- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
3-بَاب الْعُمْرَى
۳- باب: عمریٰ ۱؎ (عمر بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دینے ) کا بیان
وضاحت۱؎: کسی کو عمر بھر کے لئے کوئی چیز ہبہ کرنے کو عمر ی کہتے ہیں، مثلا یوں کہے: میں نے تمہیں تمہاری عمر بھر کے لئے یہ گھر دے دیا، یا اپنی عمر بھر کے لئے دے دیا، زمانہ جاہلت میں یہ شکل رائج تھی۔۳- باب: عمریٰ ۱؎ (عمر بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دینے ) کا بیان
ّ 2379- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لاعُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۰۷)، وقد أخرجہ: ن/الرقبي ۴ (۳۵۵۵) (حسن صحیح)
۲۳۷۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہو جائے گی'' ۔
وضاحت ۱؎: صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمری والوں کے لئے، عمری میراث ہو گی ایک روایت میں ہے کہ عمری جائز ہے۔
2380- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: مَنْ أَعْمَرَ رَجُلا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ فِيهَا، فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ >۔
* تخريج: خ/الھبۃ ۳۲ (۲۶۲۵)، م/الھبات ۴ (۱۶۲۵)، د/البیوع ۸۷ (۳۵۵۰، ۳۵۵۲)، ت/الأحکام ۱۵ (۱۳۵۰)، ن/االعمريٰ (۳۷۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۴۸)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۳۷ (۴۳)، حم (۳/۳۰۲، ۳۰۴، ۳۶۰، ۳۹۳، ۳۹۹) (صحیح)
۲۳۸۰- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جس نے کسی کو بطور عمریٰ کوئی چیز دی، تووہ جس کو دیا ہے اس کی اور اس کے بعد اس کے اولاد کی ہو جائے گی، اس نے عمریٰ کہہ کر اپنا حق ختم کر لیا، اب وہ چیز جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہو گئی''۔
وضاحت۱؎: عمریٰ کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہو گا۔
2381- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ جَعَلَ الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ۔
* تخريج: د/البیوع ۸۹ (۳۵۵۹)، ن/الرقبي (۳۷۴۶)، (تحفۃ الأشراف:۳۷۰۰) (صحیح الإسناد)
۲۳۸۱- زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمریٰ وارث کو دلا دیا۔
وضاحت۱؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عمری دینے سے وہ چیز ہمیشہ کے لئے دینے والے کی ملکیت سے نکل جائے گی اور اس کی ہو جائے گی جس کو عمری دیا گیا، اس کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی، اہل حدیث اور جمہور علماء کا یہی قول ہے۔