• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاءِ
۲۳- باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان​

4023- حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً؟ قَالَ: " الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ، وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ "۔
* تخريج: ت/الزہد ۵۶ (۲۳۹۸)، (تحفۃ الأشراف:۳۹۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۲، ۱۷۳، ۱۸۰، ۱۸۵)، دي/الرقاق ۶۷ (۲۸۲۵) (حسن صحیح)

۴۰۲۳- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا''۔

4024- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، وَهُوَ يُوعَكُ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُ حَرَّهُ بَيْنَ يَدَيَّ فَوْقَ اللِّحَافِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَشَدَّهَا عَلَيْكَ، قَالَ: " إِنَّا كَذَلِكَ، يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلائُ وَيُضَعَّفُ لَنَا الأَجْرُ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً؟ قَالَ: " الأَنْبِيَاءُ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ الصَّالِحُونَ، إِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ، حَتَّى مَايَجِدُ أَحَدُهُمْ إِلا الْعَبَائَةَ يُحَوِّيهَا، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيَفْرَحُ بِالْبَلاءِ كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالرَّخَاءِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۴۱۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱۷) (صحیح)

۴۰۲۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آرہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی (سخت) آتی ہے، اور ثواب بھی دُگنا ملتا ہے''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''انبیاء پر''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر لپیٹتے رہتے ہیں کچھ نہیں ہوتا، اور بعض آزمائش سے اس قدر خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی مال و دولت ملنے پر خوش ہوتا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کی راہ میں کسی کو اتنی ایذا نہیں ہوئی جتنی مجھ کو ہوئی، فقر وفاقہ، دکھ بیماری ان تکلیفوں کے سوا کافروں کے طرف سے آپ ﷺ کو بہت صدمے پہنچے، گالیاں کھائیں، مار کھائی، زخمی ہوئے دانت شہید ہوئے، اخیر میں زہر کے صدمے سے وفات پائی۔

4025- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَهُوَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ، وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: رَبِّ! اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لايَعْلَمُونَ ۔
* تخريج: خ/أحادیث الأنبیاء ۵۴ (۳۴۷۷)، م/الجہاد ۳۶ (۱۷۹۲)، (تحفۃ الأشراف:۹۲۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۵۶، ۴۵۷، ۳۸۰، ۴۲۷، ۴۳۲) (صحیح)

۴۰۲۵- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں، آپ ﷺ انبیاء کرام (علیہم السلام) میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے جن کو ان کی قوم نے مارا پیٹا تھا، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے، اور یہ کہتے جاتے تھے: اے میرے رب! میری قوم کی مغفرت فرما، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے۱؎۔
وضاحت۱؎: خود آپ ﷺ نے جنگ احد میں جب کافروں کے ہاتھ سے پتھر کھائے، چہرہ مبارک زخمی ہوا، دانت شہید ہوا، خون بہہ رہا تھا، لوگوں نے عرض کیا کہ اب تو کافروں کے لئے بددعا فرمائیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ میری قوم کو ہدایت دے، یہ دین کو نہیں جانتے ہیں''۔

4026- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: رَبِّ! أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى، قَالَ: أَوَلَمْ تُؤْمِنْ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْكَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ،وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ "۔
* تخريج: خ/أحادیث الأنبیاء ۱۱ (۳۳۷۲)، م/الإیمان ۶۹ (۱۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۲۵، ۱۵۳۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۲۶) (صحیح)

۴۰۲۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں۱؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (لیکن یہ سوال اس لئے ہے) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالی لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے سا تھ ہو لیتا۲؎۔
وضاحت۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر ہم کو شک نہیں ہوا تو بھلا ابراہیم علیہ السلام کو کیوں کر شک ہو سکتا ہے، انہوں نے تو عین الیقین کا مرتبہ حاصل کرنے کے لئے یہ سوال کیا تھا کہ مردے کو زندہ کرنا انہیں دکھا دیا جائے۔
وضاحت۲؎: یہ تعریف ہے یوسف علیہ السلام کے صبر اور استقلال کی، اتنی لمبی قید پر بھی انہوں نے رہائی کے لئے جلدی نہیں کی۔

4027- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَشُجَّ، فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ؟ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْئٌ}۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفۃ الأشراف: ۷۲۵)، وقد أخرجہ: م/الجہاد ۳۶ (۱۷۹۱)، ت/التفسیر ۴ (۳۰۰۳)، حم (۳/۱۱۳) (صحیح)

۴۰۲۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہو گیا، تو خون آپ کے چہرہ پر بہنے لگا، آپ ﷺ خون کو اپنے چہرے سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْئٌ} [سورة آل عمران: ۱۲۸] (اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے)۱؎۔
وضاحت۱؎: آپ کا یہ فرمانا بد دعا کے طور پر نہ تھا بلکہ تعجب کے طور پر کہ ان لوگوں کے لچھن تو ایسے خراب ہیں کہ ان کی نجات کیونکر ہو گی، اللہ تعالی نے اس کو بھی پسند نہیں کیا، اور فرمایا: آپ پر صبر لازم ہے، اللہ تعالی کو ان لوگوں کا اختیار ہے۔

4028- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلام ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ، قَدْ خُضِّبَ بِالدِّمَاءِ، قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: "فَعَلَ بِي هَؤُلاءِ، وَفَعَلُوا "، قَالَ: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ: " نَعَمْ أَرِنِي "، فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي، قَالَ: ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ، فَدَعَاهَا، فَجَائَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ، فَقَالَ لَهَا، فَرَجَعَتْ، حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " حَسْبِي "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف (۹۲۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۳)، دي/المقدمۃ ۴ (۲۳) (صحیح)

۴۰۲۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہو لہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو مارا پیٹا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے''، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھائوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں دکھائیے''، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ ﷺ نے اسے آواز دی، وہ آکر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ ﷺ نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میرے لئے یہ نشانی (معجزہ) ہی کافی ہے''۔

4029- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَحْصُوا لِي كُلَّ مَنْ تَلَفَّظَ بِالإِسْلامِ " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَخَافُ عَلَيْنَا، وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِ مِائَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ، لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلُوا"، قَالَ: فَابْتُلِينَا، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا مَا يُصَلِّي إِلا سِرًّا۔
* تخريج: خ/الجہاد ۱۸۱ (۳۰۶۰، ۳۰۶۱)، م/الإیمان ۶۷ (۱۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۴) (صحیح)

۴۰۲۹- حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتائو''، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر (اب بھی دشمن کی طرف سے) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جائو''۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی صلاۃ بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔


4030- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ؛ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، أَنَّهُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً، فَقَالَ: " يَا جِبْرِيلُ! مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ؟ قَالَ: هَذِهِ رِيحُ قَبْرِ الْمَاشِطَةِ وَابْنَيْهَا وَزَوْجِهَا، قَالَ: وَكَانَ بَدْءُ ذَلِكَ أَنَّ الْخَضِرَ كَانَ مِنْ أَشْرَافِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَ مَمَرُّهُ بِرَاهِبٍ فِي صَوْمَعَتِهِ، فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرَّاهِبُ، فَيُعَلِّمُهُ الإِسْلامَ، فَلَمَّا بَلَغَ الْخَضِرُ، زَوَّجَهُ أَبُوهُ امْرَأَةً، فَعَلَّمَهَا الْخَضِرُ، وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لاتُعْلِمَهُ أَحَدًا، وَكَانَ لا يَقْرَبُ النِّسَاءَ، فَطَلَّقَهَا، ثُمَّ زَوَّجَهُ أَبُوهُ أُخْرَى، فَعَلَّمَهَا وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لاتُعْلِمَهُ أَحَدًا، فَكَتَمَتْ إِحْدَاهُمَا وَأَفْشَتْ عَلَيْهِ الأُخْرَى، فَانْطَلَقَ هَارِبًا، حَتَّى أَتَى جَزِيرَةً فِي الْبَحْرِ، فَأَقْبَلَ رَجُلانِ يَحْتَطِبَانِ، فَرَأَيَاهُ، فَكَتَمَ أَحَدُهُمَا وَأَفْشَى الآخَرُ، وَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الْخَضِرَ، فَقِيلَ: وَمَنْ رَآهُ مَعَكَ؟ قَالَ: فُلانٌ، فَسُئِلَ فَكَتَمَ، وَكَانَ فِي دِينِهِمْ أَنَّ مَنْ كَذَبَ قُتِلَ، قَالَ: فَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ الْكَاتِمَةَ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ، إِذْ سَقَطَ الْمُشْطُ، فَقَالَتْ: تَعِسَ فِرْعَوْنُ! فَأَخْبَرَتْ أَبَاهَا، وَكَانَ لِلْمَرْأَةِ ابْنَانِ وَزَوْجٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَرَاوَدَ الْمَرْأَةَ وَزَوْجَهَا أَنْ يَرْجِعَا عَنْ دِينِهِمَا، فَأَبَيَا، فَقَالَ: إِنِّي قَاتِلُكُمَا، فَقَالا: إِحْسَانًا مِنْكَ إِلَيْنَا،إِنْ قَتَلْتَنَا، أَنْ تَجْعَلَنَا فِي بَيْتٍ، فَفَعَلَ، فَلَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً، فَسَأَلَ جِبْرِيلَ فَأَخْبَرَهُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۰) (ضعیف)
(یہ سند ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں)
۴۰۳۰- أبی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کی رات ایک خوشبو محسوس کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''جبرئیل! یہ کیسی خوشبو ہے؟'' انہوں نے کہا: یہ اس عورت کی قبر کی خوشبو ہے جو فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتی تھی، اور اس کے دونوں بیٹوں اور شوہر کے قبر کی خوشبو ہے، (جنہیں ایمان لانے کی وجہ سے فرعون نے قتل کر دیا تھا) اور ان کے قصے کی ابتدا اس طرح ہے کہ خضر بنی اسرائیل کے شریف لوگوں میں تھے، ان کا گزر ایک (را ہب) درویش کے عبادت خانے سے ہوتا تو وہ عابد راہب اوپر سے ان کو جھانکتا، اور ان کو اسلام کی تعلیم دیتا، آخر کار جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کا نکاح کر دیا، خضر نے اس عورت کو اسلام کی تعلیم دی، اور اس سے عہد لے لیا کہ اس بات سے کسی کو باخبر مت کرنا، خضر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے، آخر انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد ان کے والد نے ان کا نکاح دوسری عورت سے کر دیا، خضر نے اس سے بھی نہ بتانے کا عہد لے کر اسے دین کی تعلیم دی، لیکن ان میں سے ایک عورت نے اس راز کو چھپا لیا، اور دوسری نے ظاہر کر دیا (کہ یہ دین کی تعلیم اسے خضر نے سکھائی ہے، فرعون نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا یہ سنتے ہی) وہ فرار ہو کر سمندر کے ایک جزیرہ میں چھپ گئے، وہاں دو شخص لکڑیاں چننے کے لئے آئے، اور ان دونوں نے خضر کو دیکھا، ان میں سے بھی ایک نے تو ان کا حال پوشیدہ رکھا، اور دوسرے نے ظاہر کر دیا اور کہا: میں نے خضر کو فلاں جزیرے میں دیکھا ہے، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ اور کسی شخص نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص نے بھی دیکھا ہے، جب اس شخص سے سوال کیا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے، اسے قتل کر دیا جائے، الغرض اس شخص نے اس عورت سے نکاح کر لیا، جس نے اپنا دین چھپایا تھا، (اور خضر کا نام نہیں بتایا تھا)، اسی دوران کہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کنگھی گر پڑی اور اس کی زبان سے بے اختیار نکل گیا کہ فرعون تباہ و برباد ہو (اپنی بے دینی کی وجہ سے) بیٹی نے یہ کلمہ اس کی زبان سے سن کر اسے اپنے باپ کو بتا دیا، اور اس عورت کے دو بیٹے تھے، اور ایک شوہر تھا، فرعون نے ان سبھوں کو بلا بھیجا، اور عورت اور اس کے شوہر کو دین اسلام چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کے لئے پھسلایا، ان دونوں نے انکار کیا، تو اس نے کہا: میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا، ان دونوں نے جواب دیا: اگر تم ہمیں قتل کر نا چاہتے ہو تو ہم پر اتنا احسان کرنا کہ ہمیں ایک ہی قبر میں دفن کر دینا، چنانچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، جب نبی اکرم ﷺ نے اسراء کی رات میں خوشبو محسوس کی، تو آپ ﷺ نے جبرئیل سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ انہی لوگوں کی قبر ہے (جس سے یہ خو شبو آرہی ہے)۔

4031- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: " عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ "۔
* تخريج: ت/الزہد ۵۶ (۲۳۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۹) (حسن)

۴۰۳۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالی جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے''۔

4032- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لا يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ "۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۵۵ (۲۵۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۳) (صحیح)

۴۰۳۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: بلکہ عزلت اور تنہائی میں بسر کرتا ہے، یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو میل جول کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر جانتے ہیں، بشرطیکہ میل جول کے آداب اور تقاضے کے مطابق زندگی گزارتا ہو، یعنی جمعہ، جماعت، عیدین اور جنازے میں حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کرے اور لوگوں کو ایذا نہ دے۔

4033- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّي، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الإِيمَانِ، (وَقَالَ بُنْدَارٌ: حَلاوَةَ الإِيمَانِ) مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لا يُحِبُّهُ إِلا لِلَّهِ، وَمَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ "۔
* تخريج: خ/الإیمان ۹ (۱۶)، ۱۴ (۲۱)، الأدب ۴۲ (۶۰۴۱)، الإکراہ ۱ (۶۹۴۱)، م/الایمان ۱۵ (۴۳)، ن/الایمان ۳ (۴۹۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۵)، وقد أخرجہ: ت/الإیمان ۱۰ (۲۶۲۴)، حم (۳/۱۰۳، ۱۱۴، ۱۷۲، ۱۷۴، ۲۳۰، ۲۴۸، ۲۷۵، ۲۸۸) (صحیح)

۴۰۳۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا ذائقہ پائے گا، (بندار کی روایت میں ہے کہ وہ ایمان کی حلاوت (مٹھاس) پائے گا) ایک وہ شخص جو کسی سے صرف اللہ کے لئے محبت کرتا ہو، دوسرے وہ جسے اللہ اور اس کا رسول دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں، تیسرے وہ شخص جسے اللہ تعالی نے کفر سے نجات دی، اس کے بعد اسے آگ میں ڈالا جانا تو پسند ہو، لیکن کفر کی طرف پلٹ جانا پسند نہ ہو''۔

