• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
41- بَاب صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ
۴۱- باب: یوم عاشوراء کا صیام​

1733- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُ عَاشُورَاءَ، وَيَأْمُرُ بِصِيَامِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۲۲)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۶۹ (۲۰۰۲)، م/الصوم ۱۹ (۱۱۲۵)، د/الصوم ۶۴ (۲۴۴۲)، ت/الصوم ۴۹ (۷۵۳)، ط/الصوم ۱۱ (۳۳)، دي/الصوم ۴۶ (۱۸۰۳) (صحیح)

۱۷۳۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول ﷺ عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ ) کا صوم رکھتے، اور اس کے رکھنے کا حکم دیتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: محرم کی دسویں تاریخ کو یوم عاشوراء کہتے ہیں، نبی اکرم ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی اس دن صوم رکھتے ہیں، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ''تم لوگ اس دن صوم کیوں رکھتے ہو''؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ اس دن اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی، اسی خوشی میں ہم صوم رکھتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہم اس کے تم سے زیادہ حقدار ہیں'' چنانچہ آپ ﷺ نے اس دن کا صوم رکھا، اور یہ بھی فرمایا: ''اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو اس کے ساتھ ۹ محرم کا صوم بھی رکھوں گا'' تاکہ یہود کی مخالفت ہو جائے، بلکہ ایک روایت میں آپ ﷺ نے اس کا حکم بھی دیا ہے کہ تم عاشوراء کا صوم رکھو، اور یہود کی مخالفت کرو، اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا بعد کا صوم بھی رکھو۔

1734- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنِ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ الْيَهُودَ صُيَّامًا، فَقَالَ: <مَا هَذَا؟ > قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۴۳)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۶۹ (۲۰۰۴)، م/الصوم ۱۹ (۱۱۳۰)، د/الصوم ۶۴ (۲۴۴۴)، حم (۱/ ۲۳۶، ۳۴۰)، دي/الصوم ۴۶ (۱۸۰۰) (صحیح)

۱۷۳۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ آئے تو یہودیوں کو صوم رکھتے ہوئے پایا، آپ ﷺ نے پوچھا: ''یہ کیا ہے''؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی، اور فرعون کو پانی میں ڈبو دیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن شکریہ میں صوم رکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں۱؎ ، آپ ﷺ نے اس دن صوم رکھا، اور لوگوں کو بھی صوم رکھنے کا حکم دیا''۔
وضاحت۱؎: رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کی خوشی میں شرکت کے ہم تم سے زیادہ حق دار ہیں، کیونکہ وہ دین حق پر تھے، اور ہم بھی دین حق پر ہیں۔

1735- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ؛ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، < مِنْكُمْ أَحَدٌ طَعِمَ الْيَوْمَ؟ > قُلْنَا: مِنَّا طَعِمَ وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَطْعَمْ، قَالَ: < فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ، مَنْ كَانَ طَعِمَ وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْ، فَأَرْسِلُوا إِلَى أَهْلِ الْعَرُوضِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ > قَالَ: يَعْنِي أَهْلَ الْعَرُوضِ حَوْلَ الْمَدِينَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۲۵، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۸۸) (صحیح)

۱۷۳۵- محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عاشوراء کے دن فرمایا: ''آج تم میں سے کسی نے کھانا کھایا ہے''؟ ہم نے عرض کیا: بعض نے کھا یا ہے اور بعض نے نہیں کھا یا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے کھایا ہے اور جس نے نہیں کھایا ہے دونوں شام تک کچھ نہ کھائیں، اور عروض۱؎ والوں کو کہلا بھیجو کہ وہ بھی باقی دن صوم کی حالت میں پورا کریں''۲؎۔
راوی نے کہا اہل عروض سے آپ مدینہ کے آس پاس کے دیہات کو مراد لیتے تھے۔
وضاحت۱؎: عروض کا اطلاق مکہ، مدینہ اور ان دونوں کے اطراف کے دیہات پر ہوتا ہے۔
وضاحت۲؎: اس سے عاشوراء کے صوم کی بڑی تاکید معلوم ہوتی ہے، اور شاید یہ حدیث اس وقت کی ہو جب عاشوراء کا صوم فرض تھا کیونکہ رمضان کا صیام ہجرت کے بہت دنوں کے بعد مدینہ منورہ میں فرض ہوئے۔

