- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
35- بَاب مَنْ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ
۳۵-باب: بچے کی پرورش کا زیادہ حق دار کون ہے؟
2276- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو -يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ- حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَائً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَائً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَائً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي، وَأَرَادَ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۲، ۲۰۳) (حسن)
۲۲۷۶- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا گھر رہا، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی ، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی ، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: '' جب تک تو ( دوسرا) نکاح نہیں کر لیتی اس کی تو ہی زیادہ حق دار ہے''۔
2277- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ [الْحُلْوَانِيُّ] حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَأَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلالِ بْنِ أُسَامَةَ أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ سَلْمَى مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ رَجُلَ صِدْقٍ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَائَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَادَّعَيَاهُ، وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ -[وَ]رَطَنَتْ لَهُ بِالْفَارِسِيَّةِ-، زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتَهِمَا عَلَيْهِ، وَرَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ، فَجَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لا أَقُولُ هَذَا، إِلا أَنِّي سَمِعْتُ امْرَأَةً جَائَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ سَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، وَقَدْ نَفَعَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اسْتَهِمَا عَلَيْهِ > فَقَالَ زَوْجُهَا: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < هَذَا أَبُوكَ، وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ > فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ۔
* تخريج: ت/الأحکام ۲۱ (۱۳۵۷)، ن/الطلاق ۵۲ (۳۵۲۶)، ق/الأحکام ۲۲ (۲۳۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۴۷)، دي/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۹) (صحیح)
۲۲۷۷- ہلال بن اسا مہ سے روایت ہے کہ ابو میمونہ سلمی جو اہل مدینہ کے مولی اور ایک سچے آدمی ہیں کا بیان ہے کہ میں ایک بار ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی دوران ان کے پاس ایک فارسی عورت آئی جس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا، اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی اور وہ دونوں ہی اس کے دعویدار تھے، عورت کہنے لگی: ابو ہریرہ ! (پھر اس نے فارسی زبان میں گفتگو کی) میرا شوہر مجھ سے میرے بیٹے کو لے لینا چاہتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دونوں اس کے لئے قرعہ اندازی کرو، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی فارسی زبان ہی میں اس سے گفتگو کی، اتنے میں اس کا شوہر آیا اور کہنے لگا: میرے لڑکے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے؟۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا اللہ! میں نے تو یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ میں نے ایک عورت کو کہتے سنا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، وہ کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے لے لینا چاہتا ہے، حالانکہ وہ ابو عنبہ کے کنویں سے مجھے پانی لاکر پلاتا ہے اور وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم دونوں اس کے لئے قرعہ اندازی کرو''، اس کا شوہر بولا: میرے لڑکے کے متعلق مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''یہ تیرا باپ ہے، اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کا بھی چاہے ہاتھ تھام لے''، چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، اور وہ اسے لے کر چلی گئی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : امام شافعی کی یہی دلیل ہے، ان کے نزدیک لڑکے کو اختیار ہو گا کہ وہ جس کوچاہے اختیار کرلے، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک جب تک کم سن ہے ماں کے ساتھ رہے گا، اور جب خود کھانے، پینے، پہنے اور استنجا کرنے لگے تو باپ کے ساتھ ہو جائے گا، یہ قول زیادہ قوی ہے۔
2278- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا آخُذُهَا، أَنَا أَحَقُّ بِهَا، ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي خَالَتُهَا، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَحَقُّ بِهَا، ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَهِيَ أَحَقُّ بِهَا، فَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَقُّ بِهَا، أَنَا خَرَجْتُ إِلَيْهَا، وَسَافَرْتُ، وَقَدِمْتُ بِهَا فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ فَذَكَرَ حَدِيثًا، قَالَ: < وَأَمَّا الْجَارِيَةُ فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ، تَكُونُ مَعَ خَالَتِهَا، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۸، ۱۱۵) (صحیح)
۲۲۷۸- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ گئے توحمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو لے آئے ، جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اسے میں لوں گا ، میں اس کا زیادہ حق دار ہوں، یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز اس کی خالہ میرے پاس ہے، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے، اور علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے:اس کا زیادہ حق دار میں ہوں کیونکہ یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی بیٹی میرے نکاح میں ہے ، وہ بھی اس کی زیادہ حق دار ہیں اور زید رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے زیادہ اس کا حقدار میں ہوں کیونکہ میں اس کے پاس گیا، اور سفر کرکے اسے لے کر آیا ہوں ، اتنے میں نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے تو علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ ماں کے درجے میں ہے''۔
2279- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى بِهَذَا الْخَبَرِ، وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ، قَالَ: وَقَضَى بِهَا لِجَعْفَرٍ، وَقَالَ: < إِنَّ خَالَتَهَا عِنْدَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۹۷۳، ۱۰۲۲۳) (صحیح)
(یہ روایت خود تو مرسل ہے، اس لئے پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح مانی گئی ہے)
۲۲۷۹- عبد الرحمن بن ابی لیلی سے یہی حدیث مروی ہے لیکن پوری نہیں ہے اس میں ہے کہ:'' آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ لڑکی جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے گی، کیونکہ ان کے نکاح میں اس کی خالہ ہے''۔
2280- حَدَّثَنَا عَبَّادُ ابْنُ مُوسَى أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئٍ وَهُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ تَبِعَتْنَا بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمُّ، يَا عَمُّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ: دُونَكِ بِنْتَ عَمِّكِ، فَحَمَلَتْهَا، فَقَصَّ الْخَبَرَ، قَالَ: وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي، وَخَالَتُهَا تَحْتِي، فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ ﷺ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: < الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۸، ۱۰۸، ۱۱۵) (صحیح)
۲۲۸۰- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے پیچھے حمزہ کی لڑکی چچا چچا پکارتی آگئی ،علی رضی اللہ عنہ ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے اور ( فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: اپنے چچا کی لڑکی کو لو، انہوں نے اسے اٹھا لیا، راوی نے پھر پو را قصہ بیان کیا اور کہا کہ: جعفررضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا :'' خالہ ماں کے درجے میں ہے ''۔