39- بَاب فِي الْقَسْمِ بَيْنَ النِّسَاءِ
۳۹-باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان
2133- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ >۔
* تخريج: ت/النکاح ۴۱ (۱۱۴۱)، ن/عشرۃ النساء ۲ (۳۹۹۴)، ق/النکاح ۴۷ (۱۹۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۵، ۳۴۷، ۴۷۱)، دي/النکاح ۲۴ (۲۲۵۲) (صحیح)
۲۱۳۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا ، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہوگا''۔
2134- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلابَةَ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ: < اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلا أَمْلِكُ >، قَالَ أَبو دَاود: يَعْنِي الْقَلْبَ۔
* تخريج: ت/النکاح ۴۱ (۱۱۴۰)، ن/عشرۃ النساء ۲ (۳۳۹۵)، ق/النکاح ۴۷ (۱۹۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴۴)، دي/النکاح ۲۵ (۲۲۵۳) (ضعیف)
(حماد بن زید اور دوسرے زیادہ ثقہ رواۃ نے اس کو عن ابی قلابۃ عن النبی ﷺ مرسلا روایت کیا ہے )
۲۱۳۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ( اپنی بیویوں کی ) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے:''( اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے ( یعنی دل کا میلان) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملا مت نہ فرمانا''۔
2135- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ (يَعْنِي) ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لايُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتَ عِنْدَهَا، وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : يَا رَسُولَ اللَّهِ! يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْهَا، قَالَتْ: نَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا، أُرَاهُ قَالَ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا}۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۲۴)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۹۹ (۵۲۱۲)، م/التفسیر ۱ (۳۰۲۲)، حم (۶/۱۰۷) (حسن صحیح)
۲۱۳۵- عروہ کہتے ہیں: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:میرے بھانجے! رسول اللہ ﷺ ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں د یتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ ﷺ سب کے قریب ہو تے ، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے ،اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں الگ کردیں گے تو کہنے لگیں: اللہ کے رسول!میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے رہے گی ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول فرمالی، عائشہ کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ:
{ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا} (سورۃ النساء: ۱۲۸) نازل کی: (اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو) ۔
2136- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَمَا نَزَلَتْ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} قَالَتْ مَعَاذَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَتْ: (كُنْتُ) أَقُولُ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۷ (۴۷۸۹)، م/الطلاق ۴ (۱۴۷۶)، ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۸۹۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۷۶، ۱۵۸، ۲۶۱) (صحیح)
۲۱۳۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آیت کریمہ:
{ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} ۱؎ نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول ﷺ اجازت لیتے تھے ۔
معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں؟ کہنے لگیں : میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔
وضاحت ۱؎ : ''آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں'' (سورۃ الاحزاب:۵۱)۔
2137- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ -تَعْنِي فِي مَرَضِهِ- فَاجْتَمَعْنَ، فَقَالَ: < إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنّ،َ فَإِنْ رَأَيْتُنَّ أَنْ تَأْذَنَّ لِي (فَأَكُونَ) عِنْدَ عَائِشَةَ فَعَلْتُنَّ > فَأَذِنَّ لَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۸۶)، وقد أخرجہ: ق/الجنائز ۶۴ (۱۶۱۸)، حم (۶/۳۱ ۱۸۷، ۲۹۱) (صحیح)
۲۱۳۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا ، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا:'' اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں ، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں''، چنانچہ ان سب نے آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی۔
2138- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ۔
* تخريج: خ/الھبۃ ۱۵ (۲۵۹۳)، والنکاح ۱۷ (۵۰۹۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۰۳، ۱۶۶۷۸)، وقد أخرجہ: م/فضائل الصحابۃ ۱۳ (۲۴۴۵)، ق/النکاح ۴۷ (۱۹۷۰)، ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۸۹۲۳)، حم (۶/ ۱۱۷، ۱۵۱، ۱۹۷، ۲۶۹)، دي/الجہاد ۳۱ (۲۴۶۷) (صحیح)
۲۱۳۸- ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندا زی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے ، آپ ﷺ نے ہر بیوی کے لئے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی ، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی۔