• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب الْوَدِيعَةِ
۶- باب: امانت کا بیان​

2401- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ أُودِعَ وَدِيعَةً فَلا ضَمَانَ عَلَيْهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۸۷۸۰، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۲) (حسن)
(سند میں ایوب بن سوید اور مثنی بن صباح ضعیف ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، الصحیحہ: ۲۳۱۵، الإرواء: ۱۵۴۷، والتعلیق علی الروضہ الندیہ)۔
۲۴۰۱- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اگر وہ بغیر اس کی کسی کوتاہی یا خیانت کے برباد ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب الأَمِينِ يَتَّجِرُ فِيهِ فَيَرْبَحُ
۷- باب: امانت کے مال سے تجارت کرنے والا نفع کمائے تو اس کے حکم کا بیان​

2402- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي لَهُ شَاةً، فَاشْتَرَى لَهُ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْبَرَكَةِ، قَالَ: فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ.
* تخريج: خ/المناقب ۲۸ (۳۶۴۰، ۳۶۴۱، ۳۶۴۲)، د/البیوع ۲۸ (۳۳۸۴، ۳۳۸۵)، ت/البیوع ۳۴ (۱۲۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۷۵، ۳۷۶) (صحیح)

۲۴۰۲ - عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک بکری خریدنے کے لئے ایک دینار دیا تو اس سے انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ دیا، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے لئے برکت کی دعا فرمائی، راوی کہتے ہیں: (اس دعاء کی برکت سے) ان (عروۃ) کا حال یہ ہو گیا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں نفع کماتے۔

2402/أ- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ لُمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ قَالَ: قَدِمَ جَلَبٌ، فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ ﷺ دِينَارًا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ۔
* تخريج: انظر ماقبلہ (حسن)
(ملاحظہ ہو: الإ رواء: ۵/۱۲۹)
۲۴۰۲/أ- عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ باہر سے بکنے کے لئے جانور آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے (ایک جانور خریدنے کے لئے) مجھے ایک دینار دیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب الْحَوَالَةِ
۸- باب: حوالہ (یعنی قرض کو دوسرے کے ذمہ کر دینے) کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: دوسرے پر قرض اتارنے کو حوالہ کہتے ہیں، مثلاً زید کا عمرو پر قرض تھا، عمرو نے اس کو بکر کے پاس منتقل کر دیا، اور بکر نے اسے قبول کر لیا، اب اگر بکر اس کے قرض دینے میں ٹال مٹول اور حیلہ کرے یا مفلس ہو جائے تو زید کو پھر عمرو سے مطالبہ کا حق حاصل ہو گا۔

2403- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيئٍ فَلْيَتْبَعْ >۔
* تخريج: ن/البیوع ۹۹ (۴۶۹۵)، ۱۰۱ (۴۷۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۹۳)، وقد أخرجہ: خ/الحوالہ ۱ (۲۲۸۸)، ۲ (۲۲۸۹)، الإستقراض ۱۲ (۲۴۰۰)، م/المساقاۃ ۷ (۱۵۶۴)، د/البیوع ۱۰ (۳۳۴۵)، ت/البیوع ۶۸ (۱۳۰۸)، ط/البیوع ۴۰ (۸۴)، حم (۲/۲۴۵، ۲۵۴،۲۶۰، ۳۱۵، ۳۷۷، ۳۸۰، ۴۶۳، ۴۶۴، ۴۶۵)، دي/البیوع ۴۸ (۲۶۲۸) (صحیح)

۲۴۰۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مال دار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے،۱؎ تو اس کی حوالگی قبول کرے''۔
وضاحت۱؎: یعنی اس کے حوالہ کیا جائے۔