4034- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،(ح) وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ، قَالا: حَدَّثَنَا رَاشِدٌ أَبُومُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي ﷺ: " أَنْ لاتُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ، وَلا تَتْرُكْ صَلاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا، فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَلا تَشْرَبِ الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۸۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۱) (حسن)
(آخری جملہ اس سند سے کتاب الأشربہ میں گزرا ہے)
۴۰۳۴- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ تم اللہ تعالی کے سا تھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائو، اور جلا دئیے جائو، اور فرض صلاۃ کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: شرابی کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ و برباد ہوتی ہے، دنیا اس وجہ سے کہ سارا مال شراب میں اڑ جاتا ہے، جب شراب پیتا ہے تو عقل جاتی رہتی ہے، لوگ اس کا مال دھوکہ اور فریب سے اڑا لے جاتے ہیں، وہ لوگوں سے لڑائی کرتا ہے، بد گوئی کرتا ہے، ذلیل و خوار ہوتا ہے، سخت بیماریوں کا شکار ہوتا ہے، جیسے فالج، لقوہ، رعشہ، استسقا، ورم جگر، قولنج وغیرہ اور آخرت کی خرابی تو ظاہر ہے کہ شرابی کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ شراب سے بچائے، افسوس ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے مسلمان اس بلا میں مبتلا ہیں، اور یہ غیر مسلموں کی صحبت اور ان کی تہذیب و تمدن کا اثر ہے، اور لطف یہ ہے کہ غیر مسلموں میں بہت سے لوگ شراب نوشی کو معیوب سمجھتے ہیں بلکہ اس کو ترک کرتے جا رہے ہیں، جب کہ ان کے دین میں شراب پینا منع نہیں ہے، اور ہمارے دین میں شراب حرام ہے بلکہ حنفیہ کے نزدیک پیشاب کے مثل نجس ہے، پھر مسلمان کا دل کیسے قبول کرتا ہے کہ ایک ایک چیز نجس، حرام اور مضر ہو، جس کی تاثیر زہر کی طرح ہو، اس میں اپنا مال تباہ کر کے اپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کر لے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب شِدَّةِ الزَّمَانِ
۲۴- باب: زمانہ کی سختی کا بیان​

4035- حَدَّثَنَا غِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبِّهِ يَقُولُ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: "لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا بَلائٌ وَفِتْنَةٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۵۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۹۴) (صحیح)

۴۰۳۵- معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''دنیا میں فتنوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی روز بروز تقویٰ و صلاح کم ہو جاتا ہے، اور فسق و فجور اور خرابی زیادہ کیونکہ اخیر زمانہ میں قیامت کا قرب ہے سبحان اللہ چودہ سو برس سے زیادہ پہلے کا یہ فرمودہ ہے اور اب بھی اہل زمانہ کا برا حال ہے، اور معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ اللہ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے۔ آمین۔

4036- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ، يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الأَمِينُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ (قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ التَّافِهُ) فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۱) (صحیح)
(سند میں ابن قدامہ ضعیف، اور اسحاق بن أبی الفرات مجہول ہیں، لیکن مسند احمد ۲ / ۳۳۸ کے طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور اور انس رضی اللہ عنہ کی حدیث مسند احمد ۳/۲۲۰، سے تقویت پاکر صحیح ہے)
۴۰۳۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں رویبضہ بات کرے گا، آپ ﷺ سے سوال کیا گیا: رویبضہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا''۔

4037- حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ، فَيَتَمَرَّغَ عَلَيْهِ، وَيَقُولَ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ، وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ،إِلا الْبَلاءُ " ۔
* تخريج: م/الفتن ۱۸ (۱۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۹۳)، وقد أخرجہ: خ/الفتن ۲۲ (۷۱۱۵)، ط/الجنائز ۱۶ (۵۳) (صحیح)
۴۰۳۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک آدمی قبر پرجا کر نہ لوٹے، اور یہ تمنا نہ کرے کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا، اس کا سبب دین و ایمان نہیں ہو گا، بلکہ وہ دنیا کی بلا اور فتنے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ کمینے اور بدمعاش حکمرانی کریں گے انہی کا زمانہ ہو گا، شریف اور اچھے لوگوں کی قدر و قیمت نہ ہو گی۔

4038- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ يَعْنِي مَوْلَى مسافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَتُنْتَقَوُنَّ كَمَا يُنْتَقَى التَّمْرُ مِنْ أَغْفَالِهِ، فَلْيَذْهَبَنَّ خِيَارُكُمْ، وَلَيَبْقَيَنَّ شِرَارُكُمْ، فَمُوتُوا إِنِ اسْتَطَعْتُمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۴) (صحیح)
(سند میں ابو حمید مجہول راوی ہیں، لیکن اصل حدیث رویفع بن ثابت کے شاہد سے تقویت پاکر صحیح ہے، جس کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے، آخری جملہ ''فَمُوتُوا إِنِ اسْتَطَعْتُمْ'' ضعیف ہے، اس لئے کہ اس کا شاہد نہیں ہے)
۴۰۳۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم ایسے چن لئے جاؤ گے جیسے عمدہ کھجوریں ردی کھجوروں میں سے چنی جاتی ہیں، تمہارے نیک لوگ گزر جائیں گے، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم بھی مر جانا''۔

4039- حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " لا يَزْدَادُ الأَمْرُ إِلا شِدَّةً، وَلاالدُّنْيَا إِلا إِدْبَارًا، وَلا النَّاسُ إِلا شُحًّا، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، وَلا الْمَهْدِيُّ إِلا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۵) (ضعیف جدا)
(سند میں محمد بن خالد الجند ی ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن ''وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ'' کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے)
۴۰۳۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بد ترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب أَشْرَاطِ السَّاعَةِ
۲۵- باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان​

4040- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ،كَهَاتَيْنِ " وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ ۔
* تخريج: خ/الرقاق ۳۹ (۶۵۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۴۷) (صحیح)

۴۰۴۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں''، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی امت محمدیہ کے بعد قیامت تک اور کوئی امت حقہ نہ ہو گی اور اسلام ہی کے خاتمہ پر دنیا کا بھی خاتمہ ہے، اس حدیث سے یہ مقصد نہیں ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں فاصلہ نہیں ہے جیسا کہ بعضوں نے خیال کیا اور اپنے خیال کی بناء پر یہ اعتراض کیا کہ آپ ﷺ کو وفات کئے ہوئے چودہ سو برس سے زیادہ گزرے لیکن ابھی تک قیامت نہیں ہوئی اور نہ اس کی کوئی بڑی نشانی ظاہر ہوئی۔

4041- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: اطَّلَعَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ مِنْ غُرْفَةٍ، وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ: الدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ".
* تخريج: م/الفتن ۱۳ (۲۹۰۱)، د/الملاحم ۱۲ (۴۳۱۱)، ت/الفتن ۲۱ (۲۱۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۶، ۷) (صحیح)
(یہ حدیث مکرر ہے، اور بہ تمام وکمال: ۴۰۵۵ نمبر پر آرہی ہے )
۴۰۴۱- حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں گی قیامت قائم نہ ہو گی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس روایت میں صرف تین ہی نشانیاں بیان ہوئی ہیں، یہ حدیث مختصر ہے، پوری روایت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ہے جسے مولف دو باب کے بعد بیان کریں گے، اس میں دس نشا نیاں مذکور ہیں۔

