• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب الْمُزَاحِ
۲۴- باب: مزاح (ہنسی مذاق) کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: مزاح مذاق اور دل لگی کو کہتے ہیں یہ جائز ہے بشرطیکہ جھوٹ نہ بولے، اور کبھی کبھی کرے نہ کہ ہمیشہ، یا اکثر مذاق کیا کرے کیونکہ ایسا کرنے سے اکثر ہنسے گا، اور اس کا دل خراب ہو جائے گا، اور اللہ تعالی سے غفلت پیدا ہو گی۔

3719- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،(ح) وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ؛ قَالَتْ: خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَى بُصْرَى، قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ ﷺ بِعَامٍ، وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ، وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا، وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَى الزَّادِ، وَكَانَ سُوَيْبِطُ رَجُلا مَزَّاحًا، فَقَالَ لِنُعَيْمَانَ: أَطْعِمْنِي، قَالَ: حَتَّى يَجِيئَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: فَلأُغِيظَنَّكَ، قَالَ: فَمَرُّوا بِقَوْمٍ، فَقَالَ لَهُمْ سُوَيْبِطٌ: تَشْتَرُونَ مِنِّي عَبْدًالِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّهُ عَبْدٌ لَهُ كَلامٌ، وَهُوَ قَائِلٌ لَكُمْ: إِنِّي حُرٌّ، فَإِنْ كُنْتُمْ، إِذَا قَالَ: لَكُمْ هَذِهِ الْمَقَالَةَ تَرَكْتُمُوهُ، فَلا تُفْسِدُوا عَلَيَّ عَبْدِي، قَالُوا: لا،بَلْ نَشْتَرِيهِ مِنْكَ، فَاشْتَرَوْهُ مِنْهُ بِعَشْرِ قَلائِصَ، ثُمَّ أَتَوْهُ فَوَضَعُوا فِي عُنُقِهِ عِمَامَةً أَوْ حَبْلا، فَقَالَ نُعَيْمَانُ: إِنَّ هَذَا يَسْتَهْزِءُ بِكُمْ، وَإِنِّي حُرٌّ لَسْتُ بِعَبْدٍ، فَقَالُوا: قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ، فَانْطَلَقُوا بِهِ، فَجَائَ أَبُوبَكْرٍ، فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ، قَالَ: فَاتَّبَعَ الْقَوْمَ، وَرَدَّ عَلَيْهِمُ الْقَلائِصَ، وَأَخَذَ نُعَيْمَانَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَأَخْبَرُوهُ، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ ﷺ وَأَصْحَابُهُ مِنْهُ حَوْلا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۱۶) (ضعیف)
(سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہیں، اور اس کے دوسرے طریق میں ''نعیمان'' ''سویبط'' کی جگہ ہے، اور ''سوبیط نعیمان'' کی جگہ پر اور یہ بھی ضعیف ہے)۔
۳۷۱۹- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی وفات سے ایک سال پہلے بُصریٰ تجارت کے لئے گئے، ان کے ساتھ نعیمان اور سویبط بن حرملہ (رضی اللہ عنہما) بھی تھے، یہ دونوں بدری صحابی ہیں، نعیمان رضی اللہ عنہ کھانے پینے کی چیزوں پر متعین تھے، سویبط رضی اللہ عنہ ایک پُر مذاق آدمی تھے، انہوں نے نعیمان رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو بکر کو آنے دیجئے، سویبط رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں غصہ دلا کر پریشان کروں گا، پھر وہ لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو سویبط رضی اللہ عنہ نے اس قوم کے لوگوں سے کہا: تم مجھ سے میرے ایک غلام کو خریدو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سویبط رضی اللہ عنہ کہنے لگے: وہ ایک باتونی غلام ہے وہ یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں، تم اس کی باتوں میں آکر اسے چھوڑ نہ دینا، ورنہ میرا غلام خراب ہو جائے گا، انہوں نے جواب دیا: وہ غلام ہم تم سے خرید لیں گے، الغرض ان لوگوں نے دس اونٹنیوں کے عوض وہ غلام خرید لیا، پھر وہ لوگ نعیمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان کی گردن میں عمامہ باندھا یا رسی ڈالی تو نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے (یعنی سویبط نے) تم سے مذاق کیا ہے، میں تو آزاد ہوں، غلام نہیں ہوں، لوگوں نے کہا: یہ تمہاری عادت ہے، وہ پہلے ہی بتا چکا ہے (کہ تم باتونی ہو)، الغرض وہ انہیں پکڑ کر لے گئے، اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو لوگوں نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی، وہ اس قوم کے پاس گئے اور ان کے اونٹ دے کر نعیمان کو چھڑا لائے، پھر جب یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس (مدینہ) آئے تو آپ اور آپ کے صحابہ سال بھر اس واقعے پر ہنستے رہے۔

