• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب طَلاقِ السُّنَّةِ
۲-باب: سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان​

2019- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: < مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ >۔
* تخريج: م/الطلاق ۱ (۱۴۷۱)، ن/الطلاق ۱ (۳۴۱۹)، ۵ (۳۴۲۹)، ۷۶ (۳۵۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۲۲)، وقد أخرجہ: خ/ تفسیر الطلاق ۱۳ (۴۹۰۸)، الطلاق ۲ (۵۲۵۲)، ۳ (۵۲۵۸)، ۴۵ (۵۳۳۳)، الأحکام ۱۳ (۷۱۶۰)، د/الطلاق ۴ (۲۱۷۹)، ت/الطلاق ۱ (۱۱۷۵)، ط/الطلاق ۲۰ (۵۲)، حم (۲/۴۳، ۵۱،۷۹)، دي/الطلاق ۱ (۲۳۰۸) (صحیح)

۲۰۱۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے فرمایا: ''انہیں حکم دو کہ اپنی بیوی سے رجوع کرلیں یہاں تک کہ وہ عورت حیض سے پاک ہوجائے پھر اسے حیض آئے، اور اس سے بھی پاک ہوجائے،پھر ابن عمر اگرچا ہیں تو جما ع سے پہلے اسے طلاق دے دیں، اور اگر چاہیں تو روکے رکھیں یہی عورتوں کی عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اس سے مراد یہ آیت کریمہ ہے: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ} [سورة الطلاق:1] یعنی طلاق دو عورتوں کو ان کی عدت کے یعنی طہر کی حالت میں ۔​

2020- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: طَلاقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ۔
* تخريج: ن/الطلاق ۲ (۳۴۲۳ )، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۱۱) (صحیح)

۲۰۲۰- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلاقِ سنی یہ ہے کہ عورت کواس طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس سے جما ع نہ کیا ہو ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : تاکہ عورت کو عدت کے حساب میں آسانی ہو، اور اسی طہر سے عدت شروع ہوجائے ، تین طہر کے بعد وہ مطلقہ بائنہ ہوجائے گی ، عدت ختم ہو نے کے بعد وہ دوسرے سے شادی کرسکتی ہے، طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو ، اور شرط یہ ہے کہ اس طہر سے پہلے جو حیض تھا اس میں طلاق نہ دی ہو ، یا حمل کی حالت میں جب حمل ظاہر ہوگیا ہو اور اس کے سوا دوسری طرح طلاق دینا (مثلاً حیض کی حالت میں یا طہر کی حالت میں جب جماع کرچکا ہو یا حمل کی حالت میں جب وہ ظاہر نہ ہوا ہو، لیکن شبہ ہو، اسی طرح تین طلاق ایک بار دینا حرام ہے اور اس کا ذکر آگے آئے گا) اور حدیث میں جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ اس طہر کے بعد دوسرے طہر میں طلاق دیں،تو اس میں یہ حکمت تھی کہ طلاق سے رجعت کا علم نہ ہو تو ایک طہر تک عورت کو رہنے دے ، اور بعضوں نے کہا کہ یہ سزا ان کے ناجائز فعل کی دی ، اور بعضوں نے کہا یہ طہر اسی حیض سے متعلق تھا جس میں طلاق دی گئی تھی اس لئے دوسرے طہر کا انتظار کرے ۔​

2021- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: فِي طَلاقِ السُّنَّةِ: يُطَلِّقُهَا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً، فَإِذَا طَهُرَتِ الثَّالِثَةَ طَلَّقَهَا، وَعَلَيْهَا بَعْدَ ذَلِكَ حَيْضَةٌ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (صحیح)