2404- حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيئٍ فَاتْبَعْهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۳۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۷۱) (صحیح)
(سند میں یونس بن عبید اور نافع کے ما بین انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے یہ صحیح ہے)
۲۴۰۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مال دار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تمہیں کسی مالدارکے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اگر آدمی مفلس ہو اور پیسہ پاس نہ ہو تو قرض ادا کرنے میں مجبوری ہے، لیکن پیسہ ہوتے ہوئے لوگوں کا قرض نہ دینا اس میں دیر لگانا گناہ ہے اور قرض خواہ پر ظلم ہے گویا اس کا حق مارنا گناہ ہے، اور اپنے نفس پر بھی ظلم ہے اس واسطے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، شاید مر جائے اور قرض خواہ کا قرض رہ جائے، اس لئے جب پیسہ ہو تو فوراً قرض ادا کر دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9-بَاب الْكَفَالَةِ
۹- باب: ضمانت کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: جو شخص کسی کے مال کا ضامن ہو زندہ کا یا مردہ کا تو اس کی طلب کے وقت مال ادا کرنا چاہئے، اور جس کا ضامن ہے اس سے وصول کرلے، اگر اس کے حکم سے ضامن ہوا تھا۔ اسی طرح جو حاضری کا ضامن ہو اس کو حاضر کرنا چاہئے اس شخص کو جس کا ضامن ہوا ہے، نہیں تو اس کے ذمہ کا مال دینا ہو گا۔

2405- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالا: حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الزَّعِيمُ غَارِمٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ >۔
* تخريج: د/البیوع ۹۰ (۳۵۶۵)، ت/البیوع ۳۹ (۱۲۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۸۴) (صحیح)

۲۴۰۵- ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: (قرض کا) ضامن و کفیل (اس کی ادائیگی کا) ذمہ دار ہے، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے''۔

2406- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارَوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي شَيْئٌ أُعْطِيكَهُ، فَقَالَ: لا وَاللَّهِ! لا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ، فَجَرَّهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: <كَمْ تَسْتَنْظِرُهُ؟ > فَقَالَ: شَهْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < فَأَنَا أَحْمِلُ لَهُ > فَجَاءَهُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ ﷺ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: < مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا؟ > قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ، قَالَ: < لا خَيْرَ فِيهَا > وَقَضَاهَا عَنْهُ۔
* تخريج: د/البیوع ۲ (۳۳۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۷۸) (صحیح)

۲۴۰۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک شخص ایک قرض دار کے پیچھے لگا رہا جس پر اس کا دس دینار قرض تھا، وہ کہہ رہا تھا: میرے پاس کچھ نہیں جو میں تجھے دوں، اور قرض خواہ کہہ رہا تھا: جب تک تم میرا قرض نہیں ادا کرو گے یا کوئی ضامن نہیں لاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا، چنانچہ وہ اسے کھینچ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا، آپ ﷺ نے قرض خواہ سے پوچھا: ''تم اس کو کتنی مہلت دے سکتے ہو''؟ اس نے کہا: ایک مہینہ کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو میں اس کا ضامن ہوتا ہوں''، پھر قرض دار نبی اکرم ﷺ کے دیئے ہوئے مقررہ وقت پر اپنا قرضہ لے کر آیا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ''تجھے یہ کہاں سے ملا''؟ اس نے عرض کیا: ایک کان سے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس میں بہتری نہیں ''، اور آپ ﷺ نے اسے اپنی جانب سے ادا کر دیا۔
وضاحت۱؎: کیونکہ احتمال ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کا ہو۔

2407- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: < صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا >، فَقَالَ أَبُوقَتَادَةَ: أَنَا أَتَكَفَّلُ بِهِ، قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < بِالْوَفَاءِ؟ > قَالَ: بِالْوَفَاءِ، وَكَانَ الَّذِي عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا ۔
* تخريج: ت/الجنائز ۶۹ (۱۰۶۹)، ن/الجنائز ۶۷ (۱۹۶۲)، البیوع ۱۰۰(۴۶۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۰۲، ۳۱۱)، دي/البیوع ۵۳ (۲۶۳۵) (صحیح)

