• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
65- بَاب مَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا
۶۵- باب: شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان​

2293- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، لا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي، إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ، وَهُوَ لا يَعْلَمُ، فَقَالَ: < خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ >۔
* تخريج: م/الأقضیۃ ۴ (۱۷۱۴)، د/البیوع ۸۱ (۳۵۳۲)، ن/آداب القضاۃ ۳۰ (۵۴۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۶۱)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۹۵ (۲۲۱۱)، المظالم ۱۸ (۲۴۶۰)، النفقات ۵ (۵۳۵۹)، ۹ (۵۳۶۴)، ۱۴(۵۳۷۰)، الأیمان ۳ (۶۶۴۱)، الأحکام ۱۴ (۷۱۶۱)، ۲۸ (۷۱۸۰)، حم (۶/۳۹، ۵۰، ۲۰۶)، دي/النکاح ۵۴ (۵۳۶۴) (صحیح)

۲۲۹۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابو سفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لئے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں (اس کے بارے میں فرمائیں؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لئے کافی ہو'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کا حق کسی مال میں نکلتا ہو، اور وہ اس کو وصول نہ کر سکتا ہو تو جس پر اس کا حق ہو اس کے مال میں سے بغیر اس کی اجازت کے اپنے حق کو وصول کرسکتا ہے۔

2294- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ (وَقَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ: إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ) مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا، وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا >۔
* تخريج : خ/الزکاۃ ۱۷ (۱۴۲۵)، ۲۵ (۱۴۳۷)، ۲۶ (۱۴۳۹، ۱۴۴۰)، البیوع ۱۲ (۲۰۶۵)، م/الزکاۃ ۲۵ (۱۰۲۴)، ت/الزکاۃ ۳۴ (۶۷۲)، د/الزکاۃ ۴۴ (۱۶۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۰۸)، وقد أخرجہ: ن/الزکاۃ ۵۷ (۲۵۴۰)، حم (۹/۴۴،۹۹،۲۷۸) (صحیح)

۲۲۹۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے خرچ کرے (کی روایت میں ''خرچ کرے'' کے بجائے ''جب عورت کھلائے'' ہے) اور اس کی نیت مال برباد کرنے کی نہ ہو تو اس کے لئے اجر ہو گا، اور شوہر کوبھی اس کی کمائی کی وجہ سے اتنا ہی اجر ملے گا، اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اگرچہ عورت کو اپنے شوہر کا اور خادم کو اپنے مالک کا مال بغیر ان کی اجازت کے صدقہ میں دینا جائز نہیں ہے، لیکن یہاں وہ مال مراد ہے جس کے خرچ کی عادتاً عورتوں کو اجازت دی جاتی ہے جیسے کھانے میں سے ایک روٹی فقیر کو دے دینا، یا پیسوں میں سے ایک پیسہ کسی مسکین کو، اور بعضوں نے کہا: اہل حجاز اپنی عورتوں کو صدقہ اور مہمانی کی اجازت دیا کرتے تھے، تو یہ حدیث ان سے خاص ہے، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ مال ہے جو شوہر اپنی بیوی کو اس کے خرچ کے لئے دیتا ہے اس میں سے تو عورت بالاتفاق خرچ کر سکتی ہے۔

2295- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <لاتُنْفِقُ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِهَا شَيْئًا إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا > قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلا الطَّعَامَ ؟ قَالَ: <ذَلِكَ مِنْ أَفْضَلِ أَمْوَالِنَا>۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۳۴ (۶۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۶۷) (حسن)

۲۲۹۵- ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے'' لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
66- بَاب مَا لِلْعَبْدِ أَنْ يُعْطِيَ وَيَتَصَدَّقَ
۶۶- باب: غلام کسی کو کیا دے سکتا ہے اور کیا صدقہ کر سکتا ہے؟​

2296- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،( ح) وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلائِيِّ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ۔
* تخريج: ت/الجنائز ۳۲ (۱۰۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۸)، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ۴۱۷۸) (ضعیف)
(سند میں مسلم الملائی ضعیف راوی ہیں)
۲۲۹۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔

2297- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كَانَ مَوْلايَ يُعْطِينِي الشَّيْئَ فَأُطْعِمُ مِنْهُ، فَمَنَعَنِي، أَوْ قَالَ: فَضَرَبَنِي، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ، أَوْ سَأَلَهُ، فَقُلْتُ: لا أَنْتَهِي أَوْ لا أَدَعُهُ فَقَالَ: < الأَجْرُ بَيْنَكُمَا >۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۲۶ (۱۰۲۵)، ن/الزکاۃ ۵۶ (۲۵۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۹۹) (صحیح)

۲۲۹۷- عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، یا اسی مالک نے آپ ﷺ سے پوچھا، میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آسکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا (کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم دونوں کو اس کا اجرملے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب مَنْ مَرَّ عَلَى مَاشِيَةِ قَوْمٍ أَوْ حَائِطٍ هَلْ يُصِيبُ مِنْهُ
۶۷- باب: کسی کے ریوڑ یا باغ سے گزر ہو تو کیا آدمی اس سے کچھ لے سکتا ہے؟​

2298- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ ( رَجُلا مِنْ بَنِي غُبَرَ ) قَالَ: أَصَابَنَا عَامُ مَخْمَصَةٍ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا، فَأَخَذْتُ سُنْبُلا فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُهُ وَجَعَلْتُهُ فِي كِسَائِي، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ، فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: < مَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا أَوْ سَاغِبًا، وَلا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلا > فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ﷺ فَرَدَّ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ، وَأَمَرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ۔
* تخريج: د/الجہاد ۹۳ (۲۶۲۰، ۲۶۲۱)، ن/آداب القضاۃ ۲۰ (۵۴۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۶، ۱۶۷) (صحیح)

۲۲۹۸- ابو بشر جعفربن أبی ایاس کہتے ہیں:میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غُبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے باغ والے سے کہا: ''تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا''۔

2299- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَ غُلامٌ أَرْمِي نَخْلَنَا أَوْ قَالَ: نَخْلَ الأَنْصَارِ، فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيُّ ﷺ، فَقَالَ: < يَاغُلامُ! (وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ: فَقَالَ: < يَا بُنَيَّ! ) لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟ > قَالَ قُلْتُ: آكُلُ، قَالَ: < فَلا تَرْم النَّخْلَ، وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا > قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: <اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ >۔
* تخريج: د/الجہاد ۹۴ (۲۶۲۲)، ت/البیوع ۵۴ (۱۲۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۹۵) (ضعیف)
(سند میں ابن ابی الحکم مستور اور جدتی (دادی) مبہم روایہ ہیں نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ۴۵۳)
۲۲۹۹- رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''لڑکے! (ابن کا سِب کا قول ہے کہ آپ ﷺ نے یوں فرمایا: میرے بیٹے!) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو''؟، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں (کھجور) کھاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: '' درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ'' پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا :''اے اللہ! اسے آسودہ کر دے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎ : اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ جو پھل درخت سے گرے اس کا کھا لینا بغیر مالک کی اجازت کے جائز ہے یا نہیں۔ بعضوں نے کہا: ہر ملک کا دستور علیحدہ ہے۔ شاید مدینہ میں یہ دستور ہو گا کہ درخت سے جو پھل گرے اس کے کھانے کی عام اجازت ہو گی اور اس سے منع نہ کرتے ہوں گے، پس نبی کریم ﷺ نے اسی دستور کے موافق اجازت دی۔

2300- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ، فَنَادِهِ ثَلاثَ مِرَارٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلا فَاشْرَبْ فِي غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ، وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ، فَنَادِ صَاحِبَ الْبُسْتَانِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلا فَكُلْ فِي أَنْ لا تُفْسِدَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۴۳۴۲، ومصباح الزجاجۃ: ۸۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۷، ۲۱، ۸۵) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۵۲۱)
۲۳۰۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھا لو، البتہ خراب مت کرو''۔

2301- حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِالْوَهَّابِ، وَأَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ، وَلا يَتَّخِذْ خُبْنَةً >۔
* تخريج: ت/البیوع ۵۴ (۱۲۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۲۲) (صحیح)

۲۳۰۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی کسی باغ سے گزرے تو (پھل) کھائے، اور کپڑے میں نہ باندھے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎ : جن احادیث میں مالک کی اجازت کے بغیر دودھ یا پھل لینے کی اجازت ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ منسوخ ہیں، اور ان کی ناسخ وہ احادیث ہیں جن میں مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کا مال لینا حرام ہے، اور بعضوں نے کہا کہ یہ حدیثیں اس حالت پر محمول ہیں کہ جب آدمی بھوک کے مارے بے تاب ہو یعنی مرنے کے قریب ہو، مخمصہ کی حالت ہو تو ایسی حالت میں حرام حلال ہو جاتا ہے، پھر پھل یا دودھ بھی بے اجازت کھا پی لینا جائز ہو گا، لیکن ضروری ہے کہ صرف اتنا لے جس سے جان بچ جائے، اور ضرورت سے زیادہ اس کا مال خراب نہ کرے نہ اپنے ساتھ باندھ کر لے جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
68- بَاب النَّهْيِ أَنْ يُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا إِلا بِإِذْنِ صَاحِبِهَا
۶۸- باب: مالک کی اجازت کے بغیر کسی کے ریوڑ یا باغ سے کچھ لینا منع ہے​

2302- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَامَ فَقَالَ: < لا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَيُكْسَرَ بَابُ خِزَانَتِهِ، فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ؟ فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ، فَلا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ >۔
* تخريج: م/اللقطۃ ۲ (۱۷۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۰۰)، وقد أخرجہ: خ/اللقطۃ ۴۸ (۲۴۳۵)، د/الجہاد ۹۵ (۲۶۲۳)، ط/الإستئذان ۶ (۱۷) (صحیح)

۲۳۰۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ''کوئی کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے، کیا کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی جائے، اور اس کے غلہ کی کوٹھری کا دروازہ توڑ کرغلّہ نکال لے جائے؟ ایسے ہی ان کے جانوروں کے تھن ان کے غلّہ کی کوٹھریاں ہیں، تو کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے''۔

2303- حَدَّثَنَا إِسمَعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الطُّهَوِيِّ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ الطُّهَوِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، إِذْ رَأَيْنَا إِبِلا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ، فَثُبْنَا إِلَيْهَا، فَنَادَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الإِبِلَ لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، هُوَ قُوتُهُمْ وَيُمْنُهُمْ بَعْدَ اللَّهِ، أَيَسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ؟ أَتُرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلا؟ > قَالُوا: لا، قَالَ: < فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ > قُلْنَا: أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ؟ فَقَالَ: < كُلْ وَلا تَحْمِلْ، وَاشْرَبْ وَلا تَحْمِلْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۹۲، ومصباح الزجاجۃ: ۸۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۰۵) (ضعیف) لأن ھذا السند فیہ سلیط بن عبد اللہ، قال فیہ البخاری: إسنادہ لیس بالقائم وحجاج بن أرطاۃ مدلس وقد رواہ بالعنعنۃ۔

۳۲۰۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم (کا دودھ دوہنے کے لئے) اس کی طرف لپکے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے، اور یہی ان کی روزی ہے، اور اللہ تعالی کے بعد یہی ان کے لئے خیر و برکت کی چیز ہے، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں ۱؎ کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے''؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''بس یہ بھی ایسا ہی ہے'' ۱؎، ہم نے عرض کیا: اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''(ایسی حالت میں) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ''۔
وضاحت۱؎: یعنی یہ اونٹنی ان کی توشہ دان ہیں، اس کے تھن میں ان کے کھانے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
69-بَاب اتِّخَاذِ الْمَاشِيَةِ
۶۹- باب: جانور پالنے کا بیان​

2304- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهَا: < اتَّخِذِي غَنَمًا فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۰۸، ومصباح الزجاجۃ: ۸۰۸)، وقد أخرجہ: ۶/۴۲۴) (صحیح)

۲۳۰۴- ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: ''تم بکریاں پالو، اس لئے کہ ان میں برکت ہے''۔

2305- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ يَرْفَعُهُ قَالَ: < الإِبِلُ عِزٌّ لأَهْلِهَا، وَالْغَنَمُ بَرَكَةٌ، وَالْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: خ/الجہاد ۴۳ (۲۸۵۰)، ۴۴ (۲۸۵۲)، الخمس ۸ (۳۱۱۹)، المناقب ۲۸ (۳۶۴۲)، م/الإمارۃ ۲۶ (۱۸۷۳)، ت/الجہاد ۱۹ (۱۶۹۴)، ن/الخیل ۶ (۹۸۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۷۵، ۳۷۶) دي/الجہاد ۳۴ (۲۴۷۰) (صحیح)

