- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
27- بَاب اسْتِلامِ الْحَجَرِ
۲۷- باب: حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان
۲۷- باب: حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان
2943- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ؛ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ؛ قَالَ: رَأَيْتُ الأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ: إِنِّي لأُقَبِّلُكَ، وَإِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لا تَضُرُّ وَلا تَنْفَعُ، وَلَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُقَبِّلُكَ، مَا قَبَّلْتُكَ۔
* تخريج: م/الحج ۴۱ (۱۲۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۸۶)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۵۰ (۱۵۹۷)، ۵۷ (۱۶۰۵)، ۶۰ (۱۶۱۰)، د/الحج ۴۷ (۱۸۷۳)، ت/الحج ۳۷ (۸۶۰)، ن/الحج ۱۴۷ (۲۹۴۰)، ط/الحج ۳۶(۱۱۵)، حم (۱/۲۱، ۲۶، ۳۴، ۳۵، ۳۹، ۴۶، ۵۱، ۵۳، ۵۴)، دي/المناسک ۴۲ (۱۹۰۶) (صحیح)
۲۹۴۳- عبد اللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے اصیلع۱؎ یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو چوم رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: میں تجھے چوم رہا ہوں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ فائدہ، اور میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۲؎۔
وضاحت۱؎: اصیلع: اصلع کی تصغیر ہے جس کے سر کے اگلے حصے کے بال جھڑ گئے ہوں اس کو اصلع کہتے ہیں۔
وضاحت۲؎: کیونکہ پتھر کا چومنا اسلامی شریعت میں جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں کفار کی مشابہت ہے، کیونکہ وہ بتوں تصویروں اور پتھروں کو چومتے ہیں، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے سبب سے حجر اسود کا چومنا خاص کیا گیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تم کو نہ چومتا، تو پھر دوسری قبروں اور مزاروں کا چومنا کیوں کر جائز ہو گا، عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اس لیے فرمایا کہ جاہلیت اور شرک کا زمانہ قریب گزرا تھا، ایسا نہ ہو کہ بعض کچے مسلمان حجر اسود کے چومنے سے دھو کہ کھائیں، اور حجر اسود کو یہ سمجھیں کہ اس میں کچھ قدرت یا اختیار ہے جیسے مشرک بتوں کے بارے میں خیال کرتے تھے، آپ نے بیان کر دیا کہ حجر اسود ایک پتھر ہے اس میں کچھ اختیار اور قدرت نہیں اور اس کا چومنا محض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدار اور پیروی کے لئے ہے، دوسری روایت میں ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں یہ پتھر نقصان اور نفع پہنچائے گا، کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے سنا کہ قیامت کے دن یہ پتھر آئے گا، اس کی دو زبانیں ہوں گی، اور وہ اپنے ہر ایک چومنے والے کے لیے گواہی دے گا، مگر علی رضی اللہ عنہ کی اس بات سے عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی تردید نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے پتھر کی موجودہ حالت کی نسبت گفتگو کی یعنی دنیا میں وہ ایک پتھر ہے، اور پتھروں کی طرح اس میں نہ احساس ہے نہ عقل اور یہ صحیح ہے، اور آخرت میں اللہ کے حکم سے جب اس کی دو زبانیں ہوں گی، تو اس وقت وہ پتھر نہ رہے گا، بہرحال علی رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد اہل توحید اور متبعین سنت کی بڑی دلیل ہے، اور اس میں ان اہل بدعت کا رد و ابطال ہے جو قبروں، جھنڈوں، شدوں، مزاروں کو بوسہ لیتے ہیں، یہ فعل بیشک بدعت ہے، اس لیے کہ نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا منقول ہے نہ صحابہ سے اور نہ سلف صالحین سے کہ انہوں نے کبھی کسی قبر کا بوسہ لیا ہو، اللہ تعالی مسلمانوں کو ان بدعات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
2944- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِيمِ الرَّازِيُّ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ "۔
* تخريج: ت/الحج ۱۱۳ (۹۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۷، ۲۶۶، ۲۹۱، ۳۰۷، ۳۷۱)، دي/المناسک ۲۶ (۱۸۸۱) (صحیح)
۲۹۴۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہو گا، ایک زبان ہو گی جس سے وہ بول رہا ہو گا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہو گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی ایمان کے ساتھ ،اس سے وہ مشرک نکل گئے جنہوں نے شرک کی حالت میں حجر اسود کو چوما ان کے لیے اس کا چومنا کچھ مفید نہ ہو گا اس لیے کہ کفر کے ساتھ کوئی بھی عبادت نفع بخش اورمفید نہیں ہوتی۔
2945- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْحَجَرَ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلا، ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَبْكِي، فَقَالَ: " يَا عُمَرُ! هَاهُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۴۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۳۶) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن عون خراسانی ضعیف الحدیث و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۱۱۱)
۲۹۴۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کی طرف رخ کیا، پھر اپنے دونوں ہونٹ اس پر رکھ دئیے، اور دیر تک روتے رہے، پھر ایک طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی رو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عمر! اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں''۔
2946- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلا الرُّكْنَ الأَسْوَدَ، وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِالْجُمَحِيِّينَ۔
* تخريج: م/الحج ۴۰ (۱۲۶۸)، ن/الحج ۱۵۷ (۲۹۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۸۸)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۵۹ (۱۶۱۱)، د/الحج ۴۸ (۱۸۷۴)، حم (۲/۸۶، ۱۱۴، ۱۱۵)، دي/المناسک ۲۵ (۱۸۸۰) (صحیح)
۲۹۴۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بجز حجر اسود اور اس کے جو اس سے قریب ہے یعنی رکن یمانی جو بنی جمح کے محلے کی طرف ہے بیت اللہ کے کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: طواف کرنے والے کو اختیار ہے کہ تین باتوں میں سے جو ممکن ہو سکے کرے ہر ایک کافی ہے، حجر اسود کا چومنا، یا اس پر ہاتھ رکھ کر ہاتھ کو چومنا، یا لکڑی اور چھڑی سے اس کی طرف اشارہ کرنا، اور اگر بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے چومنا یا چھونا مشکل ہو تو صرف ہاتھ سے اشارہ کرنا ہی کافی ہے، اور ہر صورت میں لوگوں کو ایذاء دینا اور دھکیلنا منع ہے جیسے کہ اس زمانے میں قوی اور طاقت ور لوگ کرتے ہیں، یا عورتوں کے درمیان گھسنا۔