• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
110- بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
۱۱۰- باب: مغرب سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان​

1162- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ: < بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ > قَالَهَا ثَلاثًا، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: < لِمَنْ شَاءَ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۴ (۶۲۴)، ۱۶ (۶۲۷)، م/المسافرین ۵۶ (۸۳۸)، د/الصلاۃ ۳۰۰ (۱۲۸۳)، ت/الصلاۃ ۲۲ (۱۸۵)، ن/الاذان ۳۹ (۶۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۶، ۵/۵۴، ۵۶، ۵۷)، دي/الصلاۃ ۱۴۵ (۱۴۸۰) (صحیح)

۱۱۶۲- عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ہر اذان اور اقامت کے درمیان صلاۃ ہے، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں کہا: ''اس کے لئے جو چاہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان اور اقامت کے درمیان نفلی صلاۃ ہے، اور یہ نفل ہر صلاۃ میں اذان اور اقامت کے درمیان ہے، اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل ثابت ہے۔

1163- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَنَرَى أَنَّهَا الإِقَامَةُ، مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ .
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۴)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۹۵ (۵۰۳)، الأذان ۱۴ (۶۲۵)، م/المسافرین ۵۵ (۸۳۶)، د/الصلاۃ ۳۰۰ (۱۲۸۲)، ن/الأذان ۳۹ (۶۸۲)، د/الصلاۃ ۳۰۰ (۱۲۸۲)، حم (۳/۲۸۲) (صحیح)
(اس سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن کئی ثقات نے ان کی متابعت کی ہے کما فی التخریج)
۱۱۶۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مؤذن اذان دیتا تو لوگ اتنی کثرت سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے کہ محسوس ہو تاکہ صلاۃ مغرب کے لئے اقامت کہہ دی گئی ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ دو رکعتیں ہلکی ہوتی تھیں جب تک اذان سے فراغت ہوتی اور موذن تکبیر شروع کرتا تو ان سے فراغت ہو جاتی، نیز اس حدیث سے مغرب کی صلاۃ سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
111- بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ
۱۱۱- باب: مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان​

1164- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ شقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج:خ/الجمعۃ ۳۹ (۹۳۷)، التہجد ۲۵ (۱۱۷۵)، عن ابن عمر م/المسافرین ۱۵ (۷۳۰)، د/الصلاۃ۲۹۰ (۱۲۵۱)، ت/الصلاۃ ۲۰۵ (۴۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۱۰) (صحیح)

۱۱۶۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔

1165- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي بَنِي عَبْدِالأَشْهَلِ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ فِي مَسْجِدِنَا، ثُمَّ قَالَ: < ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۸۴، ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۴) (حسن)
(عبد الوہاب بن الضحاک متروک ہے، اور اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل شام کے علاوہ سے ضعیف ہے، اور محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں (۱/۱۲۹/۲) محمد بن اسحاق کے طریق سے کی ہے، اس لئے عبد الوہاب اور ابن عیاش کی متابعت ہو گئی، نیز مسند احمد: ۵/۴۲۷) میں ابن اسحاق سے تحدیث کی تصریح ہے، لیکن وہ محمود بن لبید کی حدیث ہے، اس وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود : ۱۱۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۸، تحقیق الشہری)
۱۱۶۵- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس بنو عبد الاشہل (قبیلہ) میں آئے، اور ہمیں ہماری مسجد میں مغرب پڑھائی، پھر فرمایا: ''یہ دونوں رکعتیں (مغرب کے بعد کی سنتیں) اپنے گھروں میں پڑھو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنتوں کا گھر میں ادا کرنا افضل ہے، کیونکہ اس میں ریا و نمود سے بچاؤ ہوتا ہے، اور گھر میں برکت بھی ہوتی ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں لوگوں نے اس سنت کو چھوڑ دیا ہے، اور سنتوں کو مسجد میں ہی پڑھا کرتے ہیں، اور جمعہ کے بعد ایک فیصد بھی ایسا نہیں دیکھا جاتا، جو سنتیں گھر میں جا کر ادا کرے جیسے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
112- بَاب مَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبَ
۱۱۲- باب: مغرب کے بعدکی دو رکعت سنت میں کون سی سورتیں پڑھے؟​