۲۰۲۱- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:طلاقِ سنی یہ ہے کہ عورت کو ہر طہر میں ایک طلاق دے، جب تیسری بار پاک ہو تو آخری طلاق دے دے ،اور اس کے بعد عدت ایک حیض ہو گی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس لئے کہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد دو حیض پہلے گزرچکے ہیں ،یہ صورت اس وقت ہے، جب کہ عورت کو تین طلاق دینی ہو ، اور بہتر یہ ہے کہ جب عورت حیض سے پاک ہوتو ایک ہی طلاق پر قناعت کرے،تین حیض یا تین طہر گزرجانے کے بعد وہ مطلقہ بائنہ ہوجائے گی ۔ اس میں یہ فائدہ ہے کہ اگر مرد عدت گزرجانے کے بعد بھی چاہے تو اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے ، لیکن تین طلاق دینے کے بعد وہ اس سے اس وقت تک شادی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے سے شادی نہ کرلے ، پھر وہ اسے طلاق دے دے ۔​

2022- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، أَبِي غَلابٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ،فَقَالَ: تَعْرِفُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ ﷺ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، قُلْتُ: أَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ؟۔
* تخريج: خ/ الطلاق ۲ (۵۲۵۲)، م/الطلاق ۱ (۱۴۷۱)، د/الطلاق ۴ (۲۱۸۳)، ن/الطلاق ۵ (۳۴۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۳، ۵۱، ۷۴، ۷۹) (صحیح)

۲۰۲۲- ابو غلاب یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پو چھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق د ے دی تو انہوں نے کہا:کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پہچانتے ہو ؟ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ نے انہیں حکم دیا تھاکہ ابن عمر رجوع کرلیں،میں نے پوچھا: کیا اس طلاق کا شمار ہوگا ؟ انہوں نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو، اگر وہ عاجز ہوجائے یادیوانہ ہوجائے(تو کیا وہ شمار نہ ہوگی یعنی ضرور ہوگی) ۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب الْحَامِلِ كَيْفَ تُطَلَّقُ
۳- باب: حاملہ عورت کو طلاق کیسے دی جائے؟​

2023- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: < مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ >
* تخريج: م/الطلاق ۱ (۱۴۷۱)، د/الطلاق ۴ (۲۱۸۱)، ت/الطلاق ۱ (۱۱۷۶)، ن/الطلاق ۳ (۳۴۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۶، ۵۸) (صحیح)

۲۰۲۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''انہیں حکم دو کہ رجوع کر لیں، پھر طہر کی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ اس میں عدت کی آسانی ہے اگر طہر میں طلاق دے اور حاملہ نہ ہو تو تین طہر یا حیض کے بعد مدت گزر جائے گی، اگر حاملہ ہو تو وضع حمل ہوتے ہی عدت ختم جائے گی، عدت کا مقصد یہ ہے کہ حمل کی حالت میں عورت دوسرے شوہر سے جماع نہ کرائے ورنہ بچہ میں دوسرے مرد کا پانی بھی شریک ہو گا، اور یہ معیوب ہے، اس وہم کو دور کرنے کے لئے یہ طریقہ ٹھہرا کہ جس طہر میں جماع نہ کیا جائے اس میں طلاق دے، اور تین حیض تک انتظار اس لئے ہوا کہ کبھی حمل کی حالت میں بھی ایک آدھ بار تھوڑا سا حیض آجاتا ہے، لیکن جب تک تین حیض برابر آئے تو یقین ہوا کہ وہ حاملہ نہیں ہے، اب دوسرے مرد سے نکاح کرے، یا اگر حاملہ ہو تو وضع حمل ہوتے ہی نکاح کر سکتی ہے اگرچہ طلاق یا شوہر کی موت سے متصل ہی وضع حمل ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب مَنْ طَلَّقَ ثَلاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ
۴- باب: جس نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اس کے حکم کا بیان​

2024- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: حَدِّثِينِي عَنْ طَلاقِكِ، قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاثًا وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: م/الطلاق ۶ (۱۴۸۰)، د/الطلاق ) ۳۹ (۲۲۹۱)، ت/الطلاق ۵ (۱۱۸۰)، ن/الطلاق ۷ (۳۴۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۲۵) (صحیح)

