- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
44- بَاب فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا تَنْتَقِلُ؟
۴۴-باب: کیا شوہر کی موت کے بعدعورت دوسرے گھر منتقل ہو سکتی ہے؟
2300- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ -وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ- أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَائَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، فَإِنِّي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ وَلا نَفَقَةٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < نَعَمْ>، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي، أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ: < كَيْفَ قُلْتِ؟> فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، قَالَتْ: فَقَالَ: < امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ >، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ۔
* تخريج: ت/الطلاق ۲۳ (۱۲۰۴)، ن/الطلاق ۶۰ (۳۵۵۸)، ق/الطلاق ۳۱ (۲۰۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۴۵)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۳۱ (۸۷)، حم (۶/۳۷۰، ۴۲۰)، دي/الطلاق ۱۴ (۲۳۳۳) (صحیح)
۲۳۰۰- زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہوجانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جاملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا :کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خر چ کے لئے کچھ تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ہاں( وہاں چلی جائو)''۔
فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ( یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا ، یا بلانے کے لئے آپ ﷺ نے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا:''تم نے کیسے کہا؟''، میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: '' اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہوجائے ''۔
فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