۲۴۰۷- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، تاکہ آپ اس کی صلاۃِ جنازہ پڑھ لیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اپنے ساتھی کی صلاۃِ جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا) اس لئے کہ وہ قرض دار ہے''، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کے قرض کی ضمانت لیتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''پورا ادا کرنا ہو گا''، انہوں نے کہا: جی ہاں، پورا ادا کروں گا، اس پر اٹھارہ یا انیس درہم قرض تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: معلوم ہوا کہ قرض بری بلا ہے، نبی کریم ﷺ نے اس کی وجہ سے صلاۃ جنازہ پڑھنے میں تامل کیا، بعضوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے تنبیہ کے لئے ایسا کیا تاکہ دوسرے لوگ قرض کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھیں، قرض وہ بلا ہے کہ شہید کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں پر قرض معاف نہیں ہوتا، وہ حقوق العباد ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام کو جائز ہے کہ بعض مردوں پر جن سے گناہ سرزد ہوا ہو صلاۃ جنازہ نہ پڑھے، دوسرے لوگوں کو ڈرانے کے لئے، لیکن دوسرے لوگ صلاۃ جنازہ پڑھ لیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کہ میت کی طرف سے ضمانت درست ہے اگرچہ اس نے قرض کے موافق مال نہ چھوڑا ہو، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور امام ابو حنیفہ کہتے ہیں: اگر قرض کے موافق اس نے مال نہ چھوڑا ہو تو ضمانت درست نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب مَنِ ادَّانَ دَيْنًا وَهُوَ يَنْوِي قَضَائَهُ
۱۰- باب: قرض اس نیت سے لینا کہ اسے واپس بھی کرنا ہے اس کے فضل کا بیان۱؎​

وضاحت۱؎: باب کی حدیث میں قرض لینے کی فضیلت مذکور ہے، اور مراد اس قرض سے وہ ہے جو اپنے یا اپنے بچوں یا رشتہ داروں کے ضروری اخراجات کے لئے لیا جائے، یا اللہ کی راہ میں فقراء و مساکین، طالب علموں اور مسافروں کو کھلانے کے لئے ہو، جو شخص ایسی باتوں میں مقروض ہو جاتا ہے اور اس کی نیت ادا کرنے کی ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس کی مدد ضرور کرتا ہے اور اس کا قرض ادا کرا دیتا ہے، اور بغیر ضرورت کے قرض لینا کسی طرح جائز نہیں، اور ہمیشہ اللہ والے اور نیک لوگ قرض سے ڈرتے رہے اور اس سے پناہ مانگتے رہے، اور سب سے برا قرض وہ ہے جو ہمارے زمانے میں لوگ لیتے ہیں جس میں سود دیتے ہیں اور حرام میں مبتلا ہوتے ہیں، سودی قرض کسی حال میں درست نہیں اگرچہ کیسی ہی شدید ضرورت ہو، اور نہ سودی قرض لے کر کار خیر میں صرف کرنا کچھ اجر دے گا بلکہ اور عذاب ہونے کا ڈر ہے، اسی طرح وہ قرض جو شادی بیاہ، مہندی، بارات، بسم اللہ خوانی وغیرہ کے لئے لیا جاتا ہے، یا سوم، چہلم، دہم، سالانہ کی غیر شرعی رسموں کے لیے، اول تو یہ سب چیزیں بدعت اور منع ہیں، دوسرے قرض کا گناہ اور مواخذہ، تیسرے سود کا عذاب، مسلمان کو قرض لینے کی ضرورت نہیں مگر اسی حال میں جب وہ یا اس کے بال بچے بھوک سے پریشانی میں ہوں، اس وقت بھی ضرورت کے مطابق قرض لے، اللہ اس کو ادا کرا دے گا۔ إن شاء اللہ۔

2408- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ ( هُوَ عِمْرَانُ ) عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ قَالَ: كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا: لا تَفْعَلِي، وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا قَالَتْ: بَلَى، إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي ﷺ يَقُولُ: < مَامِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا، يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَائَهُ، إِلا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا >۔
* تخريج: ن/البیوع ۹۷ (۴۶۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۷۷) (صحیح)
(حدیث میں "فِي الدُّنْيَا" کا لفظ ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ۴۹۶)۔
۲۴۰۸- ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا ''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اس کی ادائیگی کا راستہ پیدا کر ے گا۔

2409- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < كَانَ اللَّهُ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ> قَالَ: فَكَانَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَقُولُ لِخَازِنِهِ: اذْهَبْ فَخُذْ لِي بِدَيْنٍ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَبِيتَ لَيْلَةً إِلا وَاللَّهُ مَعِي بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۲۸، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۴)، وقد أخرجہ: دي/البیوع ۵۵ (۲۶۳۷) (صحیح)

