• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب لا يَخُصَّ الإِمَامُ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ
۳۱- باب: امام صرف اپنے لئے دعا نہ کرے

923- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لايَؤُمُّ عَبْدٌ، فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۴۳ (۹۰)، ت/الصلاۃ ۱۴۸ (۳۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۵۰، ۲۶۰، ۲۶۱) (ضعیف)
(بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
۹۲۳- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص امامت کرے وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعا کو خاص نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی"۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
۳۲- باب: سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟​

924- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: <اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ وَمِنْكَ السَّلامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ>.
* تخريج: م/المساجد ۲۶ (۵۹۲)، د/الصلاۃ ۳۶۰ (۱۵۱۲)، ت/الصلاۃ ۱۰۹ (۲۹۸)، ن/السہو۸۲ (۱۳۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۲، ۱۸۴، ۲۳۵)، دي/الصلاۃ ۸۸ (۱۳۸۷) (صحیح)

۹۲۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیرتے تو (اپنے مصلے پہ قبلہ رو) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے: ''اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ وَمِنْكَ السَّلامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ''، یعنی: (اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے، اے بزرگی و برتری والے! تو بابرکت ہے)۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی سلام پھیرتے وقت جس ہیئت پر ہوتے اس ہیئت پر صرف اتنی ہی مقدار بیٹھتے جس میں یہ کلمات ادا کر لیں پھر قبلہ سے پلٹ کر چہرہ مبارک مصلیوں کی طرف کر لیتے کیونکہ صلاۃ فجر کے سلسلہ میں آیا ہے کہ آپ ﷺ اس کے بعد سورج نکلنے تک اپنی جگہ ہی میں بیٹھے رہتے تھے۔

925- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ مَوْلًى لأُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ: < اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلا مُتَقَبَّلا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۴، ۳۱۸، ۳۲۲) (صحیح)
(سند میں مولیٰ ام سلمہ مبہم ہے، لیکن ثوبان کی حدیث (جو أبو داود، و ترمذی میں ہے) سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)۔
۹۲۵- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب صلاۃ فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: ''اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلا مُتَقَبَّلا'' یعنی (اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں)۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہو کہ ''اللهم أنت السلام'' کے بعد جہاں صلاۃ پڑھی ہے اسی جگہ بیٹھے ہوئے دوسری دعا بھی پڑھ سکتے ہیں، اور پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ ﷺ نے ایسا بھی کیا کہ ''اللهم أنت السلام'' کے بعد اٹھ گئے، دوسری حدیث میں صلاۃ کے بعد آیۃ الکرسی اور تسبیحات کا پڑھنا وارد ہے، اور ممکن ہے کہ فرض کے بعد آپ ﷺ یہ چیزیں نہ پڑھتے ہوں بلکہ سنتوں کے بعد پڑھتے ہوں۔

926- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَأَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَابْنُ الأَجْلَحِ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <خَصْلَتَانِ لا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا> -فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ- < فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ سبَّحَ وَحَمِدَ وَكَبَّرَ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ >، قَالُوا: وَكَيْفَ لا يُحْصِيهِمَا؟ قَالَ: <يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ، وَهُوَ فِي الصَّلاةِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى يَنْفَكَّ الْعَبْدُ لا يَعْقِلُ، وَيَأْتِيهِ وَهُوَ فِي مَضْجَعِهِ، فَلا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ>۔
* تخريج: د/الأدب ۱۰۹ (۵۰۶۵)، ت/الدعوات ۲۵ (۳۴۱۰)، ن/السہو ۹۱ (۱۳۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۰، ۲۰۵) (صحیح)

