• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب مَنْ يُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ وَهُوَ لا يَعْلَمُ
۶۰- باب: لاعلمی میں قبلہ سے ہٹ کر کے صلاۃ پڑھنے والے کے حکم کا بیان​

1020- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ، أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَأَشْكَلَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، فَصَلَّيْنَا، وَأَعْلَمْنَا، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَأَنْزَلَ اللَّه: {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ}۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۴۱ (۳۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۳۵) (حسن)
(اس کی سند میں اشعث بن سعید متروک ہے، لیکن شواہد کی وجہ ہے یہ حسن ہے)
۱۰۲۰- عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی، آخر ہم نے (اپنے ظن غالب کی بنیاد پر) صلاۃ پڑھ لی، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت صلاۃ نہیں پڑھی ہے، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے "فَأيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ" (سورۃ بقرۃ: ۱۱۵ یعنی (جدھر تم رخ کر لو اُدھر ہی اللہ کا چہرہ ہے) نازل فرمائی۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی وہ جہت جدھر تم کو صلاۃ پڑھنے کا حکم دیا، اس شان نزول سے آیت کا مطلب معلوم ہو گیا کہ جب قبلے کی پہچان نہ ہو سکے تو تحقیق و جستجو کر کے صلاۃ پڑھ لے، اب سمت قبلہ میں غلطی کرے تو اس صلاۃ کا دہرانا ضروری نہ ہو گا، آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قبلہ معلوم ہونے کی صورت میں غیر قبلہ کی طرف صلاۃ پڑھ سکتا ہے، کیونکہ دوسری آیت میں مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم ہے، اس آیت سے بعض جہمیہ نے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالی (معاذ اللہ) ہر جہت میں ہے، جب کہ یہ معنی آیت سے نہیں نکلتا، اور{فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ} کی تفسیر اہل علم نے جهة الله سے کی ہے، اور بعضوں نے کہا ''فثمّ الله يعلم ويرى'' اور اگر مان لیں کہ آیت کا ظاہری معنی مراد ہے تب بھی جہمیہ کا مطلب ثابت نہ ہو گا، اس لئے کہ اللہ تعالی عرش کے اوپر مستوی اور بلندی پر ہے، اور عرش چاروں طرف سے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، تو یہ کہاں صحیح ہوا کہ مصلی جدھر منہ کرے وہاں اللہ ہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب مَنْ يُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ وَهُوَ لا يَعْلَمُ
۶۰- باب: لاعلمی میں قبلہ سے ہٹ کر کے صلاۃ پڑھنے والے کے حکم کا بیان

1020- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ، أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَأَشْكَلَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، فَصَلَّيْنَا، وَأَعْلَمْنَا، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَأَنْزَلَ اللَّه: {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ}۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۴۱ (۳۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۳۵) (حسن) (اس کی سند میں اشعث بن سعید متروک ہے، لیکن شواہد کی وجہ ہے یہ حسن ہے)
۱۰۲۰- عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی، آخر ہم نے (اپنے ظن غالب کی بنیاد پر) صلاۃ پڑھ لی، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت صلاۃ نہیں پڑھی ہے، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے "فَأيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ" (سورۃ بقرۃ: ۱۱۵ یعنی (جدھر تم رخ کر لو اُدھر ہی اللہ کا چہرہ ہے) نازل فرمائی۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی وہ جہت جدھر تم کو صلاۃ پڑھنے کا حکم دیا، اس شان نزول سے آیت کا مطلب معلوم ہو گیا کہ جب قبلے کی پہچان نہ ہو سکے تو تحقیق و جستجو کر کے صلاۃ پڑھ لے، اب سمت قبلہ میں غلطی کرے تو اس صلاۃ کا دہرانا ضروری نہ ہو گا، آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قبلہ معلوم ہونے کی صورت میں غیر قبلہ کی طرف صلاۃ پڑھ سکتا ہے، کیونکہ دوسری آیت میں مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم ہے، اس آیت سے بعض جہمیہ نے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالی (معاذ اللہ) ہر جہت میں ہے، جب کہ یہ معنی آیت سے نہیں نکلتا، اور{فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ} کی تفسیر اہل علم نے جهة الله سے کی ہے، اور بعضوں نے کہا ''فثمّ الله يعلم ويرى'' اور اگر مان لیں کہ آیت کا ظاہری معنی مراد ہے تب بھی جہمیہ کا مطلب ثابت نہ ہو گا، اس لئے کہ اللہ تعالی عرش کے اوپر مستوی اور بلندی پر ہے، اور عرش چاروں طرف سے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، تو یہ کہاں صحیح ہوا کہ مصلی جدھر منہ کرے وہاں اللہ ہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ
۶۱- باب: مصلی کے تھوکنے کا بیان​

