- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
134- بَاب الرُّخْصَةِ فِي الْمُدْرِكِينَ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمْ
۱۳۴-باب: جوان قیدیوں کو الگ الگ رکھنا جائز ہے
2697- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ -وَأَمَّرَهُ [عَلَيْنَا] رَسُولُ اللَّهِ ﷺ - فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ، فَشَنَنَّا الْغَارَةَ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَقَامُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ، [وَ]عَلَيْهَا قِشْعٌ مَنْ أَدَمٍ مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ لِي: < يَا سَلَمَةُ! هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ > فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدْأَعْجَبَتْنِي، وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي السُّوقِ فَقَالَ: <يَاسَلَمَةُ، هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ >، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، وَهِيَ لَكَ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى فَفَادَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ۔
* تخريج: م/الجھاد ۱۴ (۱۷۵۵)، ق/الجھاد ۳۲ (۲۸۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۶، ۴۷، ۵۱) (حسن)
۲۶۹۷- سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے قبیلہ بنی فزارہ سے جنگ کی، ہم نے ان پر اچانک حملہ کیا، کچھ بچوں اور عورتوں کی گردنیں ہمیں نظر آئیں، تو میں نے ایک تیر چلائی، تیر ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا وہ سب کھڑے ہوگئے، پھر میں ان کو پکڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی، وہ کھال پہنے ہوئی تھی، اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی، ابوبکر نے مجھے اس کی بیٹی کو بطور انعام دے دیا، میں مدینہ آیا تو رسول اللہ ﷺ سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ''سلمہ! اس عورت کومجھے ہبہ کر دو''، میں نے کہا: اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند آئی ہے، اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، آپ خاموش ہو گئے، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ پھر مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: ''سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کردو، قسم ہے اللہ کی'' ۱؎ ، میں نے کہا: اللہ کے رسول !اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، اور وہ آپ کے لئے ہے، پھر آپ ﷺ نے اسے مکہ والوں کے پاس بھیج دیا، اور اس کے بدلے میں ان کے پاس جو مسلمان قیدی تھے انہیں چھڑا لیا۔
وضاحت ۱؎ : متن حدیث میں ''لله أبوك'' کے الفاظ ہیں یہ جملہ قسم کے حکم میں ہے ۔