۹۲۶- عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دو خصلتوں پر اگر مسلمان بندہ مداومت کرے تو جنت میں داخل ہو گا، وہ دونوں سہل آداب ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، (ایک یہ کہ) ہر صلاۃ کے بعد دس بار ''سبحان الله''، دس بار ''الله أكبر'' اور دس بار ''الحمد لله'' کہے''، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ان کو اپنی انگلیوں پر شمارکر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ پڑھنے میں ایک سو پچاس ہیں اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو''۔
''(دوسرے یہ کہ) جب وہ اپنی خواب گاہ پر جائے تو سو مرتبہ ''سبحان الله الحمد لله، الله أكبر'' کہے، یہ پڑھنے میں سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار ہیں، تم میں سے کون ایسا ہے جو ایک دن میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہو''۱؎، لوگوں نے عرض کیا: ایک مسلمان کیسے ان اعمال کی محافظت نہیں کرتا؟ (جبکہ وہ بہت ہی آسان ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص صلاۃ میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں بات یاد کرو یہاں تک کہ وہ نہیں سمجھ پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب وہ اپنی خواب گاہ پہ ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اسے برابر تھپکیاں دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ سوجاتا ہے'' (اور تسبیحات نہیں پڑھ پاتا)۔
وضاحت۱؎: استفہام انکاری ہے، یعنی کوئی نہیں کرتا اور اگر بالفرض اتنے گناہ کرتا بھی ہو تو ان اوراد و وظائف سے وہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اگر گناہ نہ کیا ہو یا اس مقدار سے کم کیا ہو تو اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔

927- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، ذَرٍّ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ أَهْلُ الأَمْوَالِ وَالدُّثُورِ بِالأَجْرِ، يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ وَيُنْفِقُونَ وَلا نُنْفِقُ، قَالَ لِي: <أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مَنْ قَبْلَكُمْ وَفُتُّمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، تَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ، وَتُسَبِّحُونَهُ وَتُكَبِّرُونَهُ ثلاثًا وَثَلاثِينَ، وَثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَأَرْبَعًا وَثَلاثِينَ >.
قَالَ سُفْيَانُ: لا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ أَرْبَعٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۳۴)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۵۵ (۸۴۳)، الدعوات ۱۷ (۶۳۲۹) عن أبي ہریرۃ، م/المساجد ۲۶ (۵۹۵)، د/الصلاۃ ۳۵۹ (۱۵۰۴)، ط/القرآن ۷ (۲۲)، حم (۲/۲۳۸، ۵/۱۶۷، ۱۶۸)، دي/الصلاۃ ۹۰ (۱۳۹۳) (حسن صحیح)

۹۲۷- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے کہا گیا یا میں نے کہا: اللہ کے رسول! مال و دولت والے اجر و ثواب میں آگے بڑھ گئے، وہ بھی ذکر و اذکار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، اوروہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر پاتے ہیں، ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو تو ان لوگوں (کے مقام) کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل گئے، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ جاؤگے، تم ہر صلاۃ کے بعد الحمد لله، سبحان الله اور الله أكبر کہو (۳۳) بار، (۳۳) بار اور (۳۴) بار''۔
سفیان نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ ان تینوں کلموں میں سے کس کو (۳۴) بار کہا۔


928- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ (ح) و حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ، أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبُِّ، حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ وَمِنْكَ السَّلامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ >۔
* تخريج: م/المساجد ۲۶ (۵۹۱)، د/الصلاۃ ۳۶۰ (۱۵۱۳)، ت/الصلاۃ ۱۰۹ (۳۰۰)، ن/السہو ۸۱ (۱۳۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۵، ۲۷۹)، دي/الصلاۃ ۸۸ (۱۳۸۸) (صحیح)

۹۲۸- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی صلاۃ سے فارغ ہوتے تو تین بار ''استغفر الله'' کہتے، پھر ''اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ وَمِنْكَ السَّلامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ'' کہتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب الانْصِرَافِ مِنَ الصَّلاةِ
۳۳- باب: صلاۃ کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف پھرنے کا بیان​

929- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَبِيصَةَ ابْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: أَمَّنَا النَّبِيُّ ﷺ فَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ جَانِبَيْهِ جَمِيعًا۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۰۴ (۱۰۴۱)، ت/الصلاۃ ۱۱۰ (۳۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۶، ۲۲۷) (حسن صحیح)

۹۲۹- ہُلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے مڑتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ صلاۃ سے فارغ ہو کر جدھر جی چاہے اُدھر مقتدیوں کی طرف مڑ جائے، یہ ضروری نہیں کہ دائیں طرف ہی مڑے، اگرچہ دائیں طرف مڑنا بہتر ہے، لیکن واجب نہیں ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی کرے۔

930- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، (ح) و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ: لا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ فِي نَفْسِهِ جُزْئًا، يَرَى أَنَّ حَقًّا لِلَّهِ عَلَيْهِ أَنْ لا يَنْصَرِفَ إِلا عَنْ يَمِينِهِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ۔
* تخريج:خ/الأذان ۱۵۹ (۸۵۲)، م/المسافرین ۷ (۷۰۷)، د/الصلاۃ ۲۰۵ (۱۰۴۲)، ن/السہو ۱۰۰ (۱۳۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۳، ۴۲۹، ۴۶۴)، دي/الصلاۃ ۸۹ (۱۳۹۰) (صحیح)

۹۳۰- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں کا کوئی اپنی ذات میں شیطان کے لئے حصہ مقرر نہ کرے، وہ یہ سمجھے کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے کہ صلاۃ کے بعد وہ صرف اپنے دائیں جانب سے پھرے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اکثر بائیں جانب سے مڑتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: رسول اللہ ﷺ کے حجرے آپ کے مصلّے سے بائیں جانب پڑتے تھے، آپ اکثر بائیں جانب مڑتے، اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے۔

931- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فِي الصَّلاةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۴، ۱۹۰، ۲۱۵، ۲۴۸) (حسن صحیح)
(یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجۃ)
۹۳۱- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ صلاۃ سے فراغت کے بعد (کبھی) دائیں اور (کبھی) بائیں جانب سے مڑتے تھے۔

932- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، ثُمَّ يَلْبَثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۵۲ (۸۳۷)، ۱۶۴ (۸۴۹)، د/الصلاۃ ۲۰۳ (۱۰۴۰)، ن/السہو۷۷ (۱۳۳۳، ۱۳۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۶) (صحیح)

۹۳۲- المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو جاتیں، اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں جیسا کہ اس کے بعد آنے والی حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ وَوُضِعَ الْعَشَاءُ
۳۴- باب: جب صلاۃ کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟​

933- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَابْدَئُوا بِالْعَشَاءِ >۔
* تخريج: م/المساجد ۱۶ (۵۵۷)، ت/الصلاۃ ۱۴۶ (۳۵۳)، ن/الإمامۃ ۵۱ (۸۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۶)، وقد أخرجہ: خ /الأذان ۴۲ (۶۷۲)، الأطعمہ ۵۸ (۵۴۶۳)، حم (۳/۱۰۰، ۱۱۰، ۱۶۱، ۲۳۱، ۲۳۸، ۲۴۹)، دي/الصلاۃ ۵۸ (۱۳۱۸) (صحیح)

۹۳۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب شام کا کھانا سامنے رکھ دیا جائے، اور صلاۃ بھی شروع ہو رہی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ''۱؎۔
وضاحت۱؎: جمہور علماء کے نزدیک یہ حکم مستحب ہے، اور بعضوں نے اسے واجب کہا ہے، اور ظاہر یہ کا یہی مذہب ہے، اور بعضوں نے کہا کہ اگر آدمی اتنا بھوکا ہو کہ صلاۃ میں کھانے کا خیال رہے تو صلاۃ سے پہلے کھانا کھا لینا واجب ہے، ورنہ مستحب، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ دوسری صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آپ ﷺ بکری کے بازو کا گوشت کھانے کے لئے کاٹ رہے تھے کہ اتنے میں صلاۃ کے لئے اذان ہوئی، تو آپ ﷺ نے چھری رکھ دی، اور صلاۃ کے لئے چلے گئے، اللہ تعالی فرماتا ہے: فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ یعنی (جب دل فارغ ہو اس وقت عبادت کرو)۔

934- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ، وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَابْدَئُوا بِالْعَشَاءِ>.
قَالَ: فَتَعَشَّى ابْنُ عُمَرَ لَيْلَةً، وَهُوَ يَسْمَعُ الإِقَامَةَ۔
* تخريج:خ/الأذان ۴۲ (۶۷۳)، الأطعمۃ ۵۸ (۵۴۶۳)، م/المساجد ۱۶ (۵۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۲۴)، وقد أخرجہ: د/الأطعمۃ ۱۰ (۳۷۵۷)، حم (۲/۱۰۳) (صحیح)

۹۳۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب شام کا کھانا لگا دیا جائے اور صلاۃ بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھا لو''۔
نافع نے کہا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک رات کا کھانا کھایا، اور وہ اقامت سن رہے تھے۔


935- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ (ح) و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيَعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَابْدَئُوا بِالْعَشَاءِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۶۹۴۰، ۱۷۲۶۴)، وحدیث علی بن محمد أخرجہ: م/المساجد ۱۶ (۵۵۸)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۴۲ (۶۷۱)، دي/الصلاۃ ۵۸ (۱۳۱۷) (صحیح)

۹۳۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب شام کا کھانا سامنے ہو اور صلاۃ بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھاؤ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ
۳۵- باب: بارش کی رات میں باجماعت صلاۃ کے حکم کا بیان​

936- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ،عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِي: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَبُولْمَلِيحِ، قَالَ: لقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَصَابَتْنَا سَمَائٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: <صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۱۳ (۱۰۵۷، ۱۰۵۸)، ن/الإمامۃ ۵۱ (۸۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۷۴، ۷۵) (صحیح)

۹۳۶- ابو ملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں (گھر سے) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد (اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابو الملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہم راہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے منادی نے اعلان کیا: ''اپنے اپنے ٹھکانوں پر صلاۃ پڑھ لو''۱؎۔
وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ نے جماعت میں حاضر ہونا معاف کر دیا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔

937- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُنَادِي مُنَادِيهِ، فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ، أَوِ اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ ذَاتِ الرِّيحِ: <صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۱۴ (۱۰۶۱، ۱۰۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۵۰)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۸ (۶۳۲)، ۴۰ (۶۶۶)، م/المسافرین ۳ (۶۹۷)، ن/الأذان ۱۷ (۶۵۵)، ط/الصلاۃ ۲ (۱۰)، حم (۲/۴)، دي/الصلاۃ ۵۵ (۱۳۱۱) (صحیح)

۹۳۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بارش والی رات ہوتی یا ہوا والی ٹھنڈی رات ہوتی تو رسول اللہ ﷺ کا منادی اعلان کرتا: ''اپنے اپنے ٹھکانوں پر صلاۃ پڑھ لو''۔

938- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَبَّادِ ابْنِ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يَوْمِ مَطَرٍ: < صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۹۸)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۰ (۶۱۶)، ۴۱ (۶۶۸)، الجمعۃ ۱۴ (۹۰۱)، م/المسافرین ۳ (۶۹۹)، د/الصلاۃ ۲۱۴ (۱۰۶۶)، حم (۱/۲۷۷) (صحیح)
(گذری اور آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۹۳۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن جب کہ بارش ہو رہی تھی فرمایا: ''اپنے اپنے ٹھکانوں میں صلاۃ پڑھ لو''۔

939- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ أَنْ يُؤَذِّنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَذَلِكَ يَوْمٌ مَطِيرٌ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيُصَلُّوا فِي بُيُوتِهِمْ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، تَأْمُرُنِي أَنْ أُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ بُيُوتِهِمْ فَيَأْتُونِي يَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَى رُكَبِهِمْ۔
* تخريج:خ/الأذان ۱۰ (۶۱۶)، م/المسافرین ۳ (۶۹۹)، د/الصلاۃ ۲۱۴ (۱۰۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۸۳)، حم (۱/۲۷۷) (صحیح)

۹۳۹- عبد اللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا، اور یہ بارش کا دن تھا، تو مؤذن نے کہا: ''اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ''، پھر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: (''حي على الصلاة، حي على الفلاح'' کی جگہ) لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں صلاۃ ادا کر لیں، لوگوں نے یہ سنا تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے کہا: یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے، جو مجھ سے افضل تھی، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لئے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي
۳۶- باب: مصلی کے سترہ کا بیان​

940- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ. حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي، وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، فَلا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۷ (۴۹۹)، د/الصلاۃ ۱۰۲ (۶۸۵)، ت/الصلاۃ ۱۳۳ (۳۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۶۱، ۱۶۲) (حسن صحیح)

۹۴۰- طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صلاۃ پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے مصلی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا''۔
وضاحت۱؎: کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کا اندازہ بقدر ایک ہاتھ کے کیا ہے، اور موٹا بقدر ایک انگلی کے کافی ہے، اور سترے کے نزدیک کھڑا ہونا مصلی کے لئے بہتر ہے، اسی طرح سترے کو دائیں یا بائیں ابرو کے مقابل کرنا چاہئے۔

941- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ تُخْرَجُ لَهُ حَرْبَةٌ فِي السَّفَرِ، فَيَنْصِبُهَا فَيُصَلِّي إِلَيْهَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۲۹)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۹۲ (۴۳۰)، م/الصلاۃ ۴۷ (۵۰۲)، د/الصلاۃ ۱۰۲ (۶۸۶)، ن/القبلۃ ۴ (۷۴۸)، حم (۲/۱۳، ۱۸)، دي/الصلاۃ ۱۲۶ (۱۴۵۲) (صحیح)

۹۴۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے لئے سفر میں نیزہ لے جایا جاتا اور اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی جانب صلاۃ پڑھتے۔

942- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَصِيرٌ يُبْسَطُ بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ، يُصَلِّي إِلَيْهِ۔
* تخريج:خ/الأذان ۸۱ (۷۷۰)، اللباس ۴۳ (۵۸۶۱)، م/المسافرین ۳۰ (۷۸۲)، د/الصلاۃ ۳۱۷ (۱۳۶۸)، ن/القبلۃ ۱۳ (۷۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۰، ۶۱، ۲۴۱) (صحیح)

۹۴۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن میں بچھایا جاتا تھا، اور رات میں آپ اس کو لپیٹ کر اس کی جانب صلاۃ پڑھتے۱؎۔
وضاحت۱؎: بعضوں نے اعتکاف کا ذکر کیا ہے، بہرحال سترے کی طرف صلاۃ پڑھنا اس حدیث سے بھی نکلتا ہے، اور اسی لئے مؤلف نے اس کو اس باب میں رکھا ہے، سترہ وہ آڑ جو مصلی اپنے سامنے کسی چیز سے کر لیتا ہے، اس کے آگے سے لوگ گزر سکتے ہیں۔

943- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ أُمَيَّةَ (ح) و حدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۰۳ (۹۸۹، ۶۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/ ۲۴۹، ۲۵۴، ۲۶۶، ۳/۲۴۹، ۲۵۵، ۲۶۶) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں ابو عمرو اور ان کے دادا حریث مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاۃ : ۷۸۱)
۹۴۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص صلاۃ پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
37- بَاب الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي
۳۷- باب: مصلی کے آگے سے گزرنے کا بیان​

944- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَرْسَلُونِي إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَأَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ >.
قَالَ سُفْيَانُ: فَلا أَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ شَهْرًا، أَوْ صَبَاحًا، أَوْ سَاعَةً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۴۹)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۱۰۱ (۵۱۰)، م/الصلاۃ ۴۸ (۵۰۷)، د/الصلاۃ ۱۰۹ (۷۰۱)، ت/الصلاۃ ۱۳۵ (۳۳۶)، ن/القبلۃ ۸ (۷۵۷)، حم (۴/۱۶۹) (صحیح)
(آگے کی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۹۴۴- بسر بن سعید کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے (مصلی) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ''چالیس... تک ٹھہرے رہنا مصلی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے''۔
سفیان بن عیینہ (راویِ حدیث) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا۔


945- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ؛ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ يَسْأَلُهُ: مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: < لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي، كَانَ لأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ > -قَالَ: لاأَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا- < خَيْرٌ لَهُ مِنْ ذَلِكَ >۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۱۰۱ (۵۱۰)، م/الصلاۃ ۴۸ (۵۰۷)، د/الصلاۃ ۱۰۹ (۷۰۱)، ت/الصلاۃ ۱۳۵ (۳۳۶)، ن/القبلۃ ۸ (۷۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۸۴)، وقد أخرجہ: ط/قصر الصلاۃ ۱۰ (۳۴)، حم (۴/۱۶۹)، دي/الصلاۃ ۱۳۰ (۱۴۵۷) (صحیح)

۹۴۵- بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابو جہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے، جو مصلی کے آگے سے گزرے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے صلاۃ کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے، تو اس کے لئے چالیس ... تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے''۔
راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا۱؎۔