1021- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ قَال: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: <إِذَا صَلَّيْتَ فَلا تَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَلا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنِ ابْزُقْ عَنْ يَسَارِكَ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۲ (۴۷۸)، ت/الصلاۃ ۲۸۴ (۵۷۱)، ن/المساجد ۳۳ (۷۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۹۶) (صحیح)

۱۰۲۱- طارق بن عبد اللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم صلاۃ پڑھو تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکو، بلکہ اپنے بائیں جانب یا قدم کے نیچے تھوک لو''۔

1022- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: <مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَهُ -يَعْنِي رَبَّهُ- فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ؟ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ؟ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَنَّ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ لِيَقُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ >، ثُمَّ أَرَانِي إِسْمَاعِيلُ يَبْزُقُ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَدْلُكُهُ۔
* تخريج: م/ المساجد ۱۳ (۵۵۰)، ن/الطہارۃ ۱۹۳ (۳۱۰)، (تحفۃ الأشراف:۱۴۶۶۹)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۳۵ (۴۰۸، ۴۰۹)، د/الصلاۃ ۲۲ (۴۷۷)، حم (۲/۲۵۰، ۲۵۱، ۲۶۰)، دي/الصلاۃ ۱۱۶ (۱۴۳۸) (صحیح)

۱۰۲۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی سمت بلغم دیکھا، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: ''لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کراپنے آگے بلغم تھوکتے ہیں؟ کیا تم میں کا کوئی یہ پسند کرے گا کہ دوسرا شخص اس کی طرف منہ کرکے اس کے منہ پر تھوکے؟ جب کوئی شخص صلاۃ کی حالت میں تھوکے تو اپنے بائیں جانب تھوکے، یا اپنے کپڑے میں اس طرح تھوک لے''۔
ابو بکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے مجھے اپنے کپڑے میں تھوک کر پھر مل کر دکھایا۔


1023- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ؛ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ رَأَى شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ بَزَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا شَبَثُ! لا تَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: < إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، حَتَّى يَنْقَلِبَ،أَوْ يُحْدِثَ حَدَثَ سُوئٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۴۹، ومصباح الزجاجۃ: ۳۶۶) (حسن)

۱۰۲۳- حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے شبث بن رِبعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا: شبث! اپنے آگے نہ تھوکو، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے، اور کہتے تھے: ''آدمی جب صلاۃ کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ صلاۃ پڑھتا ہے، اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے، یہاں تک کہ صلاۃ پڑھ کر لوٹ جائے، یا اسے برا حدث ہو جائے''۱؎۔
وضاحت۱؎: برے حدث سے مراد کوئی نیا امر اور نئی بات، جو خشوع کے خلاف ہو جیسے سامنے تھوکنا، یا اس سے مراد ہوا خارج ہونا ہے جس سے انسان کی پاکی ختم ہو جاتی ہے۔

1024- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ، ثُمَّ دَلَكَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۸، ومصباح الزجاجۃ: ۳۶۷)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۳۳ (۴۰۵)، ۳۹ (۴۱۷)، د/الطہارۃ ۱۴۳ (۳۹۰)، ن/الطہارۃ ۱۹۳ (۳۰۹)، دي/الصلاۃ ۱۱۶ (۱۴۳۶) (صحیح)
۱۰۲۴ - انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صلاۃ کی حالت میں اپنے کپڑے میں تھوکا، پھر اسے مل دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاةِ
۶۲- باب: صلاۃ میں کنکریاں ہٹانے کا بیان​

1025- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۴۹)، وقد أخرجہ: م/الجمعۃ ۸ (۸۵۷)، د/الصلاۃ ۲۰۹ (۱۰۵۰)، ت/الصلاۃ ۲۴۰ (۴۹۸) (صحیح)