3720- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لأَخٍ لِي صَغِيرٍ : "يَا أَبَا عُمَيْرٍ! مَافَعَلَ النُّغَيْرُ؟ "، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي طَيْرًا كَانَ يَلْعَبُ بِهِ۔
* تخريج: خ/الأدب ۸۱ (۶۱۲۹)، م/الآداب ۵ (۲۱۵۰)، د/الصلاۃ ۹۲ (۶۵۸)، ت/الصلاۃ ۱۳۱ (۳۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۹، ۱۷۱، ۱۹۰، ۲۱۲، ۲۷۰) (صحیح)

۳۷۲۰- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں سے (یعنی بچوں سے) میل جول رکھتے تھے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ''اے ابو عمیر! تمہارا وہ نغیر (پرندہ) کیا ہوا؟''۔
وکیع نے کہا ''نغیر'' سے مراد وہ پرندہ ہے جس سے ابو عمیر کھیلا کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب نَتْفِ الشَّيْبِ
۲۵- باب: سفید بال اکھیڑنے کا بیان​

3721- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ وَقَالَ: " هُوَ نُورُ الْمُؤْمِنِ ".
* تخريج: ت/الأدب ۵۹ (۲۸۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۸۳)، وقد أخرجہ: د/الترجل ۱۷ (۴۲۰۲)، ن/الزینۃ ۱۳ (۵۰۷۱)، حم (۲/۲۰۶، ۲۰۷، ۲۱۲) (حسن صحیح)

۳۷۲۱- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ ''وہ مومن کا نور ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب الْجُلُوسِ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ
۲۶- باب: دھوپ اور سایہ کے بیچ میں بیٹھنے کا بیان​

3722- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي الْمُنِيبِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى أَنْ يُقْعَدَ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۸۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰۲) (صحیح)

۳۷۲۲- بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اس طرح بیٹھنے سے کہ بدن کا ایک حصہ دھوپ میں رہے، اور ایک حصے پر سایہ، اس لئے کہ یہ امر طبی طور پر مضر ہے اور بیماری پیدا کرتا ہے، اور یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے، نہ کہ تحریمی، اور بیہقی نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ کعبہ کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے، اور کچھ بدن آپ ﷺ کا سایہ میں تھا کچھ دھوپ، اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ واقعہ ممانعت سے پہلے کا ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب النَّهْيِ عَنِ الاضْطِجَاعِ عَلَى الْوَجْهِ
۲۷- باب: اوندھے منہ لیٹنا منع ہے​

3723- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَصَابَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَطْنِي، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: " مَا لَكَ وَلِهَذَا النَّوْمِ! هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ، أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ "۔
* تخريج: د/الأدب ۱۰۳ (۵۰۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۹) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۴۷۱۸ - ۴۷۱۹ - ۴۷۳۱)
۳۷۲۳- طخفہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل ( اوندھے منھ ) سویا ہوا پایا، آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلا کر فرمایا: ''تم اس طرح کیوں سو رہے ہو؟ یہ سونا اللہ کو ناپسند ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: جو لوگ بہت کھاتے ہیں وہ اکثر پیٹ کے بل سوتے ہیں تاکہ کھانا خوب ہضم ہو جائے، اور مومن صالح کم خوارک ہوتا ہے اس کو پیٹ پر اوندھا سونے کی حاجت نہیں، خصوصا جب یہ منع بھی ہو، عمدہ سونا یہ ہے کہ داہنے کروٹ پر سوئے یا چت یا بائیں کروٹ۔

