- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
65- بَاب مَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا
۶۵- باب: شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان
۶۵- باب: شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان
2293- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، لا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي، إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ، وَهُوَ لا يَعْلَمُ، فَقَالَ: < خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ >۔
* تخريج: م/الأقضیۃ ۴ (۱۷۱۴)، د/البیوع ۸۱ (۳۵۳۲)، ن/آداب القضاۃ ۳۰ (۵۴۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۶۱)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۹۵ (۲۲۱۱)، المظالم ۱۸ (۲۴۶۰)، النفقات ۵ (۵۳۵۹)، ۹ (۵۳۶۴)، ۱۴(۵۳۷۰)، الأیمان ۳ (۶۶۴۱)، الأحکام ۱۴ (۷۱۶۱)، ۲۸ (۷۱۸۰)، حم (۶/۳۹، ۵۰، ۲۰۶)، دي/النکاح ۵۴ (۵۳۶۴) (صحیح)
۲۲۹۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابو سفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لئے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں (اس کے بارے میں فرمائیں؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لئے کافی ہو'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کا حق کسی مال میں نکلتا ہو، اور وہ اس کو وصول نہ کر سکتا ہو تو جس پر اس کا حق ہو اس کے مال میں سے بغیر اس کی اجازت کے اپنے حق کو وصول کرسکتا ہے۔
2294- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ (وَقَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ: إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ) مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا، وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا >۔
* تخريج : خ/الزکاۃ ۱۷ (۱۴۲۵)، ۲۵ (۱۴۳۷)، ۲۶ (۱۴۳۹، ۱۴۴۰)، البیوع ۱۲ (۲۰۶۵)، م/الزکاۃ ۲۵ (۱۰۲۴)، ت/الزکاۃ ۳۴ (۶۷۲)، د/الزکاۃ ۴۴ (۱۶۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۰۸)، وقد أخرجہ: ن/الزکاۃ ۵۷ (۲۵۴۰)، حم (۹/۴۴،۹۹،۲۷۸) (صحیح)
۲۲۹۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے خرچ کرے (کی روایت میں ''خرچ کرے'' کے بجائے ''جب عورت کھلائے'' ہے) اور اس کی نیت مال برباد کرنے کی نہ ہو تو اس کے لئے اجر ہو گا، اور شوہر کوبھی اس کی کمائی کی وجہ سے اتنا ہی اجر ملے گا، اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اگرچہ عورت کو اپنے شوہر کا اور خادم کو اپنے مالک کا مال بغیر ان کی اجازت کے صدقہ میں دینا جائز نہیں ہے، لیکن یہاں وہ مال مراد ہے جس کے خرچ کی عادتاً عورتوں کو اجازت دی جاتی ہے جیسے کھانے میں سے ایک روٹی فقیر کو دے دینا، یا پیسوں میں سے ایک پیسہ کسی مسکین کو، اور بعضوں نے کہا: اہل حجاز اپنی عورتوں کو صدقہ اور مہمانی کی اجازت دیا کرتے تھے، تو یہ حدیث ان سے خاص ہے، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ مال ہے جو شوہر اپنی بیوی کو اس کے خرچ کے لئے دیتا ہے اس میں سے تو عورت بالاتفاق خرچ کر سکتی ہے۔
2295- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <لاتُنْفِقُ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِهَا شَيْئًا إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا > قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلا الطَّعَامَ ؟ قَالَ: <ذَلِكَ مِنْ أَفْضَلِ أَمْوَالِنَا>۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۳۴ (۶۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۶۷) (حسن)
۲۲۹۵- ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے'' لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے''۔