۱۰۲۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے صلاۃ میں کنکریوں کو چھوا، اس نے فضول کام کیا''۔

1026- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاةِ: <إِنْ كُنْتَ فَاعِلاً فَمَرَّةً وَاحِدَةً>۔
* تخريج: خ/العمل في الصلاۃ ۸ (۱۲۰۷)، م/المساجد ۱۲ (۵۴۶)، د/الصلاۃ ۱۷۵ (۹۴۶)، ت/الصلاۃ ۱۶۳ (۳۸۰)، ن/السہو ۸ (۱۱۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۶، ۵/۴۲۵، ۴۲۶، دي/الصلاۃ ۱۱۰ (۱۴۲۷) (صحیح)

۱۰۲۶- مُعیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صلاۃ میں کنکریوں کے ہٹانے کے بارے میں فرمایا: ''اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کر لو''۔

1027- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلا يَمْسَحْ بِالْحَصَى>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۷۵ (۹۴۵)، ت/الصلاۃ ۱۶۳ (۳۷۹)، ن/السہو۷ (۱۱۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۵۰، ۱۶۳)، دي/الصلاۃ۱۱۰ (۱۴۲۸) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں ابو الاحوص اللیثی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۳۷۷)
۱۰۲۷- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص صلاۃ کے لئے کھڑا ہو تو کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے، اس لئے کہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
63- بَاب الصَّلاةِ عَلَى الْخُمْرَةِ
۶۳- باب: چٹائی پر صلاۃ پڑھنے کا بیان​

1028- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ -زَوْجُ النَّبِيِّ ﷺ- قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ۔
* تخريج: خ/الحیض ۳۰ (۳۳۳)، الصلاۃ ۱۹ (۳۷۹)، ۲۱ (۳۸۱)، ن/المساجد ۴۴ (۷۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۶۲)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۴۸ (۵۱۳)، د/الصلاۃ ۹۱ (۶۵۹)، حم (۶/۳۳۰، ۳۳۵)، دي/الصلاۃ ۱۰۱ (۱۴۱۳) (صحیح)

۱۰۲۸- ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چٹائی پر صلاۃ پڑھتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: ''خمرہ'': بورئیے کا ٹکڑا یا کھجو ر کی چٹائی۔

1029- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ؛ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى حَصِيرٍ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۵۲ (۵۱۹)، ت/الصلاۃ ۱۳۰ (۳۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۰، ۵۲، ۵۳، ۵۹) (صحیح)

۱۰۲۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چٹائی پر صلاۃ پڑھی۔

1030- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ بِالْبَصْرَةِ عَلَى بِسَاطِهِ، ثُمَّ حَدَّثَ أَصْحَابَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي عَلَى بِسَاطِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۱۰، ومصباح الزجاجۃ: ۳۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۲) (صحیح)
(اس کی سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۶۶۵)
۱۰۳۰- عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں اپنے بچھونے پر صلاۃ پڑھی، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بچھونے پر صلاۃ پڑھتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث میں تصریح نہیں ہے کہ بچھونا کس چیز کا تھا غالباً روئی کا ہو گا تو کپڑے پر صلاۃ پڑھنا جائز ہو گا، دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گرمی کی شدت سے زمین پر اپنا کپڑا بچھاتے پھر اس پر سجدہ کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
64- بَاب السُّجُودِ عَلَى الثِّيَابِ فِي الْحَرِّ وَالْبَرْدِ
۶۴- باب: گرمی اور سردی میں کپڑوں پہ سجدہ کرنے کا بیان​

1031- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، قَالَ: جَائَنَا النَّبِيُّ ﷺ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى ثَوْبِهِ إِذَا سَجَدَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۳۶۹) (ضعیف)
(اس کی سند میں اسماعیل بن ابی حبیبہ ضعیف ہیں، نیز سند معضل ہے، عبد اللہ بن عبد الرحمن کے بعد ''عن أبیہ عن جدہ'' کا ذکر یہاں نہیں ہے، جو آگے آرہا ہے، نیز خود عبد اللہ بن عبد الرحمن مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الارواء : ۳۱۲)
۱۰۳۱- عبد اللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور بنو عبد الاشہل کی مسجد میں ہمیں صلاۃ پڑھائی، تو میں نے دیکھا کہ آپ سجدے کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اپنے کپڑے پر رکھے ہوئے ہیں۔