۲۰۲۴- عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ مجھ سے اپنی طلاق کے بارے میں بیان کریں، تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے یمن کے سفر پر نکلتے وقت مجھے تین طلاق دی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو جائز رکھا۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے جمہور علماء و فقہاء نے دلیل لی ہے کہ اگر کوئی ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو تینوں پڑ جائیں گی، اس مسئلہ میں تین مذہب اور ہیں، ایک یہ کہ کچھ نہیں پڑے گا، نہ ایک نہ تین، کیونکہ اس طرح طلاق دینا بدعت اور حرام ہے، اس مذہب کو ابن حزم نے امام احمد سے بھی نقل کیا ہے، اور کہا کہ روافض کا بھی یہی مذہب ہے، واضح رہے کہ تابعین کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے۔ اور اہل بیت سے امام باقر، امام صادق اور ناصر کا بھی یہی مذہب ہے، اور ابوعبید اور بعض ظاہریہ بھی اسی کے قائل ہیں، کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ طلاق بدعی نہیں پڑتی اور یہ بھی بدعی ہے۔
دوسرے یہ کہ اگر عورت مدخولہ ہے تو تینوں پڑ جائیں گی اور مدخولہ نہیں ہے تو ایک پڑے گی، ایک جماعت کا یہ قول ہے جیسے ابن عباس اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ۔
تیسرے یہ کہ ایک طلاق رجعی پڑے گی خواہ عورت مدخولہ ہو یا نہ ہو، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا صحیح ترین مذہب یہی ہے، اور ابن اسحاق، عطاء، عکرمہ اور اکثر اہل بیت اسی کے قائل ہیں، سارے مذاہب میں یہ صحیح ہے، امام شوکانی نے اس مسئلے پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، اور چاروں مذاہب کے دلائل بیان کرکے اخیر قول کو ترجیح دی ہے، اور اس دور میں اس مسئلہ کو اختلافی قرار دیا ہے۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے یہ صحیح اور ثابت ہے کہ تین طلاق ایک ہی بار دینے سے ایک ہی طلاق پڑتی تھی عہد نبوت میں، اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں، اور شروع خلافت عمر رضی اللہ عنہ میں، اور عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سزا دینے کے لئے یہ فتوی دیا کہ تینوں طلاقیں پڑ جائیں گی، اور یہ ان کا اجتہاد ہے، جو اوروں پر حجت نہیں ہو سکتا، خصوصاً نبی کریم ﷺ اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتوی ان کے اجتہاد سے رد نہیں ہو سکتا، اور ابن القیم نے اغاثۃ اللہفان میں اس مسئلہ میں طویل کلام کیا ہے، اور ثابت کیا ہے کہ اس صورت میں ایک ہی طلاق پڑے گی، امام شوکانی کہتے ہیں: ابو موسی اشعری، ابن عباس، طاؤس، عطاء، جابر بن زید، احمد بن عیسی، عبد اللہ بن موسی، علی اور زید بن علی سے ایسا ہی منقول ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم دونوں اسی طرف گئے ہیں، اور ابن مغیث نے کتاب الوثائق میں علی، ابن مسعود، عبدالرحمن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہم اور مشائخ قرطبہ کی جماعت سے ایسا ہی نقل کیا ہے، اور ابن منذر نے اصحاب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسا ہی روایت کیا ہے کہ اس باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، جو صحیح مسلم میں ہے کہ تین طلاقیں نبی کریم ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور شروع عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک طلاق شمارہوتی تھیں، جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگوں نے پے در پے طلاق دینا شروع کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے تینوں طلاق کو ان پر نافذ کر دیا۔
علامہ ابن القیم نے اس مسئلہ کی تحقیق میں کتاب و سنت اور لغت اور صحابہ کے عمل سے دلیل لی، پھر کہا کہ اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ اور لغت اور عرف اسی پر دلالت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے خلیفہ اور صحابہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بھی تین برس تک لوگ اسی پر چلتے رہے، اگر کوئی ان کا شمار کرے تو ہزار سے زیادہ ان کی تعداد ہو گی، کسی نے اقرار کیا، کسی نے سکوت اختیار کیا، اور بعضوں نے جو کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے پھر لوگوں نے انہی کے فتوی پر اجماع کر لیا، تو یہ ثابت نہیں، ہر زمانہ میں علماء اسی عہد اوّل کے فتوی پر فتوی دیتے رہے، امت کے عالم عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مروی حدیث کے مطابق فتوی دیا، اس کو حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ جب کسی نے ایک ہی دفعہ میں کہا: تجھ کو تین طلاق ہیں، تو ایک ہی طلاق پڑے گی، اور زبیر بن عوام، عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا ہی فتوی دیا، یہ ابن وضاح نے نقل کیاہے، اور تابعین میں سے عکرمہ، طاؤس نے ایسا ہی فتوی دیا اور تبع تابعین میں سے محمد بن اسحاق اور خلاس بن عمرو الہجری نے ایسا ہی فتوی دیا اور اتباع تبع تابعین میں داود بن علی اور ان کے اکثر اصحاب نے ایسا ہی فتوی دیا ہے، غرض یہ کہ ہر زمانہ میں علماء اور ائمہ اس قول کے موافق فتویٰ دیتے رہے، اور یہ قول بالاجماع متروک نہیں ہوا، اور کیونکر ہوسکتا ہے جب کتاب و سنت اور قیاس اور اجماع قدیم سے یہی ثابت ہے، اور اس کے بعد کسی اجماع نے اس کو باطل نہیں کیا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مصلحت سے اس کے خلاف رائے تجویز کی اور ان کا یہ فیصلہ کسی دوسرے پر حجت نہیں ہو سکتا، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ جب صحیح حدیث مل جائے تو اس پر عمل کرے اور اس کے خلاف کسی کے فتوی اور کسی کا قیاس قبول نہ کرے، خواہ وہ کوئی ہو، اور اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے ''إعلام الموقعين، إغاثة اللهفان، رسالہ شوکانی، نیل الاوطار، مسک الختام، سنن ابن ماجہ مع حاشیہ مولانا وحیدالزمان حیدرآبادی'' کی طرف رجوع کیجئے، نیز ہم نے ''تسمية المفتين'' کے نام سے ایک رسالہ اردو میں ترجمہ کرکے شائع کیا ہے جس میں قدیم و جدید علماء کی ایک بڑی تعداد کا ذکر ہے جو تین طلاقوں کو ایک قرار دیتی ہے۔ (فریوائی)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب الرَّجْعَةِ
۵ - باب: طلاق سے رجوع ہو نے کا بیان​

