- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,587
- ری ایکشن اسکور
- 6,767
- پوائنٹ
- 1,207
132- بَاب فِي الإِمَامِ يُقِيمُ عِنْدَ الظُّهُورِ عَلَى الْعَدُوِّ بِعَرْصَتِهِمْ
۱۳۲-باب: دشمن پر غلبہ پانے کے بعد امام کا میدان جنگ میں ٹھہرنا
2695- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ (ح) وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا غَلَبَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاثًا، قَالَ ابْنُ المُثَنَّى: إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلاثًا.
[قَالَ أَبو دَاود: كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَطْعَنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، لأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَدِيمِ حَدِيثِ سَعِيدٍ، لأَنَّهُ تَغَيَّرَ سَنَةَ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، وَلَمْ يُخْرِجْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلا بِآخَرة.
قَالَ أَبو دَاود: يُقَالُ إِنَّ وَكِيعًا حَمَلَ عَنْهُ فِي تَغَيُّرِهِ].
* تخريج: خ/الجھاد ۱۸۴ (۳۰۶۴)، والمغازي ۸ (۳۹۷۶)، م/صفۃ أہل النار ۱۷ (۲۸۷۵)، ت/السیر ۳ (۱۵۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۴۵، ۴/۲۹)، دي/السیر ۲۲ (۲۵۰۲) (صحیح)
۲۶۹۵- ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے ۔
ابن مثنیٰ کا بیان ہے : جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جوان کی سرزمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے ۔
ابو داود کہتے ہیں : کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیوں کہ یہ سعید(ابن ابی عروبہ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے، اس لئے کہ ۱۴۵ھ میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہو گیا تھا، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ ٔتغیر میں ہی حدیث حاصل کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : بخاری اورمسلم نے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کو روح بن عبادہ کی روایت سے صحیحین میں داخل کیا ہے، یہ روایت بھی روح ہی کے واسطے سے ہے، اس لئے اس کی صحت میں کوئی کلام نہیں ہے، وکیع نے ابن ابی عروبہ سے اختلاط کے بعد روایت کی ہے یہ بات مسلَّم ہے، مگر یہاں اس کا کوئی عمل دخل نہیں یہ بات مؤلف نے برسبیل تذکرہ لکھ دی ہے ۔