4042- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، وَهُوَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَهُوَ فِي خِبَائٍ مِنْ أَدَمٍ، فَجَلَسْتُ بِفِنَاءِ الْخِبَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " ادْخُلْ يَا عَوْفُ! " فَقُلْتُ: بِكُلِّي؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " بِكُلِّكَ " ثُمَّ قَالَ: " يَا عَوْفُ! احْفَظْ خِلالا سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: إِحْدَاهُنَّ مَوْتِي " قَالَ: فَوَجَمْتُ عِنْدَهَا وَجْمَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ: " قُلْ: إِحْدَى،ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ دَائٌ يَظْهَرُ فِيكُمْ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ ذَرَارِيَّكُمْ وَأَنْفُسَكُمْ، وَيُزَكِّي بِهِ أَعْمَالَكُمْ، ثُمَّ تَكُونُ الأَمْوَالُ فِيكُمْ، حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَيَظَلَّ سَاخِطًا، وَفِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ، لا يَبْقَى بَيْتُ مُسْلِمٍ إِلا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الأَصْفَرِ هُدْنَةٌ، فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ، فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةٍ، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ".
* تخريج: خ/الجزیۃ ۱۵ (۳۱۷۶)، د/الأدب ۹۲ (۵۰۰۰، ۵۰۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۱۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۲) (صحیح)

۴۰۴۲- عوف بن مالک أشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عوف! اندر آجاؤ''، میں نے عرض کیا: پورے طور سے؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں پورے طور سے''، پھر آپ نے فرمایا: ''عوف! قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی، انہیں یاد رکھنا، ان میں سے ایک میری موت ہے''، میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''کہو ایک، دوسری بیت المقدس کی فتح ہے، تیسری ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہو گی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا، چوتھی تم میں مال کی کثرت ہو گی حتی کہ آدمی کو سو دینار ملیں گے تو وہ اس سے بھی راضی نہ ہو گا، پانچویں تمہارے درمیان ایک فتنہ برپا ہو گا جس سے کوئی گھر باقی نہ رہے گا جس میں وہ نہ پہنچا ہو، چھٹی تمہارے اور اہل روم کے درمیان ایک صلح ہو گی، لیکن پھر وہ لوگ تم سے دغا کریں گے، اور تمہارے مقابلہ کے لئے اسّی جھنڈوں کے سا تھ فوج لے کر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی''۔

4043- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ، وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ، وَيَرِثُ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ "۔
* تخريج: ت/الفتن ۹ (۲۱۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۹) (ضعیف)
(سند میں عبد اللہ بن عبد الرحمن انصاری اور عبد العزیز دراوردی میں کلام ہے)
۴۰۴۳- حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ''قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے، اور اپنی تلواریں لے کر باہم لڑو گے، اور تمہارے بد ترین لوگ تمہاری دنیا کے مالک بن جائیں گے''۔

4044- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَتِ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُؤُوسَ النَّاسِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، فِي خَمْسٍ لا يَعْلَمُهُنَّ إِلا اللَّهُ "، فَتَلا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ} الآيَةَ۔
* تخريج: خ/الإیمان ۳۸ (۵۰)، م/الإیمان ۱ (۹)، ن/الإیمان ۶ (۴۹۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۲۶) (صحیح)
(یہ حدیث نمبر (۶۵) کا ایک ٹکڑا ہے)
۴۰۴۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ} [سورة لقمان: ۳۴] (اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہو گی، وہی بارش نازل کرتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے)۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اللہ تعالی ہی کو قیامت کا وقت معلوم ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی جانتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے اور کسی آدمی کو معلوم نہیں کل وہ کیا کرے گا اور کہاں مرے گا، بس یہ باتیں غیب مطلق ہیں ان کا علم اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، اور جو کوئی دعوے کرے کہ کسی نبی یا ولی کو علم غیب ہے وہ تو کافر ہے، قرآن کی بہت ساری آیتوں میں صاف صاف یہ مضمون ہے کہ اے محمد کہئے: میں غیب نہیں جانتا۔

4045- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَلا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي، سَمِعْتُهُ مِنْهُ: " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ، وَيَبْقَى النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً، قَيِّمٌ وَاحِدٌ "۔
* تخريج: خ/العلم ۲۱ (۸۱)، م/العلم ۵ (۲۶۷۱)، ت/الفتن ۳۴ (۲۲۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۹۸، ۱۸۶، ۲۰۲، ۲۷۳، ۲۷۷) (صحیح)

۴۰۴۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، اور میرے بعد تم سے وہ حدیث کوئی بیان کرنے والا نہیں ہو گا، میں نے اسے آپ ہی سے سنا ہے کہ ''قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں زیادہ ہوں گی حتی کہ پچاس عورتوں کا قیم (سرپرست و کفیل) ایک مرد ہو گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اس وقت لڑائیاں بہت ہوں گی ان لڑائیوں میں مرد مارے جائیں گے اورعورتیں بکثرت باقی رہ جائیں گی۔

4046- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسُرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۹۸، ومصباح الزجاجۃ : ۱۴۲۶)، وقد أخرجہ :خ/الفتن ۲۴ (۷۱۱۹)، م/الفتن ۸ (۲۸۹۴)، د/الملاحم ۱۳ (۴۳۱۳)، ت/صفۃ الجنۃ ۲۶ (۲۵۶۹)، حم (۲/۲۶۱، ۳۳۲، ۳۶۰) (حسن صحیح)
(''من کل عشرۃ تسعۃ'' کا لفظ ضعیف اور شاذ ہے، ''من کل مئۃ تسعۃ وتسعون'' کا لفظ محفوظ ہے)۔
۴۰۴۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتی کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ ہر سو میں سے ننانوے مارے جائیں گے اور ہر شخص کہے گا کہ شاید میں بچ رہوں اور سونے کے اس پہاڑ کو لوں اور لڑے گا، مثل مشہور ہے: ایسے سونے پر لعنت جس سے کان پھٹے، مگر دنیا کے طماع اور لالچی یہ کہاں سمجھتے ہیں، ایک پیسہ کے لئے جان دینے کو تیار ہیں حالانکہ جان ہے تو جہان ہے، صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے کہ جب یہ خزانہ نمودار ہو تو جو وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے، واضح رہے کہ اس خزانے کے حصول کے لیے بہت قتل و غارت ہو گی، ہر شخص یہی چاہے گا کہ یہ خزانہ اسی کو ملے۔

4047- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَفِيضَ الْمَالُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "الْقَتْلُ، الْقَتْلُ الْقَتْلُ " ثَلاثًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۴۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۷)، وقد أخرجہ: خ/العلم ۲۴ (۸۳)، الفتن ۲۵ (۷۱۲۱)، م/الزکاۃ ۱۸ (۱۵۷)، حم (۲/۲۳۳، ۴۱۷) (صحیح)

۴۰۴۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک مال کی خوب فراوانی نہ ہو جائے، اور فتنہ عام نہ ہو جائے، ''ہرج'' کثرت سے ہونے لگے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہر ج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: ''قتل، قتل، قتل''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26-بَاب ذَهَابِ الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ
۲۶- باب: قرآ ن اور علم (حدیث) کا دنیا سے اٹھ جانا قیامت کا نشانی ہے​

