• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
65- بَاب مَا رُوِيَ أَنَّ عَاشُورَاءَ الْيَوْمُ التَّاسِعُ
۶۵-باب: (محرم کی) نویں تاریخ کے(بھی) عاشوراء ہونے کا بیان​


2445- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: حِينَ صَامَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَنَا بِصِيَامِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ صُمْنَا يَوْمَ التَّاسِعِ > فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: م/الصیام ۲۰ (۱۱۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۶۶) (صحیح)
۲۴۴۵- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے دن کا صیام رکھا اور ہمیں بھی اس کے صیام رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ یہود ونصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اگلے سال ہم نویں محرم کا بھی صیام رکھیں گے''، لیکن آئندہ سال نہیں آیا کہ آپ وفات فرما گئے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہود کی مخالفت میں اس کے ساتھ نو کو بھی صیام رکھنے کا عزم کیا تھا اورقولا اس کا حکم بھی دیا تھا، ویسے ایک دن پہلے بھی صیام رہنے سے شکرانہ ادا ہوسکتا ہے۔


2446- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ غَلابٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ، جَمِيعًا، الْمَعْنَى، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَهُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ التَّاسِعِ فَأَصْبِحْ صَائِمًا، فَقُلْتُ: كَذَا كَانَ مُحَمَّدٌ ﷺ يَصُومُ؟ فَقَالَ: كَذَلِكَ كَانَ مُحَمَّدٌ ﷺ يَصُومُ۔
* تخريج: م/الصیام ۲۰ (۱۱۳۳)، ت/الصوم ۵۰ (۷۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۹، ۲۴۶، ۲۸۰، ۳۴۴، ۳۶۰) (صحیح)
۲۴۴۶- حکم بن الاعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد حرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے ، میں نے عاشوراء کے صیام سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر صیام رکھو، میں نے پوچھا: محمد ﷺ بھی اسی طرح صیام رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: (ہاں) محمد ﷺ بھی اسی طرح صیام رکھتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : پچھلی حدیث میں ہے ''آئندہ سال آیا نہیں کہ آپ وفات پاگئے '' اور اس حدیث میں ہے، ''محمد ﷺ بھی اسی طرح (نومحرم کا) صیام رکھتے تھے '' بات صحیح یہی ہے کہ نو کے صیام رکھنے کا آپ ﷺ کوموقع نہیں ملا، لیکن ابن عباسرضی اللہ عنہما نے اس بنا پر کہہ دیا کہ آپ ﷺ نے آئندہ سے صیام رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا، نیز قولا اس کا حکم بھی دیا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
66- بَاب فِي فَضْلِ صَوْمِهِ
۶۶-باب: عاشوراء کے صیام کی فضیلت کا بیان​


2447- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ [بْنُ زُرَيْعٍ]، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا؟ > قَالُوا: لا، قَالَ: < فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ >.
[قَالَ أَبو دَاود: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ]۔
* تخريج: ن/ الصیام ۳۶ (۲۳۲۰) (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۹، ۳۶۷، ۴۰۹) (ضعیف)
(اس کے راوی ''عبد الرحمن'' لین الحدیث ہیں)
۲۴۴۷- عبدالرحمن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا:'' کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا صیام رکھا ہے؟''، جواب دیا: نہیں، فرمایا:''دن کابقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور صیام کی قضا کرو''۔
ابو داود کہتے ہیں: یعنی عاشوراء کے دن ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب فِي صَوْمِ يَوْمٍ وَفِطْرِ يَوْمٍ
۶۷-باب: ایک دن صیام رکھنے اور ایک دن چھوڑ دینے کا بیان​


2448- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَمُسَدَّدٌ، وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصَّلاةِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صَلاةُ دَاوُدَ: كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يُفْطِرُ يَوْمًا وَيَصُومُ يَوْمًا >۔
* تخريج: خ/قیام اللیل ۷ (۱۱۳۱)، م/الصیام ۳۵ (۱۱۵۹)، ن/الصیام ۴۰ (۲۳۴۶)، ق/الصیام ۳۱ (۱۷۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۰۶)، دی/ الصوم (۴۲ (۱۷۹۳) (صحیح)
۲۴۴۸- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:'' اللہ تعالی کو سب سے زیا دہ پسندیدہ صیام داود علیہ السلام کا صیام ہے، اور پسندیدہ صلاۃ بھی داود کی صلاۃ ہے: وہ آدھی رات تک سوتے، اور تہائی رات تک قیام کرتے (تہجد پڑھتے)، پھررات کا چھٹا حصہ سوتے، اور ایک دن صیام نہ رکھتے، ایک دن رکھتے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
68- بَاب فِي صَوْمِ الثَّلاثِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
۶۸-باب: ہر مہینے تین صیام رکھنے کا بیان​