3724- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ؛ قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ ﷺ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: " يَا جُنَيْدِبُ إِنَّمَا هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰۳) (صحیح)
(سند میں محمد بن نعیم میں کلام ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
۳۷۲۴- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا: ''جُنیدب! (یہ ابو ذر کا نام ہے) سونے کا یہ انداز تو جہنمیوں کا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: پیٹ کے بل سونے میں جہنمیوں کی مشابہت ہے، قرآن میں ہے:{يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ} (سورة القمر: ۴۸) یعنی اوندھے منہ جہنم میں کھینچے جائیں گے، یہ بھی ایک ممانعت کی وجہ ہے۔

3725- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ؛ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى رَجُلٍ نَائِمٍ فِي الْمَسْجِدِ مُنْبَطِحٍ عَلَى وَجْهِهِ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: " قُمْ وَاقْعُدْ، فَإِنَّهَا نَوْمَةٌ جَهَنَّمِيَّةٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۱۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰۴) (ضعیف)
(سند میں یعقوب، سلمہ اور ولید سب ضعیف ہیں)
۳۷۲۵- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جو اوندھے منہ مسجد میں سو رہا تھا، آپ ﷺ نے اس کو پیر سے ہلا کر فرمایا: ''اٹھ کر بیٹھو، اس طر ح سونا جہنمیوں کا سونا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب تَعَلُّمِ النُّجُومِ
۲۸- باب: علمِ نجوم سیکھنے کے حکم کا بیان​

3726- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ، زَادَ مَا زَادَ "۔
* تخريج: د/الطب ۲۲ (۳۹۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۷، ۳۱۱) (حسن)

