• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ
۲۵- باب: نیلام (بولی) کا بیان​

2198 - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَخْضَرُ بْنُ عَجْلانَ، حَدَّثَنَا أَبُوبَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ: <لَكَ فِي بَيْتِكَ شَيْئٌ؟ > قَالَ: بَلَى، حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ، وَقَدَحٌ نَشْرَبُ فِيهِ الْمَاءَ، قَالَ: < ائْتِنِي بِهِمَا > قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمَا، فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: < مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ؟ > فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، قَالَ: < مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟ > مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا الأَنْصَارِيَّ، وَقَالَ: < اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ، وَاشْتَرِ بِالآخَرِ قَدُومًا، فَأْتِنِي بِهِ >، فَفَعَلَ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَشَدَّ فِيهِ عُودًا بِيَدِهِ، وَقَالَ: < اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَلا أَرَاكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا >، فَجَعَلَ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ ، فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ. فَقَالَ: < اشْتَرِ بِبَعْضِهَا طَعَامًا وَبِبَعْضِهَا ثَوْبًا > ثُمَّ قَالَ: < هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيئَ وَالْمَسْأَلَةُ نُكْتَةٌ فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَصْلُحُ إِلا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ دَمٍ مُوجِعٍ>۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۲۶ (۱۶۴۱)، ت/البیوع ۱۰ (۱۲۱۸)، ن/البیوع ۲۰ (۴۵۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۰۰، ۱۱۴، ۱۲۶) (ضعیف)
(سند میں ابو بکر حنفی مجہول راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۲۸۹)۔
۲۱۹۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کوئی چیز چاہ رہا تھا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ''تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے''؟، اس نے عرض کیا: جی ہاں! ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے اورایک حصہ بچھاتے ہیں، اور ایک پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ''، وہ گیا، اور ان کو لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر فرمایا: ''انہیں کون خریدتا ہے''؟، ایک شخص بولا: میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ایک درہم پر کون بڑھاتا ہے''؟، یہ جملہ آپ ﷺ نے دو یا تین بار فرمایا، ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں لیتا ہوں، چنانچہ آپ ﷺ نے یہ دونوں چیزیں اس شخص کے ہاتھ بیچ دیں، پھر دونوں درہم انصاری کو دیئے اور فرمایا: ''ایک درہم کا اناج خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دو، اور دوسرے کا ایک کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ''، اس نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کلہاڑے کو لیا، اور اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی جما دی اور فرمایا:'' جاؤ اور لکڑیا ں کاٹ کر لاؤ (اور بیچو) اور پندرہ دن تک میرے پاس نہ آؤ''، چنانچہ وہ لکڑیاں کاٹ کر لانے لگا اور بیچنے لگا، پھر وہ آپ کے پاس آیا، اور اس وقت اس کے پاس دس درہم تھے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' کچھ کا غلہ خرید لو، اور کچھ کا کپڑا''، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حالت میں آؤ کہ سوال کرنے کی وجہ سے تمہارے چہرے پر داغ ہو، یاد رکھو سوال کرنا صرف اس شخص کے لئے درست ہے جو انتہائی درجہ کا محتاج۱؎ ہو، یا سخت قرض دار۲؎ ہو یا تکلیف دہ خون بہا کی ادائیگی میں گرفتار ہو''۳؎۔
وضاحت۱؎: انتہائی درجے کی محتاجی یہ ہے کہ ایک دن اور ایک رات کی خواک اس کے پاس کھانے کے لئے نہ ہو، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بہ قدر نصاب اس کے پاس مال نہ ہو۔
وضاحت۲؎: سخت قرض داری یہ ہے کہ قرضہ اس کے مال سے زیادہ ہو۔
وضاحت۳؎: تکلیف دہ خون کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو قتل کیا ہو، اور مقتول کے وارث دیت پر راضی ہو گئے ہوں لیکن اس کے پاس رقم نہ ہو کہ دیت ادا کر سکے، مقتول کے وارث اس کو ستا رہے ہوں اور دیت کا تقاضا کر رہے ہوں تو ایسے شخص کے لئے سوال کرنا جائز ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب الإِقَالَةِ
۲۶- باب: بیع فسخ کرنے کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: جب بیع اختیار کے ساتھ مشروط ہو تو جس کو اختیار دیا گیا ہو اس کو فسخ کا اختیار حاصل ہوتا ہے، اگر دونوں کے پاس بیع توڑ دینے کا اختیار ہو تو دونوں کو اس کے فسخ اختیار ہو گا، لیکن اگر اختیار کی مدت گزر جائے، یا اختیار کی شرط نہ ہو تو بیع فسخ نہیں ہو سکتی، الا یہ کہ بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں راضی ہو جائیں اور دونوں مل کر بیع کو فسخ کریں تو جب یہ چاہیں ہو سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے کہ خریدنے والا یا بیچنے والا ایک مدت کے بعد اپنا نقصان دیکھ کر بیع فسخ چاہتا ہے، لیکن فسخ کا اختیار دوسرے فریق کے پاس ہوتا ہے تو حدیث میں اس کی ترغیب دی کہ ایسی حالت میں بھی بیع کا فسخ کر دینا بہتر اور ثواب ہے، کیونکہ وہ مسلمان پر احسان ہے۔