۲۳۰۵- عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اونٹ ان کے مالکوں کے لئے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے بھلائی بندھی ہے''۔

2306- حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا زَرْبِيٌّ، إِمَامُ مَسْجِدِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف : ۷۴۳۹ ، ومصباح الزجاجۃ : ۸۱۰) (صحیح)
(سند میں زربی بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیزملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۱۲۸)
۲۳۰۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے''۔

2307- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الأَغْنِيَاءَ بِاتِّخَاذِ الْغَنَمِ وَأَمَرَ الْفُقَرَاءَ بِاتِّخَاذِ الدَّجَاجِ، وَقَالَ: < عِنْدَ اتِّخَاذِ الأَغْنِيَاءِ الدَّجَاجَ يَأْذَنُ اللَّهُ بِهَلاكِ الْقُرَى >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۹۹، ومصباح الزجاجۃ: ۸۱۱) (موضوع)
(سند میں علی بن عروہ متروک بلکہ متہم با لوضع راوی ہے، نیز عثمان بن عبد الرحمن مجہول ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۱۹)
۲۳۰۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مال دار لوگوں کو بکریاں اور محتاج لوگوں کو مرغیاں رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا ہے: ''جب مالدار مرغیاں پالنے لگتے ہیں تو اللہ تعالی اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے''۔


***​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{ 13-كِتَاب الأَحْكَامِ }
۱۳- کتاب: قضا کے احکام و مسائل


1- بَاب ذِكْرِ الْقُضَاةِ
۱- باب: قاضیوں کا بیان​

2308- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَقْبُريِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۵۵)، وقد أخرجہ: د/الأقضیۃ ۱ (۳۵۷۱)، ت/الأحکام ۱ (۱۳۲۵)، حم (۲/۳۶۵) (صحیح)

۲۳۰۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص لوگوں کا قاضی (فیصلہ کرنے والا) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی بن مارے اس کی موت ہوئی، مطلب یہ ہے کہ قضا کا عہدہ بڑے خطرے اور مواخذے کا کام ہے، اور اس میں عاقبت کے خراب ہونے کا ڈر ہے مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچائے، اور اسی واسطے اکثر اسلاف نے تکلیفیں برداشت کیں اور ذلت کو گوارا کیا، لیکن قضا کا عہدہ نہ قبول کیا، چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو خلیفہ منصور نے مارا پیٹا اور قید کیا، لیکن انہوں نے قاضی بننا قبول نہ کیا، تاکہ اپنے آپ کو حدیث میں وارد وعید سے بچا سکیں، اور جن علماء نے یہ ذمہ داریاں قبول کیں انہوں نے ایک دینی فریضہ پورا کیا، ان کو اللہ کے فضل سے اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ اس عہدے کے ذریعے سے ملک اور عوام کی خدمت کریں گے، اور اللہ رب العزت کے یہاں اجر کے مستحق ہوں گے۔

2309- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ بِلالِ ابْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ جُبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَسَدَّدَهُ "۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۱ (۳۵۷۸)، ت/الأحکام ۱ (۱۳۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۸،۲۲۰) (ضعیف)
(سند میں عبد الأعلی ضعیف راوی ہے)
۲۳۰۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے عہدۂ قضا کا مطالبہ کیا، وہ اپنے نفس کے حوالہ کر دیا جاتا ہے، اور جو اس کے لئے مجبور کیا جائے تو اس کے لئے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے''۔