۳۷۲۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے علم نجوم میں سے کچھ حاصل کیا، اس نے سحر (جادو) کا ایک حصہ حاصل کر لیا، اب جتنا زیادہ حاصل کرے گا گویا اُتنا ہی زیادہ جادو حاصل کیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: سحر (جادو) عربی زبان میں مخفی عمل کو کہتے ہیں جو پوشیدہ طور پر ہوتا ہے اور ظاہری طور پر کچھ معلوم نہیں ہوتا، جادو کی وہ قسم جو کفر اور شرک اکبر کے قبیل سے ہے، اس میں شیطان کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مدد لی جاتی ہے، اور شیطان کی عبادت کرکے اس سے تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے سے بعض مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں، سحر (جادو) کی فقہاء نے یہ تعریف کی ہے کہ وہ ایسا جھاڑ پھونک اور ایسی تعویذ ہے جس میں پھونکا جاتا ہے، تو اس سے جادو ہو جاتا ہے، جو حقیقی طور پر نقصان پہنچاتا ہے اور حقیقی طور پر آدمی کو بیمار کر دیتا ہے، اور حقیقی طور پر قتل کر دیتا ہے، تو جادو کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی انسان پر تاثیر میں شیطان سے مدد لی جائے اور اس کو استعمال کیا جائے، اور جادوگر اپنے جادو کا اثر شیطان سے تقرب حاصل کئے بغیر انسان تک نہیں پہنچا سکتا، شیطان سے تقرب حاصل کرنے کی صورت میں وہ اسے جادو کئے گئے آدمی کے بدن میں پہنچا دیتے ہیں، ہر جادوگر کے پاس شیطانوں میں سے ایک ایسا خادم ہوتا ہے جو اس کی خدمت کرتا ہے، اور ہر ساحر (جادوگر) شیطان سے مدد چاہتا ہے، حقیقت میں شیطان سے تقرب حاصل کئے بغیر جادوگر کے جادو کا موثر ہونا ناممکن ہے، اسی لئے جادو اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
علم نجوم (ستاروں کا علم) سے متعلق احکام کی دو قسمیں ہیں: ایک جائز او دوسری حرام، حرام جادو کی ایک قسم وہ ہے جو کفر و شرک ہے، علم نجوم (ستاروں کے علم) کے ذریعہ غیبی امور کا دعویٰ حرام اور مذموم ستارہ پرستی ہے جو کہانت اور جادو کی ایک قسم ہے۔
علم نجوم (ستاروں کے علم) سے لوگ تین طرح سے تعلق رکھتے ہیں:
۱- تنجیم (ستارہ پرستی) یعنی ستاروں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ چیزوں میں ان کی تاثیر بذات خود اور مستقلاً ہے، اور دنیاوی حادثات ستاروں یا ستاروں کے ارادے کے نتیجہ میں رونما ہوتے ہیں، یہی ستارہ پرستی ہے، صابی فرقہ کا مذہب یہی ستارہ پرستی تھا، ان کا یہی اعتقاد تھا، جو ہر ستارے کا اسٹیچو (بت) بناتے تھے، جس میں شیطانی روحیں حلول کر جاتی تھیں، جو ان کو ان بتوں اور مجسموں کی پرستش کا حکم دیتی تھی، یہ باجماع امت کفر اکبر، اور قوم ابراہیم والا شرک ہے۔
۲- اس کی دوسری قسم ستارہ کی تاثیر کا علم ہے، یعنی ستاروں کی حرکت اور ان کے ملنے اور جدا ہونے سے، اور ان کے طلوع و غروب سے زمین پر ہونے والے اثرات پر استدلال، ستاروں کی چال کو وہ زمین پر مستقبل میں ہونے والے حوادث پر دلیل بناتے ہیں، یہ کام کرنے والے منجم کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور یہ کاہن کی ایک قسم ہے، یہ نجومی افلاک کی گردشوں اور ستاروں کی چالوں سے استدلال کرکے غیبی امور کی اطلاع دیتے ہیں، اور یہ قسم حرام اور گناہ کبیرہ ہے، اور یہ کہانت کی ایک قسم ہے، اور کفر باللہ ہے، اس لئے کہ ستاروں کی تخلیق اس کام کے لئے نہیں ہوئی ہے، ان کاہنوں کے پاس شیاطین آتے ہیں، اور جو چاہتے ہیں ان کو بتاتے ہیں، اور جن میں مستقبل میں ہونے والی چیزیں بھی ہوتی ہیں، اور اس کام کے لئے وہ ستاروں کی حرکت سے استدلال کرتے ہیں۔
۳- علم نجوم میں ایک علم علم التسییر ہے یعنی ستاروں کی منزلیں اور ان کی حرکات کا علم تاکہ ان کی مدد سے قبلہ کا رخ جانا جائے، اوقات صلاۃ کی تعیین ہو، اور کھیتی باڑی کے لئے مناسب اور غیر مناسب موسم کا پتہ چلایا جا سکے، پورب، پچھم اور اتر دکھن کی سمت اس کے ذریعے سے معلوم کی جا سکے، ملک شہر اور بستیوں کی معرفت بھی ان کے ذریعے سے ہو سکے، اور ان کے ذریعے سے ہواؤں کے چلنے کا وقت، اور اللہ کی کائناتی سنت کے مطابق اس وقت کو جاننا جس میں بارش کا نزول ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
