بدریہ ایک قدم اٹھاتی،پھر کبھی حیرت سے واکر کو دیکھتی اور کبھی اپنے آپ کو۔۔اس کے لیے یہ سب اک عجوبے سے کم نہ ہو گا۔واکر کے سہارےقدم ٹکاتے وہ میز تک آئی اور میز پر رکھی کتابوں کو دیکھنے لگی۔۔وہ اچک اچک کر انہیں پکڑ رہی تھی۔۔گرچہ کتابیں اس کی دسترس سے باہر تھیں مگر وہ مسلسل کوشش کر رہی تھی۔۔اپنے سے...