الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
امام ابن القیم ؒفرماتے ہیں:
ایسی علتوں کا سہارا لینا جن سے خدا نخواستہ صحیح حدیث رد ہو جائے شدت پسندی ہے۔ اگر سنن رسول ﷺ کو ان علتوں کے سبب ترک کرنا شروع کردیا جائے تو صحیح احادیث وسنن کا تقدس پامال ہوجائے گا۔(شرح سنن ابی داؤد لابن القیم مع عون المعبود ج ۱۰؍ص ۳۴)
یہ اصول شاید اس لئے بنایا گیا...
قیاس کی شرائط :
قیاس اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک اس میں یہ اہم شرطیں موجود نہ ہوں۔
۱۔ اصل حکم شرعی ہو نہ کہ لغوی۔ کیونکہ لغات میں قیاس نہیں ہوا کرتا۔
۲۔ اصل ثابت ہو منسوخ نہ ہو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ کسی موقع ومناسبت سے ایک حکم دیا گیا پھر اس مناسبت کے ختم ہونے کے بعد دوسرا حکم آگیا اب...
حکم :
اسے حکم شرعی بھی کہتے ہیں۔ جس سے مراد وہ شرعی حکم ہے جو اصل میں آیا ہے۔ اورجسے فرع میں ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جیسے شراب کی حرمت اصل میں آئی ۔ فرع میں جو حکم ثابت ہوتا ہے وہ بذریعہ قیاس ہی ثابت ہوتا ہے جس کی مثال چرس کی حرمت ہے۔ عقائد، رویے اور تہذیب نفس ، ایمان، توکل، انابت، خوف، رجاء،...
قیاس کے ارکان:
قیاس کی تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قیاس کے چار ارکان ہیں۔ جو یہ ہیں۔ اصل، فرع، حکم اور علت۔
اصل:
اسے مقیس علیہ یا مشبہ بہ یا منصوص مسئلہ بھی کہتے ہیں۔ کسی مسئلہ کے بارے میں کوئی حکم جس نص سے ثابت ہو اس نص کو اصل کہتے ہیں۔ یعنی وہ جگہ جہاں حکم پایا جاتا ہے جیسے اوپر دی گئی...
قیاس
کتاب وسنت کی روشنی میں فقہ اسلامی کا تیسرا مأخذ :
صحیح قیاس ہے۔جس کی دلیل سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ہے جس میں آپ ﷺ نے اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ قبل تقریباً ۱۰ہجری میں انہیں یمن کا گورنر مقرر کرکے روانہ کیا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا: أَجْتَہِدُ رَأیِیْ وَلَا آلُو۔ قرآن...
اجماع کی اقسام :
فقہاء نے اس کی دو اقسام بیان کی ہیں۔ جن میں پہلی قسم کمزور شمار ہوتی ہے اور دوسری قوی۔یہ یاد رہے کہ اجتہاد کے لئے مجتہدین کی خاص تعداد مقرر نہیں۔ مسلمانوں کا کوئی مسئلہ دنیا کے کسی خطے میں اٹھے اس بارے میں اجتہاد ہو سکتا ہے۔
اجماع سکوتی :
ایک دو مجتہد علماء کسی مسئلہ کے...
امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
زمانہ صحابہ کے بعد اجماع کہیں نظر نہیں آتا۔بلکہ ایسا ناممکن ، مشکل اور غیر یقینی ہے۔ کیونکہ جن کا اجماع معتبر تھا وہ مختلف ممالک میں پھیل گئے اور بعد میں کبھی مل نہ سکے۔ یہی حال بعد کے علماء کا ہے۔ ان کی بات دل کو لگتی ہے اس لئے کہ چاروں مسلکوں کے اجماع کا دعوی تو مبالغہ...
اجماع کا موضوع:
اجماع کے لئے ضروری ہے کہ زیر بحث مسئلہ مسلمانوں کے شرعی امور ومعاملات سے تعلق رکھتا ہو۔ جس کی بنیاد عقیدہ پرہو یا اس سے ملتی جلتی ہویا اس سے متفرع ہوتی ہو۔
کیا اجماع ہوتا بھی ہے؟ اکثر فقہاء کرام کی رائے یہ ہے کہ اجماع ہونا ممکن ہے۔ذیلی مسائل میں نص موجود تھی مگر اس سے لاعلمی...
٭ …اسی طرح یہ کہنا کہ اس مسئلے پرائمہ اربعہ کا اجماع ہے درست نہیں اور نہ ہی یہ اجماع امت ہے ۔ایک تو یہ معاصر نہیں تھے اور دوسرا یہ کہ انہیں باہم مل بیٹھنے کا موقع نہیں ملا۔ مزید یہ کہ ایک مسئلے میں ان کی دو یاتین آراء بھی ہوتی ہیں۔ اسی طرح خلفائے راشدین کے اتفاق کو اجماع نہیں سمجھا گیا۔یہ بھی...
اجماع کے منعقد ہونے کی شرط:
جس مسئلہ پر اجماع ہو اس کی اولین شرط یہ ہے کہ وہ مسئلہ قرآن وسنت میں مذکورنہ ہو۔یا مبہم وغیر واضح ہویا وہ نص تاویل کے قابل ہو۔ پھراجماع کرنے والے مجتہد حضرات ہوں۔ نیز ان کے خیالات وافکار قرآن وسنت کے موافق ہوں۔ بدعتی یا روشن خیال اور بدعت کی طرف بلانے والے حضرات نہ...
