9- بَاب فِي قِتَالِ التُّرْكِ
۹-باب: کافر ترکوں سے لڑنے کا بیان
4303- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ -يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ- عَنْ سُهَيْلٍ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ، قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ، يَلْبَسُونَ الشَّعْرَ >۔
* تخريج: م/الفتن ۱۸ (۲۹۱۲)، ن/الجہاد ۴۲ (۳۱۷۹)، ق/الفتن ۳۶ (۴۰۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۷۶۶)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۹۵ (۲۹۲۸)، ۹۶ (۲۹۲۹)، المناقب ۲۵ (۳۵۹۰)، حم ( ۲ /۲۳۹، ۲۷۱، ۳۰۰، ۳۱۹، ۳۳۸، ۴۷۵، ۴۹۳، ۵۳۰) (صحیح)
۴۳۰۳- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں جو ایک ایسی قوم ہوگی جن کے چہرے تہ بہ تہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہونگے، اور وہ بالوں کے لباس پہنتے ہوں گے ''۔
4304- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ السَّرْحِ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ ذُلْفَ الآنُفِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ >۔
* تخريج: خ/ الجہاد ۹۶ (۲۹۲۹)، م/ الإمارۃ ۱۲ (۲۹۱۲)، ت/ الفتن ۴۰ (۲۲۱۵)، ق/ الفتن ۳۶ (۴۰۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۹) (صحیح)
۴۳۰۴- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :'' قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑوگے جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی، اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑوگے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہوں گی، اور ان کے چہرے اس طرح ہوں گے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں''۔
4305- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا خَلادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي حَدِيثِ: < يُقَاتِلُكُمْ قَوْمٌ صِغَارُ الأَعْيُنِ > يَعْنِي التُّرْكَ، قَالَ: < تَسُوقُونَهُمْ ثَلاثَ مِرَارٍ حَتَّى تُلْحِقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، فَأَمَّا فِي السِّيَاقَةِ الأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ، وَأَمَّا فِي الثَّانِيَةِ فَيَنْجُو بَعْضٌ وَيَهْلَكُ بَعْضٌ، وَأَمَّا فِي الثَّالِثَةِ فَيُصْطَلَمُونَ > أَوْ كَمَا قَالَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۹)، وقد أخرجہ: حم ( ۵/۳۴۸) (ضعیف)
۴۳۰۵- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:'' تم سے ایک ایسی قوم لڑے گی جس کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی''، یعنی ترک، پھر فرمایا:'' تم انہیں تین بار پیچھے کھدیڑ دوگے، یہاں تک کہ تم انہیں جزیرہ ٔ عرب سے ملا دو گے، تو پہلی بار میں ان میں سے جو بھاگ گیا وہ نجات پا جائے گا، اور دوسری بار میں کچھ بچ جائیں گے، اور کچھ ہلاک ہو جائیں گے، اور تیسری بار میں ان کا بالکل خاتمہ ہی کردیا جائے گا ''
أو کماقال (جیسا آپ ﷺ نے فرمایا) ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہی روایت امام ا حمد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے جس کا سیاق ابو داود کی اس حدیث کے سیاق کے مخالف ہے، اس میں ہے بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھا تھا، میں نے آپ کوکہتے سنا کہ میری امت کو ایک ایسی قوم تین بار کھدیڑے گی جس کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹیں ہوں گی، گویا ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال ہوں گے، یہاں تک کہ وہ انہیں جزیرۂ عرب سے ملادیں گے۔۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھدیڑنے والے ترک ہوں گے، وہ مسلمانوں کو کھدیڑیں گے، اس اختلاف کے ذکر کے بعد صاحب عون لکھتے ہیں:
''وعندي أن الصواب هي رواية أحمد وأما رواية أبي داود فالظاهر أنه وقع الوهم فيه من بعض الرواة''، اور اپنے اس نقطہ نظر کی تائید میں انہوں نے مزید شواہد بھی ذکر کئے ہیں (ملاحظہ ہو عون المعبود،۴؍۱۸۷)، علی کل حال بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف ہے۔