2199- حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۵۷)، وقد أخرجہ: د/البیوع ۵۴ (۳۴۶۰)، حم (۲/۲۵۲) (صحیح)

۲۱۹۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کسی مسلمان کے اقالے کو مان لے (یعنی اس کے ساتھ بیع کے فسخ پر راضی ہو جائے) تو اللہ تعالیٰ (اس احسان کے بدلہ میں) قیامت کے دن اس کے گناہوں کو مٹا دے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب مَنْ كَرِهَ أَنْ يُسَعِّرَ
۲۷- باب: قیمت مقرر کرنے کی کراہت کا بیان​

2200 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٌ وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: غَلا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالُوا: يَارَسُولَ اللَّهِ! قَدْ غَلا السِّعْرُ، فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ: < إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلا مَالٍ >۔
* تخريج: د/البیوع ۵۱ (۳۴۵۱)، ت/البیوع ۷۳ (۱۳۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۸، ۶۱۴، ۱۱۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۵۶)، دي/البیوع ۱۳(۲۵۸۷) (صحیح)

۲۲۰۰- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک دفعہ قیمتیں چڑھ گئیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک نرخ (بھاؤ) مقرر کر دیجئے! آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، کبھی کم کر دیتا ہے اور کبھی زیادہ کر دیتا ہے، وہی روزی دینے والا ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی نہ مالی نہ جانی کسی طرح کا ظلم میں نے کسی پر نہ کیا ہو، حدیث میں اشارہ ہے کہ نرخ مقرر کرنا یعنی قیمتوں پر کنٹرول کرنا بیوپاریوں پر اور غلہ کے تاجروں پر ایک مالی ظلم ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس سے بچنے کی آرزو کی۔

2201- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: غَلا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالُوا: لَوْ قَوَّمْتَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلا يَطْلُبَنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۸، ومصباح الزجاجۃ: ۷۷۴)، حم (۳/۸۵) (صحیح)