1736- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ > قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، زَادَ فِيهِ: مَخَافَةَ أَنْ يَفُوتَهُ عَاشُورَاءُ ۔
* تخريج: م/الصوم ۲۰ (۱۱۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۰۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۴، ۲۳۶، ۳۴۵) (صحیح)

۱۷۳۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ''اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی صوم رکھوں گا''۔
ابو علی کہتے ہیں: اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہو جائے''۔

1737- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَرِهَهُ فَلْيَدَعْهُ >۔
* تخريج: م/الصوم ۲۰ (۱۱۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۸۵)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۶۹ (۲۰۰۲)، د/الصوم ۶۴ (۲۴۴۳)، حم ( ۲/۵۷)، دي/الصوم ۴۶ (۱۸۰۳) (صحیح)

۱۷۳۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ) کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فر مایا: ''یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ صیام رکھتے تھے، لہٰذا تم میں سے جو صیام رکھنا چاہے تو رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے''۔

1738- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۷۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۱۷) (صحیح)

۱۷۳۸- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عاشوراء کا صیام میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالی پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
42- بَاب صِيَامِ يَوْمِ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ
۴۲ - باب: دو شنبہ (سوموار) اور جمعرات کا صیام​

1739- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْغَازِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: كَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم: (۱۶۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۸۱) (صحیح)

۱۷۳۹- ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انھوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے صیام کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ سوموار اور جمعرات کے صیام کا اہتمام کرتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں دنوں میں اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ''عرض الأعمال يوم الاثنين والخميس فأحب أن يعرض عملى وأنا صائم'' یعنی سوموار اور جمعرات کو اعمال اللہ تعالیٰ پر پیش کئے جاتے ہیں، پس میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل اس حالت میں اللہ تعالی پر پیش کئے جائیں کہ میں صوم سے ہوں، اور دوسری وجہ وہ ہے جس کا ذکر صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوموار کے روز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ''یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی، اور اس میں میری بعثت ہوئی یا اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی''، اس لیے عید میلاد النبی کسی کو منانا ہو تو اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اس دن صوم رکھا جائے نہ کہ جلوس نکالا جائے، خرافات کی جائے اور گلی کوچوں کی سجاوٹ پر لاکھوں روپئے برباد کئے جائیں، یہ سب بدعت ہے۔

1740- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَصُومُ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تَصُومُ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ؟ فَقَالَ: < إِنَّ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ يَغْفِرُ اللَّهُ فِيهِمَا لِكُلِّ مُسْلِمٍ إِلا مُتَهَاجَرَيْنِ يَقُولُ: دَعْهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف : ۱۲۷۴۶، و مصباح الزجاجۃ : ۶۲۳)، وقد أخرجہ: ت/الصوم ۴۴ (۷۴۷)، حم (۲/۳۲۹)، دي/الصوم ۴۱ (۱۷۹۲) (صحیح)

۱۷۴۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سوموار اور جمعرات کو صوم رکھتے تھے، تو پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ سوموار اور جمعرات کو صوم رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''سوموار اور جمعرات کو اللہ تعالی ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے سوائے دو ایسے لوگوں کے جنہوں نے ایک دوسرے سے قطع تعلق کر رکھا ہو، اللہ تعالی فرماتا ہے: ان دونوں کو چھوڑو یہاں تک کہ باہم صلح کر لیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
43- بَاب صِيَامِ أَشْهُرِ الْحُرُمِ
۴۳- باب: حرمت والے مہینوں کا صیام​

