8- بَاب الْحَوَالَةِ
۸- باب: حوالہ (یعنی قرض کو دوسرے کے ذمہ کر دینے) کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: دوسرے پر قرض اتارنے کو حوالہ کہتے ہیں، مثلاً زید کا عمرو پر قرض تھا، عمرو نے اس کو بکر کے پاس منتقل کر دیا، اور بکر نے اسے قبول کر لیا، اب اگر بکر اس کے قرض دینے میں ٹال مٹول اور حیلہ کرے یا مفلس ہو جائے تو زید کو پھر عمرو سے مطالبہ کا حق حاصل ہو گا۔
2403- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيئٍ فَلْيَتْبَعْ >۔
* تخريج: ن/البیوع ۹۹ (۴۶۹۵)، ۱۰۱ (۴۷۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۹۳)، وقد أخرجہ: خ/الحوالہ ۱ (۲۲۸۸)، ۲ (۲۲۸۹)، الإستقراض ۱۲ (۲۴۰۰)، م/المساقاۃ ۷ (۱۵۶۴)، د/البیوع ۱۰ (۳۳۴۵)، ت/البیوع ۶۸ (۱۳۰۸)، ط/البیوع ۴۰ (۸۴)، حم (۲/۲۴۵، ۲۵۴،۲۶۰، ۳۱۵، ۳۷۷، ۳۸۰، ۴۶۳، ۴۶۴، ۴۶۵)، دي/البیوع ۴۸ (۲۶۲۸) (صحیح)
۲۴۰۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مال دار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے،۱؎ تو اس کی حوالگی قبول کرے''۔
وضاحت۱؎: یعنی اس کے حوالہ کیا جائے۔
2404- حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيئٍ فَاتْبَعْهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۳۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۷۱) (صحیح) (سند میں یونس بن عبید اور نافع کے ما بین انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے یہ صحیح ہے)
۲۴۰۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مال دار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تمہیں کسی مالدارکے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اگر آدمی مفلس ہو اور پیسہ پاس نہ ہو تو قرض ادا کرنے میں مجبوری ہے، لیکن پیسہ ہوتے ہوئے لوگوں کا قرض نہ دینا اس میں دیر لگانا گناہ ہے اور قرض خواہ پر ظلم ہے گویا اس کا حق مارنا گناہ ہے، اور اپنے نفس پر بھی ظلم ہے اس واسطے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، شاید مر جائے اور قرض خواہ کا قرض رہ جائے، اس لئے جب پیسہ ہو تو فوراً قرض ادا کر دے۔