1166- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ابْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ وَأَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}۔
* تخريج: حدیث زرعن عبد اللہ مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۶) وحدیث أبي وائل عن ابن سعود: أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۰۴ (۴۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۷۸) (ضعیف)
(اس کی سند میں بدل بن المحبر اور عبد الملک بن الولید ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۸۵۱)
۱۱۶۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} پڑھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
113- بَاب مَا جَاءَ فِي السِّتِّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْمَغْرِبِ
۱۱۳- باب: مغرب کے بعد چھ رکعت سنت پڑھنے کا بیان​

1167- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ الْيَمَامِيُّ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ بَيْنَهُنَّ بِسُوئٍ، عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۰۵ (۴۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۱۲) (ضعیف جدا)
(اس حدیث کی سند میں عمر بن ابی خثعم منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۶۹)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۱۳۷۴)
۱۱۶۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت صلاۃ پڑھے اور ان کے درمیان کوئی غلط بات نہ کہے، تو وہ بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائیں گی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
114- بَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ
۱۱۴- باب: وتر کا بیان​

1168- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ: خَرَجَ علَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: < إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلاةٍ، لَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۳۶ (۱۴۱۸)، ت/الصلاۃ۲۱۵ (۴۵۲)، (تحفۃ الأشراف:۳۴۵۰)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۲۰۸ (۱۶۱۷) (صحیح)
(اس سند میں عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں، اس لئے''ھی خیر لکم من حمرالنعم'' کا ٹکڑا ضیعف ہے، بقیہ حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ۴۴۲ والصحیحہ: ۱۰۸ و ۱۱۴۱، وضعیف أبی داود: ۲۵۵)
۱۱۶۸- خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس نکل کر آئے اور فرمایا: ''اللہ تعالی نے تمہارے اوپر مزید ایک صلاۃ مقرر کی ہے، جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر کی صلاۃ ہے، اللہ نے اسے تمہارے لئے عشاء سے لے کر طلوع فجر کے درمیان مقرر کیا ہے''۔

1169- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلاكَصَلاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: < يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ! أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۳۶ (۱۴۱۶)، ت/الصلاۃ ۲۱۶ (۴۵۳)، ن/قیام اللیل ۲۷ (۱۶۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۰۰، ۱۱۰، ۱۴۳، ۱۴۴، ۱۴۸)، دي/الصلاۃ ۲۰۹ (۱۶۲۱) (صحیح لغیرہ)
(تراجع الألبانی: رقم: ۴۸۲)
۱۱۶۹- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر واجبن ہیں ہے، اور نہ وہ فرض صلاۃ کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھی پھر فرمایا: ''اے قرآن والو! ۱؎ وتر پڑھو، اس لئے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے۱؎''۔
وضاحت۱؎: قرآن والوں سے مراد قراء و حفاظ کی جماعت ہے، نہ کہ عامۃ الناس، اس کی تائید اگلی روایت میں ''ليس لك ولا لأصحابك'' کے جملہ سے ہو رہی ہے، جو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک اعرابی سے کہا تھا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ وتر واجب نہیں ہے، کیونکہ اگر واجب ہوتی تو حکم عام ہوتا۔

1170- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ >، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: < لَيْسَ لَكَ وَلا لأَصْحَابِكَ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۳۶ (۱۴۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۲۷) (صحیح)

۱۱۷۰- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بیشک اللہ طاق (یکتا و بے نظیر) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لئے نہیں ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
115- بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُقْرَأُ فِي الْوِتْرِ
۱۱۵- باب: وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان​

1171- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ طَلْحَةَ وَزُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُوتِرُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى،{وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۳۹ (۱۴۲۳)، ن/قیام اللیل ۳۴ (۱۷۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ۱۱۸۲) (صحیح)

۱۱۷۱- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَىٰ}،{قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} پڑھتے تھے۔

1172- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُوتِرُ بِسَبِّحِ اسْمَ ربِّكَ الأَعْلَى، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۲۳ (۴۶۲)، ن/قیام اللیل ۳۴ (۱۷۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۲)، دي/الصلاۃ ۲۱۲ (۱۶۲۷، ۱۶۳۰) (صحیح)

۱۱۷۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَىٰ} {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} پڑھتے تھے۔

1172/أ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ ۔
۱۱۷۲- اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

1173- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلانِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ، بِأَيِّ شَيْئٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بـ{ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى}، وَفِي الثَّانِيَةِ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ }، وَفِي الثَّالِثَةِ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۳۹ (۱۴۲۴)، ت/الصلاۃ ۲۲۳ (۴۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۰۶) وقد أخرجہ: حم (۶/ ۲۲۷) (صحیح)