4048- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ ﷺ شَيْئًا، فَقَالَ: " ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَائَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَائَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، زِيَادُ! إِنْ كُنْتُ لأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَ لَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَئُونَ التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ، لا يَعْمَلُونَ بِشَيْئٍ مِمَّا فِيهِمَا؟ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۰، ۲۱۹) (صحیح)
(سند میں سالم بن أبی الجعد اور زیاد بن لبید کے مابین انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: (اقتضاء العلم العمل: ۱۸۹/۸۹ والعلم لابی خیثمۃ: ۱۲۱/۵۲، والمشکاۃ: ۲۴۵ - ۲۷۷)
۴۰۴۸- زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی بات کا ذکر کیا اور فرمایا: ''یہ اس وقت ہو گا جب علم اٹھ جائے گا''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علم کیسے اٹھ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اسی طرح قیامت تک سلسلہ چلتا رہے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''زیاد! تمہاری ماں تم پر روئے، میں تو تمہیں مدینہ کا سب سے سمجھدار آدمی سمجھتا تھا، کیا یہ یہود و نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن ان میں سے کسی بات پر بھی یہ لوگ عمل نہیں کرتے''۱؎۔
وضاحت۱؎: بلکہ اپنے پادریوں اور مولویوں کے تابع ہیں ان کی رائے پر چلتے ہیں، یا عقلی قانون بناتے ہیں، اس پر چلتے ہیں، کتاب الٰہی کوئی نہیں پوچھتا، مقلدین حضرات جو احادیث صحیحہ کو چھوڑ کر ائمہ کے اقوال سے چمٹے ہوئے ہیں، وہ اس حدیث پر غور فرمائیں۔

4049- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَدْرُسُ الإِسْلامُ كَمَا يَدْرُسُ وَشْيُ الثَّوْبِ، حَتَّى لا يُدْرَى مَا صِيَامٌ وَلا صَلاةٌ وَلا نُسُكٌ وَلا صَدَقَةٌ، وَلَيُسْرَى عَلَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي لَيْلَةٍ، فَلا يَبْقَى فِي الأَرْضِ مِنْهُ آيَةٌ، وَتَبْقَى طَوَائِفُ مِنَ النَّاسِ، الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْعَجُوزُ، يَقُولُونَ: أَدْرَكْنَا آبَائَنَا عَلَى هَذِهِ الْكَلِمَةِ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ،فَنَحْنُ نَقُولُهَا "، فَقَالَ لَهُ صِلَةُ: مَا تُغْنِي عَنْهُمْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَهُمْ لا يَدْرُونَ مَا صَلاةٌ وَلا صِيَامٌ وَلا نُسُكٌ وَلا صَدَقَةٌ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حُذَيْفَةُ،ثُمَّ رَدَّهَا عَلَيْهِ ثَلاثًا، كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ حُذَيْفَةُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ: يَا صِلَةُ! تُنْجِيهِمْ مِنَ النَّارِ، ثَلاثًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲۹) (صحیح)

۴۰۴۹- حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسلام ایسا ہی پرانا ہو جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار پرانے ہو جاتے ہیں، حتی کہ یہ جاننے والے بھی باقی نہ رہیں گے کہ صلاۃ، صوم، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے؟ اور کتاب اللہ ایک رات میں ایسی غائب ہو جائے گی کہ اس کی ایک آیت بھی باقی نہ رہ جائے گی۱؎، اور لوگوں کے چند گروہ ان میں سے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں باقی رہ جائیں گے، کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہ کلمہ "لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ'' کہتے ہوئے پایا، تو ہم بھی اسے کہا کرتے ہیں۲؎۔
صلہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب انہیں یہ نہیں معلوم ہو گا کہ صلاۃ، صوم، قربانی اور صدقہ زکاۃ کیا چیز ہے تو انہیں فقط یہ کلمہ ''لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ'' کیا فائدہ پہنچائے گا؟ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے تین بار یہ بات ان پر دہرائی لیکن وہ ہر بار ان سے منہ پھیر لیتے، پھر تیسری مرتبہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے صلہ! یہ کلمہ ان کو جہنم سے نجات دے گا ، اس طرح تین بار کہا ۳؎۔

وضاحت۱؎: یعنی اس کے حروف غائب ہو جائیں گے اور حافظ تو پہلے ہی چلے جائیں گے۔
وضاحت۲؎: باقی دین کی اور کوئی بات انہیں معلوم نہ ہو گی۔
وضاحت۳؎: کیونکہ وہ لوگ دین کی اور باتوں کے منکر نہ ہوں گے صرف اس سے ناواقف ہوں گے اور ناواقف آدمی کو نجات کے لئے صرف توحید کافی ہے۔

4050- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامٌ، يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ ۔
* تخريج: خ/الفتن ۵ (۷۰۶۲، ۷۰۶۳)، م/العلم ۱۴ (۲۶۷۲)، ت/الفتن ۱۳ (۲۲۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۰۰، ۹۲۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۹، ۴۰۲، ۴۰۵، ۴۵۰، ۴/۳۹۲، ۴۰۵) (صحیح)

۴۰۵۰- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت کے قریب کچھ دن ایسے ہوں گے جن میں علم اٹھ جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی، اور ہرج زیادہ ہو گا''، ہرج : قتل کو کہتے ہیں۔

4051- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا، يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: " الْقَتْلُ "۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (صحیح)

۴۰۵۱- ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت چھا جائے گی، علم اٹھ جائے گا، اور ہرج زیادہ ہو گا''، لوگوں نے عر ض کیا: اللہ کے رسول! ہر ج کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''قتل''۔

4052- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ قَالَ: " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: " الْقَتْلُ "۔
* تخريج: خ/الفتن ۵ (۷۰۶۱)، م/العلم ۷۲ (۱۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۳) (صحیح)

۴۰۵۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''زمانہ ایک دوسرے سے قریب ہو جائے گا،۱؎ علم گھٹ جائے گا، (لوگوں کے دلوں میں) بخیلی ڈال دی جائے گی، فتنے ظاہر ہوں گے، اور ہرج زیادہ ہو گا''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہرج کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''قتل''۔
وضاحت۱؎: یعنی عیش و عشرت یا بے برکتی کی وجہ سے زمانہ جلدی گزر جائے گا، یا عمریں چھوٹی ہوں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب ذَهَابِ الأَمَانَةِ
۲۷- باب: امانت کے ختم ہوجانے کا بیان​

4053- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَدِيثَيْنِ: قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا: " أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ " (قَالَ الطَّنَافِسِيُّ: يَعْنِي: وَسْطَ قُلُوبِ الرِّجَالِ)، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ، فَعَلِمْنَا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمْنَا مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا فَقَالَ: " يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ، فَتُرْفَعُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا كَأَثَرِ الْوَكْتِ، وَيَنَامُ النَّوْمَةَ، فَتُنْزَعُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا كَأَثَرِ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا، وَلَيْسَ فِيهِ شَيْئٌ " ثُمَّ أَخَذَ حُذَيْفَةُ كَفًّا مِنْ حَصًى، فَدَحْرَجَهُ عَلَى سَاقِهِ، قَالَ: " فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بَنِي فُلانٍ رَجُلا أَمِينًا، وَحَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ! وَأَجْلَدَهُ! وَأَظْرَفَهُ! وَمَا فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ " وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ، وَلَسْتُ أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ إِسْلامُهُ، وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ، فَمَا كُنْتُ لأُبَايِعَ إِلا فُلانًا وَفُلانًا۔
* تخريج: خ/الرقاق ۳۵ (۶۴۹۷)، م/الإیمان ۶۴ (۱۴۳)، ت/الفتن ۱۷ (۲۱۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۳، ۳۸۴، ۴۰۳) (صحیح)