1032- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَشْهَلِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صلَّى فِي بَنِي عَبْدِالأَشْهَلِ، وَعَلَيْهِ كِسَائٌ مُتَلَفِّفٌ بِهِ، يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَيْهِ، يَقِيهِ بَرْدَ الْحَصَى۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۶۱، ومصباح الزجاجۃ:۳۷۰) (ضعیف)
(اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل الأشہل ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں عبد الرحمن بن ثابت کے بارے میں فرمایا کہ ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ۵/۲۶۶ و الضعفاء الصغیرلہ: ۶۹)
۱۰۳۲- ثابت بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مسجد) بنو عبدالاشہل میں صلاۃ پڑھی، آپ اپنے جسم پہ ایک کمبل لپیٹے ہوئے تھے، کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچنے کے لئے اپنا ہاتھ اس پر رکھتے تھے۔

1033- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَقْدِرْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ، بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۲۳ (۳۸۵)، المواقیت ۱۱ (۵۴۲)، العمل في الصلاۃ ۹ (۱۲۰۸)، م/المساجد ۳۳ (۶۲۰)، د/الصلاۃ ۹۳ (۶۶۰)، ت/الجمعۃ ۵۸ (۵۸۴)، ن/التطبیق ۵۹ (۱۱۱۷)، (تحفۃ الأشراف:۲۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۱۰۰، ۴۰۰)، دي/الصلاۃ ۸۲ (۱۳۷۶) (صحیح)

۱۰۳۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سخت گرمی میں صلاۃ پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پہ نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا بچھا لیتا، اور اس پر سجدہ کرتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
65- بَاب التَّسْبِيحِ لِلرِّجَالِ فِي الصَّلاةِ وَالتَّصْفِيقِ لِلنِّسَاءِ
۶۵- باب: صلاۃ میں (غلطی پر تنبیہ کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں​

1034- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ>۔
* تخريج: خ/العمل في الصلاۃ ۵ (۱۲۰۳)، م/الصلاۃ ۲۳ (۴۲۲)، د/الصلاۃ ۱۵۵ (۶۳۹)، ۱۷۳، (۹۳۹) ن/السہو ۱۵ (۱۲۰۸)، (تحفۃ الأشراف:۱۵۱۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۶۱، ۳۱۷، ۶ ۳۷، ۲ ۴۳، ۴۴۰، ۳ ۴۷، ۴۷۹، ۴۹۲، ۵۰۷)، دي /الصلاۃ ۹۵ (۱۴۰۳) (صحیح)

۱۰۳۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(صلاۃ میں جب امام بھول جا ئے، تو اس کو یاد دلانے کے لئے) ''سبحان الله'' کہنا مردوں کے لئے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام صلاۃ میں بھول جائے، تو مرد ''سبحان الله'' کہہ کر اسے اس کی اطلاع دیں، اور عورت زبان سے کچھ کہنے کے بجائے دستک دے، اس کی صورت یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ کی دونوں انگلیوں سے اپنی بائیں ہتھیلی پر مارے، کچھ لوگ سبحان اللہ کہنے کے بجائے ''الله أكبر'' کہہ کر امام کومتنبہ کرتے ہیں، یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

1035- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ>.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۹۴)، وقد أخرجہ: خ/العمل في الصلاۃ ۵ (۱۲۰۴)، م/الصلاۃ ۲۳ (۴۲۱)، د/الصلاۃ ۱۷۳ (۹۴۱)، ت/الصلاۃ ۱۵۶ (۳۶۹)، ط/قصر الصلاۃ ۲۰ (۶۱) دي/الصلاۃ ۹۵ (۱۴۰۴) (صحیح)

۱۰۳۵- سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(صلاۃ میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لئے) مردوں کے لئے سبحان اللہ کہنا ہے، اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے''۔