وضاحت۱؎: بہرحال مصلی کے سامنے سے گزرنا سخت گناہ ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب مصلی کے قریب سے گذرے، بعض نے کہا تین ہاتھ کے اندر، اور کسی نے کہا پانچ ہاتھ کے اندر، اور بعض لوگوں نے چالیس ہاتھ کی دوری کا ذکر کیا ہے، نیز بعض لوگوں نے کہا کہ سجدہ کے مقام پر دیکھے تو جہاں تک اس کی نظر جاتی ہو اس کے اندر سے گزرنا گناہ ہے، اس کے آگے گزرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

946- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ مَوْهِبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلاةِ، كَانَ لأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخَطْوَةِ الَّتِي خَطَاهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۸۹، ومصباح الزجاجۃ:۳۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۷۱)
(ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن عبد الرحمن اور ان کے چچا عبید اللہ بن عبد اللہ دونوں ضعیف ہیں)
۹۴۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم میں سے کوئی اس گناہ کو جان لے جو اپنے بھائی کے آگے سے صلاۃ کی حالت آڑے میں گزرنے سے ہے تو وہ ایک قدم اٹھانے سے سو سال کھڑے رہنا بہتر سمجھے'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
38- بَاب مَا يَقْطَعُ الصَّلاةَ
۳۸- باب: کس چیز کے مصلی کے سامنے گزرنے سے صلاۃ ٹوٹ جاتی ہے؟​

947- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ، فَجِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فِي الصَّفِّ۔
* تخريج: خ/العلم ۱۸ (۷۶)، الصلاۃ ۹۰ (۴۹۳)، الأذان ۱۶۱ (۸۶۱)، جزاء الصید ۲۵ (۱۸۵۷)، المغازي ۷۷ (۴۴۱۲)، م/الصلاۃ ۴۷ (۵۰۴)، د/الصلاۃ ۱۱۳ (۷۱۵)، ت/الصلاۃ ۱۳۶ (۳۳۷)، ن/القبلۃ ۷ (۷۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۹۳)، وقد أخرجہ: ط/قصر الصلاۃ ۱۱ (۳۸)، حم (۱/۲۱۹، ۲۶۴، ۳۳۷، ۳۶۵)، دي/الصلاۃ ۱۲۹ (۱۴۵۵) (صحیح)
(صحیح بخاری میں ''بمنى'' بدل ''بعرفة'' ہے، اور وہی محفوظ ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۷۰۹)
۹۴۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مقام عرفہ میں صلاۃ پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہو گئے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ گدھے کا مصلی کے آگے سے گزرنا، صلاۃ کو نہیں توڑتا، اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ کسی چیز کے سامنے سے نکل جانے سے صلاۃ باطل نہیں ہوتی، لیکن اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ کالا کتا، گدھا اور عورت اگر سامنے سے گزرے تو صلاۃ باطل ہو جائے گی، اور دلیل کے اعتبار سے یہی راجح ہے، اور یہ اس وقت ہے جب مصلی کے سامنے سترہ نہ ہو، اور اگر سترہ ہو تو اس کے آگے سے کوئی چیز بھی نکلا کرے، صلاۃ میں کچھ خلل نہ ہو گا۔

948- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ -هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُاللَّهِ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَرَجَعَ، فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <هُنَّ أَغْلَبُ>.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۹۳، ومصباح الزجاجۃ : ۳۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۴) (ضعیف)
(سند میں قیس والد محمد مجہول ہیں، اور بعض نسخوں میں ''عن أمہ'' آیا ہے، اور امام مزی نے ''عن امہ'' کو معتمد مانا ہے)
۹۴۸- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے حجرہ میں صلاۃ پڑھ رہے تھے، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبد اللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے، تو آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں، جب آپ ﷺ صلاۃ سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: ''یہ عورتیں نہیں مانتیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اپنی جہالت اور نافہمی کی وجہ سے مردوں پر غالب آجاتی ہیں۔

949- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <يَقْطَعُ الصَّلاةَ الْكَلْبُ الأَسْوَدُ، وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۱۰ (۷۰۳)، ن/القبلۃ ۷ (۷۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۷۹)، حم (۱/۳۴۷)
(صحیح)