۲۲۰۱- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مہنگائی بڑھ گئی، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ نرخ مقرر کر دیں تو اچھا رہے گا! آپ ﷺ نے فرمایا: ''میری خواہش ہے کہ میں تم سے اس حال میں جدا ہوں کہ کوئی مجھ سے کسی زیادتی کا جو میں نے اس پر کی ہو مطالبہ کرنے والا نہ ہو''۔
وضاحت۱؎: نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں غذائی اجناس کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں شاید اس کا سبب قحط سالی اور بارش کا نہ برسنا تھا، یا مدینہ اور شام کے درمیان راستے کا خراب ہونا جہاں سے مدینہ منورہ کو غلہ آتا تھا، لوگوں نے رسول اکرم ﷺ سے قیمتوں اور منافع پر کنٹرول کی گزارش کی تو نبی کریم ﷺ نے اس معاملے کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیا کہ وہی رزاق ہے اور اسی کے ہاتھ میں روزی کو کم اور زیادہ کرنا ہے، رسول اکرم ﷺ نے نرخ پر کنٹرول اس خیال سے نہ کیا کہ اس سے خواہ مخواہ کہیں لوگ ظلم و زیادتی کا شکار نہ ہو جائیں، لیکن حاکم وقت لوگوں کی خدمت کے لیے عادلانہ اور منصفانہ نرخ پر کنٹرول کا اقدام کر سکتا ہے، عام مصلحت کے پیش نظر علماء اسلام نے اس کی اجازت دی ہے، امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ نرخ کے کنٹرول میں بعض چیزیں حرام کے قبیل سے ہیں، اور بعض چیزیں انصاف پر مبنی اور جائز ہیں، قیمتوں پر کنٹرول سے اگر لوگ ظلم کا شکار ہوں یا ناحق ان کو ایسی بیع پر مجبور کیا جائے، جو ان کے یہاں غیر پسندیدہ ہو یا ان کو مباح چیزوں سے روکنے والی ہو تو ایسا کنٹرول حرام ہے، اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کا ضامن کنٹرول جیسے لوگوں کو اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ وہی قیمت لیں جس کے وہ حقیقی طور پر حقدار ہیں، اور ان کو اس حقیقی قیمت سے زیادہ لینے سے روک دے جو ان کے لیے لینا حرام ہے، تو ایسا کنٹرول جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اگر لوگوں کی مصلحتیں قیمتوں پر کنٹرول کے بغیر نہ پوری ہو رہی ہوں تو منصفانہ طور پر ان کی قیمتوں کی تحدید کر دینی چاہئے اور اگر اس کی ضرورت نہ ہو اور اس کے بغیر کام چل رہا ہو تو قیمتوں پر کنٹرول نہ کرے۔
علامہ محمد بن ابراہیم آل الشیخ مفتی اکبر سعودی عرب فرماتے ہیں کہ ہم پر جو چیز واضح ہوئی اور جس پر ہمارے دلوں کو اطمینان ہے وہ وہی ہے جسے ابن القیم نے ذکر فرمایا ہے کہ قیمتوں کی تحدید میں سے بعض چیزیں ظلم ہیں، اور بعض چیزیں عدل و انصاف کے عین مطابق تو دوسری صورت جائز ہے، قیمتوں پر کنٹرول سے اگر لوگ ظلم کا شکار ہو رہے ہوں یا ناحق انہیں ایسی قیمت پر مجبور ہونا پڑے جس پر وہ راضی نہیں ہیں، یا اس سے وہ اللہ کی مباح کی ہوئی چیزوں سے روکے جا رہے ہوں تو ایسا کرنا حرام ہے، اور اگر قیمتوں پر کنٹرول سے لوگوں کے درمیان عدل کا تقاضا پورا ہو رہا ہے کہ حقیقی قیمت اور واجبی معاوضہ لینے پر ان کو مجبور کیا جا رہا ہو یا اس تدبیر سے ان کو اصلی قیمت سے زیادہ لینے سے روکا جا رہا ہو جس کا لینا ان کے لیے حرام ہے، تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، پس قیمتوں پر کنٹرول دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ ایسی چیزوں کی قیمتوں پر کنٹرول ہو جن کے محتاج سارے لوگ ہوں، دوسری شرط یہ ہے کہ مہنگائی کا سبب بازار میں سامان کا کم ہونا ہے یا طلب کا زیادہ ہونا، تو جس چیز میں یہ دونوں شرطیں پائی جائیں اس میں قیمتوں کی تحدید عدل و انصاف اور عام مصلحتوں کی رعایت کے قبیل سے ہے، جیسے گوشت، روٹی اور دواؤں وغیرہ کی قیمتوں پر کنٹرول۔
مجمع الفقہ الإسلامی مکہ مکرمہ نے تاجروں کے منافع کے کنٹرول سے متعلق (۱۴۰۹) ہجری کی ایک قرار داد میں یہ طے کیا کہ حاکم صرف اس وقت مارکیٹ اور چیزوں کے بھاؤ کے سلسلے میں دخل اندازی کرے جب مصنوعی اسباب کی وجہ سے ان چیزوں میں واضح خلل پائے، تو ایسی صورت میں حاکم کو چاہئے کہ وہ ممکنہ عادلانہ وسائل اختیار کر کے اس مسئلے میں دخل اندازی کرے اور بگاڑ، مہنگائی اور غبن فاحش کے اسباب کا خاتمہ کرے۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام، تالیف عبد اللہ بن عبدالرحمن البسام، ۴/۳۲۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب السَّمَاحَةِ فِي الْبَيْعِ
۲۸- باب: خرید و فروخت میں نرمی اور آسانی برتنے کا بیان۱؎​