1741- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ؛ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَنَا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتُكَ عَامَ الأَوَّلِ، قَالَ: < فَمَا لِي أَرَى جِسْمَكَ نَاحِلا؟ > قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مَا أَكَلْتُ طَعَامًا بِالنَّهَارِ، مَا أَكَلْتُهُ إِلا بِاللَّيْلِ، قَالَ: < مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ > قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: <صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمًا بَعْدَهُ > قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: < صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمَيْنِ بَعْدَهُ> قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: <صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَثَلاثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ، وَصُمْ أَشْهُرَ الْحُرُمِ>۔
* تخريج: د/الصوم ۵۴ (۲۴۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸) (ضعیف)
(ابومجیبہ مجہول ہے، نیز بعض روایات میں مجیبہ الباہلیہ ہے، نام میں اختلاف کے ساتھ جہالت بھی ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ۴۱۹)
۱۷۴۱- ابو مجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ ﷺ نے فر مایا: ''کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں''، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو''؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقت ور ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم صبرکے مہینے۱؎ کے صیام رکھو، اور ہر ماہ ایک صوم رکھا کرو'' میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم صبر کے مہینے کے صیام رکھو، اور ہر ماہ میں دو صیام رکھا کرو'' میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''صبر کے مہینہ میں صیام رکھو، اور ہر ماہ میں تین صیام اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں صیام رکھو''۲؎۔
وضاحت۱؎: صبر کے مہینے سے مراد صیام کا مہینہ (رمضان) ہے، صبر کے اصل معنی روکنے کے ہوتے ہیں، چونکہ اس مہینہ میں صائم اپنے آپ کو دن میں کھانے پینے اور جماع سے روکے رکھتا ہے اس لیے اسے شہر الصبر (صبر کا مہینہ) کہا گیا ہے۔
وضاحت۲؎: حرمت والے مہینوں سے مراد یہاں ذی الحجہ اور محرم کے مہینے ہیں، ویسے حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذو العقدہ، ذوالحجۃ ومحرم۔

1742- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ قَالَ: < شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ >۔
* تخريج: م/الصوم ۳۸ (۱۱۶۳)، د/الصوم ۵۵ (۲۴۲۹)، ت/الصلاۃ ۲۰۷ (۴۳۸)، الصوم ۴۰ (۷۴۰)، ن/قیام اللیل ۶ (۱۶۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۰۳، ۳۲۹، ۳۴۲، ۳۴۴)، دي/الصوم ۴۵ (۱۷۹۸) (صحیح)

۱۷۴۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ''رمضان کے صیام کے بعد سب سے افضل صوم کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کے مہینے کا جسے تم لوگ محرم کہتے ہو''۔

1743- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ، نَهَى عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۹۳، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۴) (ضعیف جدا)

(اس کی سند میں داود بن عطاء ضعیف ہیں،اس حدیث کو ابن الجوزی نے العلل المتناھیۃ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۴۰۴)
۱۷۴۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رجب کے مہینے میں صوم رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

1744- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ يَصُومُ أَشْهُرَ الْحُرُمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < صُمْ شَوَّالا > فَتَرَكَ أَشْهُرَ الْحُرُمِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَصُومُ شَوَّالا حَتَّى مَاتَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۵) (ضعیف)

(محمد بن ابراہیم اور اسامہ بن زید کے مابین انقطاع ہے، نیز ملاحظہ ہو: التعلیق الرغیب : ۲/ ۸۱)
۱۷۴۴- محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ حرمت والے مہینوں میں صیام رکھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ''شوال میں صیام رکھو''، تو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں صیام رکھنا چھوڑ دیا، پھر برابر شوال میں صیام رکھتے رہے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
44- بَاب فِي الصَّوْمِ زَكَاةُ الْجَسَدِ
۴۴- باب: صیام جسم کی زکاۃ ہے​

1745- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،(ح) وحَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، جَمِيعًا عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ جُمْهَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لِكُلِّ شَيْئٍ زَكَاةٌ وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ > زَادَ مُحْرِزٌ فِي حَدِيثِهِ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۳۶، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۶) (ضعیف)
(موسیٰ بن عبیدہ الر بذی ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۱۳۲۹)
۱۷۴۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہر چیز کی زکاۃ ہے، اور بدن کی زکاۃ صیام ہے'' محرز کی روایت میں اتنا اضافہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''صیام آدھا صبر ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
45- بَاب فِي ثَوَابِ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا
۴۵- باب: صیام افطار کرانے والے کا ثواب​

1746- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى؛ وَخَالِي يَعْلَى، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ؛ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ؛ كُلُّهُمْ عَنْ عَطَائٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا>۔
* تخريج: ت/الصوم ۸۲ (۸۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۶۰)، (۴/۱۱۴، ۱۱۶، ۵/۱۹۲) (صحیح)

