- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
{ 30-أوَّلُ كِتَاب الْمَهْدِيِّ }
۳۰-کتاب: خروج مہدی کا بیان
1-[باب]
۱-باب
4279- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً، كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الأُمَّةُ > فَسَمِعْتُ كَلامًا مِنَ النَّبِيِّ ﷺ لَمْ أَفْهَمْهُ، قُلْتُ لأَبِي: مَا يَقُولُ؟ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۳۴)، وقد أخرجہ: خ/الأحکام ۵۱ (۷۲۲۲)، م/الإمارۃ ۱ (۱۸۲۱)، ت/الفتن ۴۶ (۲۲۲۴)، حم (۵/۸۶، ۸۸، ۹۶، ۱۰۵) (صحیح)
(اس میں: '' تجتمع علیہ الأمۃ '' کا ٹکڑا منکر ہے، صحیح نہیں ہے)، (ابو خالد الاحمسی لین الحدیث ہیں، اور اس کی روایت میں متفرد ہیں، ملاحظہ ہو: الصحیحۃ: ۳۷۶، وتراجع الألباني: ۲۰۸)
ٍ ۴۲۷۹- جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :''یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر با رہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی''، پھر میں نے نبی اکرمﷺ سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا:آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتا یا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ''یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے''۔
4280- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ ابْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً > قَالَ: فَكَبَّرَ النَّاسُ وَضَجُّوا، ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيفَةً، قُلْتُ لأَبِي: يَاأَبَتِ مَا قَالَ؟ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ۔
* تخريج: م/ الإمارۃ ۱ (۱۸۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۸۷، ۸۸، ۹۰، ۹۳، ۹۶، ۱۰۱، ۱۰۶) (صحیح)
۴۲۸۰- جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا''، لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا، اور ہنگامہ کر نے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا :ابا! نبی اکرم ﷺ نے کیا فرمایا؟ کہا:آپ ﷺ نے فرمایا ہے:'' یہ سب قریش میں سے ہوں گے''۔
4281- حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ أَتَتْهُ قُرَيْشٌ، فَقَالُوا: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا؟ قَالَ: < ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۹۲) (صحیح)
(اس میں : '' فلما جمع۔۔۔۔'' کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے)
۴۲۸۱- اس سند سے بھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ ﷺ اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ''پھر قتل ہو گا''۔
4282- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا أَبُوبَكْرٍ -يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ- (ح) وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ (ح) و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ (ح) و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ [بْنُ مُوسَى]، عَنْ فِطْرٍ، الْمَعْنَى [وَاحِدٌ] كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا يَوْمٌ > قَالَ زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ: < لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ > [ثُمَّ اتَّفَقُوا] < حَتَّى يَبْعَثَ [فِيهِ] رَجُلا مِنِّي > أَوْ < مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمُ أَبِي > زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ < يَمْلأُ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا > وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: <لا تَذْهَبُ، أَوْ لا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي >.
قَالَ أَبو دَاود: لَفْظُ عُمَرَ وَأَبِي بَكْرٍ بِمَعْنَى سُفْيَانَ۔
* تخريج: ت/الفتن ۵۲ (۲۲۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۶، ۳۷۷، ۴۳۰، ۴۴۸) (حسن صحیح)
۴۲۸۲- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'' اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالی اس دن کولمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل وانصاف سے زمین کو بھردے گا، جیسا کہ وہ ظلم وجور سے بھر دی گئی ہے''۔
سفیان کی روایت میں ہے: ''دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تا آنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہوگا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا ''۔
ابو داود کہتے ہیں : عمر اور ابو بکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔
4283- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ عَلِيٍ رَضِي اللَّه عَنْه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۹) (صحیح)
۴۲۸۳- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'' اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالی میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا بھیجے گا وہ اسے عدل وانصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے یہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے ''۔
4284- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُوالْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ >.
قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ: وَسَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ يُثْنِي عَلَى عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ وَيَذْكُرُ مِنْهُ صَلاحًا۔
* تخريج: ق/الفتن ۳۴ (۴۰۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۵۳) (حسن)
۴۲۸۴- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:'' مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے''۔
4285- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَى الْجَبْهَةِ، أَقْنَى الأَنْفِ، يَمْلأُ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ > ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۷۸)، وقد أخرجہ: ت/الفتن ۵۳ (۲۲۳۲)، ق/الفتن ۳۴ (۴۰۸۶) (حسن)
۴۲۸۵- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' مہدی میری اولاد میں سے کشادہ پیشانی، اونچی ناک والے ہوں گے، وہ روئے زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے، جیسے کہ وہ ظلم وجور سے بھر دی گئی ہے، ان کی حکومت سات سال تک رہے گی'' ۔
4286- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < يَكُونُ اخْتِلافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنْ [أَهْلِ] الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ [بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ] ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ، وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ، فَيَقْسِمُ الْمَالَ، وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ ﷺ ، وَيُلْقِي الإِسْلامُ بِجِرَانِهِ فِي الأَرْضِ، فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ، ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ >.