۱۱۷۳- عبد العزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ پہلی رکعت میں {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} دوسری میں {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور تیسری میں {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} اور معوذتین پڑھتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} کی تلاوت فرماتے، اور دوسری رکعت میں {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} کی، اور تیسری رکعت میں {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} اور معوذتین پڑھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
116- بَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ
۱۱۶- باب: ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان​

1174- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ۔
* تخريج: خ/الوتر۱ (۹۹۵)، م/المسافرین۲۰ (۷۴۹)، ت/الصلاۃ ۲۲۲ (۴۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۵۲، ۷۲۶۷)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۳۳۸ (۱۴۲۱)، ن/قیام اللیل۳۴ (۱۶۹۰)، ط/صلاۃ اللیل ۳ (۱۳)، حم (۲/۳۳، ۴۳، ۴۵، ۴۹، ۵۱، ۵۴، ۸۱، ۸۳، ۱۵۴)، دي/الصلاۃ ۱۵۴ (۱۴۹۹)، ۱۵۵ (۱۵۰۰) (صحیح)

۱۱۷۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں دو دو رکعت پڑھتے تھے، اور ایک رکعت وترپڑھتے تھے۔

1175- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < صَلاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ >، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبَتْنِي عَيْنِي، أَرَأَيْتَ إِنْ نِمْتُ قَالَ: اجْعَلْ (أَرَأَيْتَ) عِنْدَ ذَلِكَ النَّجْمِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا السِّمَاكُ، ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < صَلاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قَبْلَ الصُّبْحِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۸۵۶۰) (صحیح)

۱۱۷۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رات کی صلاۃ دو دو رکعت اور و تر ایک رکعت ہے، ابو مجلز (لاحق بن حمید) کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے، اگرمیں سو جاؤں؟! تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک ۱؎ چمک رہا تھا، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا، اور کہا: رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ''رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے''۔
وضاحت۱ ؎: سماک: ایک ستارہ کا نام ہے، سماکان: دو روشن ستارے، ایک کا نام ''السماء الرامح'' ہے، دوسرے کا ''السماء الأعزل'' ہے۔

1176- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ فَقَالَ: كَيْفَ أُوتِرُ؟ قَالَ: أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ، قَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: الْبُتَيْرَاءُ، فَقَالَ: سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، يُرِيدُ: هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۵۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۵) (صحیح)
(سند میں انقطاع ہے کیونکہ بقول امام بخاری (التاریخ الکبیر: ۸/ ۸) مطلب بن عبد اللہ کا سماع کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے، الا یہ کہ انہوں نے کہا ہے کہ مجھ سے بیان کیا اس شخص نے جو نبی اکرم ﷺ کے خطبہ میں حاضر تھا، اور ابو حاتم نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، میں نہیں جانتا کہ ان سے سنایا نہیں سنا (المراسیل: ۲۰۹)، پھرالجرح و التعدیل میں کہا کہ ان کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرسل (منقطع) ہے، شاید یہ تصحیح شواہد کی وجہ سے ہے، جس کو مصباح الزجاجۃ (۴۱۹) میں ملاحظہ کریں، یہ حدیث صحیح ابن خزیمہ (۱۰۷۴) میں ہے، جس کے اسناد کی تصحیح البانی صاحب نے کی ہے، جب کہ ابن ماجہ میں ضعیف لکھا ہے)
۱۱۷۶- مطلب بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پو چھا : میں وتر کیسے پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: تم ایک رکعت کو وتر بناؤ، اس شخص نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس صلاۃ کو بتیراء (دم کٹی صلاۃ) کہیں گے، تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے۔

1177- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۱۸، ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۶) (صحیح الإسناد)

۱۱۷۷- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر دو رکعت پہ سلام پھیرتے تھے، اور ایک رکعت وترپڑھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
117- بَاب مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ
۱۱۷- باب: وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان​

1178- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيّ قَالَ: عَلَّمَنِي جَدِّي، رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ < اللَّهُمَّ عَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَاهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، سُبْحَانَكَ رَبَّنَا تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۴۰ (۱۴۲۵، ۱۴۲۶)، ت/الصلاۃ ۲۲۴ (۴۶۴)، ن/قیام اللیل ۴۲ (۱۷۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۹۹، ۲۰۰) (صحیح)