2310- حدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَبْعَثُنِي وَأَنَا شَابٌّ أَقْضِي بَيْنَهُمْ، وَلا أَدْرِي مَا الْقَضَاءُ؟ قَالَ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: <اللَّهُمَّ اهْدِ قَلْبَهُ وَثَبِّتْ لِسَانَهُ > قَالَ، فَمَا شَكَكْتُ بَعْدُ فِي قَضَائٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۱۳)، وقد أخرجہ: د/الأقضیۃ ۶ (۳۵۸۲)، ت/الأحکام ۵ (۱۳۳۱)، حم (۱/۸۳، ۱۴۹) (صحیح)
(سند میں ابو البختری سعید بن فیروز کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن یا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۶۰۰، ابوداود: ۳۵۸۲)
۲۳۱۰- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن بھیجا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی بنا ک) یمن بھیج رہے ہیں، اور میں (جوان) ہوں، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا پھرفرمایا: ''اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت فرما، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ''، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا ۱؎۔
وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ نے محبت سے علی رضی اللہ عنہ کے سینے پر جب ہلکی سی ضرب لگائی اور دعا فرمائی تو اس معجزے کا ظہور ہوا اور دعا کی قبولیت کی مثال سامنے آئی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھی کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے کو علم قضا کے لیے کھول دیا، ایسا ہی معجزہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے کو علم حدیث کے لیے کھول دیا، اور خود ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے حدیث بھول جانے کی شکایت کی تو آپ نے ان کو ایک چادر دی جسے انہوں نے اپنے جسم سے لپیٹ لیا، اور نبی اکرم ﷺ نے آپ کے حافظے کے تیز ہونے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ ظاہر کیا اور اپنے محبوب نبی کی ایسی دعا قبول کی کہ ابو ہریرہ صحابہ کرام میں احادیث شریفہ کے سب سے بڑے حافظ قرار پائے، جب کہ آپ کو نبی اکرم ﷺ کی مصاحبت کا شرف بہت مختصر ملا کہ آپ غزوہ خیبرکے وقت محرم سن ۷ ہجری کو مدینہ آئے، اس طرح سے تقریباً سوا چارسال کی مدت آپ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گزاری، اور پھر اللہ کا فضل ان پر اور اہل اسلام پر یہ ہوا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ پوری زندگی حدیث کی خدمت کرتے رہے، یہاں تک کہ ۵۷ یا ۵۸ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی رضی اللہ عنہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2-بَاب التَّغْلِيظِ فِي الْحَيْفِ وَالرَّشْوَةِ
۲- باب: ظلم اور رشوت پر وارد وعید کا بیان​

2311- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهِ، أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۶۶، ومصباح الزجاجۃ: ۸۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۳۰) (ضعیف)
(سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہے)
۲۳۱۱- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدّی پکڑے ہوئے ہو گا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا، اگر حکم ہو گا کہ اس کو پھینک دو، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا''۔

2312- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلالٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ حُسَيْنٍ، يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي، مَا لَمْ يَجُرْ، فَإِذَا جَارَ وَكَّلَهُ إِلَى نَفْسِهِ >۔
* تخريج: ت/الأحکام ۴ (۱۳۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۶۷) (حسن)

۲۳۱۲- عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کی مدد قاضی (فیصلہ کرنے والے) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے''۔

2313- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ < لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي >۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۴ (۳۵۸۰) ،ت/الأحکام ۹ (۱۳۳۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۴، ۱۹۰، ۱۹۴، ۲۱۲، ۵/۲۷۹) (صحیح)

۲۳۱۳- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: رشوت لینے والے پر تو ظاہر ہے کہ وہ رشوت لے کر ضرور اس فریق کی رعایت کرے گا جس سے رشوت کھائے گا، اور رشوت دینے والے پر اس واسطے کہ وہ رشوت دے کر اس کو ظلم اور ناحق پر مائل کرے گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر اس کا مقدمہ حق ہو اور کوئی حاکم بغیر رشوت لئے حق فیصلہ نہ کرتا ہو تو ظلم کو دفع کرنے کے لئے اگر رشوت دے تو گناہ گار نہ ہو گا، پس ضروری ہے کہ آدمی رشوت دینے اور لینے والے دونوں برے کام سے پرہیز کرے، اسی طرح رشوت دلانے اور اس کی دلالی کرنے سے بھی دور رہے کیونکہ ان امور سے ڈر ہے کہ وہ اللہ کی لعنت کا مستحق ہو گا، نسأل الله العافية
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3-بَاب الْحَاكِمِ يَجْتَهِدُ فَيُصِيبُ الْحَقَّ
۳- باب: اجتہاد کر کے صحیح فیصلہ تک پہنچنے والے حاکم کے اجر و ثواب کا بیان​

2314- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ ". قَالَ يَزِيدُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَابَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِيهِ أَبُوسَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ۔
* تخريج: خ/الاعتصام ۲۱ (۷۳۵۲)، م/الأقضیۃ ۶ (۱۷۱۶)، د/الأقضیۃ ۲ (۳۵۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۹۸،۲۰۴) (صحیح)

