• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
47- بَاب الْعُمْرَةِ فِي رَجَبٍ
۴۷- باب: ماہ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان​

2998- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ،عَنْ حَبِيبٍ ( يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ )، عَنْ عُرْوَةَ؛ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ: فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ عَاءِشَةُ: مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي رَجَبٍ قَطُّ وَمَا اعْتَمَرَ إِلا وَهُوَ مَعَهُ ( تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ )۔
* تخريج: حدیث ابن عمر أخرجہ: م/الحج ۳۵ (۱۲۵۵)، ت/الحج ۹۳ (۹۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۲۱)، حدیث عائشہ أخرجہ: ت/ الحج ۹۳ (۹۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۷۳)، وقد أخرجہ: خ/العمرۃ ۳ (۱۷۷۷)، د/الحج ۸۰ (۱۹۹۴)، حم (۱/۲۴۶) (صحیح)

۲۹۹۸- عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینہ میں عمرہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر ام المومنین عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔
وضاحت۱؎: یعنی وہ بھول گئے ہیں اور غلطی سے رجب کہہ دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
48- بَاب الْعُمْرَةِ مِنَ التَّنْعِيمِ
۴۸- باب: تنعیم سے عمرہ کا بیان​

2999- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ؛ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو ابْنُ أَوْسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَاءِشَةَ، فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ۔
* تخريج: خ/العمرۃ ۶ (۱۷۸۴)، الجہاد ۱۲۵ (۲۹۸۵)، م/الحج ۱۷ (۱۲۱۲)، ت/الحج ۹۱ (۹۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۸۷)، وقد أخرجہ: د/الحج ۸۱ (۱۹۹۵)، حم (۱/۱۹۷)، دي/المناسک ۴۱ (۱۹۰۴) (صحیح)

۲۹۹۹- عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سوار کر کے لے جائیں، اور انہیں تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرائیں ۲ ؎۔
وضاحت۱؎: تنعیم: مسجد حرام سے تین میل (۵ کلومیٹر) کے فاصلہ پر ایک مقام ہے، جہاں پر اس وقت مسجد عائشہ کے نام سے مسجد تعمیر ہے۔
وضاحت۲؎: محرم سے مراد شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی چچا، ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار، عمرے کا احرام حرم سے نکل کر باندھنا چاہئے، یہ مقام بہ نسبت اور مقاموں کے قریب ہے، اس لئے آپ نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔

3000- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاءِشَةَ؛ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، نُوَافِي هِلالَ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهْلِلْ، فَلَوْلا أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ "، قَالَتْ: فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: " دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ "، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا، أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلا صَدَقَةٌ وَلا صَوْمٌ۔
* تخريج: خ/العمرۃ ۵ (۱۷۸۳)، م/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۴۸) (صحیح)

۳۰۰۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا''، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آگیا، اور میں حیض سے تھی، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اپنا عمرہ چھوڑ دو، اور اپنا سر کھول لو، اور بالوں میں کنگھا کر لو، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو''، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب محصب کی رات (بارہویں ذی الحجہ کی رات) ہوئی اور اللہ تعالی نے ہمارا حج پورا کرا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبد الرحمن بن ابی بکر کو بھیجا، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا (اور آکر اس عمرے کے قضا کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا) اس طرح اللہ تعالی نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا، ہم پر نہ ہدی (قربانی) لازم ہوئی، نہ صدقہ دینا پڑا، اور نہ صوم رکھنے پڑے۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ ہدی حج تمتع کرنے والے پر واجب ہوتی ہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج حج افراد تھا کیونکہ حیض آجانے کی وجہ سے انہیں عمرہ چھوڑ دینا پڑا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
49- بَاب مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
۴۹- باب: جس نے بیت المقدس سے عمرے کا تلبیہ پکارا اس کی دلیل کا بیان​

3001- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى بْنُ عَبْدِالأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ،غُفِرَ لَهُ "۔
* تخريج: د/الحج ۹ (۱۷۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۹) (ضعیف)
(سند میں ام حکیم کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور یہ مشہور نہیں ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۱۱)
۳۰۰۱- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا اس کو بخش دیا جا ئے گا'' ۔

3002- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، كَانَتْ لَهُ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ ". قَالَتْ : فَخَرَجْتُ ( أَيْ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ) بِعُمْرَةٍ ۔
* تخريج: أنظر ما قبلہ (ضعیف)

۳۰۰۲- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا:'' جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا یہ اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہو گا''، تو میں بیت المقدس سے عمرہ کے لیے نکلی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
50- بَاب كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ ؟
۵۰- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟​