بعض اہل علم نے اس کو جائز قرار دیا ہے، اس لئے کہ ستاروں کی چالوں اور حرکتوں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے اور ان کے نکلنے اور ڈوبنے کو وقت اور زمانہ قرار دیا جائے، خود ان کو سبب نہ بنایا جائے، تو یہ ستارے ایسے زمانے کی علامت ہوں گے، جس میں فلاں فلاں چیز مفید ہو گی، اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے ستاروں کو علامات اور نشانیاں بنایا ہے: {وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ} تو یہ ستارے بہت ساری چیزوں کی علامت ہوتے ہیں، جیسے یہ بات جانی جائے کہ فلاں ستارے کے نکلنے پر جاڑے کا وقت شروع ہو جاتا ہے، تو وقت کا شروع ہونا ستارہ کے طلوع ہونے کی وجہ سے نہیں ہے، لیکن ستارہ کے طلوع ہونے سے جاڑے کے شروع ہونے پر استدلال کیا گیا، خود ستارہ کا نکلنا سردی کا سبب نہیں ہے، اور نہ ہی وہ گرمی اور برسات کا سبب ہے، اور نہ ہی کھجور کی کھیتی یا دوسری کھیتیوں کے موسم ہونے کا یہ سبب ہے، بلکہ یہ ان چیزوں کا ایک وقت ہے، اور ایسی صورت میں اس کے کہنے یا اس کے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لئے کہ ستاروں کے نکلنے اور ڈوبنے کو زمانہ قرار دیا گیا ہے، اور اس کی اجازت ہے۔
اوپر گزرا کہ علم نجوم جادو کی ایک قسم ہے، اس کے سلسلے میں حدیث رسول ہے: ''مَنِ اقتَبسَ شعبةً من النجومِ، فقد اقتبسَ شعبةً من السِّحر، زاد ما زاد'' تو نجوم (ستاروں) کی تصدیق کرنے والا جادو کی تصدیق کرنے والا ہے، اور جادو کو سچ کہنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ثلاثةٌ لا يدخلونَ الجنَّةَ: مدمِن الخمر، وقاتل الرحم، ومصدّق بالسحر'' (مسند احمد: ۴۳۹۹، صحیح ابن حبان: ۷؍۳۶۶) تین آدمی جنت میں داخل نہ ہوں گے، عادی شرابی، قطع رحمی کرنے والا، اور جادو کی تصدیق کرنے والا، یہ تینوں کام گناہ کبیرہ ہیں۔
عصر حاضر میں ستارہ پرستی کے رواج کی واضح دلیل اخبارات و مجلات اور دوسرے جدید وسائل ابلاغ (ریڈیو، ٹیلیویژن، انٹرنیٹ) میں ستاروں کی چال سے متعلق مستقل صفحات یا معلومات کا شائع ہونا ہے، جو برج کے نام سے مشہور ہے، اور اس پر سال بھر کے برج کا نقشہ ہوتا ہے، جیسے شیر، بچھو، بیل وغیرہ، اور ہر برج کے آگے اس میں جو کچھ واقع ہو گا وہ لکھا ہوتا ہے، جب مرد عورت کی پیدائش فلاں برج میں ہو گی تو اس سے کہا جائے گا کہ تمہیں فلاں فلاں مہینے میں یہ اور یہ حاصل ہو گا، جیسا کہ کاہن اور نجومی آدمی کی کنڈلی نکال کر اور اس کا زائچہ بنا کر کرتے ہیں، اور وہ اس عمل سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوتا ہے، یہ ستاروں کی تاثیر کا علم ستاروں اور برجوں کے استدلال سے زمین میں اور زمین پر جو کچھ ہو گا، اس پر استدلال ہے ، جو کہانت کی ایک قسم ہے، ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی چیزوں کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ کاہنوں کا وجود ہے، اور ایسی صورت میں اس طرح کی شرکیات و کفریات پر نکیر ضروری ہے، اور غیب اور جادو اور ستاروں کی تاثیر کی معرفت کے مدعیان پر بھی نکیر ضروری ہے، اس لئے کہ ستارہ پرستی کا تعلق جادو سے ہے، جس پر نکیر ہر سطح پر اور ہر جگہ ہونی چاہئے، اور ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ یہ چیز نہ تو اس کے گھر داخل ہو، نہ اس کا مطالعہ کرے، اس لئے کہ صرف علم و معرفت کے لئے ان برجوں اور ستاروں سے آگاہی اس ممانعت میں داخل ہے کہ وہ کاہن کی طرف بغیر اس پر نکیر کئے ہوئے رجوع ہوتا ہے، تو اس صفحے پر یہ پڑھ کر اور جان کر کہ وہ فلاں برج میں پیدا ہوا ہے یا فلاں برج اس کے مناسب ہے، گویا کہ اس نے اس سلسلے میں کاہن سے سوال کیا، تو ایسی صورت میں اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ ہوں گی، اور اگر برجوں اور ستاروں کی چالوں کی تصدیق کر دی تو رسالت محمدیہ کا انکار کیا، تو ہر مسلمان بھائی کو اس طرح کے کبیرہ گناہ والے اعمال و افعال سے اپنے اور اپنے اہل و عیال اور خاندان والوں کو دور رکھنا چاہئے کہ اس سے کفر اور شرک میں پڑنے کا خطرہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الرِّيحِ
۲۹-باب: ہوا کو بُرا بھلا کہنے کی ممانعت ۱ ؎​
وضاحت ۱ ؎ : ہوا پانی، مٹی، آگ، چاند ، سورج، بادل، گرج، چمک اور بجلی یہ سب اللہ تعالی کے حکم کے تابع اور اس کی اطاعت میں ہیں، پس ان کو براکہنا آدمی کی حماقت ہے، اور اکثر بے وقوف ایسا کرتے ہیں کہ کہیں چاند کی ہجو کرتے ہیں کہیں سمندر کی۔