۱۱۷۸- حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نانا رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جن کو میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں: ''اللَّهُمَّ عَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَاهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، سُبْحَانَكَ رَبَّنَا تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ''
(اے اللہ! مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت بخشی ہے، اور میری سرپرستی کر ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے زمرے میں جن کو تو نے ہدایت دی ہے، اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے۱؎، اور میرے لئے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے، پس جو تو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے، اور تجھ پر کسی کا حکم نہیں چل سکتا، اور جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو پاک، بابرکت اور بلند ہے) ۲؎ ۔

وضاحت۱ ؎: حاکم کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ جب میں رکوع سے سر اٹھاتا ہوں اور صرف سجدہ باقی رہ جاتا ہے اس وقت ان کلمات کو کہتا ہوں، ترمذی کہتے ہیں: قنوت کے باب میں یہ دعا سب دعاؤں سے زیادہ صحیح ہے۔
وضاحت۲؎: تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے بارے میں جو کچھ مقدر کر رکھا ہے چاہے اس کا تعلق رب کے فعل سے ہو یا غیر رب کے فعل سے ہو سب پر ایمان لایا جائے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے پاس آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مقدر فرمایا اور اس کو لکھ دیا، اور یہ معلوم ہے کہ کتابت و تحریر کا عمل فعل وعمل کے وجود میں آنے کے بعد ہی ہوتا ہے، تو علم تحریر سے پہلے وجود میں آیا، پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے ہونے والے علم کو تحریر فرما دیا ہے، قیامت کے بعد کی بیشمار چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جن کے بارے میں کتاب و سنت میں ہے کہ وہ مکتوب و محرر ہیں۔
یہ تقدیر انسان کے اپنے اعتبارسے خیر و شر کا مجموعہ ہے، خیر کے معنی بندہ کے مناسب حال تقدیر، اور شر سے مراد بندہ کے لئے غیر مناسب تقدیر، تقدیر الٰہی میں خیر وشر دونوں ہیں، طاعت و فرماں برداری خیر ہے، اور معصیت و گناہ شر ہیں، مالداری خیر ہے، فقر شر ہے، صحت و تندرستی خیر ہے اور بیماری و مرض شر ہے، وغیرہ وغیرہ، اور یہ ساری باتیں اللہ کے فیصلہ اور تقدیر کے نتیجہ میں ہیں، تو بھلی اور بری تقدیر پر ایمان کیسے ہو گا اور کیا شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے گی؟۔
کسی بھی فعل، قضاء و قدر اور حکم میں شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جائے گی، اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے: "والشر ليس إليك"، ''شرکی نسبت تیری طرف نہیں ہے''۔
اور اللہ تعالیٰ کے سارے افعال و اعمال سب خیر و حکمت ہیں، ہاں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں شر ہے، بچہ اگر بیمار ہو، اور اس کے علاج میں اعضاء جسم کے داغنے کی ضرورت ہو تو اس کو آگ سے داغا جائے گا، تو اصل کام خیر ہے اور ''آگ سے داغنا'' شر ہے، اس لئے کہ اس کام سے بچنے کی مصلحت مقصود ہے، پھر اللہ کے قضاء و قدر میں شر محض نہیں ہوتا، بلکہ اس کے موقع و عمل اور زمانہ میں ایسا ہوتا ہے، تو جب اللہ تعالیٰ کسی ظالم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے تو اس ظالم کے نقطہ نظر سے یہ شر ہے، لیکن دوسرے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس کام میں خیر ہے کہ وہ اس سے عبرت و نصیحت پکڑیں۔
سنیچر کے دن ظلم و تعدی کرنے والے گاؤں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {فَجَعَلْنَاهَا نَكَالاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ} (اسے ہم نے اگلوں پچھلوں کے لئے عبرت کا سبب بنا دیا اور متقیوں اور پرہیزگاروں کے لئے وعظ و نصیحت کا) (سورۃ البقرۃ:۶۶)
ایسے ہی انسان اگر ناز و نعم میں برابر رہے تو یہ اس کو ظلم و زیادتی پر ابھارتا ہے، وہ توبہ و استغفار سے غافل، اور غرور و تکبر کا شکار ہو جاتا ہے، اپنے کاموں پر اس میں عجب پسندی پیدا ہو جاتی ہے، اس کے مقابلہ میں گناہ کرنے والا انسان توبہ و ندامت کے بعد اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے، اور توبہ کے بعد پہلے سے اچھا ہو جاتا ہے، اس لئے کہ اس نے جب بھی اپنے گناہوں کو یاد کیا تو اس کو اپنی حقیقت کا پتہ چل گیا، آدم علیہ السلام نے جنت میں شجر ممنوعہ کے کھانے کے بعد جب نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا تو توبہ و ہدایت اور تقرب الٰہی کی جن نعمتوں سے وہ مالا مال ہوئے وہ گناہوں کے ارتکاب اور اس پر ندامت اور توبہ کی برکت سے ایسا ہوا، ارشاد باری ہے: {رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} (اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا، تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے) (الاعراف: ۲۳)
اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَى} (پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی) (سورۃ طہ: ۱۲۲)
ایسے ہی غزوہ تبوک میں غزوہ سے پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جن کو بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور ان کی توبہ آزمائش کے مرحلہ کے گزرنے کے بعد قبول ہوئی، ان کی آزمائش کا حال یہ تھا کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی تھی، اعزہ و اقارب سبھوں نے منہ موڑ لیا تھا، لیکن توبہ کے بعد ان کو بے مثال خوشی و مسرت حاصل ہوئی، اور ان کے بارے میں خصوصی طور پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّواْ أَن لاَّ مَلْجَأَ مِنَ اللّهِ إِلاَّ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُواْ إِنَّ اللّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ} (اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی، سوائے اس کے کہ اس کی طرف رجوع کیا جائے، پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی، تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کر سکیں، بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے) (سورۃ التوبہ: ۱۱۸)
توبہ کے بعد ان تین مقدس ہستیوں کے اعزاز و اکرام کا حال یہ ہوا کہ تاقیامت ان کے بارے میں یہ آیت تلاوت ہوتی رہے گی۔
شر کا یہ مسئلہ شرعی مسائل میں بھی ہے اور کائناتی نظام میں بھی، لیکن یہ واضح رہے کہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر کے اعتبار سے نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ، حکم اور کام خیر ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے جو شر مقدر کیا ہے وہ حقیقت میں خیر ہے، اللہ تعالیٰ کے فیصلہ اور فعل کے نتیجہ میں جو چیز صادر ہوئی ہے، جیسے مرض، فقر وغیرہ، وہ شر اس اعتبار سے ہے کہ انسان اس کے بارے میں ایسا سوچتا ہے، جبکہ اللہ کی قضاء و قدر میں خیر ہی خیر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے "الخير بيديك والشر ليس إليك" فرمایا، "الشر بيديك" نہیں کہا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی شر کی نسبت نہیں کی جائے گی، چہ جائے کہ یہ کام اللہ کے ہاتھوں سے عمل میں آیا ہو، تو نہ ارادہ کا، اور نہ قضاء و قدر کا شر اللہ کی طرف منسوب ہو گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ شر کے قضاء و قدر سے شر کا ارادہ نہیں کرتا، لیکن جس کے بارے میں فیصلہ شر کا فیصلہ ہے، اس کے حساب سے یہ شر ہوا، کبھی یہ چیز آدمی کے لئے مناسب ہوتی ہے اور کبھی نامناسب، اور کبھی یہ کام طاعت کا ہوتا ہے اور کبھی معصیت کا، تو یہ چیز لوگوں کے اعتبار سے ہوتی ہے، اگر کسی کے حق میں یہ فیصلہ بظاہر شر ہو، تو دوسری جگہ پر وہی فیصلہ خیر ہو گا، اس کا شر محض ہونا ناممکن ہے، حتی کہ اس بندہ کے اعتبار سے شر ہونے کا فیصلہ بھی شر محض نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک اعتبار سے شر ہوتا ہے اور دوسرے اعتبار سے خیر، اور ایک مقام پر شر ہوتا ہے اور دوسرے مقام پر خیر۔
مثلاً: قحط اور فقر شر ہے، لیکن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے یہ خیر ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} (خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں) (سورۃ الروم: ۴۱)
یہاں بعض کام کہا، ہر کام نہیں کہا، معصیت سے اللہ کی اطاعت کی طرف واپسی یقینی طور پر خیر ہی خیر ہے، بلکہ اس کا نتیجہ بڑا خیر ہے، تو فقر وفاقہ اور قحط اور بیماری اور جانوں کے ضیاع کا غم اگر اس کے بعد خیر ہو تو لذت میں بدل جاتا ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} تاکہ وہ واپس حق کی طرف لوٹ جائیں۔
دنیا میں کتنے انسان اپنی مالداری کے نشے میں ظلم وتعدی میں بہت آگے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کو بالکل بھلا دیا، لیکن جب ان پر افلاس وفقر کا سایہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے، اور انہیں معلوم ہوا کہ وہ گمراہ ہو گئے تھے، تو یہ شر دوسرے اعتبار سے ان کے حق میں خیر ہو گیا۔
ایسے ہی چور کے ہاتھ کاٹنے کا عمل چور کے لئے شر ہے، لیکن اس کے حق میں یہ اس اعتبار سے خیر ہے کہ آخرت کی سزا حد کے نفاذ کے بعد اس سے ساقط ہو گئی، دنیا کی سزا آخرت کی سزا سے ہلکی ہے، اور عام لوگوں کے لئے بھی یہ خیر ہے کہ اس میں چوری کا ارادہ کرنے والوں کے تنبیہ و سرزنش ہے، اس میں لوگوں کے مال کی حفاظت کا بھی پہلو ہے، اس لئے کہ چور کو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ چوری کے نتیجہ میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو وہ چوری سے باز آجائے گا، تو اس سے لوگوں کے اموال محفوظ ہوں گے۔