2025- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ،عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى طَلاقِهَا وَلا عَلَى رَجْعَتِهَا، فَقَالَ عِمْرَانُ: طَلَّقْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ، وَرَاجَعْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ! أَشْهِدْ عَلَى طَلاقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا۔
* تخريج: د/الطلاق ۵ (۲۱۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۶۰) (صحیح)

۲۰۲۵- مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دے پھر اس سے جماع کرے، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ۱؎۔
وضاحت۱؎: گواہی ان دونوں کے لئے شرط نہیں، ہاں مسنون ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب الْمُطَلَّقَةِ الْحَامِلِ إِذَا وَضَعَتْ ذَا بَطْنِهَا بَانَتْ
۶- باب: حاملہ عورت کو طلاق دی جائے تو بچہ جنتے ہی وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی​

2026- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ، فَقَالَتْ لَهُ، وَهِيَ حَامِلٌ: طَيِّبْ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ فَرَجَعَ وَقَدْ وَضَعَتْ، فَقَالَ مَا لَهَا؟ خَدَعَتْنِي، خَدَعَهَا اللَّهُ! ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ: " سَبَقَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ، اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۴۵، ومصباح الزجاجۃ: ۷۱۷) (صحیح)
(حدیث کے شواہد ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۱۱۷)
۲۰۲۶- زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر وہ صلاۃ کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے کیا ہو گیا؟ اس نے مجھ سے مکر کیا ہے، اللہ اس سے مکر کرے، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اگر وہ منظور کرے تو نیا نکاح ہو سکتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاملہ کی عدت طلاق میں بھی وضع حمل ہے، جیسے شوہر کے انتقال کے بعد بھی حاملہ کی عدت وضع حمل ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: {وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ} [الطلاق: ۵]
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَلَّتْ لِلأَزْوَاجِ
۷- باب: حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے​

