الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
296- بَاب الأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَبَعْدَهَا
۲۹۶- باب: ظہر سے پہلے اور اس کے بعد کی چار رکعت سنت کا بیان
1269- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ...
اہلِ فلسفہ کیونکر گمراہ ہوئے؟
متاخرین اہلِ فلسفہ نے یہ ٹھوکر اس وجہ سے کھائی کہ لفظ عقل کا مفہوم اہلِ اسلام کی زبان میں اور تھا اور یونانی فلسفیوں کی زبان میں کچھ اور۔ مسلمانوں کی زبان میں لفظ عقل{عَقَلَ یَعْقِلُ عَقْلًا} کا مصدر ہے۔
جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ...
نبوت کی فلسفیانہ تشریح
تو جب ابن سینا جیسے متاخرین فلاسفہ نے نبوت کو اپنےفاسد اصول کے مطابق ثابت کرنا چاہا تو یہ خیال کیا کہ نبوت کے تین خصائص ہیں، جوشخص ان تین خصائص سے متصف ہوگا۔ وہ نبی ہوگا۔ایک یہ کہ اس میں قوت علمی ہو، جسےوہ قوت قدسی کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے وہ بغیر سیکھے، علم حاصل کر...
عقولِ عشرہ کی حقیقت
لیکن ابن سینا کی طرح متاخرین اہلِ فلسفہ نے ان قدیم فلسفیوں اور پیغمبروں کی تعلیمات کو باہم ملا کر ایک معجون سا بنا دینا چاہا۔ان لوگوں نے کچھ اصول جہمیہ کے اور کچھ معتزلہ کے لے لیے اور ایک ایسا مذہب تیار کیا، جس سے اہلِ مذاہب کے فلسفی خود کو کسی حد تک منسوب کرتے ہیں۔ اس مذہب...
فلسفیانہ الحاد، مکاشفہ کے رنگ میں
صاحب الفصوص ابنِ عربی کی طرح ان لوگوں کا بھی یہی قول ہے کہ وہ اسی کان سے حاصل کرتے ہیں جس سے وہ فرشتہ حاصل کرتا ہے جس کے ذریعہ رسول کی طرف وحی ہوتی ہے۔اس لیے کہ انہوں نے بے دین فلسفیوں کا عقیدہ اختیار کیا، پھر اس عقیدے کو مکاشفہ کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا۔...
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت کی حیثیت
اور یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ولایت میں جو کہ ان کی رسالت سے بزرگ تر ہے شریک ہیں حالانکہ ان لوگوں کا یہ دعویٰ ان کی عظیم ترین گمراہی پر مبنی ہے کیونکہ ولایت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام تک نہ...
وہ مدعیانِ اسلام جو یہود و نصاریٰ سے بدترہیں
اور جو شخص یہ کہے کہ میں علمِ ظاہر میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا محتاج ہوں لیکن علمِ باطن میں نہیں ہوں۔ علمِ شریعت میں محتاج ہوں اور علمِ حقیقت میں ان سے مستغنی ہوں۔ وہ شخص ان یہود و نصاریٰ سے بدتر ہے جو یہ کہتے ہیں کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )...
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورعیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا تقابل
اس کے علاوہ اور بہت سے دلائل ہیں سب انبیاء کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی تھی اور خصوصاً محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ اپنی نبوت میں کسی اور کے محتاج نہیں، ان کی شریعت کسی سابق و لاحق کی محتاج نہیں۔ بخلاف دوسروں کے۔ چنانچہ مسیح...
انبیاء علیہم السلام اولیاء رحمہم اللہ سے افضل ہیں
اس لیے کہ اپنے اپنے زمانہ کے انبیاء علیہم الصلوٰۃوالسلام بھی اس امت کے اولیاء سے افضل ہیں اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ تمام انبیاء اور اولیاء اس شخص سے علم باللہ حاصل کریں جو اِن کے بعد آنے والا ہو اور خاتم اولیاء ہونے کا مدعی ہو اور یہ بھی نہیں کہ...
خاتم النبیین اور خاتم الاولیاء
ایک غلط روجماعت نے خاتم الانبیاء پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ خاتم الاولیاء، افضل الاولیاء ہے حالانکہ خاتم الاولیاء کا ذکر تک بھی مشائخ متقدمین میں سے بجز محمد بن علی الحکیم ترمذی کے کسی نے نہیں کیا۔ انہوں نے ایک کتاب تصنیف کی اور اس میں کئی جگہ غلطیاں کی ہیں،...
انعام یافتہ لوگ
سلف صالحین، ائمہ مجتہدین اور تمام اولیاء اللہ کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء علیہم السلام ان اولیاء سے افضل ہیں جو انبیاء نہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے جن سعادت مندوں پر انعام فرمایا ہے۔ ان کے چار مراتب قرار دئیے ہیں چنانچہ فرمایا:
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَفَأُولَـٰئِكَ مَعَ...
تمام انبیاءعلیہم السلام کا دین واحد ہے
حقیقت دین یعنی دینِ رب العالمین کی حقیقت تو وہ چیز ہے جس پر انبیا و مرسلین کا اتفاق ہے۔ اگرچہ ان میں ہر ایک کے لیے جداگانہ شریعت ومنہاج ہے یعنی فروعات مختلف ہیں۔
شریعت اور منہاج کا فرق اور مراد
راہ کے لیے قرآن کریم میں شرعۃ کا لفظ آیا ہے، جس سے مراد...
294- بَاب إِذَا أَدْرَكَ الإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
۲۹۴- باب: امام فجر پڑھا رہا ہو اور آدمی نے سنت نہ پڑھی ہو تواس وقت نہ پڑھے
1265- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ...