- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
78- بَاب الأَرْضِ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ؟
۷۸- باب: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟
۷۸- باب: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟
528- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لا تُزْرِمُوهُ>، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَصَبَّ عَلَيْهِ.
* تخريج:خ/الوضوء ۵۸ (۲۱۹)، الأدب ۳۵ (۶۰۲۵)، ۸۰ (۶۱۲۸)، م/الطہارۃ ۳۰ (۲۸۴)، ن/الطہارۃ ۴۵ (۵۳)، المیاہ ۲(۳۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۹۰)، وقد أخرجہ: ت/الطہارۃ ۱۲ (۱۴۷)، حم (۲/۲۲۹، ۲۸۲)، دي/الطہارۃ ۶۲ (۷۶۷) (صحیح)
۵۲۸- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اس کا پیشاب نہ روکو اطمنان سے کر لینے دو''، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا''۔
529- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ جَالِسٌ . فَقَالَ: اللَّهُمَّ! اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ، وَلا تَغْفِرْ لأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَقَالَ: < لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا > ثُمَّ وَلَّى، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ، بَعْدَ أَنْ فَقِهَ، فَقَامَ: إِلَيَّ، بِأَبِي وَأُمِّي، فَلَمْ يُؤَنِّبْ وَلَمْ يَسُبَّ، فَقَالَ: < إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لا يُبَالُ فِيهِ، وَإِنَّمَا بُنِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ وَلِلصَّلاةِ > ثُمَّ أَمَرَ بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ، فَأُفْرِغَ عَلَى بَوْلِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۷۳)، وقد أخرجہ: خ/الوضوء ۵۸ (۲۱۹)، د/الطہارۃ ۱۳۸ (۳۸۰)، ت/الطہارۃ ۱۱۲(۱۴۷)، ن/الطہارۃ ۴۵ (۵۳)، حم (۲/۵۰۳) (حسن صحیح)
۵۲۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ''تم نے ایک کشادہ چیز (یعنی اللہ کی مغفرت) کو تنگ کردیا'' پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آجانے کے بعد (یہ قصہ بیان کرکے) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: ''یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور صلاۃ کے لیے بنائی گئی ہے'' پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔
530- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ الْهُذَلِيِّ - قَالَ مُحَمَّدُ ابْنُ يَحْيَى: هُوَ عِنْدَنَا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ- أَنْبَأَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ، عَنْ وَاثِلَةَ ابْنِ الأَسْقَعِ؛ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: اللَّهُمّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا، فَقَالَ: < لَقَدْ حَظَرْتَ وَاسِعًا، وَيْحَكَ! أَوْ وَيْلَكَ ! > قَالَ، فَشَجَ يَبُولُ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ: مَهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < دَعُوهُ > ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۲۲۱) (صحیح) (سند میں عبید اللہ الہذلی ضعیف ہیں، لیکن ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہما کی سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
۵۳۰- واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے'' واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسے چھوڑ دو'' (پیشاب کر لینے دو)، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ ناپاک زمین پر پانی بہانا کافی ہے، اور اسی سے وہ پاک ہو جاتی ہے۔