۲۳۱۴- عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کو دہرا اجر ملے گا، اور جب فیصلہ کی کوشش کرے اور اجتہاد میں غلطی کرے، تو اس کو ایک اجر ملے گا''۔
یزید بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو ابو بکر بن عمرو بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اسی طرح اس کو مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔


2315- حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ قَالَ: لَوْلا حَدِيثُ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < الْقُضَاةُ ثَلاثَةٌ، اثْنَانِ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ: رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ جَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ > لَقُلْنَا: إِنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۲ (۳۵۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۰۹)، وقد أخرجہ: ت/الأحکام ۱ (۱۳۲۲) (صحیح)

۲۳۱۵- ابو ہاشم کہتے ہیں کہ اگر ابن بریدہ کی یہ روایت نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد (بریدۃ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہے، اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''قاضی تین طرح کے ہیں: ان میں سے دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی، ایک وہ جس نے حق کو معلوم کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا، تو وہ جنت میں جائے گا، دوسرا وہ جس نے لوگوں کے درمیان بغیر جانے بوجھے فیصلہ دیا، تو وہ جہنم میں جائے گا، تیسرا وہ جس نے فیصلہ کرنے میں ظلم کیا (یعنی جان کر حق کے خلاف فیصلہ دیا) تو وہ بھی جہنمی ہو گا'' (اگر یہ حدیث نہ ہوتی) تو ہم کہتے کہ جب قاضی فیصلہ کرنے میں اجتہاد کرے تو وہ جنتی ہے۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اجتہاد کافی نہیں ہے بلکہ حق کا علم یعنی یقین ضروری ہے، علماء کے نزدیک یہ حدیث تہدید و تشدید پر محمول ہے، اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ قضا کے لئے صرف اجتہاد یعنی غلبہ ظن کافی ہے، اس میں غلطی کا احتمال رہتا ہے، اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ مجتہد اگر خطا بھی کرے گا تو اسے ایک اجر ملے گا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قاضی کا مجتہد ہونا ضروری ہے، اور مقلد کا قاضی ہونا صحیح نہیں ہے کیونکہ کتاب و سنت کے علم کا اطلاق صرف مجتہد پر ہوتا ہے، اور مقلد تو کتاب و سنت اور دلیل سے بے خبر ہوتا ہے، صرف اپنے امام کا قول معلوم کر لیتا ہے، لہذا مجتہد کتاب و سنت کی روشنی میں اس بات کا فیصلہ کرے گا جو اللہ تعالی اس کو دکھائے ہیں، مقلد تو اپنے امام کی رائے کے مطابق فیصلہ کرے گا، اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [سورة المائدة: ۴۴] {وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [سورة المائدة: ۴۵] {وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [سورة المائدة:۴۷] اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرنا مجتہد کی شان ہے مقلد کی نہیں، اور معاذ رضی اللہ عنہ کی رائے سے متعلق مشہور حدیث جس کی صحت میں بعض علماء نے کلام کیا ہے، میں ان کا قول ہے کہ (میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا، اگر اس میں نہ ملے گا تو حدیث سے اور اگر اس میں نہ ملے گا تو پھر اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا) یہ بھی مجتہد کی شان ہے، مقلد تو نہ قرآن کو دیکھتا ہے نہ حدیث کو، صرف در مختار، کنز اور وقایہ پر عمل کرتا ہے، اور اس کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ یہ حکم کتاب و سنت میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4-بَاب لا يَحْكُمُ الْحَاكِمُ وَهُوَ غَضْبَانُ
۴- باب: غصہ کی حالت میں حاکم و قاضی فیصلہ نہ کرے​

2316- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ > قَالَ هِشَامٌ، فِي حَدِيثِهِ: لا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ، وَهُوَ غَضْبَانُ۔
* تخريج: خ/الأحکام ۱۳ (۷۱۵۸)، م/الأقضیۃ ۷ (۱۷۱۷)، د/الأقضیۃ ۹ (۳۵۸۹)، ت/الأحکام ۷ (۱۳۳۴)، ن/آداب القضاۃ ۱۷ (۵۴۰۸)، ۳۱ (۵۴۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۷۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۶، ۳۷، ۳۸، ۴۶، ۵۲) (صحیح)

۲۳۱۶- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے''۱؎۔
ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: ''حاکم کے لئے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے''۔