وضاحت۱؎: یعنی ذرا ذرا سی چیز یا قیمت کے لئے تقاضا اور سختی نہ کرنا، اگر بیچنے والا ہو تو قیمت میں کچھ کم کر دے تب بھی قبول کر لینا، اگر خریدنے والا ہو اور مال میں کچھ کمی ہو تو تکرار نہ کرنا، لے لینا، ماپ تول میں زیادہ جھگڑا نہ کرنا، معین وزن یا ماپ سے کچھ زیادہ دے دینا، غرض لوگوں کا دل خوش رکھنا اور حسن خلق کے ساتھ معاملہ کرنا، نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام خریدار اسی کے پاس آئیں گے اور اسی کا مال لے جائیں گے، دوسری جگہ اگر عمدہ اور کچھ سستا بھی ملے تو وہاں سے نہ لیں گے۔

2202- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَدْخَلَ اللَّهُ الْجَنَّةَ رَجُلا كَانَ سَهْلا بَائِعًا وَمُشْتَرِيًا >۔
* تخريج: ن/البیوع ۱۰۲(۴۷۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۳۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۵۸، ۶۷، ۷۰) (حسن)
(سند میں عطاء بن فروخ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۱۸۸)
۲۲۰۲- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی اس شخص کو جنت میں لے جائے جو نرمی کرنے والا ہو، خواہ بیچ رہا ہو یا خرید رہا ہو''۔

2203- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، سَمْحًا إِذَا اشْتَرَى، سَمْحًا إِذَا اقْتَضَى >۔
* تخريج: خ/البیوع ۱۶ (۲۰۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۸۰)، وقد أخرجہ: ت/البیوع ۷۶ (۱۳۲۰) (صحیح)

۲۲۰۳- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اللہ تعالی اس بندے پر رحم کرے، جو نرمی کرے جب بیچے، نرمی کرے جب خریدے، اور نرمی کرے جب تقاضا کرے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب السَّوْمِ
۲۹- باب: مول بھاؤ کرنے کا بیان​

2204- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ قَيْلَةَ أُمِّ بَنِي أَنْمَارٍ؛ قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي امْرَأَةٌ أَبِيعُ وَأَشْتَرِي، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ الشَّيْئَ سُمْتُ بِهِ أَقَلَّ مِمَّا أُرِيدُ، ثُمَّ زِدْتُ ثُمَّ زِدْتُ حَتَّى أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ، وَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ الشَّيْئَ سُمْتُ بِهِ أَكْثَرَ مِنِ الَّذِي أُرِيدُ، ثُمَّ وَضَعْتُ حَتَّى أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تَفْعَلِي يَا قَيْلَةُ! إِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبْتَاعِي شَيْئًا فَاسْتَامِي بِهِ الَّذِي تُرِيدِينَ، أُعْطِيتِ أَوْ مُنِعْتِ، وَإِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبِيعِي شَيْئًا فَاسْتَامِي بِهِ الَّذِي تُرِيدِينَ، أَعْطَيْتِ أَوْ مَنَعْتِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۴۸، ومصباح الزجاجۃ: ۷۷۶) (ضعیف)
(عبد اللہ بن عثمان اور قیلۃ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۱۵۶)
۲۲۰۴- قیلہ ام بنی انمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو آپ ﷺ اپنے کسی عمرہ کے موقع پر مروہ پہاڑی کے پاس تھے، میں نے عرض کیا کہ میں ایک خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں، جب میں کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں تو پہلے اس کی قیمت اس سے کم لگاتی ہوں، جتنے میں خریدنا چاہتی ہوں، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھاتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں جو میں چاہتی ہوں، اور جب میں کسی چیز کو بیچنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس سے زیادہ لگاتی ہوں، جتنے میں بیچنا چاہتی ہوں، پھر تھوڑا تھوڑا کم کرتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت کو پہنچ جاتی ہوں جتنے میں اسے میں دینا چاہتی ہوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیلہ! ایسا نہ کرو جب تم کوئی چیز خریدنا چاہو تو وہی قیمت لگاؤ جو تمہارے پیش نظر ہو چاہے وہ چیز دی جائے یا نہ دی جائے، اور جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہی قیمت کہو جو تمہارے پیش نظر ہے، چاہے تم دے سکو یا نہ دے سکو''۔

