- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
79- بَاب فِي فَضْلِ الْجُمُعَةِ
۷۹- باب: جمعہ کی فضیلت کا بیان
۷۹- باب: جمعہ کی فضیلت کا بیان
1084- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ ابْنِ عَبْدِالْمُنْذِرِ؛ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: <إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الأَيَّامِ، وَأَعْظَمُهَا عِنْدَاللَّهِ، وَهُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يَوْمِ الأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ، فِيهِ خَمْسُ خِلالٍ: خَلَقَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ، وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ إِلَى الأَرْضِ، وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لا يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا الْعَبْدُ شَيْئًا إِلا أَعْطَاهُ، مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ، وَلا سَمَائٍ، وَلا أَرْضٍ، وَلا رِيَاحٍ، وَلا جِبَالٍ، وَلا بَحْرٍ إِلا وَهُنَّ يُشْفِقْنَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ".
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۳۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۳۰) (ضعیف) (عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی اس روایت کی سند و متن میں شدید اضطراب ہے، اس لئے یہ سیاق ضعیف ہے، اصل حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس کے لئے ملاحظہ ہو: ابو داود، نیز ساعت اجابہ متفق علیہ ہے، تراجع الألبانی: رقم : ۱۸۸) ۔
۱۰۸۴- ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بیشک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے، اس کا درجہ اللہ تعالی کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے، اس کی پانچ خصوصیات ہیں: اللہ تعالی نے اسی دن آدم کو پیدا فرمایا، اسی دن ان کو روئے زمین پہ اتارا، اسی دن اللہ تعالی نے ان کو وفات دی، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی اللہ سے مانگے اللہ تعالی اسے دے گا جب تک کہ حرام چیز کا سوال نہ کرے، اور اسی دن قیامت آئے گی، جمعہ کے دن ہر مقرب فرشتہ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ اور سمندر (قیامت کے آنے سے) ڈرتے رہتے ہیں''۔
وضاحت۱؎: جمعہ کی اجابت کی ساعت یعنی قبولیتِ دعا کی گھڑی کے بارے میں بہت اختلاف ہے، راجح قول یہ ہے کہ یہ عصر اور مغرب کے درمیان کوئی گھڑی ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے صلاۃ کے ختم ہونے کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہے، واللہ اعلم، اور یہ جو فرمایا: ''جب تک حرام کا سوال نہ کرے''، یعنی گناہ کے کام کے لئے دعا نہ کرے جیسے زنا یا چوری یا ڈاکے یا قتل کے لئے، تو ایسی دعا کا قبول نہ ہونا بھی بندے کے حق میں افضل اور زیادہ بہتر ہے، اور قبول نہ ہونے والی ہر دعا کا یہی حال ہے، معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی بہتری اسی میں رکھی ہے، انسان اپنے انجام سے آگاہ نہیں، ایک چیز اس کے لئے مضر ہوتی ہے لیکن وہ بہتر خیال کر کے اس کے لئے دعا کرتا ہے۔
1085- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّاد بْنِ أَوْسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ>، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ، يَعْنِي بَلِيتَ؟ فَقَالَ: <إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۱۹، ومصباح الزجاجۃ: ۳۸۳)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۲۰۷ (۱۰۴۷)، ن/الجمعۃ ۵ (۱۳۷۵)، حم (۴/۸) (صحیح)
۱۰۸۵- شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ۱؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اور اسی دن پہلا اور دوسرا صور پھونکا جائے گا، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود (صلاۃ) بھیجا کرو، اس لئے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا''، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا درود (صلاۃ) آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے زمین پہ انبیاء کے جسموں کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے''۲؎۔
وضاحت۱؎: شداد بن اوس: یہ وہم ہے جو (۱۱۰۳) نمبر حدیث میں آرہا ہے، صحیح: اوس بن اوس ہے، (ملاحظہ ہو: تحفۃ الاشراف : ۴۸۱۹، ۱۷۳۶، و مصباح الزجاجۃ : ۳۸۳)
وضاحت۲؎: سارے انبیاء و رسل کے اجسادِ مبارکہ زمین کے اندر صحیح اور سالم ہیں، اور روح تو سب کی زندہ و سلامت رہتی ہے، پس نبی اکرم ﷺ اپنی روح اور جسم کے ساتھ قبر میں صحیح سالم ہیں، اور یہ برزخی زندگی کی سب سے بہتر شکل ہے، جو کوئی قبر کے پاس آپ پر صلاۃ و سلام بھیجے تو آپ ﷺ خود اس کا جواب دیتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: ''ما من أحد يسلّم عليَّ عند قبري ردَّ الله عليَّ روحي حتّى أردّ عليه السلام'' یہ آپ ﷺ کی خصوصیت میں سے ہے، اور اگر درود و سلام دور سے بھیجا جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ ﷺ تک پہنچانے کے لئے فرشتے مقرر فرما دیئے ہیں، جو اسے آپ ﷺ تک پہنچا دیتے ہیں، اہل حدیث کا یہ اعتقاد ہے، اگرچہ یہ زندگی دنیا کی سی زندگی نہیں ہے، جس میں آدمی کھانے اور پینے کا محتاج ہوتا ہے، برزخی زندگی کی مکمل کیفیت و حالت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتا ہے، ہم صرف انہی احوال پر ایمان لانے کے مکلف ہیں جو قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں۔
1086- حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا، مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۳۸)، وقد أخرجہ: م/الطہارۃ ۵ (۲۳۳)، ت/المواقیت ۴۷ (۲۱۴)، حم (۲/۴۸۱) (صحیح)
۱۰۸۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے''۔