2027- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بِنْتُ الْحَارِثِ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِبِضْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَشَوَّفَتْ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، وَذُكِرَ أَمْرُهَا لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: < إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ مَضَى أَجَلُهَا >۔
* تخريج: ت/الطلاق ۱۷ (۱۱۹۳)، ن/الطلاق ۵۶ (۳۵۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۰۵)، دي/الطلاق ۱۱ (۲۳۲۷) (صحیح)

۲۰۲۷- ابو سنابل کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے بیس سے کچھ زائد دنوں بعد بچہ جنا، جب وہ نفاس سے پاک ہو گئیں تو شادی کی خواہش مند ہوئیں، تو یہ معیوب سمجھا گیا، اور اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے کیونکہ اس کی عدت گزر گئی ہے''۔

2028- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا كَتَبَا إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَسْأَلانِهَا عَنْ أَمْرِهَا،فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا: إِنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ، فَتَهَيَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَيْرَ، فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَقَالَ: قَدْ أَسْرَعْتِ، اعْتَدِّي آخِرَ الأَجَلَيْنِ، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: < وَفِيمَ ذَاكَ؟ > فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: < إِنْ وَجَدْتِ زَوْجًا صَالِحًا فَتَزَوَّجِي >۔
* تخريج: خ/المغازي۱۰تعلیقاً (۳۹۹۱)، الطلاق ۳۹ (۵۳۱۹)، م/الطلاق ۸ (۱۴۸۴)، د/الطلاق ۴۷ (۲۳۰۶)، ن/الطلاق ۵۶ (۳۵۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳۲) (صحیح)

۲۰۲۸- مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو خط لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں، تو ان کے پاس ابو سنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کر دی، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو، یہ سن کر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ کس لئے؟''؟ میں نے صورت حال بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر کوئی نیک اور دیندار شوہر ملے تو شادی کر لو''۔

2029- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ،عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَ سُبَيْعَةَ أَنْ تَنْكِحَ، إِذَا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا۔
* تخريج: خ/الطلاق ۳۹ (۵۳۲۰)، ن/الطلاق ۵۶ (۳۵۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۷۲)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۳۰ (۸۵)، حم (۴/۳۲۷) (صحیح)

۲۰۲۹- مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ نفاس سے پاک ہونے کے بعد شادی کر لیں۱؎۔
وضاحت۱؎: یہی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، جس میں شوہر کے موت کے دس دن بعد بچہ جننے کا ذکر ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''وہ نکاح کرے'' اور احمد اور دارقطنی نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! آیت کریمہ: {وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}[سورة الطلاق: ۴] کا حکم مطلقہ اور جس کا شوہر مر جائے دونوں کے لیے ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''دونوں کے لیے ہے''، اس کو ابو یعلی نے مسند میں، ضیاء مقدسی نے مختارہ میں اور ابن مردویہ نے تفسیر میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مثنی بن صباح کو ابن مردویہ نے ثقہ کہا ہے، اور ابن معین نے بھی ثقہ کہا جب کہ اکثر نے ان کو ضعیف کہا ہے۔

2030- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: وَاللَّهِ! لَمَنْ شَاءَ لاعَنَّاهُ، لأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔
* تخريج: د/الطلاق ۴۷ (۲۳۰۷)، ن/الطلاق ۵۶ (۳۵۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۷۸)، وقد أخرجہ: خ/تفسیر سورۃ الطلاق ۲ (۴۹۰۹) (صحیح)

۲۰۳۰- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کر لیں کہ چھوٹی سورہ نساء (سورہ طلاق) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: اور سورہ طلاق میں یہ آیت {وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [سورة الطلاق: ۴] حاملہ عورتوں کے باب میں ناسخ ہو گی پہلی آیت کی البتہ غیر حاملہ وفات کی عدت چار مہنیے دس دن گزارے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب أَيْنَ تَعْتَدُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا؟
۸- باب: شوہر کی وفات کے بعد بیوہ عدت کے دن کہاں گزارے؟​

