38- بَاب مَا يَقْطَعُ الصَّلاةَ
۳۸- باب: کس چیز کے مصلی کے سامنے گزرنے سے صلاۃ ٹوٹ جاتی ہے؟
947- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ، فَجِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فِي الصَّفِّ۔
* تخريج: خ/العلم ۱۸ (۷۶)، الصلاۃ ۹۰ (۴۹۳)، الأذان ۱۶۱ (۸۶۱)، جزاء الصید ۲۵ (۱۸۵۷)، المغازي ۷۷ (۴۴۱۲)، م/الصلاۃ ۴۷ (۵۰۴)، د/الصلاۃ ۱۱۳ (۷۱۵)، ت/الصلاۃ ۱۳۶ (۳۳۷)، ن/القبلۃ ۷ (۷۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۹۳)، وقد أخرجہ: ط/قصر الصلاۃ ۱۱ (۳۸)، حم (۱/۲۱۹، ۲۶۴، ۳۳۷، ۳۶۵)، دي/الصلاۃ ۱۲۹ (۱۴۵۵) (صحیح) (صحیح بخاری میں ''بمنى'' بدل ''بعرفة'' ہے، اور وہی محفوظ ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۷۰۹)
۹۴۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مقام عرفہ میں صلاۃ پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہو گئے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ گدھے کا مصلی کے آگے سے گزرنا، صلاۃ کو نہیں توڑتا، اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ کسی چیز کے سامنے سے نکل جانے سے صلاۃ باطل نہیں ہوتی، لیکن اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ کالا کتا، گدھا اور عورت اگر سامنے سے گزرے تو صلاۃ باطل ہو جائے گی، اور دلیل کے اعتبار سے یہی راجح ہے، اور یہ اس وقت ہے جب مصلی کے سامنے سترہ نہ ہو، اور اگر سترہ ہو تو اس کے آگے سے کوئی چیز بھی نکلا کرے، صلاۃ میں کچھ خلل نہ ہو گا۔
948- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ -هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُاللَّهِ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَرَجَعَ، فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <هُنَّ أَغْلَبُ>.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۹۳، ومصباح الزجاجۃ : ۳۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۴) (ضعیف) (سند میں قیس والد محمد مجہول ہیں، اور بعض نسخوں میں ''عن أمہ'' آیا ہے، اور امام مزی نے ''عن امہ'' کو معتمد مانا ہے)
۹۴۸- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے حجرہ میں صلاۃ پڑھ رہے تھے، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبد اللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے، تو آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں، جب آپ ﷺ صلاۃ سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: ''یہ عورتیں نہیں مانتیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اپنی جہالت اور نافہمی کی وجہ سے مردوں پر غالب آجاتی ہیں۔
949- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <يَقْطَعُ الصَّلاةَ الْكَلْبُ الأَسْوَدُ، وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۱۰ (۷۰۳)، ن/القبلۃ ۷ (۷۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۷۹)، حم (۱/۳۴۷)
(صحیح)
۹۴۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ''کالا کتا اور بالغ عورت صلاۃ کو توڑ دیتے ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جب مصلی کے سامنے سے گزریں اور سترہ نہ ہو، یہ حدیث صحیح ہے، اس کا نسخ مخالفین جس حدیث سے بیان کرتے ہیں وہ ضعیف ہے، اور منسوخ ہونا قرین قیاس بھی نہیں ہے، اس لئے کہ یہ صحیح حدیث عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور انہوں نے بہت آخر زمانہ میں کم سنی میں نبی اکرم ﷺ سے حدیثیں سنی ہیں۔
950- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <يَقْطَعُ الصَّلاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۲۹، ومصباح الزجاجۃ :۳۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۲۵، ۲۹۹) (صحیح)
۹۵۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا صلاۃ کو توڑ دیتا ہے''۔
951- حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <يَقْطَعُ الصَّلاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۳۴۳)، حم (۴/۸۶، ۵/۵۷) (صحیح)
۹۵۱- عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عورت، کتّے اور گدھے کا گزرنا صلاۃ کو توڑ دیتا ہے''۔
952- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < يَقْطَعُ الصَّلاةَ، إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ، الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ >.
قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: < الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۵۰ (۵۱۰)، د/الصلاۃ ۱۱۰ (۷۰۲)، ت/الصلاۃ ۱۳۷ (۳۳۸)، ن/القبلۃ ۷ (۷۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۹ ۱، ۱۵۱، ۱۵۵، ۱۶۰، ۱۶۱)، دي/الصلاۃ ۱۲۸ (۱۴۵۴)(صحیح)
۹۵۲- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب مصلی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی صلاۃ عورت، گدھے اور کتیّ کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے''۱؎۔
عبد اللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کالے کتّے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اگر لال کتا ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: ''کالا کتا شیطان ہے'' ۲؎۔
وضاحت۱؎: جمہور نے ان روایتوں کی تاویل کی ہے کہ صلاۃ ٹوٹنے سے مراد توجہ بٹ جانے کی وجہ سے صلاۃ میں نقص اور خلل کا پیدا ہونا ہے نہ کہ صلاۃ کا فی الواقع ٹوٹ جانا ہے، اوپر کے حواشی میں اہل علم کی آراء کا ذکر آگیا ہے، جن علماء نے ان تینوں کے گزرنے سے صلاۃ کے باطل ہونے کی بات کہی ہے، ان میں شیخ الإسلام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن قدامہ اور ظاہریہ ہیں، ان کے یہاں وہ روایات جن میں صلاۃ کے نہ دہرانے کی بات ہے، وہ عام احادیث ہیں، جن میں سے مذکورہ تین چیزوں کو استثناء حاصل ہے، تو اب سابقہ حدیث عام مخصوص ہو گی اور ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل ہو گا۔
وضاحت۲؎: یعنی شیطان کتے کی صورت اختیار کر کے صلاۃ توڑنے کے لئے آتا ہے، یا خود کالا کتا شیطان ہوتا ہے، یعنی شریر اور منحوس ہوتا ہے، غرض صلاۃ کا اس سے ٹوٹ جانا حکم شرعی ہے اس میں قیاس کو دخل نہیں، اور تعجب ہے کہ حنفیہ ایک ضعیف حدیث سے قہقہہ کو ناقص وضو جانتے ہیں، اور قیاس کو ترک کرتے ہیں اور یہاں صحیح حدیث کو قیاس کے خلاف نہیں مانتے، بعض لوگوں نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ شیطان کالے کتے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کالا کتا دوسرے کتوں کے مقابل زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کہا گیا ہے۔