- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
4- بَاب مَنْ لا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ
۴- باب: جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان
۴- باب: جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان
2541- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ: عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ، فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ، فَخُلِّيَ سَبِيلِي ۔
* تخريج: د/الحدود ۱۷ (۴۴۰۴)، ت/السیر ۲۹ (۱۵۸۴)، ن/الطلاق ۲۰ (۳۴۶۰)، القطع ۱۴ (۴۹۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۱۰، ۳۸۳، ۵/۳۱۲، ۳۸۳) (صحیح)
۲۵۴۱- عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوۂ قریظہ کے دن (جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کر دیئے گئے) رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اُگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا، اور جس کے نہیں اُگے تھے اسے (نابالغ سمجھ کر) چھوڑ دیا گیا، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اُگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ۱؎۔
وضاحت۱؎: عطیہ رضی اللہ عنہ کا تعلق یہود بنی قریظہ سے تھا، غزوئہ احزاب کے فوراً بعد اس قبیلے کی غداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد اس پر چڑھائی کا واقعہ پیش آیا، اس غزوہ میں عطیہ رضی اللہ عنہ دیگر نابالغ بچوں کے ساتھ قتل ہونے سے بچ گئے، اور بعد میں اسلام قبول کیا، ان کا اسلام اور ان کی اسلامی خدمات بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔
2542- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ: فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (صحیح)
۲۵۴۲- عبد الملک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی کہتے سنا: تو اب میں تمہارے درمیان ہوں۔
2543- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي.
قَالَ نَافِعٌ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِيزِ فِي خِلافَتِهِ فَقَالَ: هَذَا فَصْلُ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ۔
* تخريج: حدیث أبي أسامۃ أخرجہ: خ/الشہادات ۱۸ (۲۶۶۴)، المغازي ۲۹ (۴۰۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۳۳)، وقد أخرجہ: وحدیث عبد اللہ بن نمیر م/الإمارہ ۲۳ (۱۸۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۵۵)، حم (۲/۱۷)، وحدیث أبي معاویہ تفردبہ ابن ماجہ، تحفۃ الأشراف: ۸۱۱۵)، د/الخراج ۱۶ (۲۹۵۷)، الحدود ۱۷ (۴۴۰۶)، ت/الأحکام ۲۴ (۱۳۱۶)، الجہاد ۳۱ (۱۷۱۱)، ن/الطلا ق۲۰ (۳۴۳۱)، حم (۲/۱۷) (صحیح)
۲۵۴۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی، آپ ﷺ نے مجھے (غزوہ میں شریک ہونے کی) اجازت نہیں دی، لیکن جب مجھے آپ کے سامنے غزوۂ خندق کے دن پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی ، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔
نافع کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے عمر بن عبد العزیز سے ان کے عہد خلافت میں بیان کی تو انہوں نے کہا: یہی نابالغ اور بالغ کی حد ہے۔
وضاحت۱؎: بلوغ کی کئی نشانیاں ہیں: زیر ناف بال اگنا، ڈاڑھی مونچھ کے بال اگنا، احتلام ہونا، پندرہ برس کی عمرکا ہونا۔