2031- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعْدِ ابْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ (وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ) أَنَّ أُخْتَهُ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ، قَالَتْ: خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْلاجٍ لَهُ، فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ، فَقَتَلُوهُ، فَجَاءَ نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ، شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَهْلِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جَاءَ نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَهْلِي وَدَارِ إِخْوَتِي، وَلَمْ يَدَعْ مَالا يُنْفِقُ عَلَيَّ، وَلا مَالا وَرِثْتُهُ، وَلا دَارًا يَمْلِكُهَا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْذَنَ لِي فَأَلْحَقَ بِدَارِ أَهْلِي وَدَارِ إِخْوَتِي فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَأَجْمَعُ لِي فِي بَعْضِ أَمْرِي، قَالَ: < فَافْعَلِي إِنْ شِئْتِ > قَالَتْ: فَخَرَجْتُ قَرِيرَةً عَيْنِي لِمَا قَضَى اللَّهُ لِي عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ فِي بَعْضِ الْحُجْرَةِ، دَعَانِي فَقَالَ: < كَيْفَ زَعَمْتِ؟ > قَالَتْ: فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: < امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ >، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔
* تخريج: د/الطلاق ۴۴ (۲۳۰۰)، ت/الطلاق ۲۳ (۱۲۰۴)، ن/الطلاق۶۰ (۳۵۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۴۵)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۳۱ (۸۷) ، حم (۶/۳۷۰،۴۲۱) (صحیح)

۲۰۳۱- زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے شوہر اپنے کچھ غلاموں کی تلاش میں نکلے اور ان کو قدوم کے کنارے پا لیا، ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا، میرے شوہر کے انتقال کی خبر آئی تو اس وقت میں انصار کے ایک گھر میں تھی، جو میرے کنبہ والوں کے گھر سے دور تھا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے شوہر کی موت کی خبر آئی ہے اور میں اپنے کنبہ والوں اور بھائیوں کے گھروں سے دور ایک گھر میں ہوں، اور میرے شوہر نے کوئی مال نہیں چھوڑا جسے میں خرچ کروں یا میں اس کی وارث ہوں، اور نہ اپنا ذاتی کوئی گھر چھوڑا جس کے وہ مالک ہوتے، اب اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے خاندان کے گھر اور بھائیوں کے گھر میں آجاؤں؟ یہ مجھے زیادہ پسند ہے، اس میں میرے بعض کام زیادہ چل جائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم چاہتی ہو تو ایسا کر لو''۔
فریعہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں یہ سن کر ٹھنڈی آنکھوں کے ساتھ خوش خوش نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پہ مجھے حکم دیا تھا، یہاں تک کہ میں ابھی مسجد میں یا حجرہ ہی میں تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ''کیا کہتی ہو''؟ میں نے سارا قصہ پھر بیان کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اسی گھر میں جہاں تمہارے شوہر کے انتقال کی خبرآئی ہے ٹھہری رہو یہاں تک کہ کتاب (قرآن) میں لکھی ہوئی عدت (چار ماہ دس دن) پوری ہو جائے، فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت کے گزارے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب هَلْ تَخْرُجُ الْمَرْأَةُ فِي عِدَّتِهَا ؟
۹- باب: کیا عورت عدت میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟​

2032- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ فَقُلْتُ لَهُ: امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِكَ طُلِّقَتْ، فَمَرَرْتُ عَلَيْهَا وَهِيَ تَنْتَقِلُ، فَقَالَتْ: أَمَرَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، وَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: هِيَ أَمَرَتْهُمْ بِذَلِكَ، قَالَ عُرْوَةُ: فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ! لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ، وَقَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَسْكَنٍ وَحْشٍ، فَخِيفَ عَلَيْهَا، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: خ/الطلاق ۱۴ (۵۳۲۱، ۵۳۲۶، تعلیقاً)، د/الطلاق ۴۰ (۲۲۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۱۸) (حسن)
(سند میں عبد العزیز بن عبد اللہ اور عبد الرحمن بن ابی الزناد ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۱۹۸۴ و فتح الباری: ۹ /۴۲۹- ۴۸۰)
۲۰۳۲- عروہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے خاندان کی ایک عورت کو طلاق دے دی گئی، میرا اس کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ وہ گھر سے منتقل ہو رہی ہے، اور کہتی ہے: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں گھر بدلنے کا حکم دیا تھا، مروان نے کہا: اسی نے اسے حکم دیا ہے۔
عروہ کہتے ہیں کہ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس چیز کو ناپسند کیا ہے، اور کہا ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خالی ویران مکان میں تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں ڈر پیدا ہوا، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کو مکان بدلنے کی اجازت دی۱؎۔

