- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
51- بَاب مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ مِنْ نَذْرٍ
۵۱ - باب: میت کے نذر والے صیام کے حکم کا بیان
۵۱ - باب: میت کے نذر والے صیام کے حکم کا بیان
1758- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ وَالْحَكَمِ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَطَائٍ وَمُجاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: < أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ، أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟ > قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: < فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۴۲ (۱۹۵۳)، م/الصیام ۲۷ (۱۱۴۸)، د/الأیمان ۲۶ (۳۳۱۰)، ت/الصوم ۲۲ (۷۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۱۲، ۵۳۹۵، ۵۵۱۳، ۹۸۵۲، ۵۸۹۵، ۹۵۶۱، ۶۳۸۵، ۶۳۹۶، ۶۳۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۴، ۲۲۷، ۲۵۸، ۳۶۲)، دي/الصوم ۴۹ (۱۸۰۹) لکن عندھم: أن أمي ماتت۔۔۔ (صحیح)
۱۷۵۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بہن کا انتقال ہو گیا اور اس پہ مسلسل دو ماہ کے صیام ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''بتاؤ اگر تمہاری بہن پہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں''؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ادا کرتی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی کا حق ادا کرنا زیادہ اہم ہے''۔
1759- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ: < نَعَمْ >۔
* تخريج: م/الصوم ۲۷ (۱۱۴۹)، د/الزکاۃ ۳۱ (۱۶۵۶)، الوصایا ۱۲ (۲۸۷۷)، الإیمان ۲۵ (۳۳۰۹)، ت/ الزکاۃ ۳۱ (۶۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۱، ۳۶۱) (صحیح)
۱۷۵۹- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور اس پر صیام تھے، کیا میں اس کی طرف سے صیام رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں''۱؎۔
وضاحت۱؎: علامہ ابن القیم فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے نذر کا صوم رکھنا جائز ہے، اور فرض اصلی یعنی رمضان کا جائز نہیں، عبد اللہ بن عباس اور ان کے اصحاب اور امام احمد کا یہی قول ہے اور یہ صحیح ہے کیونکہ فرض صیام مثل صلاۃ کے ہے، اور صلاۃ کوئی دوسرے کی طرف سے نہیں پڑھ سکتا، اور نذرمثل قرض کے ہے تو میت کی طرف سے وارث کا ادا کرنا کافی ہو گا، جیسے اس کی طرف سے قرض ادا کرنا، الروضہ الندیہ میں ہے کہ میت کی طرف سے ولی کا صیام رکھنا اس وقت کافی ہو گا جب اس نے عذر سے صیام رمضان نہ رکھے ہوں، لیکن اگر بلا عذر کسی نے صیام رمضان نہ رکھے تو اس کی طرف سے ولی کا صیام رکھنا کافی نہ ہو گا جیسے میت کی طرف سے توبہ کرنا، یا اسلام لانا یا صلاۃ ادا کرنا کافی نہیں ہے، اور ظاہر مضمون حدیث کا یہ ہے کہ ولی پر میت کی طرف سے صیام رکھنا یا کھانا کھلانا واجب ہے خواہ میت نے وصیت کی ہو اس کی یا نہ کی ہو۔