1036 - حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدُاللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِلنِّسَاءِ فِي التَّصْفِيقِ، وَلِلرِّجَالِ فِي التَّسْبِيحِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۰۸ و ۸۲۲۵، ومصباح الزجاجۃ : ۳۷۱) (صحیح)
(سند میں سوید بن سعید میں ضعف ہے، لیکن سابقہ شواہد سے یہ صحیح ہے، نیز بوصیری نے اس سند کی تحسین کی ہے، اور شواہد ذکر کئے ہیں)
۱۰۳۶- نافع کہتے تھے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے (صلاۃ میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لئے) عورتوں کو تالی بجانے، اور مردوں کو ''سبحان الله'' کہنے کی رخصت دی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
66- بَاب الصَّلاةِ فِي النِّعَالِ
۶۶- باب: جوتے پہن کر صلاۃ پڑھنے کا بیان​

1037- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ قَالَ: كَانَ جَدِّي أَوْسٌ أَحْيَانًا يُصَلِّي، فَيُشِيرُ إِلَيَّ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ، فَأُعْطِيهِ نَعْلَيْهِ، وَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۲، ومصباح الزجاجۃ: ۳۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۰۸) (صحیح)

۱۰۳۷- ابن ابی اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے دادا اوس رضی اللہ عنہ کبھی صلاۃ پڑھتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے تو میں انہیں ان کے جوتے دے دیتا (وہ پہن لیتے اور صلاۃ پڑھتے) اور (پھر صلاۃ کے بعد) کہتے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے جوتے پہن کر صلاۃ پڑھتے دیکھا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس باب میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں، بلکہ علماء نے خاص اس مسئلہ میں مستقل رسالے لکھے ہیں، حاصل یہ ہے کہ جوتے پہن کر صلاۃ پڑھنا مستحب اور مسنون ہے، اور جو کہتا ہے کہ جوتے اتار کر پڑھنا ادب ہے اس کا قول غلط ہے اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ کا کوئی فعل خلاف ادب نہیں ہو سکتا، دوسری حدیث میں ہے کہ جوتے پہن کر صلاۃ پڑھو اور یہود کی مخالفت کرو، وہ جوتے پہن کر صلاۃ نہیں پڑھتے، البتہ یہ ضروری ہے کہ جوتے پاک و صاف ہوں، مگر ہماری شریعت میں جوتوں کی پاکی یہ رکھی گئی ہے کہ ان کو زمین سے رگڑ دے، اور جوتوں کا دھونا کسی حدیث سے ثابت نہیں، اور نہ سلف صالحین ہی سے منقول ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ تمدن اور شہریت کے اس زمانہ میں جب کہ مساجد میں فرش اور قالین بچھانے کا رواج ہے تو ان میں جوتا پہن کر جانا نامناسب ہے خاص کر برصغیر کے شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں کہ یہاں کی مٹی اور کیچڑ نیز راستہ کی گندگی اور کوڑا کرکٹ انسان کے جوتے اور کپڑوں میں لگ کر اس کو گندا کر دیتے ہیں، رہ گئی بات عرب دنیا کی تو وہاں پر عام زمین ریتیلی اور پہاڑی ہے اور بالعموم جوتے یا بدن میں لگنے کے بعد بھی خود سے یا رگڑنے سے صاف ہو جاتی ہے، بہرحال صفائی اور ستھرائی کا خیال کرنا بہت اہم مسئلہ ہے، اور صاف جوتے پہن کر مناسب مقام میں صلاۃ پڑھنے کا جواز ایک الگ مسئلہ ہے، چنانچہ عرب ملکوں میں آج بھی لوگ جوتے پہن کر صلاۃ ادا کرتے ہیں، لیکن مساجد میں جوتے پہن کر صلاۃ نہیں ادا کرتے بلکہ اس کے لئے اندر اور باہر جگہیں ہر مسجد میں موجود ہوتی ہیں، جہاں انہیں رکھ کر آدمی مسجد میں داخل ہوتا ہے۔

1038- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلا۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۸۹ (۶۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۴، ۱۷۹، ۲۰۶، ۲۱۵)
(حسن صحیح)

۱۰۳۸- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ کبھی جوتے نکال کر اور کبھی جوتے پہن کر صلاۃ پڑھتے تھے۔

1039- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ وَالْخُفَّيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۷۳، ومصباح الزجاجۃ: ۳۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۶۱)
(صحیح)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں ابو اسحاق مدلس و مختلط ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، اور زہیر بن معاویہ خدیج کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے)
۱۰۳۹- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جوتے، اور موزے پہن کر صلاۃ پڑھتے دیکھا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب كَفِّ الشَّعَر وَالثَّوْبِ فِي الصَّلاةِ
۶۷ - باب: صلاۃ میں بال اور کپڑے سمیٹنے کا بیان​