2449- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسٍ أَخِي مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ مِلْحَانَ الْقَيْسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصُومَ الْبِيضَ: ثَلاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ: < هُنَّ كَهَيْئَةِ الدَّهْرِ >۔
* تخريج: ن/الصیام ۵۱ (۲۴۳۴)، ق/الصیام ۲۹ (۱۷۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۵، ۵/۲۷، ۲۸) (صحیح)
۲۴۴۹- قتادہ بن ملحان قیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں صیام رکھنے کا حکم فرماتے ، اور فرماتے:'' یہ پورے سال صیام رکھنے کے مثل ہے''۔


2450- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُ -يَعْنِي مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ- ثَلاثَةَ أَيَّامٍ۔
* تخريج: ت/الصوم ۴۱ (۷۴۲)، ق/ المناسک ۳۷ (۱۲۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۰۶) (حسن)
۲۴۵۰- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کے شروع میں تین دن صیام رکھتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
69- بَاب مَنْ قَالَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ
۶۹-باب: دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے صیام کا بیان​


2451- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ سَوَائٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ: الاثْنَيْنِ، وَالْخَمِيسَ، وَالاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمْعَةِ الأُخْرَى۔
* تخريج: ن/الصیام ۴۱ (۲۳۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۸۷، ۲۸۸)، وانظر ما تقدم برقم : (۲۴۳۷) (حسن)
۲۴۵۱- ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مہینے میں تین دن صیام رکھتے تھے یعنی (پہلے ہفتہ کے) دوشنبہ، جمعرات اور دوسرے ہفتے کے دوشنبہ کو۔


2452- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلُهَا الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ۔
* تخريج: ن/الصیام ۵۱ (۲۴۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۸۹، ۳۱۰) (منکر)
۲۴۵۲- ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان سے صیام کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن صیام رکھنے کا حکم فرماتے تھے ،ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اورجمعرات کا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : نسائی میں اس روایت کے الفاظ ہیں ، ''أَوَّلُ خَمِيْسٍ'' ''وَالاثْنَيْنِ وَالاثْنَيْنِ'' یعنی: مہینے کا پہلا جمعرات اور دوشنبہ ، پھر دوسرا دوشنبہ ، بعض روایتوں میں تیسرا دن جمعرات ہے (حدیث نمبر: ۲۴۳۷) بعض روایتوں میں درمیان ماہ کے تین دنوں کا تذکرہ ہے ، اور اگلی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی خاص دن متعین نہیں تھا، بس تین دن کا صیام مقصود تھا، سب مختلف اوقات وحالات کے لحاظ سے تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
70- بَاب مَنْ قَالَ لا يُبَالِي مِنْ أَيِّ الشَّهْرِ
۷۰-باب: مہینے میں کسی بھی دن صیام رکھنے کا بیان​


2453- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ [الرِّشْكِ]، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَهْرٍ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ: مَا كَانَ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ۔
* تخريج: م/الصیام ۳۶ (۱۱۶۰)، ت/الصوم ۵۴ (۷۶۳)، ق/الصیام ۲۹ (۱۷۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴۵) (صحیح)
۲۴۵۳- معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن صیام رکھتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں صیام رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
71- بَاب النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ
۷۱-باب: صیام کی نیت کا بیان​


2454- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلا صِيَامَ لَهُ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ اللَّيْثُ وَإِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ أَيْضًا جَمِيعًا عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِثْلَهُ، وَوَقَفَهُ عَلَى حَفْصَةَ مَعْمَرٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَيُونُسُ الأَيْلِيُّ [كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ]۔
* تخريج: ت/الصوم ۳۳ (۷۳۰)، ن/الصیام ۳۹ (۲۳۳۳)، ق/الصیام ۲۶ (۱۷۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۰۲)، وقد أخرجہ: ط/الصیام ۲ (۵)، حم (۶/۲۷۸)، دي/الصوم ۱۰(۱۷۴۰) (صحیح)
۲۴۵۴- ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جس نے فجر ہونے سے پہلے صیام کی نیت نہ کی اس کا صیام نہیں ہوگا''۔
ابوداود کہتے ہیں:اسے لیث اور اسحاق بن حازم نے عبداللہ بن ابی بکر سے اسی کے مثل(یعنی مرفوعاً) روایت کیا ہے، اور اسے معمر ،زبیدی ،ابن عیینہ اور یونس ایلی نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا پر موقوف کیا ہے ،یہ سارے لوگ زہری سے روایت کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
72- بَاب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
۷۲-باب: صیام نیت نہ کرنے کی رخصت کا بیان​