1179- حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ، حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَلِيِّ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقُولُ، فِي آخِرِ الْوِتْرِ < اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سخْطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۴۰ (۱۴۲۷)، ت/الدعوات ۱۱۳ (۳۵۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۰۷)، وقد أخرجہ: ن/قیام اللیل ۴۳ (۱۷۴۹)، حم (۱/۹۶، ۱۱۸، ۱۵۰) (صحیح)

۱۱۷۹- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: ـ''اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سخْطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ''، یعنی: (اے اللہ! میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری معافی کے ذریعہ تیری سزاؤں سے پنا ہ مانگتا ہوں، اور تیرے رحم و کرم کے ذریعہ تیرے غیظ و غضب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
118- بَاب مَنْ كَانَ لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الْقُنُوتِ
۱۱۸- باب: دعائے قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے کا بیان​

1180- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ كَانَ لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْئٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلا عِنْدَ الاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ۔
* تخريج: خ/الاستسسقاء ۲۲ (۱۰۳۱) المناقب ۲۳ (۳۵۶۵)، الدعوات ۲۳ (۶۳۴۱)، م/الاستسقاء ۱ (۸۹۵)، د/الصلاۃ۲۶۰ (۱۷۷۰)، قیام اللیل ۴۳ (۱۷۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۸)، وقد أخرجہ: ن/الاستسقاء ۹ (۱۵۱۲)، حم (۳/۲۸۲)، دي/الصلاۃ ۱۸۹ (۱۵۷۶) (صحیح)

۱۱۸۰- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی کسی بھی دعا میں اپنے ہاتھ (مبالغہ کے ساتھ) نہیں اٹھاتے تھے، البتہ آپ استسقا میں اپنے ہاتھ اتنا اوپر اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ روایت ان بہت سی روایتوں کی معارض ہے جن سے استسقاء کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، لہذا اولیٰ یہ ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ آپ نے جو نفی کی ہے، وہ اپنے علم کی حد تک کی ہے، جس سے دوسروں کے علم کی نفی لازم نہیں آتی ہے، یا یہ کہا جائے کہ اس میں ہاتھ زیادہ اٹھانے کی نفی ہے، یعنی دوسری دعاؤں میں آپ اپنے ہاتھ اتنے اونچے نہیں اٹھاتے تھے جتنا استسقاء میں اٹھاتے تھے، حتی ''رأيت بياض إبطيه'' کے ٹکڑے سے اس قول کی تائید ہو رہی ہے، اس سے مطلق قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے پر استدلال صحیح نہیں، اس لئے کہ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانا صحیح روایتوں سے ثابت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
119- بَاب مَنْ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ
۱۱۹- باب: دعا میں ہاتھ اٹھانے اور اس کو چہرے پر پھیرنے کا بیان​

1181- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا دَعَوْتَ اللَّهَ فَادْعُ بِبَاطِنِ كَفَّيْكَ، وَلا تَدْعُ بِظُهُورِهِمَا، فَإِذَا فَرَغْتَ فَامْسَحْ بِهِمَا وَجْهَكَ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۵۸، (۱۴۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۴۸، ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۷)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۳۸۶۶) (ضعیف)
(اس کی سند میں صالح بن حسان ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۳۳۴)۔
۱۱۸۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم اللہ تعالی سے دعا کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کا باطن منہ کی طرف کرکے دعا کرو، ان کے ظاہری حصہ کو منہ کی طرف نہ کرو، اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو دونوں ہتھیلیاں اپنے چہرہ پر پھیر لو''۔
 
Top