قَالَ أَبو دَاود: قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ < تِسْعَ سِنِينَ > و قَالَ بَعْضُهُمْ <سَبْعَ سِنِينَ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۷۰، ۱۸۲۵۰ )، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۵۹، ۳۱۶) (ضعیف)
۴۲۸۶- ام المو منین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:''ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہوگا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کے لئے پیش کر یں گے ، اسے یہ پسند نہ ہو گا، پھر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگ اس سے بیعت کریں گے، اور شام کی جانب سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا تو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں وہ سب کے سب دھنسا دئے جائیں گے، جب لوگ اس صورت حال کو دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی، حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کر یں گی، اس کے بعد ایک شخص قریش میں سے اٹھے گا جس کا ننہال بنی کلب میں ہو گا جو ایک لشکر ان کی طرف بھیجے گا، وہ اس پر غالب آئیں گے، یہی کلب کا لشکر ہو گا، اور نامراد رہے گا وہ شخص جو کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہ رہے، وہ مال غنیمت تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جا ری کرے گا، اور اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا، وہ سات سال تک حکمرانی کرے گا، پھر وفات پا جائے گا، اور مسلمان اس کی صلاۃِ جنازہ پڑھیں گے''۔
ابو داود کہتے ہیں :بعض نے ہشام سے ''نوسال'' کی روایت کی ہے اور بعض نے ''سا ت'' کی ۔
4287- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: < تِسْعَ سِنِينَ >.
قَالَ أَبو دَاود: و قَالَ غَيْرُ مُعَاذٍ عَنْ هِشَامٍ < تِسْعَ سِنِينَ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۷۰) (ضعیف)
۴۲۸۷- اس سند سے قتادہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ''نو سال'' ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: معاذ کے علاوہ نے ہشام سے ''نوسال کی'' روایت کی ہے۔
4288- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِهَذَا [الْحَدِيثِ] وَحَدِيثُ مُعَاذٍ أَتَمُّ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۲۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۷۰) (ضعیف)
۴۲۸۸- اس سند سے بھی ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ سے یہی حدیث روایت کرتی ہیں، معاذ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
4289- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِقِصَّةِ جَيْشِ الْخَسْفِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا؟ قَالَ: < يُخْسَفُ بِهِمْ، وَلَكِنْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ >۔
* تخريج: م/ الفتن ۲ (۲۸۸۲)،(تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۰) (صحیح)
۴۲۸۹- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ سے دھنسائے جا نے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حال ہو گا جو نہ چاہتے ہوئے زبر دستی لایا گیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا:'' وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا''۔
4290- قَالَ أَبو دَاود: حُدِّثْتُ عَنْ هَارُونَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه، وَنَظَرَ إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ كَمَا سَمَّاهُ النَّبِيُّ ﷺ وَسَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ يُشْبِهُهُ فِي الْخُلُقِ وَلا يُشْبِهُهُ فِي الْخَلْقِ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً: يَمْلأُ الأَرْضَ عَدْلا.
و قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ هِلالِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ حَرَّاثٍ، عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَنْصُورٌ، يُوَطِّئُ، أَوْ يُمَكِّنُ، لآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ > أَوْ قَالَ: < إِجَابَتُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۵۳، ۱۰۳۰۹) (ضعیف)
۴۲۹۰- ابو اسحاق کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، اور کہا :''یہ میرا بیٹا سردا ر ہوگا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام رکھا ہے، اور عنقریب اس کی نسل سے ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جس کا نام تمہارے نبی کے نام جیسا ہو گا،اور سیرت میں ان کے مشابہ ہوگا البتہ صورت میں مشابہ نہ ہو گا''، پھر انہوں نے ''سيملأ الأرض عدلاً'' کا واقعہ ذکر کیا۔
ہارون کہتے ہیں :ہم سے عمرو بن ابی قیس نے بیان کیا وہ مطرف بن طریف سے وہ ابو الحسن سے اوروہ ہلا ل بن عمرو سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :''نہر اس پار سے ایک شخص نکلے گا جس کا نام حارث بن حراث ہو گا اس کے آگے ایک شخص ہو گا اس کا نام منصور ہوگا ، وہ آل محمد کو غالب کرے گا، جیسا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو غالب کیا تھا، اس کی مدد کرنا، یا کہا: اس کا حکم ماننا ہر مومن پر واجب ہے''۔
* * * * *