2205- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي غَزْوَةٍ، فَقَالَ لِي: < أَتَبِيعُ نَاضِحَكَ هَذَا بِدِينَارٍ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟ > قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هُوَ نَاضِحُكُمْ إِذَا أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ: <فَتَبِيعُهُ بِدِينَارَيْنِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ > قَالَ: فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي دِينَارًا دِينَارًا وَيَقُولُ مَكَانَ كُلِّ دِينَارٍ: < وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ > حَتَّى بَلَغَ عِشْرِينَ دِينَارًا، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ أَخَذْتُ بِرَأْسِ النَّاضِحِ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < يَا بِلالُ! أَعْطِهِ مِنَ الْغَنِيمَةِ عِشْرِينَ دِينَارًا > وَقَالَ: < انْطَلِقْ بِنَاضِحِكَ، فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ >۔
* تخريج: خ/الشروط ۴ (۲۷۱۸) تعلیقا،ً م/الرضاع ۱۶ (۷۱۵)، ن/البیوع ۷۵ (۴۶۴۵)، ت/البیوع ۳۰ (۱۲۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۷۳) (صحیح)

۲۲۰۵- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا آپ نے مجھ سے فرمایا: ''کیا تم اپنے اس پانی ڈھونے والے اونٹ کو ایک دینار میں بیچتے ہو؟ اور اللہ تمہیں بخشے ''میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں مدینہ پہنچ جاؤں، تو آپ ہی کا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اچھا دو دینار میں بیچتے ہو؟ اللہ تعالی تمہیں بخشے'' جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ اسی طرح ایک ایک دینار بڑھاتے گئے اور ہر دینار پر فرماتے رہے: اللہ تعالی تمہیں بخشے! یہاں تک کہ بیس دینار تک پہنچ گئے، پھر جب میں مدینہ آیا تو اونٹ پکڑے ہوئے اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''بلال! انہیں مال غنیمت میں سے بیس دینار دے دو'' اور مجھ سے فرمایا: ''اپنا اونٹ بھی لے جاؤ، اور اسے اپنے گھر والوں میں پہنچا دو''۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بھاؤ تاؤ کرنا درست اور جائز ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر بیچنے والا ایک جانور کو بیچے اور کسی مقام تک اس پر سواری کرنے کی شرط کر لے تو جائز ہے، بعض روایتوں میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ جب لوٹ کر اپنے گھر آئے اور گھر والوں سے اونٹ کے بیچنے کا ذکر کیا تو انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو ملامت کی کہ گھر کے کاموں کے لئے ایک ہی اونٹ تھا اس کو بھی بیچ ڈالا، لیکن جابر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کا خیال نہ کیا، اور اپنے وعدے کے مطابق اونٹ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آئے، آپ نے بیس دینار دیئے اور اونٹ بھی، اور فرمایا کہ اونٹ اپنے گھر لے جاؤ، شاید وحی سے آپ کو یہ حال معلوم ہو گیا ہو کہ گھر والے اس خرید و فروخت کے حق میں نہیں ہیں اور شاید محض حسن اخلاق ہو۔

2206- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِالْمَلِكِ، عَنْ أَبِيهِ ،عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ السَّوْمِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَعَنْ ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۷۷۷) (ضعیف)
(سند میں ربیع بن حبیب منکر الحدیث اور نوفل مستور راوی ہیں، لیکن دوسرا جملہ کے ہم معنی صحیح مسلم میں موجود ہے)
۲۲۰۶- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج نکلنے سے پہلے مول بھاؤ کرنے سے، اور دودھ والے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ دودھ سے زیادہ فائدہ ہے، ہمیشہ غذا ملے گی اور گوشت اس کا دو تین روز ہی کام آئے گا، البتہ اگر دودھ والا جانور بوڑھا ہو گیا اور اس کا دودھ بند ہو گیا ہو تو ذبح کرنے میں مضائقہ نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَيْمَانِ فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ
۳۰- باب: خرید وفروخت میں حلف اٹھانے اور قسمیں کھانے کی کراہت​

2207- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < ثَلاثَةٌ لايُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلاةِ يَمْنَعُهُ ابْنَ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ، وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، لا يُبَايِعُهُ إِلا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۴۶ (۱۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۲۲)، وقد أخرجہ: خ/المساقاۃ ۱۰ (۲۳۶۹)، الشہادات ۲۲ (۲۶۷۲)، الأحکام ۴۸ (۷۲۱۲)، التوحید ۲۴ (۷۴۴۶)، ت/السیر ۳۵ (۱۵۹۵)، ن/البیوع ۵ (۴۴۶۳)، حم (۲/۲۵۳، ۴۸۰) (صحیح)