وضاحت۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ زبان درازی کی وجہ سے آپ ﷺ نے ان کو اجازت دی تاکہ لڑائی نہ ہو، مروان نے کہا: اس بیوی اور شوہر میں بھی ایسی لڑائی ہے، لہٰذا اس کا ہٹا دینا بجا ہے، غرض مروان نے یہ قیاس کیا۔

2033- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَيّ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَحَوَّلَ۔
* تخريج: م/الطلاق ۶ (۱۴۸۲)، ن/الطلاق ۷۰ (۳۵۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۳۲) (صحیح)

۲۰۳۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول!میں ڈرتی ہوں کہ کوئی میرے پاس گھس آئے، تو آپ نے انہیں وہاں سے منتقل ہو جانے کا حکم دیا۔

2034- حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ (ح) وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < بَلَى، فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا >۔
* تخريج: م/الطلاق ۷ (۱۴۸۱)، د/الطلاق ۴۱ (۲۲۹۷)، ن/الطلاق ۷۱ (۳۵۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۲۱)، دي/الطلاق ۱۴ (۲۳۳۴) (صحیح)

۲۰۳۴- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی، پھر انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا، تو ایک شخص نے انہیں گھر سے نکل کر باغ جانے پر ڈانٹا تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ٹھیک ہے، تم اپنی کھجوریں توڑو، ممکن ہے تم صدقہ کرو یا کوئی کار خیر انجام دو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو عورت طلاق کی عدت میں ہو اس کا گھر سے نکلنا جائز ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب الْمُطَلَّقَةِ ثَلاثًا هَلْ لَهَا سُكْنَى وَنَفَقَةٌ؟
۱۰- باب: کیا تین طلاق پائی ہوئی عورت نفقہ اور رہائش کی حق دار ہے؟​

2035- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ؛ قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ: إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سُكْنَى وَلانَفَقَةً۔
* تخريج: م/الطلاق ۶ (۱۴۸۰)، ت/النکاح ۳۸ (۱۱۳۵)، ن/الطلاق ۱۵ (۳۴۴۷)، ۷۲ (۳۵۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۱۱) (صحیح)

۲۰۳۵- ابو بکربن ابی جہم بن صخیرعدوی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سکنیٰ (جائے رہائش) اور نفقہ کا حق دار نہیں قرار دیا۱؎۔
وضاحت۱؎: اہلحدیث کے نزدیک طلاق رجعی والی عورت کا نفقہ (خرچ) اور سکنی (رہائش) شوہر پر واجب ہے، اور جس کو طلاق بائنہ یعنی تین طلاق دی جائیں اس کے لئے نہ نفقہ ہے نہ سکنی، امام احمد، اسحاق، ابو ثور، ابو داود اور ان کے اتباع کا یہی مذہب ہے، اور بحر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما، حسن بصری، عطاء، شعبی، ابن ابی لیلیٰ، اوزاعی اور امامیہ کا قول بھی یہی نقل کیا گیا ہے، اسی طرح جس عورت کا شوہر وفات پا گیا ہو اس کے لئے بھی عدت میں نفقہ اور سکنی نہیں ہے، اہلحدیث کے نزدیک البتہ حاملہ ہو تو وضع حمل تک نفقہ اور سکنی واجب ہے خواہ وفات پائے ہوئے شوہر والی ہو یا طلاق بائن والی کیونکہ قرآن میں ہے: {وَإِن كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [سورة الطلاق: ۶]

2036- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ثَلاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لاسُكْنَى لَكِ وَلا نَفَقَةَ >۔
* تخريج: م/الطلاق ۶ (۱۴۸۰)، ت/الطلاق ۵ (۱۱۸۰)، ن/الطلاق ۷ (۳۴۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۲۵) (صحیح)