3003- حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَرْبَعَ عُمَرٍ: عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ، وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ۔
* تخريج: د/المناسک ۸۰ (۱۹۹۳)، ت/الحج ۷ (۸۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۶، ۳۲۱)، دي/المناسک ۳۹ (۱۹۰۰) (صحیح)

۳۰۰۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: عمرۂ حدیبیہ، عمرۂ قضا جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا۱؎۔
وضاحت۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی میں ایک حج اور تین عمرے ادا کئے، اس لیے کہ حدیبیہ کا عمرہ پورا نہیں ہوا تھا، چنانچہ دوسرے سال آپ نے اسی عمرے کی قضا کی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
51- بَاب الْخُرُوجِ إِلَى مِنًى
۵۱- باب: (آٹھویں ذی الحجہ کو) منیٰ جانے کا بیان​

3004- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالْفَجْرَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَةَ۔
* تخريج: ت/الحج ۵۰ (۸۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۸۱) (صحیح)

۳۰۰۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی صلاتیں پڑھیں، پھر نویں (ذی الحجہ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔

3005- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ بِمِنًى، ثُمَّ يُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۳۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۵۱)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۶۴(۱۹۵) (حسن)
(سند میں عبد اللہ بن عمر ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
۳۰۰۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ پانچ وقت کی صلاۃ منیٰ میں پڑھتے تھے، پھر انہیں بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: آٹھویں ذی الحجہ کی ظہر، عصر مغرب اور عشاء اور نویں ذی الحجہ کی فجر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
52- بَاب النُّزُولِ بِمِنًى
۵۲- باب: منیٰ میں قیام کا بیان​

3006- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَاءِشَةَ؛ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا؟ قَالَ: " لا، مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ "۔
* تخريج: د/المناسک ۸۹ (۲۰۱۹)، ت/الحج ۵۱ (۸۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸۷ٕ ۲۰۶)، دي/المناسک ۸۷ (۱۹۸۰) (ضعیف)
(ام یوسف مسیکہ مجہول العین ہیں، نیزملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ۳۴۵)۔
۳۰۰۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے''۔

3007- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ ؛ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَاءِشَةَ؛ قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا يُظِلُّكَ؟ قَالَ: " لا، مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ "۔
* تخريج: أنظر ما قبلہ (ضعیف)

۳۰۰۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام۱؎ ہے جو پہلے پہنچ جائے''۔
وضاحت۱؎: یعنی منیٰ کا میدان حاجیوں کے لئے وقف ہے، وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے، اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے، تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ گھر بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
53- بَاب الْغُدُوِّ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ
۵۳- باب: (نویں ذی الحجہ کی) صبح سویرے منیٰ سے عرفات جانے کا بیان​

3008- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ؛ قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ، وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ، فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا، وَلا هَذَا عَلَى هَذَا، ( وَرُبَّمَا قَالَ: هَؤُلائِ عَلَى هَؤُلائِ، وَلا هَؤُلائِ عَلَى هَؤُلائِ )۔
* تخريج: خ/العیدین ۱۲ (۹۷۰)، الحج ۸۶ (۱۶۵۹)، م/الحج ۴۶ (۱۲۸۵) ن/الحج ۱۹۲ (۳۰۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۲)، وقد أخرجہ: د/الحج ۲۸ (۱۸۱۶)، ط/الحج ۱۳ (۴۳)، حم (۳/۱۱۰، ۲۴۰)، دي/المناسک ۴۸ (۱۹۱۹) (صحیح)

۳۰۰۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
54 - بَاب الْمَنْزِلِ بِعَرَفَةَ
۵۴- باب: عرفات میں کہاں اترے؟​

3009- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ ؛ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ فِي وَادِي نَمِرَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ: أَيَّ سَاعَةٍ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرْتَحِلُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرْتَحِلَ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَلَمَّا قَالُوا: قَدْ زَاغَتِ، ارْتَحَلَ،قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي رَاحَ ۔
* تخريج: د/المناسک ۶۱ (۱۹۱۴)، (تحفۃ الأشراف : ۷۰۷۳)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۸۷ (۱۶۶۰)، ط/الحج ۶۴(۱۹۵)، حم (۲/۲۵) (حسن)

۳۰۰۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کس وقت (صلاۃ اور خطبہ کے لیے) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔
وکیع نے ''ارْتَحَلَ'' کا معنی ''رَاحَ'' (چلے) بتایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
55- بَاب الْمَوْقِفِ بِعَرَفَاتٍ
۵۵- باب: عرفات میں کہاں ٹھہرے؟​

