- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
43- بَاب إِحْدَادِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
۴۳-باب: شوہر کی وفات پر بیوی کے سوگ منانے کا بیان
2299- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الأَحَادِيثِ الثَّلاثَةِ.
قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا -أَبُو سُفْيَانَ- فَدَعَتْ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ، خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ، إِلا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا>.
قَالَتْ زَيْنَبُ: وَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَعَلَى الْمِنْبَرِ: < لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ، إِلا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا >.
قَالَتْ زَيْنَبُ: وَسَمِعْتُ أُمِّي -أُمَّ سَلَمَةَ- تَقُولُ: جَائَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَتْ: يَارَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، أَفَنَكْحَلُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا > مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: < لا >، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ >.
قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ: وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلا شَيْئًا، حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ، حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ، فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْئٍ إِلا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ.
قَالَ أَبودَاود: الْحِفْشُ: بَيْتٌ صَغِيرٌ۔
* تخريج: خ/الجنائز ۳۰ (۱۲۸۱)، والطلاق ۴۶ (۵۳۳۶)، ۴۷ (۵۳۳۸)، ۵۰ (۵۳۴۵)، م/الطلاق ۹ (۱۴۸۸)، ن/الطلاق ۵۵ (۳۵۳۰)، ۵۹ (۳۵۵۷)، ۶۳ (۳۵۶۳)، ۶۷ (۳۵۶۸)، ت/الطلاق ۱۸ (۱۱۹۶)، ق/الطلاق ۳۴ (۲۰۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۷۶، ۱۸۲۵۹)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۳۵ (۱۰۱)، حم (۶/۳۲۵، ۳۲۶)، دي/الطلاق ۱۲ (۲۳۳۰) (صحیح)
۲۲۹۹- حمید بن نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی ، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی، میں نے تو ایسا صر ف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا:'' کسی عورت کے لئے جو اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ منانا ہے''۔
زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ام المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا ، انہوں نے (بھی)خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں : اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا:'' کسی بھی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیا دہ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے''۔
زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ''نہیں''، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا: ''نہیں'' ، پھر فرمایا: ''تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کر سکتی ، حا لانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ''۔
حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی ، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کرسکتی اور نہ ہی کوئی زینت وآ رائش کرسکتی تھی، جب سال پورا ہو جاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔
ابو داود کہتے ہیں: حفش چھوٹے گھر(تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