وضاحت۱؎: نبی کریم ﷺ نے جو غصہ کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ایک انصاری کے ساتھ کیا تو یہ آپ ﷺ کی خصوصیت تھی کیونکہ آپ حالت غضب اور رضا دونوں میں معصوم تھے، اور ظاہر یہ ہے کہ ممانعت تحریمی ہے، اس پر جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ حق ہو تو صحیح ہو گا، علامہ ابن القیم کہتے ہیں کہ مفتی سخت غصہ، یا زیادہ بھوک، یا زیادہ قلق، یا پریشان کن خوف و ڈر، یا نیند کا غلبہ، یا پاخانہ پیشاب کی حاجت میں فتوی نہ دے، اسی طرح جب دل اور طرف لگا ہوا ہو، بلکہ جب آدمی یہ محسوس کرے کہ مذکورہ امور کی وجہ سے وہ اعتدال کی حالت سے باہر چلا گیا ہے، اور اس کی تحقیق و جستجو کی قدرت متاثر ہو گئی ہے، تو اس کو فتویٰ سے رک جانا چاہئے، اس پر بھی اگر وہ ان حالتوں میں فتویٰ دیتا ہے تو اس کا فتویٰ صحیح ہے لیکن اگر ایسی حالت میں فیصلہ کرتا ہے، تو کیا اس کا فیصلہ نافذ ہو گا، یا نہیں نافذ ہوگا؟ اس بارے میں امام احمد کے مذہب میں تین اقوال ہیں: پہلا یہ کہ نافذ ہو گا، دوسرا یہ کہ نافذ نہیں ہو گا، تیسرا یہ کہ مسئلہ کو سمجھنے کے بعد اگر غصہ ہو تو اس میں نافذ ہو گا، اور اگر مسئلہ کے سمجھنے سے پہلے غصہ ہو تو نافذ نہیں ہو گا۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ: ۳/۲۳۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب قَضِيَّةِ الْحَاكِمِ لا تُحِلُّ حَرَامًا وَلا تُحَرِّمُ حَلالا
۵- باب: حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرتا​

2317- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي لَكُمْ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: خ/المظالم ۱۶ (۲۴۵۸)، الشہادات ۲۷ (۲۶۸۰)، الحیل ۱۰(۶۹۶۷)، الأحکام ۲۰ (۷۱۶۹)، ۲۹ (۷۱۸۱)، ۳۱ (۷۱۸۵)، م/الأقضیۃ ۳ (۱۷۱۳)، د/الأقضیۃ ۷ (۳۵۸۳)، ت/الأحکام ۱۱ (۱۳۳۹)، ن/آداب القضاۃ ۱۲(۵۴۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۶۱)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۱ (۱)، حم (۶/۳۰۷، ۳۲۰) (صحیح)

۲۳۱۷- ام المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ میرے پاس جھگڑے اور اختلافات لاتے ہو اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، اور میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں تو وہ اس کو نہ لے، اس لئے کہ میں اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاکم کا حکم حرام کو حلال نہیں کر سکتا، اور اس پر علماء امت کا اجماع ہے، امام نووی کہتے ہیں کہ اب یہ قول کہ حاکم کا حکم ظاہراً اور باطناً دونوں طرح نافذ ہو جاتا ہے، اس صحیح حدیث اور اجماع دونوں کے خلاف ہے، ہاں اگر اسے تسلیم کر لیا جائے کہ حاکم کا فیصلہ ظاہری و باطنی دونوں طرح نافذ ہو جاتا ہے تو اب اس زمانہ میں جب جھوٹ کا رواج ہو گیا ہے ہر شخص دوسرے کا مال اور عزت و وقار عدالت سے جھوٹا فیصلہ کر کے حلال کر لے گا، اور بے فکری کے ساتھ مزے اڑائے گا، آخرت کا بھی خطرہ نہ ہو گا، واضح رہے کہ جب نبی کریم ﷺ کے فیصلہ سے کوئی چیز جائز نہ ہوئی تو کسی حاکم یا قاضی کی کیا حقیقت ہے۔

2318- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۳۲، ۶/۳۰۷) (حسن صحیح)

۲۳۱۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، تو جس کے لئے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی ٹکڑا کاٹوں تو گویا میں اس کے لئے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں''۔
 
Top