۹۴۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ''کالا کتا اور بالغ عورت صلاۃ کو توڑ دیتے ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جب مصلی کے سامنے سے گزریں اور سترہ نہ ہو، یہ حدیث صحیح ہے، اس کا نسخ مخالفین جس حدیث سے بیان کرتے ہیں وہ ضعیف ہے، اور منسوخ ہونا قرین قیاس بھی نہیں ہے، اس لئے کہ یہ صحیح حدیث عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور انہوں نے بہت آخر زمانہ میں کم سنی میں نبی اکرم ﷺ سے حدیثیں سنی ہیں۔

950- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <يَقْطَعُ الصَّلاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۲۹، ومصباح الزجاجۃ :۳۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۲۵، ۲۹۹) (صحیح)

۹۵۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا صلاۃ کو توڑ دیتا ہے''۔

951- حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <يَقْطَعُ الصَّلاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۳۴۳)، حم (۴/۸۶، ۵/۵۷) (صحیح)

۹۵۱- عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عورت، کتّے اور گدھے کا گزرنا صلاۃ کو توڑ دیتا ہے''۔

952- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < يَقْطَعُ الصَّلاةَ، إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ، الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ >.
قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: < الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۵۰ (۵۱۰)، د/الصلاۃ ۱۱۰ (۷۰۲)، ت/الصلاۃ ۱۳۷ (۳۳۸)، ن/القبلۃ ۷ (۷۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۹ ۱، ۱۵۱، ۱۵۵، ۱۶۰، ۱۶۱)، دي/الصلاۃ ۱۲۸ (۱۴۵۴)(صحیح)

۹۵۲- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب مصلی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی صلاۃ عورت، گدھے اور کتیّ کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے''۱؎۔
عبد اللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کالے کتّے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اگر لال کتا ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: ''کالا کتا شیطان ہے'' ۲؎۔

وضاحت۱؎: جمہور نے ان روایتوں کی تاویل کی ہے کہ صلاۃ ٹوٹنے سے مراد توجہ بٹ جانے کی وجہ سے صلاۃ میں نقص اور خلل کا پیدا ہونا ہے نہ کہ صلاۃ کا فی الواقع ٹوٹ جانا ہے، اوپر کے حواشی میں اہل علم کی آراء کا ذکر آگیا ہے، جن علماء نے ان تینوں کے گزرنے سے صلاۃ کے باطل ہونے کی بات کہی ہے، ان میں شیخ الإسلام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن قدامہ اور ظاہریہ ہیں، ان کے یہاں وہ روایات جن میں صلاۃ کے نہ دہرانے کی بات ہے، وہ عام احادیث ہیں، جن میں سے مذکورہ تین چیزوں کو استثناء حاصل ہے، تو اب سابقہ حدیث عام مخصوص ہو گی اور ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل ہو گا۔
وضاحت۲؎: یعنی شیطان کتے کی صورت اختیار کر کے صلاۃ توڑنے کے لئے آتا ہے، یا خود کالا کتا شیطان ہوتا ہے، یعنی شریر اور منحوس ہوتا ہے، غرض صلاۃ کا اس سے ٹوٹ جانا حکم شرعی ہے اس میں قیاس کو دخل نہیں، اور تعجب ہے کہ حنفیہ ایک ضعیف حدیث سے قہقہہ کو ناقص وضو جانتے ہیں، اور قیاس کو ترک کرتے ہیں اور یہاں صحیح حدیث کو قیاس کے خلاف نہیں مانتے، بعض لوگوں نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ شیطان کالے کتے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کالا کتا دوسرے کتوں کے مقابل زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کہا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
39- بَاب ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ
۳۹- باب: مصلی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان​

953- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَبُو الْمُعَلَّى، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَقْطَعُ الصَّلاةَ، فَذَكَرُوا الْكَلْبَ وَالْحِمَارَ وَالْمَرْأَةَ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي الْجَدْيِ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي يَوْمًا، فَذَهَبَ جَدْيٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ .فَبَادَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْقِبْلَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۹۸، ومصباح الزجاجۃ: ۳۴۴)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۱۱۱ (۷۰۹)، حم (۱/۲۴۷، ۲۹۱، ۳۰۸، ۳۴۳) (صحیح)
(حسن العرنی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مابین انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، صحیح ابی داو د: ۷۰۲، نیز مصباح الزجاجۃ، ط/ الجامعہ الاسلامیہ : ۳۴۶)
۹۵۳- حسن عرنی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو صلاۃ کو توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کُّتے، گدھے اور عورت کا ذکر کیا، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ایک دن آپ ﷺ صلاۃ پڑھ رہے تھے، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ ﷺ جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے۱؎۔
وضاحت۱؎: تاکہ اسے گزرنے سے روک دیں۔

954- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، وَلا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يَمُرُّ، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۸ (۵۰۵)، د/الصلاۃ ۱۰۸ (۶۹۷، ۶۹۸)، ن/القبلۃ ۸ (۷۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۱۷)، وقد أخرجہ: ط/ قصر الصلاۃ ۱۰ (۳۳)، حم (۳/۳۴، ۴۳، ۴۴)، دي/الصلاۃ ۱۲۵ (۱۴۵۱) (حسن صحیح)

۹۵۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی جانب پڑھے، اور اس سے قریب کھڑا ہو، اور کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، اگر کوئی گزرنا چاہے تو اس سے قتال کرے۱؎ کیوں کہ وہ شیطان ہے'' ۲؎۔
وضاحت۱؎: مقاتلہ سے مراد دفع کرنا اور روکنا ہے، لیکن اسلحے کا استعمال کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔
وضاحت۲؎: یعنی عزیٰ نامی شیطان ہے۔

955- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْحَمَّالُ، وَالْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ>.
و قَالَ الْمُنْكَدِرِيُّ: فَإِنَّ مَعَهُ الْعُزَّى۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۸ (۵۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۸۶، ۸۹) (صحیح)

۹۵۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی صلاۃ پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے، اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیوں کہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی (شیطان) ہے''۔
حسن بن داود منکدری نے کہا کہ اس کے ساتھ عزّی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
40- بَاب مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْئٌ
۴۰- باب: مصلی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو صلاۃ جائز ہے​

956- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۵۱ (۵۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۴۸)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۱۰۸ (۳۸۲، ۳۸۳)، د/الصلاۃ ۱۱۲ (۷۱۲)، ن/الطہارۃ ۱۲۰ (۱۶۶)، ط/صلاۃ اللیل ۱ (۲)، حم (۶/۴۴)، دي/الصلاۃ ۱۲۷ (۱۴۵۳) (صحیح)

۹۵۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں صلاۃ پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح آڑے لیٹی ہوتی تھی۔

957- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ: كَانَ فِرَاشُهَا بِحِيَالِ مَسْجَدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: د/اللباس ۴۵ (۴۱۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۲۲) (صحیح)

۹۵۷- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بستر رسول اللہ ﷺ کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا۔

958- حدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ -زَوْجُ النَّبِيِّ ﷺ- قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي وَأَنَا بِحِذَائِهِ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۱۹ (۳۷۹)، ۲۱ (۳۸۱)، ۷ (۵۱۷)، ۱۰ (۵۱۸)، م/الصلاۃ ۵۱ (۵۱۳)، د/الصلاۃ ۹۱ (۶۵۶)، ن/المساجد ۴۴ (۷۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۳۰، ۳۳۵، ۳۳۶)، دي/الصلاۃ ۱۰۱ (۱۴۱۳) (صحیح)

۹۵۸- عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ صلاۃ پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی، اور بسا اوقات جب آپ سجدہ فرماتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے چھو جاتا۔

959- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُتَحَدِّثِ وَالنَّائِمِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۰۶ (۶۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۴۸) (حسن)
(تراجع الا ٔلبانی: رقم: ۲۵۱)
۹۵۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بات چیت کرنے والے، اور سوئے ہوئے شخص کے پیچھے صلاۃ پڑھنے سے منع فرمایا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ ممانعت تنزیہی ہے یعنی بہترہے کہ اس طرح صلاۃ نہ ادا کی جائے، یا اس حدیث کا مفہوم یہ کہ مسجد وسیع اور جگہ بہت ہو لیکن خواہ مخواہ قصداً ایسے شخص کے پیچھے صلاۃ پڑھے جو باتیں کر رہا ہو، تو ایسا کرنا درست نہیں ہے، ورنہ اوپر حدیث میں گزرا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے آگے سوئی ہوتیں، اور آپ ﷺ صلاۃ پڑھتے۔
 
Top