1040- حدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: <أُمِرْتُ أَنْ لا أَكُفَّ شَعَرًا وَلا ثَوْبًا>۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۳۳ (۸۰۹)، ۱۳۴ (۸۱۰)، ۱۳۷ (۸۱۵)، ۱۳۸ (۸۱۶)، م/الصلاۃ ۴۴ (۴۹۰)، د/الصلاۃ ۱۵۵ (۸۸۹، ۸۹۰)، ت/الصلاۃ ۸۸ (۲۷۳)، ن/التطبیق ۴۰ (۱۰۹۴)، ۴۳ (۱۰۹۷)، ۴۵ (۱۰۹۹)، ۵۶ (۱۱۱۴)، ۵۸ (۱۱۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۱، ۲۲۲، ۲۵۵، ۲۷۰، ۲۷۹، ۲۸۰، ۲۸۵، ۲۸۶، ۲۹۰، ۳۰۵، ۳۲۴)، دي /الصلاۃ ۷۳ (۱۳۵۷) (صحیح)

۱۰۴۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صلاۃ میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں''۱؎۔
وضاحت۱؎: سمیٹنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بالوں اور کپڑوں کو مٹی نہ لگے، تو اس سے مصلی کو منع کیا گیا، اس لئے بالوں اور کپڑوں کو اپنے حال پر رہنے دے، چاہے مٹی لگے یا نہ لگے، اس لئے کہ اللہ تعالی کے آگے رکوع و سجود میں اگر مٹی لگ جائے تو یہ تواضع، انکساری اور عاجزی کی نشانی ہے، جو یقینا اللہ تعالی کو پسند ہے۔

1041- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: أُمِرْنَا أَلا نَكُفَّ شَعَرًا وَلا ثَوْبًا، وَلا نَتَوَضَّأَ مِنْ مَوْطَإٍ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۸۱ (۲۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۶۸) (صحیح)

۱۰۴۱- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اگر وضو کر کے زمین پر چلیں، اور پاؤں یا کپڑوں میں کوئی نجاست اور گندگی لگ جائے، تو وضوء کا دہرانا ضروری نہیں صرف انہیں دھو ڈالنا کافی ہے۔

1042- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ،(ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ -رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ- يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ -مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ- رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي، وَقَدْ عَقَصَ شَعْرَهُ، فَأَطْلَقَهُ، أَوْ نَهَى عَنْهُ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ عَاقِصٌ شَعَرَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۲۹)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۸۸ (۶۴۶)، ت/الصلاۃ ۱۶۵ (۳۸۴)، حم (۶/۸، ۳۹۱)، دي/الصلاۃ ۱۰۵ (۱۴۲۰) (صحیح)

۱۰۴۲- مدینہ کے ایک باشندہ ابو سعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے مولی ابو رافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اس حال میں صلاۃ پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے، ابو رافع رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا، یا اس (جوڑا با ندھنے) سے منع کیا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے صلاۃ پڑھے۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ سجدے میں اگر بال کھلے ہوں گے تو وہ بھی سجدہ کریں گے، اور جب جوڑا باندھ لیا جائے تو بال زمین پر نہ گریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرد کے بال لمبے ہوں تو وہ ان کا جوڑا باندھ سکتا ہے، لیکن صلاۃ کے وقت کھول دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
68- بَاب الْخُشُوعِ فِي الصَّلاةِ
۶۸- باب: صلاۃ میں خشوع و خضوع کا بیان​

1043- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لا تَرْفَعُوا أَبْصَارَكُمْ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ تَلْتَمِعَ> يَعْنِي فِي الصَّلاةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۳۷۴) (صحیح)

۱۰۴۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(صلاۃ کی حالت میں) اپنی نگاہیں آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بینائی چھین لی جائے''۔

1044- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: <مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ>، حَتَّى اشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ: <لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ>۔
* تخريج: خ/الأذان ۲ ۹ (۷۵۰)، د/الصلاۃ ۷ ۶ ۱ (۹۱۳)، ن/السہو ۹ (۱۱۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۰۹، ۱۱۲، ۱۱۵، ۱۱۶، ۱۴۰، ۲۵۸)، دي / الصلاۃ ۷ ۶ (۱۳۴۰) (صحیح)