۱۷۴۶- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی کسی صائم کو افطار کرا دے تو اس کو صائم کے برابر ثواب ملے گا، اور صائم کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی''۱؎۔
وضاحت۱؎: سبحان اللہ، صائم کا صوم افطار کرانا، اس میں بھی صوم کے برابر ثواب ہے، دوسری روایت میں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر شخص میں اتنی استعداد کہاں ہوتی ہے کہ صائم کا صوم افطار کرائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ ثواب اس کو بھی ملے گا جو صائم کا صوم دودھ ملے ہوئے ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، یا ایک کھجور، یا ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، اور جو کوئی صائم کو پیٹ بھر کے کھلا دے اس کو تو اللہ تعالی میرے حوض سے ایک گھونٹ پلائے گا، اس کے بعد وہ پیاسا نہ ہو گا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو گا'' (سنن بیہقی)۔

1747- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ؛ قَالَ: أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ: < أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلائِكَةُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۵۲۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۷) (صحیح)
(سند میں مصعب بن ثابت ضعیف ہیں، بالخصوص عبد اللہ بن زبیر سے روایت میں، لیکن قول رسول صحیح ہے، فعل رسول ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: آداب الزفاف: ۸۵-۸۶)
۱۷۴۷- عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: ''تمہارے پاس صیام رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لئے فرشتوں نے دعا کی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
46- بَاب فِي الصَّائِمِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ
۴۶- باب: صائم کے سامنے کھانا کھایا جائے تو اس کے حکم کا بیان​

1748- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَهْلٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا لَيْلَى، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا، فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ >۔
* تخريج: ت/الصوم ۶۷ (۷۸۴، ۷۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۶۵، ۴۳۹)، دي/الصوم ۳۲ (۱۷۷۹) (ضعیف)
(لیلیٰ مولاۃ ام عمارۃ لین الحدیث ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں ہے)
۱۷۴۸- ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ صوم سے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''صائم کے سامنے جب کھانا کھایا جائے (اور وہ صبر کرے) تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں''۔

1749- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِبِلالٍ: < الْغَدَاءُ يَا بِلالُ! فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا وَفَضْلُ رِزْقِ بِلالٍ فِي الْجَنَّةِ، أَشَعَرْتَ يَا بِلالُ! أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۴، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۹) (موضوع)
(محمد بن عبد الرحمن کی ناقدین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۳۳۲)
۱۷۴۹- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ''اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں صائم ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! صائم کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
47- بَاب مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ
۴۷- باب: صائم کو کھانے کی دعوت دینے کا بیان​

1750- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ؛ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: < إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ >۔
* تخريج: م/الصوم ۲۸ (۱۱۵۰)، د/الصوم ۷۶ (۲۴۶۱)، ت/الصوم ۶۴ (۷۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/ ۲۴۲، دي/الصیام ۳۱ (۱۷۷۸) (صحیح)

۱۷۵۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب کسی کو کھانا کھانے کے لئے بلایا جائے، اور وہ صوم سے ہو، تو کہے کہ میں صوم سے ہوں''۱؎۔
وضاحت۱؎: ''میں صوم سے ہوں'' کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے لیکن یہاں اس کے ظاہر کر نے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی یا کدورت راہ نہ پائے۔

1751- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ >۔
* تخريج: م/النکاح ۱۶ (۱۴۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۳۰)، د/الأطعمۃ ۱ (۳۷۴۰)، حم (۳/۳۹۲) (صحیح)

۱۷۵۱- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس کسی کو کھانے کے لئے دعوت دی جائے، اور وہ صوم سے ہو تو وہ دعوت قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
48- بَاب فِي الصَّائِمِ لا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ
۴۸- باب: صائم کی دعا رد نہ ہونے کا بیان​