۲۴۰۹- عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، جب کہ وہ قرض ایسی چیز کے لئے نہ ہو جس کو اللہ نا پسند کرتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما اپنے خازن سے کہتے کہ جاؤ میرے لئے قرض لے کر آؤ، اس لئے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کوئی رات گزاروں اور اللہ تعالی میرے ساتھ نہ ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب مَنِ ادَّانَ دَيْنًا لَمْ يَنْوِ قَضَائَهُ
۱۱- باب: جس شخص نے قرض اس نیت سے لیا کہ اسے واپس نہیں لوٹانا ہے اس کی شناعت کا بیان​

2410- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُالْحَمِيدِ بْنُ زِيَادِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا صُهَيْبُ الْخَيْرِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قالَ: < أَيُّمَا رَجُلٍ يَدِينُ دَيْنًا، وَهُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لا يُوَفِّيَهُ إِيَّاهُ، لَقِيَ اللَّهَ سَارِقًا >.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۶۲، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۵) (حسن صحیح)

۲۴۱۰- صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا''۔

2410/أ- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِبْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۴۹۶۰، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۶)
۲۴۱۰/ أ- اس سند سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔

2411- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلافَهَا، أَتْلَفَهُ اللَّهُ >۔
* تخريج: خ/الاستقراض وأداء الدیون ۲ (۲۳۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۶۱، ۴۱۷) (صحیح)

۲۴۱۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ
۱۲- باب: قرض کی شناعت اور اس پر وعید کا بیان​

2412- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ، وَهُوَ بَرِيئٌ مِنْ ثَلاثٍ، دَخَلَ الْجَنَّةَ: مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْن >۔
* تخريج: ت/السیر ۲۱ (۱۵۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۶، ۲۸۱، ۲۸۲)، دي/البیوع ۵۲ (۲۶۳۴) (صحیح)

۲۴۱۲- ثو بان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور (گھمنڈ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا''۔

2413- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ >۔
* تخريج: ت/الجنائز ۷۷ (۱۰۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۴۰، ۴۷۵)، دي/البیوع ۵۲ (۲۶۳۳) (صحیح)

۲۴۱۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ''آدمی کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادائیگی کر دی جائے''۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ اس کو آرام اس وقت تک نہ ملے گا، یا وہ جنت میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ جب تک کہ وہ قرض ادا نہ ہو جائے۔

2414- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَائٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ، لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلا دِرْهَمٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۸۲) (صحیح)
(یہ سند حسن ہے لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
۲۴۱۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو مر جائے اور اس کے ذمہ کسی کا کوئی دینار یا درہم ہو تو (قیامت میں) جہاں دینار اور درہم نہیں ہو گا، اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ
۱۳- باب: جو قرض یا بے سہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں​

2415- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقُولُ، إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ: <هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟ > فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لا. قَالَ: < صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ>، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ ﷺ الْفُتُوحَ قَالَ: <أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالا، فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ >۔
* تخريج: م/الفرائض ۴ (۱۶۱۹)، ن/الجنائز ۶۷ (۱۹۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۱۵)، وقد أخرجہ: خ/الکفالۃ ۵ (۲۲۹۸)، النفقات ۱۵ (۵۳۷۱)، ت/الجنائز ۶۹ (۱۰۷۰)، حم(۲/۲۹۰، ۴۵۳)، دي/البیوع ۵۴ (۲۶۳۶) (صحیح)

۲۴۱۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن رسول اللہ ﷺ کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ ﷺ پوچھتے: ''کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے اس نے کچھ چھوڑا ہے''؟ تو اگر لوگ کہتے: ہاں، تو آپ ﷺ اس کی صلاۃ جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ ﷺ فرماتے: ''تم لوگ اپنے ساتھی کی صلاۃ جنازہ پڑھ لو''، پھر جب اللہ تعالی نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں، تو جو کوئی وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اسلام کے ابتدائی عہد میں جب مال و دولت کی کمی تھی تو جب کوئی مقروض مرتا نبی کریم ﷺ اس کی صلاۃ جنازہ نہ پڑھتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرماتے وہ پڑھ لیتے، پھر جب اللہ تعالی نے فتوحات دیں، اور مال غنیمت ہاتھ آیا تو آپ نے حکم دیا کہ اب جو کوئی مسلمان مقروض مرے اس کا قرضہ میں ادا کروں گا، اسی طرح بے سہارا بال بچے چھوڑ جائے تو ان کی پرورش کا ذمہ بھی میرے سر ہے۔

