی یکسانیت کے باعث یہ سارا مواد...
  16. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    10--فروری 2010ء میں ریلیز کی گئی فلم My Name is Khan کے گانے کو بھی پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان نے گایا ہے: ''اب جان لوٹ جائے ...یہ جہاں چھوٹ جائے ... سنگ پیار رہے ... میں رہوں نہ رہوں ... سجدہ تیرا سجدہ کروں .... میں تیرا سجدہ ...'' 11-- مارچ 2010ءمیں ریلیز کی گئی فلم 'پرنس' میں عاطف اسلم...
  17. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    7-- اگست2008ءمیں ریلیز کی گئی فلم' بچنا اے حسینو' کا گانا: سجدے میں یوں ہی جھکتا ہوں ....تم پہ ہی آکے رکتا ہوں ....کیا یہ سب کو ہوتا ہے.... ہم کو کیا لینا ہے سب سے.... تم سے ہی سب باتیں اب سے ....بن گئے ہو تم میری دعا ....خدا جانے میں فدا ہوں ....خدا جانے میں مٹ گیا ہوں ....خدا جانے یہ کیوں ہوا...
  18. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    4-- نومبر 2007ء میں ریلیز کی گئی فلم 'سانوریا'کے گانے کے الفاظ ہیں:'' جب سے تیرے نینا میرے نینوں سے لاگے رے ....تب سے دیوانہ ہوا ....سب سے بیگانہ ہوا ....ربّ بھی دیوانہ لاگے رے (نعوذباللہ) اسی فلم کے ایک اور گانے میں ماشاءاللہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ....دل نشیں دلکشی ہو یا جنت کا نور ہو،...
  19. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    1--اگست 1998ء میں ریلیز کی گئی فلم 'دل سے' کا گانا چھیّاں چھیّاں میں جنت اور آیات کے لفظوں کو کچھ یوں استعمال کیا گیا ہے: ''جن کے سر ہو عشق کی چھاؤں ، پاؤں کے نیچے جنت ہوگی ....چل چھیّاں چھیّاں ....تعویذ بنا کے پہنو اسے.... آیت کی طرح مل جائے کہیں.... وہ یار ہے جو ایماں کی طرح میرا نغمہ ،وہی...
  20. محمد نعیم یونس

    ہندوستان میں مذہب اور سیکولرازم کی کشمکش

    انتہائی معذرت کے ساتھ چند مثالیں صرف اس لئے پیش کی جا رہی ہیں کہ شاید ان کو دیکھ کر ہمارے دینی جذبہ رکھنے والے حلقوں میں کوئی بیداری پیدا ہو۔ وہ اس کو بھی ایک معاشرتی مسئلہ سمجھیں اور کبھی کسی فورم پر یہ بھی بات ہو کہ کس طرح انتہائی خاموشی سے ہمارے دل سے ذاتِ باری تعالیٰ ، قرآن اور مقدس الفاظ کی...
Top