۲۲۰۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے اس قدر ناراض ہو گا کہ نہ تو ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا: ایک وہ شخص جس کے پاس چٹیل میدان میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ اسے مسافر کو نہ دے، دوسرے وہ شخص جو اپنا مال صلاۃ عصر کے بعد بیچے اور اللہ کی قسم کھائے کہ اسے اس نے اتنے اتنے میں خریدا ہے، اور خریدار اسے سچا جانے حالانکہ وہ اس کے برعکس تھا، تیسرے وہ شخص جس نے کسی امام سے بیعت کی، اور اس نے صرف دنیا کے لیے بیعت کی، اگر اس نے اس کو کچھ دیا تو بیعت پوری کی، اور اگر نہیں دیا تو نہیں پوری کی''۱؎۔
وضاحت۱؎: بلکہ امام کے مخالف ہو بیٹھا، اور اس کے خلاف بغاوت کی، جھوٹی قسم کھانا ہر وقت گناہ ہے، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد اور بھی سخت گناہ ہے۔

2208 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ (ح) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <ثَلاثَةٌ لا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ" فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ يَارَسُولَ اللَّهِ! فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: < الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمَنَّانُ عَطَائَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۴۶ (۱۰۶)، د/اللباس ۲۸ (۴۰۸۷)، ت/البیوع ۵ (۱۲۱۱)، ن/الزکاۃ ۶۹ (۲۵۶۴)، البیوع ۵ (۴۴۶۳)، الزینۃ من المجتبیٰ ۵۰ (۵۳۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۰۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۴۸، ۱۵۸، ۱۶۲، ۱۶۸، ۱۷۸)، دي/البیوع ۶۳ (۲۶۴۷) (صحیح)

۲۲۰۸- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ وہ نامراد ہوئے اور بڑے نقصان میں پڑے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''جو اپنا تہمد (لنگی) ٹخنے سے نیچے لٹکائے، اور جو دے کر احسان جتائے، اور جو اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ رواج دے''۔

2209 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، (ح) وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِيَّاكُمْ وَالْحَلِفَ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ >۔
* تخريج:م/المساقاۃ ۲۷ (۱۶۰۷)، ن/البیوع ۵ (۴۴۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۹۷، ۲۹۸، ۳۰۱) (صحیح)

۲۲۰۹- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بیع (خرید و فروخت) میں قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے اور برکت جاتی رہتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ بَاعَ نَخْلا مُؤَبَّرًا أَوْ عَبْدًا لَهُ مَالٌ
۳۱- باب: قلم کئے ہوئے کھجور کے درخت کوبیچنے یا مالدار غلام کو بیچنے کا بیان​

2210 - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنِ اشْتَرَى نَخْلا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ >.
* تخريج: خ/البیوع ۹۰ (۲۲۰۳)، ۹۲ (۲۲۰۶)، المساقاۃ ۱۷(۲۳۷۹)، الشروط ۲ (۲۷۱۶)، م/البیوع ۱۵ (۱۵۴۳)، ن/البیوع ۷۴ (۴۶۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۳۰)، وقد أخرجہ: د/البیوع ۴۴ (۳۴۳۳، ۳۴۳۴)، ت/البیوع ۲۵ (۱۲۴۴)، ط/البیوع ۷ (۱۰)، حم (۲/۴، ۵، ۹، ۶۲)، دي/البیوع ۲۷ (۲۶۰۳) (صحیح)

۲۲۱۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی تأبیر (قلم) کئے ہوئے کھجور کا درخت خریدے، تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا، الا یہ کہ خریدار خود پھل لینے کی شرط طے کر لے''۱؎۔
وضاحت۱؎: تأبیر کے معنی قلم کرنا یعنی نر کھجور کے گابھے کو مادہ میں رکھنا، جب قلم لگاتے ہیں تو درخت میں کھجور ضرور پیدا ہوتی ہے، لہذا قلم کے بعد جو درخت بیچا جائے وہ اس کا پھل بیچنے والے کو ملے گا۔ البتہ اگر خریدنے والا شرط طے کر لے کہ پھل میں لوں گا تو شرط کے موافق خریدار کو ملے گا، بعضوں نے کہا کہ یہ حکم اس وقت ہے جب درخت میں پھل نکل آیا ہو تو وہ خریدنے والے ہی کا ہو گا۔

2210/أ- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِنَحْوِهِ۔
* تخريج: خ/البیوع ۹۲ (۲۲۰۶)، م/البیوع ۱۵ (۱۵۴۳)، ن/البیوع ۷۳ (۴۶۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۷۴) (صحیح)