2416- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ: وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ >۔
* تخريج: د/الخراج ۱۵ (۲۹۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۹۶، ۳۷۱)، وھوطرف حدیث تقدم برقم: ۴۵) (صحیح)

۲۴۱۶- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14-بَاب إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ
۱۴- باب: محتاج قرض دار کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دینے کا بیان​

2417- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۴۴)، وقد أخرجہ: ت/البیوع ۶۷ (۱۳۰۶) (صحیح)

۲۴۱۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، تو اللہ تعالی اس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا''۔

2418- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ نُفَيْعٍ أَبِي دَاوُدَ عَنْ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، وَمَنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ حِلِّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُهُ، فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۱۲، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۱،۳۶۰) (صحیح)
(سند میں ابو داود نفیع بن الحارث ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق و شواہد سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۸۶)۔
۲۴۱۸- بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا''۔

2419- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ لَهُ >۔
* تخريج: م/الزہد ۱۸ (۳۰۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۷)، دي/البیوع ۵۰ (۲۶۳۰) (صحیح)

۲۴۱۹- صحابی رسول ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی یہ چاہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے (عرش کے) سائے میں رکھے، تو وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا اس کا قرض معاف کر دے''۔

2420- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَجُلا مَاتَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا عَمِلْتَ؟ (فَإِمَّا ذَكَرَ أَوْ ذُكِّرَ) قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ وَالنَّقْدِ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ >.
قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: أَنَا قَدْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: خ/البیوع ۱۷ (۲۰۷۷)، الاستقراض ۵ (۲۳۹۱)، الأنبیاء ۵۴ (۳۴۵۱)، الرقاق ۲۵ (۶۴۸۰)، م/المساقاۃ ۶ (۱۵۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۱۰)، وقد أخرجہ: ن/الجنائز ۱۱۷ (۲۰۸۲)، ت/البیوع ۶۷ (۱۳۰۷)، حم (۵/۳۹۵، ۳۹۹)، دي/البیوع ۱۴ (۲۵۸۸) (صحیح)

۲۴۲۰- حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مر گیا تو اس سے پوچھا گیا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ تو اس کو یا تو یاد آیا یا یاد لایا گیا، اس نے کہا: میں سکہ اور نقد کو کھوٹ کے باوجود لے لیتا تھا۱؎ اور تنگ دست کو مہلت دیا کرتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔
ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

وضاحت۱؎: یعنی کوئی کھوٹا سکہ یا نقدی دیتا تو بھی میں اسے قبول کر لیتا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب حُسْنِ الْمُطَالَبَةِ وَأَخْذِ الْحَقِّ فِي عَفَافٍ
۱۵- باب: حق کا مطالبہ نرمی سے کرنے اور حق کو اچھے ڈھنگ سے وصول کرنے کا بیان​

2421- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ طَالَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ وَافٍ، أَوْ غَيْرِ وَافٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۹۴، ۱۷۶۷۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۹) (صحیح)

۲۴۲۱- ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کسی حق کا مطالبہ کرے تو شریفانہ طور پر کرے، خواہ وہ حق پورا پا سکے یا نہ پا سکے''۔

2422- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَامِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِصَاحِبِ الْحَقِّ: خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۰) (حسن صحیح)

۲۴۲۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحب حق سے فرمایا: ''شریفانہ انداز سے اپنا حق لو خواہ پورا ملے یا نہ ملے''۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث میں عفاف کا لفظ آیا ہے، مطلب یہ ہے کہ صاحبِ حق اچھے ڈھنگ اور شریفانہ طور طریقے سے قرض کا مطالبہ کرے، نرمی اور شفقت کا لحاظ رکھے، خلاف شرع سختی نہ کرے، اور گالی گلوچ نہ بکے یا وہی مال لے جو حلال ہے، حرام مال سے اپنا قرض پورا نہ کرے۔
 
Top