۲۰۳۶- شعبی کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے شوہر نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تین طلاقیں دے دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارے لیے نہ سکنی (رہائش) ہے، نہ نفقہ (اخراجات)''۱؎۔
وضاحت۱؎: اہلحدیث نے اس متفق علیہ حدیث سے دلیل لی ہے، صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ تیرے لئے نفقہ نہیں ہے مگر جب تو حاملہ ہو، جمہور کہتے ہیں کہ عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کا انکار کیا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنے رب کی کتاب اور نبی کی سنت ایک عورت کے قول سے نہیں چھوڑ سکتے، معلوم نہیں اس نے یاد رکھا، یا بھول گئی، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ بات پہنچی، تو انہوں نے کہا: تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [سورة الطلاق: ۱] یہاں تک فرمایا: {لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا} [سورة الطلاق: ۱] تین طلاق کے بعد کونسا امر پیدا ہو گا (یعنی رجوع کی امید نہیں تو نفقہ اور سکنی بھی واجب نہ ہو گا) اہل حدیث یہ بھی کہتے ہیں کہ امام احمد اور نسائی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ''نفقہ اور سکنی اس عورت کے لئے ہے جس سے اس کا شوہر رجوع کر سکتا ہو'' اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ جب رجوع نہ کر سکتا ہو تو نہ نفقہ ہے نہ سکنی، اس کی سند میں مجالد بن سعید ہیں ان کی متابعت بھی ہوئی ہے اور وہ ثقہ ہیں تو اس کا حدیث کو مرفوع روایت کرنا مقبول ہو گا، اور قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں جو نفقہ اور سکنی کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں لیکن وہ سب مطلقہ رجعی سے متعلق ہیں جیسے: {لا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ} [سورة الطلاق: ۱] اور {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ} [سورة الطلاق: ۶] اور {وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} (سورة البقرة: ۲۴۱) اور دلیل اس تخصیص کی فاطمہ بنت قیس کی حدیث ہے، اور یہ آیت: {لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا} [سورة الطلاق: ۱] اور یہ آیت: {وَإِن كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [سورة الطلاق: ۶] کیونکہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ اگر حاملہ نہ ہوں تو ان کو خرچ دینا واجب نہیں، اور بیہقی میں جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ جس حاملہ عورت کا شوہر مر جائے اس کو نفقہ نہیں ہے، اس کے بارے میں ابن حجر نے کہا کہ محفوظ یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، اور ابو حنیفہ نے کہا کہ وفات والی کے لئے سکنی نہیں ہے وہ جہاں چاہے عدت گزارے، اور مالک رحمہ اللہ نے کہا: اس کے لئے سکنی ہے، اور شافعی کے اس باب میں دو قول ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب مُتْعَةِ الطَّلاقِ
۱۱- باب: طلاق کے وقت عورت کو کچھ دینے کا بیان​

2037- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الأَشْعَثِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ الْجَوْنِ تَعَوَّذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: < لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ > فَطَلَّقَهَا، وَأَمَرَ أُسَامَةَ أَوْ أَنَسًا، فَمَتَّعَهَا بِثَلاثَةِ أَثْوَابٍ رَازِقِيَّةٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۹۷، ومصباح الزجاجۃ: ۷۱۸) (منکر)
(اسامہ اور انس رضی اللہ عنہما کا ذکر اس حدیث میں منکر ہے ، لیکن صحیح بخاری میں اس لفظ سے ثابت ہے ''فأمر أبا أسید أن یجہزہا ویکسوہا ثوبین رازقیتین'' (آپ ﷺ ابو اسید کو حکم دیا کہ اس کو تیار کریں، اور دو سفید کتان کے کپڑے پہنائیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۷/ ۱۴۶)
۲۰۳۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب عمرہ بنت جون رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئی تو اس نے آپ ﷺ سے (اللہ کی) پناہ مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو نے ایسی ہستی کی پناہ مانگی جس کی پناہ مانگی جاتی ہے''، پھر آپ ﷺ نے اسے طلاق دے دی، اور اسامہ رضی اللہ عنہ یا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سفید کتان کے تین کپڑے دیئے۔
 
Top