۲۲۱۰/أ- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔

2211- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، (ح) وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ بَاعَ نَخْلا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا، إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ، إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ >۔
* تخريج: حدیث محمد بن رمح تقدم بمثل الحدیث المتقدم (۲۲۱۰)، وحدیث ھشام بن عمار أخرجہ: م/البیوع ۱۵ (۱۵۴۳)، د/البیوع ۴۴ (۳۴۳۳)، ن/البیوع ۷۴ (۴۶۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۱۹) (صحیح)

۲۲۱۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص تأبیر (قلم) کئے ہوئے کھجور کا درخت بیچے تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کرلے، اور جو شخص کوئی غلام بیچے اور اس غلام کے پاس مال ہو تو وہ مال اس کا ہو گا، جس نے اس کو بیچا ہے سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کرلے کہ اسے میں لوں گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: دوسرے مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، اختلاف ان کپڑوں میں ہے جو بکتے وقت غلام لونڈی کے بدن پر ہوں، بعضوں نے کہا: وہ بھی بیچنے والا لے لے گا، بعض نے کہا: صرف عورت کا ستر بیع میں داخل ہو گا۔

2212 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِرَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < مَنْ بَاعَ نَخْلا وَبَاعَ عَبْدًا جَمَعَهُمَا جَمِيعًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۵۳)، وقد أخرجہ: حم ۲/۷۸) (صحیح)

۲۲۱۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی کھجور کا درخت بیچے، اور کوئی غلام بیچے تو وہ ان دونوں کو اکٹھا بیچ سکتا ہے''۔

2213- حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِثَمَرِ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا، إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَأَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۶۲ ، ومصباح الزجاجۃ: ۷۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۲۶، ۳۲۷) (صحیح)
(سند میں اسحاق بن یحییٰ مجہول راوی ہیں، اور عبادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات بھی نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
۲۲۱۳- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس شخص کا ہو گا جس نے اس کی تأبیر (پیوندکاری) کی، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کرلے، اورجس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کے پاس مال ہو توغلام کا مال اس کا ہو گا جس نے اس کو بیچا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کرلے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاحُهَا
۳۲- باب: استعمال کے لائق ہونے سے پہلے درخت کے کچے پھل کو بیچنا منع ہے​

2214- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا>، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ۔
* تخريج: ن/البیوع ۲۶ (۴۵۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۰۲)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۸ (۱۴۸۶)، البیوع ۸۲ (۲۱۸۳)، ۸۵ (۲۱۹۴)، ۸۷ (۲۱۹۹)، م/البیوع ۱۳ (۱۵۳۴)، ۱۴ (۱۵۳۴)، د/البیوع ۲۳ (۳۳۶۷)، ت/البیوع ۱۵ (۱۲۲۶)، ط/البیوع ۸ (۱۰)، حم (۲/۷، ۸، ۱۶، ۴۶، ۵۶، ۵۹، ۶۱، ۸۰، ۱۳۳)، دي/البیوع ۲۱ (۲۵۹۷) (صحیح)

۲۲۱۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، آپ نے اس سے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی درخت پر جو پھل لگے ہوں ان کا بیچنا اس وقت تک جائز نہیں، جب تک کہ وہ پھل استعمال کے قابل نہ ہو جائیں، موجودہ دور میں کئی سالوں کے لئے باغات بیچ لیے جاتے ہیں جب کہ نہ پھول کا پتا ہے نہ پھل کا، یہ بالکل حرام ہے، مسلمانوں کو اس طرح کی تجارت سے بچنا چاہئے اور حدیث کے مطابق جب پھل قابل استعمال ہو تب بیچنا چاہئے۔

2215- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ >۔
* تخريج: م/البیوع ۱۳ (۱۵۳۸)، ن/البیوع ۲۶ (۴۵۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۶۲، ۳۶۳) (صحیح)

۲۲۱۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچو'' ۔

2216 - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ۔
* تخريج: خ/البیوع ۸۳ (۲۱۸۹)، د/البیوع ۲۳ (۳۳۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۵۴) (صحیح)

۲۲۱۶- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے۔

2217 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ۔
* تخريج: د/البیوع ۲۳ (۳۳۷۱)، ت/۲۱ (۱۲۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۳)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۵۸ (۱۴۸۸)، البیوع ۸۵ (۲۱۹۵)، ۸۷ (۲۱۹۸)، ۹۳ (۲۲۰۸)، م/المساقاۃ ۳ (۱۵۵۵)، ن/البیوع ۲۷ (۴۵۳۰)، ط/البیوع ۸ (۱۱)، حم (۳/۱۱۵، ۳۰ ۴۵، ۲۲۱، ۲۵۰) (صحیح)