3727- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَالْعَذَابِ، وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا "۔
* تخريج: د/الأدب ۱۱۳ (۵۰۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۰، ۲۶۷، ۴۰۹، ۴۳۶، ۵۱۸) (صحیح)
۳۷۲۷- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہوا کو برا نہ کہو ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے ، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اس معنی سے کہ انسان اور حیوان کی زندگی ہو ا پر موقوف ہے، ان حیوانوں کی جو ہوائی ہیں اور بعض حیوان مائی ہیں، ان کی زندگی پانی پرموقوف ہے ،اب بعض امتوں پر جو ہوا سے عذاب ہوا یہ اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ ہر ایک رحمت کی چیز جب اعتدال سے زیادہ ہو توعذاب ہو جاتی ہے جیسے پانی وہ بھی رحمت ہے لیکن نوح علیہ السلام کی قوم کے لئے اورفرعون اور اس کی قوم کے لئے عذاب تھا۔اورابھی ماضی قریب میں سونامی کی لہر وں سے جوتباہی دنیانے دیکھی اس سے ہم سب کو عبرت ہونی چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30-بَاب مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَسْمَاء
۳۰- باب: مستحب اور پسندیدہ ناموں کا بیان​

3728- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " أَحَبُّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدُاللَّهِ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ "۔
* تخريج: م/الآداب ۱ (۲۱۳۲)، ت/الأدب ۴۶ (۲۸۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴)، دي/ الاستئذان ۶۰ (۲۳۳۷) (صحیح)

۳۷۲۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس طرح عبد الرحیم، عبد الملک، عبد القدوس اور عبد السلام وغیرہ کیونکہ اس قسم کے ناموں میں اللہ تعالی کی عبودیت اور بندگی ظاہر ہوتی ہے، اس کے بعد وہ نام اچھے ہیں، جو انبیاء و رسل اور سلف صالحین کے نام تھے جیسے محمد، احمد، موسیٰ، عیسیٰ، ابراہیم، وغیرہ اور وہ نام مکروہ ہیں جو ظالموں اور بد بختوں اور کافروں کے نام تھے، جیسے فرعون، ہامان، قارون، قابیل، وغیرہ وغیرہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَسْمَاءِ
۳۱- باب: ناپسندیدہ اور برے ناموں کا بیان​

3729- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَئِنْ عِشْتُ،إِنْ شَائَ اللَّهُ، لأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَبَاحٌ وَنَجِيحٌ وَأَفْلَحُ وَنَافِعٌ وَيَسَارٌ "۔
* تخريج: ت/الأدب ۶۵ (۲۸۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۲۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰۵) (صحیح)

۳۷۲۹- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ رَباَح، نجیح ،افلح، نافع اور یسار، نام رکھنے سے منع کر دوں گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: مگر آپ ﷺ نے امت پر آسانی کے لئے منع نہ کیا، دوسری روایت میں ہے کہ منع کیا، بہرحال یہ نام رکھنا مکروہ ہے، اور کراہت کی وجہ یہ ہے کہ ان ناموں کے رکھنے میں بعض اوقات زبان سے فال بد نکلتی ہے جیسے کسی نے پوچھا: یہاں یسار ہے، جواب ملا کہ نہیں، اور یسار کہتے ہیں: دولت مندی اور مالداری کو، اسی طرح رباح کے معنی منفعت اور نجیح کے معنی مراد کو پانے والا، اور افلح کے معنی بھی وہی ہیں، اسی طرح اور نام بھی ہیں جیسے برکت رحمت دولت صحت وغیرہ یہ بھی اسی وجہ سے مکروہ ہیں۔

3730- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَائٍ: أَفْلَحُ وَنَافِعٌ وَرَبَاحٌ وَيَسَارٌ۔
* تخريج: م/الأداب ۲ (۲۱۳۶)، د/الأدب ۷۰ (۴۹۵۸، ۴۹۵۹)، ت/الأدب ۶۵ (۲۸۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۷،۱۰، ۱۲، ۲۱)، دي/الاستئذان ۶۱ (۲۷۳۸) (صحیح)