۴۰۵۳- حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی۱؎ اور دوسری کا منتظرہوں، آپ ﷺ نے ہم سے یہ بیان فرمایا: ''امانت آدمیوں کے دلوں کی جڑ میں اتری (پیدا ہوئی)، (طنافسی نے کہا: یعنی آدمیوں کے دلوں کے بیچ میں اتری) اور قرآن کریم نازل ہوا، تو ہم نے قرآن و سنت کی تعلیم حا صل کی۲؎، پھر آپ ﷺ نے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق ہم سے بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''آدمی رات کو سوئے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی، (اور جب وہ صبح کو اٹھے گا تو) امانت کا اثر ایک نقطے کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو امانت اس کے دل سے چھین لی جائے گی، تو اس کا اثر (اس کے دل میں) کھال موٹا۲؎ ہونے کی طرح رہ جا ئے گا، جیسے تم انگارے کو پائوں پر لڑھکا دو تو کھال پھول کر آبلے کی طرح دکھائی دے گی، حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا''، پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں اپنی پنڈلی پر لڑھکا لیا، اور فرمانے لگے: ''پھر لوگ صبح کو ایک دوسرے سے خرید و فروخت کریں گے، لیکن ان میں سے کوئی بھی امانت دار نہ ہو گا، یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں فلا ں امانت دار شخص ہے، اور یہاں تک آدمی کو کہا جا ئے گا کہ کتنا عقل مند، کتنا توانا اور کتنا ذہین و چالاک ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا، اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گزرا کہ مجھے پروا نہ تھی کہ میں تم میں سے کس سے معاملہ کروں، یعنی مجھے کسی کی ضمانت کی حاجت نہ تھی، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے مجھ پر زیادتی کرنے سے روکتا، اور اگر وہ یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا گماشتہ بھی انصاف سے کام لیتا (یعنی ان کے عامل اور عہدہ دار بھی ایماندار اور منصف ہوتے) اور اب آج کے دن مجھے کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ میں اس سے معاملہ کروں سوائے فلاں فلاں کے''۔
وضاحت۱؎: یعنی اس کا ظہور ہو گیا۔
وضاحت۲؎: جس سے ایمانداری اور بڑھ گئی، مطلب یہ ہے کہ ایمانداری کی صفت بعض دلوں میں فطری طور پر ہوتی ہے اور کتاب و سنت حاصل کرنے سے اور بڑھ جاتی ہے۔
وضاحت۳؎: جیسے پھوڑا اچھا ہو جاتا ہے، لیکن جلد کی سختی ذرا سی رہ جاتی ہے، اور یہ درجہ اول سے بھی کم ہے، اول میں تو ایک نقطہ کے برابر امانت رہ گئی تھی یہاں اتنی بھی نہ رہی صرف نشان رہ گیا۔

4054- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَبْدًا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ، فَإِذَا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ، لَمْ تَلْقَهُ إِلا مَقِيتًا مُمَقَّتًا، فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلا مَقِيتًا مُمَقَّتًا، نُزِعَتْ مِنْهُ الأَمَانَةُ، فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الأَمَانَةُ، لَمْ تَلْقَهُ إِلا خَائِنًا مُخَوَّنًا، فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلا خَائِنًا مُخَوَّنًا، نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ، فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ، لَمْ تَلْقَهُ إِلا رَجِيمًا مُلَعَّنًا، فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلا رَجِيمًا مُلَعَّنًا، نُزِعَتْ مِنْهُ رِبْقَةُ الإِسْلامِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۸۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۰) (موضوع)
(سند میں سعید بن سنان متروک راوی ہے، اور دار قطنی وغیرہ نے وضع حدیث کا اتہام لگایا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۳۰۴۴)
۴۰۵۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیاء کو نکال لیتا ہے، پھر جب حیا اٹھ جاتی ہے تو اللہ کے قہر میں گرفتار ہو جاتا ہے، اور اس حالت میں اس کے دل سے امانت بھی چھین لی جاتی ہے، اور جب اس کے دل سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے، اور جب چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل سے رحمت چھین لی جاتی ہے، اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو تم اسے ملعون و مردود پائو گے، اور جب تم ملعون و مردود دیکھو تو سمجھ لو کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل چکا ہے'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب الآيَاتِ
۲۸- باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان​

4055- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ الْكِنَانِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ: اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ،فَقَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَالدَّابَّةُ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَخُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلام، وَثَلاثُ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنِ أَبْيَنَ، تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ، تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا "۔
* تخريج: أنظرحدیث (رقم: ۴۰۴۱) (صحیح)

۴۰۵۵- حذیفہ بن أسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض (چوپایا)، یاجوج ماجوج، عیسی بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا خسف (دھنسنا): ایک مشرق میں ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گائوں ''أبین'' کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ آگ ساری دنیا میں پھیل جائے گی اور اس سے کافروں کی سانس رک جائے گی، اور مسلمانوں کو زکام کی حالت پیدا ہو جائے گی، اور یہ نشانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی، قیامت کے قریب ہو گی، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ نشانی ظاہر ہو گئی اور آیت میں اسی کا ذکر ہے: {يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاء بِدُخَانٍ مُّبِينٍ} [سورة الدخان: ۱۰] اور یہ دھواں قریش پر آیا تھا، ان پر قحط پڑا تھا اور آسمان میں دھواں سا معلوم ہوتا تھا۔

4056- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الأَرْضِ، وَالدَّجَّالَ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۱) (حسن صحیح)
(سنان بن سعید یہ سعد بن سنان کندی مصری ہیں صدوق ہیں، اس لئے یہ سند حسن ہے لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۷۵۹)
۴۰۵۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض (چوپایا)، دجال، ہر شخص کی خاص آفت (یعنی موت)، عام آفت (جیسے وباء وغیرہ)''۔

4057- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الآيَاتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۷۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۲) (موضوع)
(سند میں عون بن عمارہ ضعیف، اور عبد اللہ بن المثنیٰ صدوق اور کثیر الغلط ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں داخل کیا ہے، ان کی سند میں محمد بن یونس کدیمی نے عون سے روایت کی ہے، جن پر اس حدیث کے وضع کا اتہام لگایا گیا ہے)
۴۰۵۷- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(قیامت کی) نشانیاں دو سو سال کے بعد ظاہر ہوں گی''۔

4058- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " أُمَّتِي عَلَى خَمْسِ طَبَقَاتٍ: فَأَرْبَعُونَ سَنَةٍ أَهْلُ بِرٍّ وَتَقْوَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ، أَهْلُ تَرَاحُمٍ وَتَوَاصُلٍ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، إِلَى سِتِّينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ، أَهْلُ تَدَابُرٍ وَتَقَاطُعٍ، ثُمَّ الْهَرْجُ الْهَرْجُ، النَّجَا النَّجَا ".
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۳) (ضعیف)
(سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں)
۴۰۵۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت پانچ طبقات پر مشتمل ہو گی: چالیس سال نیکو کاروں اور متقیوں کے ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو سال تک صلہ رحمی کرنے والے اور رشتے ناطے کا خیال رکھنے والے ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو ساٹھ سال تک وہ لوگ ہوں گے جو رشتہ ناطہ توڑیں گے، اور ایک دوسرے کی طرف سے منہ موڑیں گے، پھر اس کے بعد قتل ہی قتل ہو گا، لہٰذا تم ایسے زمانے سے نجات مانگو، نجات مانگو''۔