۲۲۱۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ پکنے کے قریب ہو جائے، اور انگور کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے، اورغلّے کی بیع سے (بھی منع کیا ہے) یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب بَيْعِ الثِّمَارِ سِنِينَ وَالْجَائِحَةِ
۳۳- باب: کئی سال کے لیے پھلوں کے بیچنے اور پھلوں کو لاحق ہونے والی آفات کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کا پھل چار یا پانچ برس کے لئے کسی کے ہاتھ ایک متعین قیمت پر بیچے، تو یہ ناجائز ہے کیونکہ اس میں دھوکہ ہے، احتمال ہے کہ کچھ پھل پیدا نہ ہو یا پیدا ہو، لیکن اولے، برف، بارش یا قحط وغیرہ آفتوں سے خراب ہو جائے تو خریدنے والے کا روپیہ ضائع ہو گا۔

2218- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۱۷ (۱۵۳۶)، د/البیوع ۲۴ (۳۳۷۴)، ت/الزکاۃ ۲۴ (۶۵۵)، ن/البیوع ۲۹ (۴۵۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۶، ۳۰۹) (صحیح)

۲۲۱۸- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی سال کے لیے (پھلوں کی) بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

2219- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ بَاعَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلا يَأْخُذْ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْئًا، عَلامَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ؟ >۔
* تخريج: م/المساقاۃ ۳ (۱۵۵۴)، د/البیوع ۶۰ (۳۴۷۰)، ن/البیوع ۲۸ (۴۵۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۹۸)، وقد أ خرجہ: دي/البیوع ۲۲ (۲۵۹۸) (صحیح)

۲۲۱۹- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے پھل بیچا، پھر اس کو کوئی آفت لاحق ہوئی، تو وہ اپنے بھائی (خریدار) کے مال سے کچھ نہ لے، آخر کس چیز کے بدلہ تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کا مال لے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اہل حدیث اور امام احمد نے اسی حدیث پر عمل کیا ہے، اور کہا ہے کہ پھلوں پر اگر ایسی آفت آجائے کہ سارا پھل برباد ہو جائے تو ساری قیمت بیچنے والے سے خریدنے والے کو واپس دلائی جائے گی اگرچہ یہ آفت خریدنے والے کا قبضہ ہو جانے کے بعد آئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ
۳۴- باب: وزن کے وقت پلڑا جھکا کر (زیادہ) تولنے کا بیان​

2220- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ، وَعِنْدَنَا وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: < يَا وَزَّانُ ! زِنْ وَأَرْجِحْ >۔
* تخريج: د/البیوع ۷ (۳۳۳۶، ۳۳۳۷)، ت/البیوع ۶۶ (۱۳۰۵)، ن/البیوع ۵۲ (۴۵۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۲)، دي/البیوع ۴۷ (۲۶۲۷) (صحیح)

۲۲۲۰- سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی رضی اللہ عنہ دونوں ہجر۱؎ سے کپڑا لائے، تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ہم سے پاجاموں کا مول بھاؤ کیا، ہمارے پاس ایک تولنے والا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: ''او تولنے والے! تولو اور پلڑا جھکا کر تولو'' ۔
وضاحت۱؎: ہجر: ایک مقام کا نام ہے، جو سعودی عرب کے مشروقی زون کے شہراحساء میں ہے۔

2221 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا أَبَا صَفْوَانَ بْنَ عُمَيْرَةَ؛ قَالَ: بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رِجْلَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ، فَوَزَنَ لِي، فَأَرْجَحَ لِي۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (صحیح)

۲۲۲۱- سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مالک ابو صفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا، آپ نے مجھے قیمت تول کر دی، اور جھکا کر دی۱؎۔
وضاحت۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے پائجامہ قیمتاً خریدا، اور ظاہر یہ ہے کہ پہننے کے لئے خریدا، لیکن کسی صحیح حدیث سے صراحۃ یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے پائجامہ پہنا، اور جس روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے پائجامہ پہنا، اس کو لوگوں نے موضوع کہا ہے۔ (انجاح الحاجۃ)

2222- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۸۴)، وقد أخرجہ: م/المساقاۃ ۲۱ (۷۱۵) (صحیح)

۲۲۲۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تولو تو جھکا کر تولو''۔
 
Top