3010- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ،عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: " هَذَا الْمَوْقِفُ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ "۔
* تخريج: د/المناسک ۶۴ (۱۹۳۵، ۱۹۳۶)، ت/الحج ۵۴ (۸۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۹) (صحیح)

۳۰۱۰- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا، اور فرمایا: ''یہ جگہ اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے''۔

3011- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ؛ قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا فِي مَكَانٍ تُبَاعِدُهُ مِنَ الْمَوْقِفِ، فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَيْكُمْ، يَقُولُ: " كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ "۔
* تخريج: د/المناسک ۶۲ (۱۹۱۹)، ت/الحج ۵۳ (۸۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۳۷) (صحیح)

۳۰۱۱- یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، جس کو ہم موقف (ٹھہرنے کی جگہ) سے دور سمجھ رہے تھے، اتنے میں ہمارے پاس ابن مربع آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، آپ فرما رہے ہیں: ''تم لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہو، کیونکہ تم آج ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اس روز عرفات میں کہیں بھی ٹھہرنے سے سنت ادا ہو جائے گی، گرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھہرنے کی جگہ سے دور ہی کیوں نہ ہو، نیز ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان جگہوں پر ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ ہی سے بطور وراثت وقوف چلا آرہا ہے، لہذا تم سب کا وہاں وقوف (یعنی مجھ سے دور) صحیح ہے اور وارث ہونے کے ہم معنی ہے۔

3012- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عَرَفَةَ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ، وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، إِلا مَا وَرَاءَ الْعَقَبَةِ "۔
* تخريج:تفرد ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۶۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۵۲)، وقد أخرجہ: د/المناسک ۶۵ (۱۹۳۶)، دي/المناسک ۵۰ (۱۹۲۱) (صحیح)
(سند میں قاسم بن عبد اللہ العمری متروک راوی ہے، اس لئے ''إلا ما وراء العقبۃ'' کے لفظ کے ساتھ یہ صحیح نہیں ہے، اصل حدیث کثرت طرق اور شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ۱۶۶۵-۶۹۲ ۱-۱۶۹۳)
۳۰۱۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''پورا عرفات جائے وقوف ہے، اور بطن عرفہ۱؎ سے اٹھ جاؤ، یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا (مزدلفہ) ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور بطن محسر۲؎ سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا منی منحر (مذبح) ہے، سوائے جمرہ عقبہ کے پیچھے کے۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ وہ میدان عرفات کی حد سے باہر ہے۔
وضاحت۲؎: اس لئے کہ وہاں منیٰ کی حد ختم ہو جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
56- بَاب الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ
۵۶- باب: عرفات میں دعا کا بیان​

3013- حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ،عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّﷺ دَعَا لأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ، فَأُجِيبَ: إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، مَا خَلا الظَّالِمَ، فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ، قَالَ: " أَيْ رَبِّ ! إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ! وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ"، فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَائَ، فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ -أَوْ قَالَ: تَبَسَّمَ- فَقَالَ لَهُ أَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ! إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا، فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ؟ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ ! قَالَ : " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ، لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَاءِي، وَغَفَرَ لأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلَى رَأْسِهِ، وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ، فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ"۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۵۱۴۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۵۳)، وقد أخرجہ: د/الأدب ۱۶۸ (۵۲۳۴)، حم (۴/۱۴) (ضعیف)
(عبد اللہ بن کنانہ مجہول ہیں، اور ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۲۶۰۳)
۳۰۱۳- عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا، سوائے ان کے جو ظالم ہوں، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے''، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی، آپ کی درخواست قبول کر لی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یا مسکرائے، پھر آپ سے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے، اور میری امت کو بخش دیا ہے، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا: ہائے خرابی، ہائے تباہی! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آگئی''۔

3014- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ؛ قَالَ: قَالَتْ عَاءِشَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلاءِ؟ "۔
* تخريج: م/الحج ۷۹ (۱۳۴۸)، ن/الحج ۱۹۴ (۳۰۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۳۱) (صحیح)

۳۰۱۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالی جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں، اللہ تعالی قریب ہو جاتا ہے، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں نے کیا چاہا؟''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی کس چیز کی خواہش اور طلب میں اس قدر لوگ اس میدان میں جمع ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: تیری مغفرت چاہتے ہیں، اور تیرے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے میں نے ان کو بخش دیا۔
 
Top