4058/أ- نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَازِمٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْمِسْوَرُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مَعْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أُمَّتِي عَلَى خَمْسِ طَبَقَاتٍ: كُلُّ طَبَقَةٍ أَرْبَعُونَ عَامًا، فَأَمَّا طَبَقَتِي وَطَبَقَةُ أَصْحَابِي، فَأَهْلُ عِلْمٍ وَإِيمَانٍ، وَأَمَّا الطَّبَقَةُ الثَّانِيَةُ، مَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ، إِلَى الثَّمَانِينَ، فَأَهْلُ بِرٍّ وَتَقْوَى " ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۴) (ضعیف)
(سند میں ابو معن، مسور، اور خازم العنزی سب مجہول ہیں، ابو حاتم نے حدیث کو باطل قرار دیا ہے)
۴۰۵۸/أ- اس سند سے بھی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت کے پا نچ طبقے ہوں گے، اور ہر طبقہ چالیس برس کا ہو گا، میرا اور میرے صحابہ کا طبقہ تو اہل علم اور اہل ایمان کا ہے، اور دوسرا طبقہ چالیس سے لے کر اسی تک اہل بر اور اہل تقوی کا طبقہ ہے''، پھر راوی نے سابقہ حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب الْخُسُوفِ
۲۹- باب: زمین کے دھنسنے کا بیان​

4059- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۲۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۵) (صحیح)
(سند میں سیار ابو الحکم اور طارق بن شہاب کے مابین انقطاع ہے لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۷۸۷)
۴۰۵۹- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''قیامت سے پہلے مسخ، (صورتوں کی تبدیلی ہونا) زمین کا دھنسنا، اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی''۔

4060- حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: " يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۰۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۶) (صحیح)
(سند میں عبد الرحمن بن زید ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۴؍ ۳۹۴)
۴۰۶۰- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''میری امت کے اخیر میں زمین کا دھنسنا، صورتوں کا مسخ ہونا، اور آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا''۔

4061- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلا أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ فُلانًا يُقْرِئُكَ السَّلامَ، قَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ، فَلا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلامَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " يَكُونُ فِي أُمَّتِي (أَوْ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ) مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ " وَذَلِكَ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ.
* تخريج: د/السنۃ ۷ (۴۶۱۳)، ت/القدر ۱۶ (۲۱۵۲)، تحفۃ الأشراف: ۷۶۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۰۸، ۱۳۶) (حسن)
(سند میں ابو صخر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)
۴۰۶۱- نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص نے آکر کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں بدعت نکالی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہو تو اسے میرا سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''میری امت میں (یا اس امت میں) مسخ (صورتوں کی تبدیلی)، اور زمین کا دھنسنا آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا''، اور یہ قدریہ میں ہو گا جو تقدیر کے منکر ہیں۱؎۔
وضاحت۱؎: جو تقدیر کے منکر ہیں، ان کا نام تقدیر کے انکارکی وجہ سے قدریہ پڑا۔

4062- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ،، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۳) (صحیح)
(سند میں ابو الزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ابن معین نے کہا کہ ابو الزبیر کا سماع ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو الصحیحہ: ۴؍۳۹۴)
۴۰۶۲- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت میں زمین کا دھنسنا، صورتوں کا مسخ ہونا، اور آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب جَيْشِ الْبَيْدَاءِ
۳۰- باب: بیداء کے لشکر کا بیان​

4063- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ، خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ، وَيَتَنَادَى أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ، فَلا يَبْقَى مِنْهُمْ إِلا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ " فَلَمَّا جَاءَ جَيْشُ الْحَجَّاجِ، ظَنَنَّا أَنَّهُمْ هُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَنَّ حَفْصَةَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ۔
* تخريج: ن/المناسک ۱۱۲ (۲۸۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۹۹)، وقد أخرجہ: م/الفتن ۲ (۲۸۸۳)، حم (۶/۲۸۶) (صحیح)

۴۰۶۳- عبد اللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا: ''ایک لشکر اس بیت اللہ کا قصد کرے گا تاکہ اہل مکہ سے لڑائی کرے، لیکن جب وہ لشکر مقام بیداء میں پہنچے گا تو اس کے درمیانی حصہ کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور دھنستے وقت جو لوگ آگے ہوں گے وہ پیچھے والوں کو آواز دیں گے لیکن آواز دیتے دیتے سب دھنس جائیں گے، ایک قاصد کے علاوہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا جو لوگوں کو جا کر خبر دے گا''۔
(عبداللہ بن صفو ان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) جب حجاج (بن یوسف ثقفی) کا لشکر آیا (اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لئے مکہ کی طرف بڑھا) تو ہم سمجھے شاید وہ یہی لشکر ہو گا، ایک شخص نے (یہ سن کر) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا، اور ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ پر جھوٹ نہیں باندھا ''۱؎۔

وضاحت۱؎: یعنی حجاج بن یوسف کا لشکر اگرچہ وہ لشکرنہیں ہے کہ جس کا حدیث میں ذکر ہوا مگر وہ قیامت سے پہلے پہلے مکہ پر حملہ آور ضرور ہو گا، پھر ان کا ایک حصہ زمین میں دھنسایا بھی ضرور جائے گا اور وہ دجال کا لشکر ہو گا۔

4064- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لايَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ، حَتَّى يَغْزُوَ جَيْشٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ (أَوْ بَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ) خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ ".
قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ فِيهِمْ مَنْ يُكْرَهُ؟ قَالَ: " يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ "۔
* تخريج: ت/الفتن ۳۱ (۲۱۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۳۶، ۳۳۷) (صحیح)
(سند میں مسلم بن صفوان مجہول راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
۴۰۶۴- ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگ اللہ کے اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہ آئیں گے حتی کہ ایک لشکر لڑنے کے لئے آئے گا، جب وہ لوگ مقام بیداء یا بیداء کی سرزمین میں پہنچیں گے، تو اول سے لے کر اخیر تک تمام زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے، اور ان کے درمیان والے بھی نہیں بچیں گے''۔
میں نے عر ض کیا: اگر ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی اس لشکر میں شامل کیا گیا ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:'' اللہ تعالی قیامت کے دن انہیں اپنی اپنی نیت کے موافق اٹھائے گا''۔


4065- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: ذَكَرَ النَّبِيُّ ﷺ الْجَيْشَ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِمْ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَعَلَّ فِيهِمُ الْمُكْرَهَ؟ قَالَ: " إِنَّهُمْ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ "۔
* تخريج: ت/الفتن ۱۰ (۲۱۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۸۹) (صحیح)

۴۰۶۵- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس لشکر کا ذکر فرمایا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ''اللہ کے رسول! شاید ان میں کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی لایا گیا ہو؟'' آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ اپنی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب دَابَّةِ الأَرْضِ
۳۱- باب: (قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان​

4066- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا خَاتَمُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، وَعَصَا مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ، عَلَيْهِمَا السَّلام، فَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا، وَتَخْطِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتِمِ، حَتَّى أَنَّ أَهْلَ الْحِوَاءِ لَيَجْتَمِعُونَ، فَيَقُولُ هَذَا: يَا مُؤْمِنُ! وَيَقُولُ هَذَا: يَاكَافِرُ! ".
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۲۸ (۳۱۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۴۵، ۴۹۱، ۴۹۶) (ضعیف)
(سند میں علی بن زید ضعیف اور اوس بن خالد مجہول راوی ہیں)
۴۰۶۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''زمین سے ایک جانور نکلے گا، اس کے ساتھ سلیمان بن داود علیہما السلام کی انگوٹھی اور موسی بن عمران علیہ السلام کا عصا ہو گا، اس عصا (چھڑی) سے وہ مومن کا چہرہ روشن کر دے گا، اور انگوٹھی سے کافر کی ناک پر نشان لگائے گا، حتی کہ جب ایک محلہ کے لوگ جمع ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن! اور وہ کہے گا: اے کا فر!''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی مومن اور کافرنشان کی وجہ سے معلوم ہو جائیں گے تو ہر ایک شخص مومن کو ایمان کا نشان دیکھ کر مومن کے لقب سے پکارے گا اور کافر کو کفر کا نشان دیکھ کر کافر کہہ کر پکارے گا، غرض اس وقت ایمان اور کفر چھپا نہ رہے گا، حقیقت میں جانور کی صورت میں دابۃ الارض ایک فرشتہ ہو گا، جو صفا پہاڑ ی سے نمودار ہو گا، بعضوں نے کہا کہ اس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ کی ہو گی اور عجب الخلقت ہو گا، ہر ایک جانور کی کچھ کچھ مشابہت اس میں ہو گی اور اللہ تعالی کی قدرت کے سامنے یہ امر بہت آسان ہے، ہمارے زمانہ میں بہت سارے بچے عجیب الخلقت پیدا ہوتے ہیں، تو فرشتے کا ایک عجیب صورت میں ظاہر ہونا کیا مشکل ہے، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