اجماع کی دلیل:
کتاب وسنت میں بے شمار دلائل ایسے ہیں جو اجماع کی حجیت پر دلالت کرتے ہیں۔اور سبھی یہ شہادت بھی دیتے ہیں کہ معتبر اجماع وہی ہے جو کتاب وسنت کے ثابت شدہ احکام پر اہل اسلام کو متفق کردے۔مثلاً:
{ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم...
اجماع
جمہور علماء کے نزدیک فقہ اسلامی کا تیسرا مأخذ اجماع ہے۔ اس کے حجت ہونے کے دلائل قرآن وسنت سے ثابت ہیں۔ کیونکہ غلط چیز پر اہل علم کا متفق ہوجانا ناممکنات میں سے ہے ۔ امت کو صحیح اور حق دین دیا گیا ہے اس لئے وہ گمراہی پر مجتمع نہیں ہوسکتی۔ البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ مبالغہ آرائی سے ہٹ...
ًٖصحیح میزان:
متواتر لفظی کے بارے میں تو شک نہیں کہ سوائے ایک دو کے شاید ہی کوئی حدیث ہو جو اس کی تعریف پر پورا اترتی ہو۔ ہاں متواتر معنوی کے بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ وہ بکثرت پائی جاتی ہیں۔جس پر بحث آگے آرہی ہے۔
٭…مزید یہ کہ متواتر کے سلسلے میں حدیث کے مشہور ومعروف اصولوں کو ہم پیش نظر...
دوسری رائے اس حدیث کے متواتر ہونے سے انکاری ہے امام زبیدی لکھتے ہیں: بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث متواتر نہیں ہے کیونکہ اگر فرض کرلیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسی جماعت نے اسے نقل کیا ہے جن کی روایت سے علم ضروری حاصل ہوتا ہے تو دوسری جماعت کے سماع کے بارے میں علم ضروری کے حصول کا دعوی ممکن...
اصولی حضرات کے ہاں متواتر کی تعریف یہ ہے کہ ہر دور میں اسے ایک کثیر تعداد نے کثیر تعداد سے روایت کیا ہو کہ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق محال ہو۔یہ متواتر علم ضروری کا فائدہ دیتی ہے۔مثلاً استنبول ترکی کا ایک بڑا شہر ہے اور سورج روزانہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ ان دونوں کے علم میں فرق یہ ہے کہ پہلا تواتر کے...
٭…حدیث وسنت کی تین اقسام ہیں:
سنت قولیہ ، سنت فعلیہ اور سنت تقریریہ۔
٭…سنت ہمیں جس طرح وصول ہوتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ متواتر:
جسے راویوں کی جماعت نے جماعت سے تمام طبقات میں آخیر تک اس طرح روایت کیا ہو کہ عادتاً ان کا جھوٹ پر اتفاق ہونا یا موافقت ہوجانا ناممکن ہو۔ یہ سب روایت حسی یعنی...
کتابت حدیث:
رسول اکرم ﷺ نے ابتدا میں قرآن کے ساتھ کچھ اور لکھنے سے منع فرما دیا تھا مگر جب صحابہ کرام اچھی طرح یہ جان گئے کہ قرآن اور حدیث کی کتابت میں فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے تو آپﷺ نے اپنی احادیث لکھنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ خود بھی لکھوائیں۔ آپ ﷺ کے خطوط، جو آج مل گئے ہیں اور جو حدیث کی...
۳۔سنت وہ حکم پیش کرے جس کے بارے میں قرآن کریم خاموش ہو:
سنت کے وہ احکام جن میں قرآن خاموش ہے جیسے پھوپھی بھتیجی یا خالہ بھانجی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے کو حرام قرار دیا، شادی شدہ زانی زانیہ کو سنگسار کرایا، اور دو گواہ نہ مل سکنے کی صورت میں قسم کے ساتھ ایک ہی گواہی کو قبول کر لیا ۔ ایسے...
۲۔ سنت جو کتاب کی تفسیر کرتی ہو:
اس کی مراد بتاتی ہو۔ اس کے مطلق کو مقید کرتی ہو اور اس کے عام کو خاص کرتی ہو۔جیسے ظلم کو بیان کرنا:{ولم یلبسوا ٌیمانہم بظلم}(الأنعام: ۸۲) ظلم سے مراد شرک ہے۔یا الخیط الأبیض اور الأسود کو واضح کرنا اور اس کی تفسیر صبح کی سفیدی اور رات کی سیاہی کرنا۔ اور یہ اس...
سنت، قرآن کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہے؟ قرآن کے احکام کی مختلف صورتیں علماء نے بیان کی ہیں۔ سنت رسول یا تو ان کی مکمل تائید کرتی ہے یا ان کی وضاحت یا پھر وحی کے ذریعے اضافہ۔ ان کے علاوہ کوئی اور صورت ہے ہی نہیں ۔امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعین: ۲؍۳۰۷ میں لکھا ہے کہ قرآن کے احکام کے...