۳۷۳۰- سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے منع "فرمایا ہے: ''افلح، نافع، رباح اور یسار''۔

3731- حدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ؛ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ: فَقُلْتُ مَسْرُوقُ ابْنُ الأَجْدَعِ، فَقَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " الأَجْدَعُ شَيْطَانٌ "۔
* تخريج: د/الأدب ۷۰ (۴۹۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۱) (ضعیف)
(سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں)
۳۷۳۱- مسروق کہتے ہیں کہ میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: میں مسروق بن اجدع ہوں، (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ''اجدع ایک شیطان ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ
۳۲- باب: نامناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان​

3732- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ؛ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ لَهَا: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَيْنَبَ ۔
* تخريج: خ/الأدب ۱۰۸ (۶۱۹۲)، م/الآداب ۳ (۲۱۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۳۰، ۴۵۹)، دي/الاستئذان ۶۲ (۲۷۴۰) (صحیح)

۳۷۳۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ''زینب کا نام بّرہ تھا'' (یعنی نیک بخت اور صالحہ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ۱؎۔
وضاحت۱؎: ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی پہلے برّہ تھا تو آپ ﷺ نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھا، یہ رسول اکرم ﷺ کی سنت ہے اور ہر شخص کو لازم ہے کہ اگر والدین یا خاندان والوں نے جہالت سے بچپن میں کوئی برا نام رکھ دیا ہو تو جب بڑا ہو اور عقل آئے تو وہ نام بدل ڈالے۔

3733- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ كَانَ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ جَمِيلَةَ ۔
* تخريج: م/الآداب ۳ (۲۱۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۷۶)، وقد أخرجہ: د/الأدب ۷۰ (۴۹۵۲)، ت/الأدب ۶۶ (۲۸۳۸)، دي/الاستئذان۶۲ (۲۷۳۹) (صحیح)

۳۷۳۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام ''عاصیہ'' تھا (یعنی گنہ گار، نافرمان) تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا''۔

3734- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَلامٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَلامٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَلَيْسَ اسْمِي عَبْدَاللَّهِ بْنَ سَلامٍ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، عَبْدَاللَّهِ بْنَ سَلامٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۴۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵، ۵/۸۳، ۴۵۱) (منکر)
(سند میں ابن اخی عبد اللہ بن سلام مبہم راوی ہیں)
۳۷۳۴- عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرا نام اس وقت عبد اللہ بن سلام نہ تھا، آپ ﷺ نے ہی میرا نام عبد اللہ بن سلام رکھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ ﷺ وَكُنْيَتِهِ
۳۳- باب: نبی اکرم ﷺ کا نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنے کا بیان​

3735- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ: أَبُو الْقَاسِمِ ﷺ " تَسَمَّوْا بِاسْمِي،وَلا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي "۔
* تخريج: خ/العلم ۳۹ (۱۱۰)، والأدب ۱۰۶ (۶۱۸۸)، م/الآداب ۱ (۲۱۳۴)، د/الأدب ۷۴ (۴۹۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۴۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۸، ۲۶۰ ۲۷۰، ۳۹۲، ۵۱۹)، دي/الاستئذان ۵۸ (۲۷۳۵) (صحیح)

۳۷۳۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو''۱؎۔
وضاحت۱؎: ابو القاسم رسول اللہ ﷺ کی کنیت ہے، اس سلسلے میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ کی حیات تک تھا، اس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے، تو کچھ حرج نہیں، بعض نے کہا کہ نام اور کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا منع ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے، پہلا قول بہتر اور مناسب ہے۔

3736- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي "۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۳۳)، وقد أخرجہ: خ/فرض الخمس ۷ (۳۱۱۴)، م/الآداب ۱ (۲۱۳۳)، ت/الأدب ۶۸ (۲۸۴۲) (صحیح)

۳۷۳۶- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو''۔

3737- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْبَقِيعِ، فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ! فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاتَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي "۔
* تخريج:تفردبہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۷)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۴۹ (۲۱۲۰)، المناقب ۲۰ (۳۵۳۷)، م/الآداب ۱ (۲۱۳۱)، ت/الأدب ۶۸ (۲۸۴۱) (صحیح)

۳۷۳۷- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی: اے ابو القاسم! آپ ﷺ اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو''۔
 
Top