[ز] 4066/أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ مَرَّةً، فَيَقُولُ هَذَا: يَامُؤْمِنُ! وَهَذَا: يَا كَافِرُ! ۔
۴۰۶۶/أ - اس سند سے بھی حماد بن سلمہ نے اس طرح کی روایت ذکر کی ہے اور اس میں ایک بار یہ ہے کہ وہ کہے گا:''اے مومن! اور یہ (کہے گا): اے کافر! (اس سند میں ''هذا يا كافر'' کے ساتھ ''يقول'' کا لفظ نہیں ہے)۔

4067- حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، زُنَيْجٌ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى مَوْضِعٍ بِالْبَادِيَةِ، قَرِيبٍ مِنْ مَكَّةَ، فَإِذَا أَرْضٌ يَابِسَةٌ، حَوْلَهَا رَمْلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ " فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبْرٍ .
قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ: فَحَجَجْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ،فَأَرَانَا عَصًا لَهُ،فَإِذَا هُوَ بِعَصَايَ هَذِهِ، هَكَذَا وَهَكَذَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۷۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۷) (ضعیف جدّاً)
(سند میں خالد بن عبید متروک راوی ہیں)
۴۰۶۷- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھے مکہ کے قریب ایک جگہ صحراء میں لے گئے، تو وہ ایک خشک زمین تھی جس کے اردگرد ریت تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''جانور (دابۃ الا رض) یہاں سے نکلے گا، میں نے وہ جگہ دیکھی، وہ ایک بالشت میں سے انگشت شہادت اور انگو ٹھے کے درمیان کی دوری کے برابر تھی''۔
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال کے بعد حج کیا تو بریدہ رضی اللہ عنہ (یعنی میرے والد) نے ہمیں دابۃ الارض کا عصا دکھایا جو میرے عصا کے بقدر لمبا اور موٹا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا
۳۲- باب: پچھم سے سورج نکلنے کا بیان​

4068- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ، آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَلِكَ حِينَ { لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ}"۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۷ (۴۶۳۵)، الرقاق ۴۰ (۶۵۰۶)، الفتن ۲۵ (۷۱۲۱)، م/الإیمان ۷۲ (۱۵۷)، د/الملاحم ۱۲ (۴۳۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۹۷)، وقد أخرجہ: ت/التفسیر ۷ (۳۰۷۲)، حم (۲/۲۳۱، ۳۱۳، ۳۵۰، ۳۷۲، ۵۳۰) (صحیح)

۴۰۶۸- ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا، جب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں گے تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایسا وقت ہوگا کہ اس وقت ''جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتے تھے، ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا'' (سورۃ الأنعام: ۱۲۸)۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ اللہ کی قدرت کی کھلی کھلی نشانی ظاہر ہو جائے گی اور ایسی حالت میں تو سب مومن ہو جاتے ہیں، جیسے قیامت میں جنت، جہنم اور حشر کو دیکھ کر سب ایمان لائیں گے، ایمان جو قبول ہے وہ یہی ہے کہ غیب پر ایمان لائے، بہرحال پچھم سے جب تک سورج نہ نکلے اس وقت تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے، پھر بند ہو جائے گا۔

4069- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَوَّلُ الآيَاتِ خُرُوجًا، طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى " .
قَالَ عَبْدُاللَّهِ: فَأَيَّتُهُمَا مَا خَرَجَتْ قَبْلَ الأُخْرَى، فَالأُخْرَى مِنْهَا قَرِيبٌ.
قَالَ عَبْدُاللَّهِ: وَلا أَظُنُّهَا إِلا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا۔
* تخريج: م/الفتن ۲۳ (۲۹۴۱)، د/الملاحم ۱۲ (۴۳۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۴، ۲۰۱) (صحیح)

۴۰۶۹- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت کی پہلی نشانی سورج کا پچھم سے نکلنا، اور چاشت کے وقت لوگوں پر دابہ (چوپایہ) کا ظاہر ہونا ہے''۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے نکلے، تو دوسرا اس سے قریب ہو گا، میرا یہی خیال ہے کہ پہلے سورج پچھم سے نکلے گا۱؎۔

وضاحت۱؎: یعنی ان نشانیوں میں جو قانون قدرت کے خلاف ہیں کیونکہ پہلی نشانی مہدی علیہ السلام کا ظہور ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اتر کر زمین پر آنا، پھر دجال کا نکلنا، پھر یاجوج ماجوج کا نکلنا، اور دابۃ الارض میں اختلاف ہے کہ سورج کے نکلنے سے پہلے نکلے گا یا بعد میں نکلے گا، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا یہی خیال تھا کہ وہ سورج نکلنے کے بعد نکلے گا، جب کہ اوروں نے کہا کہ اس سے پہلے نکلے گا، بہرحال آسمانی نشانیوں میں سورج کا نکلنا آخری نشانی ہے، اور ارضی نشانیوں میں دابۃ الارض کا نکلنا پہلی، اور بعض نے کہا کہ پہلی قیامت کی نشانی دجال کا نکلنا ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا، پھر یاجوج اور ماجوج کا نکلنا، پھر دابۃ الارض کا، پھر سورج کا پچھم سے نکلنا، کیونکہ سورج نکلنے پر ایمان کا دروازہ بند ہو جائے گا، اور عیسیٰ علیہ السلام کے عہد میں بہت سے کافر دین اسلام کو قبول کریں گے یہاں تک کہ ساری دنیا میں ایک ہی دین ہو جائے گا۔ والحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات.

4070- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ مِنْ قِبَلِ مَغْرِبِ الشَّمْسِ بَابًا مَفْتُوحًا، عَرْضُهُ سَبْعُونَ سَنَةً، فَلا يَزَالُ ذَلِكَ الْبَابُ مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ، فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ نَحْوِهِ، لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا "۔
* تخريج: ت/الدعوات ۹۹ (۳۵۳۵، ۳۵۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۳۹، ۲۴۰، ۲۴۱) (حسن)

۴۰۷۰- صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مغرب (یعنی سورج کے ڈوبنے کی سمت) میں ایک کھلا دروازہ ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، یہ دروازہ توبہ کے لئے ہمیشہ کھلا رہے گا، جب تک سورج ادھر سے نہ نکلے، اور جب سورج ادھرسے نکلے گا تو اس وقت کسی شخص کا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لا کر کوئی نیکی نہ کما لی ہو، اس کا ایمان لانا کسی کام نہ آئے گا''۔
 
Top