۱۰۴۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز اپنے صحابہ کو صلاۃ پڑھائی، جب آپ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کرکے فرمایا: ''لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی نگاہیں (بحالت صلاۃ) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں؟''، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ ﷺ نے یہ تک فرما دیا: ''لوگ اس سے ضرور باز آجائیں ورنہ اللہ تعالی ان کی نگاہیں اچک لے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: ابتداء اسلام میں صلاۃ کے اندر آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا جائز تھا، چنانچہ نبی اکرم ﷺ نظر اٹھایا کرتے تھے، پھر یہ آیت اتری: الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ (سورۃ المؤمنون: ۲) اس دن سے آپ ﷺ صلاۃ میں سر جھکانے لگے اور لوگوں کو بھی اس کی تاکید کی، آدمی جب صلاۃ میں کھڑا ہوتا ہے تو گویا اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، پھر اپنے مالک کے سامنے غلام کھڑا ہو تو نیچے دیکھنا، اور سر جھکائے رہنا ہی ادب ہے، اور اوپر دیکھنا ادب کے خلاف ہے، گو اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالی اوپر ہی کی جانب ہے، اس کے لئے فوقیت اور علو کی جہت کتاب و سنت سے متواتر اور قطعی طور پر ثابت ہے، وہ بلندی پر ہے، سات آسمان کے اوپر اور عرش کے اوپر اور مخلوقات سے جدا، اور اسی کے پاس سے تمام احکام و فرامین اور فرشتے اترتے ہیں، اور اسی کی طرف نیک اعمال اور فرشتے چڑھتے ہیں۔

1045- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: <لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، أَوْ لا تَرْجِعُ أَبْصَارُهُمْ>۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۲۳ (۴۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۳۰)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۱۶۷ (۹۱۲)، حم (۵/۹۰، ۹۳، ۱۰۱، ۱۰۸، دي/الصلاۃ ۶۷ (۱۳۳۹) (صحیح)

۱۰۴۵- جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں کو (صلاۃ کی حالت میں) آسمان کی طرف اپنی نگاہیں اٹھانے سے باز آجانا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں (صحیح سالم) نہ لوٹیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی صلاۃ کے اندر اس کام سے باز آجائیں، اور بعضوں نے کہا کہ جب دعا کرتا ہو تو صلاۃ سے باہر بھی نگاہ اٹھانی مکروہ ہے، اور اکثر لوگوں نے صلاۃ سے باہر نگاہ اٹھانے کو جائز کہا ہے، اس بناء پر کہ دعا کا قبلہ آسمان ہے جیسے صلاۃ کا قبلہ کعبہ ہے۔

1046- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلّادٍ قَالا: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ، حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ لِئَلا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، فَإِذَا رَكَعَ قَالَ هَكَذَا، يَنْظُرُ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ} فِي شَأْنِهَا۔
* تخريج: ت/التفسیر سورۃ ۱۵/۱ (۳۱۲۲)، ن/الإمامۃ ۶۲ (۸۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۰۵) (صحیح)

۱۰۴۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پیچھے صلاۃ پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: {وَلَقَدْ عَلِمْنَاْ الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِيْنَ} [سورۃ حجر: ۲۴] (ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو) نازل فرمائی۱؎۔
وضاحت۱؎: نفس امارہ اور شیطان ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی یہ بات تھی، باوجود اس کے کہ ان کو نبی اکرم ﷺ کی صحبت (ساتھ ہونے) کا شرف حاصل تھا، مگر شیطان کے شرسے وہ معصوم نہ تھے، اور اس قسم کے واقعات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کئی مقامات میں منقول ہوئے ہیں، جیسے اندھے کے گرنے پر صلاۃ کے اندر قہقہہ (زور سے ہنسنا)، اور خطبہ کے دوران نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر چلے جانا وغیرہ وغیرہ، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ حال خیر القرون میں تھا، تو اور لوگوں کو اپنے نفس پر کیا اطمینان ہو سکتا ہے، شیطان کے شر سے ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔
 
Top