1752- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ (وَكَانَ ثِقَةً)، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ (وَكَانَ ثِقَةً)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < ثَلاثَةٌ لاتُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ،وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ، دُونَ الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ: بِعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۲۹ (۳۵۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۵۷)،وقد أخرجہ: حم (۲/۳۰۴، ۳۰۵، ۴۴۵،۴۴۷) (ضعیف)
(پہلا فقرہ ''الإِمَامُ الْعَادِلُ'' کے بجائے ''المسافر'' کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، نیز ''الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ'' کا فقرہ بھی صحیح ہے، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۵۹۶- ۱۷۹۷ور صحیح ابن خزیمہ: ۱۹۰۱)
۱۷۵۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے صائم کی یہاں تک کہ صوم کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالی اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: مظلوم کی آہ خالی جانے والی نہیں، ظالم اگر چند روز بچا رہے، تو اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالی اس سے راضی ہے، بلکہ یہ استدراج اور ڈھیل ہے کہ ایک نہ ایک دن دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے لے گا، حدیث میں مظلوم کو مطلق رکھا مسلمان کی قید نہیں کی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر پر بھی ظلم ناجائز ہے، کیونکہ سب اللہ کے بندے ہیں، اور کافر اگر مظلوم ہو تو اس کی دعا اثر کرے گی، غرض ظلم سے انسان کو ہمیشہ بچتے رہنا چاہئے، اس کے برابر کوئی گناہ نہیں، اور ظلم کا اطلاق ہر زیادتی اور نقصان پر جو ناحق کسی کے ساتھ کیا جائے، خواہ مال کا نقصان ہو یا عزت کا یا جان کا۔

1753- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ الْمَدَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ >، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: إِذَا أَفْطَرَ: اللَّهُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ، الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْئٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۴۲ ، ومصباح الزجاجۃ: ۶۳۰) (ضعیف)
(اسحاق بن عبید اللہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۹۲۱)۔
۱۷۵۳- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''صائم کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی''۔
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہما کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: ''اللَّهُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ، الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْئٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي'' (اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
49- بَاب فِي الأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ
۴۹- باب: عید الفطر کے دن عید گاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان​

1754- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ تَمَرَاتٍ۔
* تخريج: خ/العیدین ۴ (۹۵۳)، (تحفۃ الأشراف :۱۰۸۲)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۷۳ (۵۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۲۶، ۲۳۲) (صحیح)
(سند میں جبارہ بن مغلس ضعیف راوی ہے، لیکن سعید بن سلیمان نے صحیح بخاری میں ان کی متابعت کی ہے)۔
۱۷۵۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: عید الفطر کے دن صلاۃ سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے، اگر کھجوریں ہوں تو بہتر ہے، ورنہ جو میسر ہو کھائے۔

1755- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يُغَذِّيَ أَصْحَابَهُ مِنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۳۴، ومصباح الزجاجۃ: ۶۳۱) (ضعیف)
(جبارہ، مندل اور عمر بن صہبان ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۲۴۸)
۱۷۵۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر میں عید گاہ اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک کہ اپنے (مساکین) صحابہ کو اس صدقۂ فطر میں سے کھلا نہ دیتے (جو آپ کے پاس جمع ہوتا) ۔

1756- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ الْمَهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ لا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ، وَكَانَ لايَأْكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۷۳ (۵۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۵۲،۳۶۰)، دي/الصلاۃ ۲۱۷ (۱۶۴۱) (صحیح)

۱۷۵۶- بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اورعید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ (عید گاہ سے) واپس نہ آجاتے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عید الفطر کے دن صلاۃ عید سے پہلے کچھ کھانا، اور عید الاضحی کے دن بغیر کچھ کھائے صلاۃ ادا کرنا سنت ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے، البتہ کھجور یا چھوہارے کھا کر جانا مسنون ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ عید الفطرکے دن طاق کھجوریں کھا کر عید گاہ جایا کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
50- بَاب مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ رَمَضَانَ قَدْ فَرَّطَ فِيهِ
۵۰- باب: کوتاہی سے میت کے رہ جانے والے صیام کے حکم کا بیان​

1757- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ >۔
* تخريج: ت/الصوم ۲۳ (۷۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۲۳) (صحیح)
(اس کی سند میں '' محمد بن سیرین '' کا ذکر وہم ہے، سنن ترمذی میں صرف ''محمد'' کا ذکر بغیر کسی نسبت کے ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ محمد سے میرے نزدیک ابن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ہیں، اور اس حدیث کو ہم مرفوعاً اسی طریق سے جانتے ہیں، اور صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ ۲۰۵۶، وکامل ابن عدی ۱؍۳۶۵، اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں، حافظ ابن حجر کہتے ہیں: ''صدوق سئی الحفظ جداً ''، صدوق ہیں، اور حافظہ بہت برا ہے)
۱۷۵۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص مر جائے، اور اس پہ رمضان کے صوم ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے''۔
 
Top