2455- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (ح) وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ قَالَ: < هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ؟ > فَإِذَا قُلْنَا لا، قَالَ: <إِنِّي صَائِمٌ >، زَادَ وَكِيعٌ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَحَبَسْنَاهُ لَكَ، فَقَالَ: < أَدْنِيهِ > قَالَ طَلْحَةُ: فَأَصْبَحَ صَائِمًا وَأَفْطَرَ۔
* تخريج: م/الصیام ۳۲ (۱۱۵۴)، ت/الصوم ۳۵ (۷۳۴)، ن/الصیام ۳۹ (۲۳۲۷)، ق/الصیام ۲۶ (۱۷۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۹، ۲۰۷
) (حسن صحیح)
۲۴۵۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میرے پاس تشر یف لا تے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے:'' میں صیام سے ہوں''، ایک دن آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہد یے میں( کھجو ر،گھی اور پنیر سے بنا ہوا) ملیدہ آیا ہے ، اور اسے ہم نے آپ کے لئے بچا رکھا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا:'' لائو اسے حاضر کرو''۔
طلحہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صائم ہوکر صبح کی تھی لیکن صیام توڑ دیا۔


2456- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ -فَتْحِ مَكَّةَ- جَائَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَتْ: فَجَائَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَائٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا: < أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟ > قَالَتْ: لا، قَالَ: < فَلا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۰۴)، وقد أخرجہ: ت/الصوم ۳۴ (۷۳۲)، حم (۶/۳۴۲) (صحیح)
۲۴۵۶- ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کا دن تھا، فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ ﷺ کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی ،اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی، اور آپ ﷺ کو پیش کیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر مجھے دے دیا، میں نے بھی پیا، پھر میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو صیام سے تھی، میں نے صیام توڑ دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' کیا تم کسی صیام کی قضا کر رہی تھیں؟''جواب دیا نہیں، فرمایا:''اگر نفلی صیام تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں'' ۱ ؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی پچھلی روایت سے فجر ہی سے نیت کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور اس باب کی دونوں روایتوں سے عدمِ وجوب ! دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ حفصہ کی روایت فرض صیام سے متعلق ہے، اور باب کی دونوں روایتیں نفلی صیام سے متعلق ہیں، سیاق سے یہ صاف ظاہر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
73- بَاب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ الْقَضَاءَ
۷۳-باب: توڑے ہوئے نفلی صیام کی قضا کا بیان​


2457- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ، وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ، فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهَا فَأَفْطَرْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا عَلَيْكُمَا، صُومَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۳۷)، وقد أخرجہ: ت/الصوم ۳۶ (۷۳۵)، ط/الصیام ۱۸ (۵۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ''زُمَیل'' مجہول ہیں)
۲۴۵۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لئے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں صیام سے تھیں، ہم نے صیام توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا : اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو صیام تو ڑ دیا ( یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: ''صیام توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
74- بَاب الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا
۷۴-باب: شوہر کی اجازت کے بغیرعورت کے(نفل ) صیام رکھنے کے حکم کا بیان​


2458- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَلاتَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ >۔
* تخريج: خ/ البیوع ۱۲ (۲۰۶۶)، النکاح ۸۴ (۵۱۹۲)، النفقات ۵ ۵۳۶۰)، م/الزکاۃ ۲۶ (۱۰۲۶)، ت/الصوم ۶۵ (۷۸۲)، ق/الصیام ۵۳ (۱۷۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۹۵، ۱۴۷۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۶۱)، دي/الصوم ۲۰ (۱۷۶۱) (صحیح) دون ذکر رمضان
۲۴۵۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت صیام نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے''۔


2459- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا، قَالَ: فَقَالَ: < لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ >، وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَئِذٍ: < لا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا >، وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ، لا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: < فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ- عَنْ حُمَيْدٍ أَوْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۱۲)، وقد أخرجہ: ق/الصیام ۵۳ (۱۷۶۲)، حم (۳/۸۰، ۸۴)، دي/الصوم ۲۰ (۱۷۶۰) (صحیح)
۲۴۵۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب صلاۃ پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور صیام رکھتی ہوں تو صیام توڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔
صفوان اس وقت آپ ﷺ کے پاس موجود تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ صلاۃ پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے (دو دو سورتیں پڑھنے سے) منع کر رکھا ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا:'' لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے'' ۔
صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے صیام افطار کرا دیتا ہوں تو یہ صیام رکھتی چلی جاتی ہے ، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس دن فرمایا: '' کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ( نفل صیام) نہ رکھے''۔
رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے صلاۃ نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' جب بھی جاگو صلاۃ پڑھ لیا کرو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے یہ معلوم ہوا کہ گویا آپ شرعی طورپر اس بات میں معذور تھے، اور یہ واقعہ کبھی کبھار کا ہی ہو سکتا ہے، جس کو مسئلہ بنا کر ان کی بیوی نے عدالت نبوی میں پیش کیا ۔ صحابی رسول کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ قصداً وعمداً وہ صلاۃ میں تساہلی کرے گا، رات بھر کی محنت ومزدوری کے بعد آدمی تھک کر چور ہو جاتا ہے، اور فطری طورپر آخری رات کی نیند سے خود سے یا جلد ی بیدار ہونا مشکل مسئلہ ہے، اگر کبھی ایسی معذوری ہوجائے تو بیداری کے بعد صلاۃ ادا کرلی جائے، ایک بات یہ بھی واضح رہے کہ صفوان اور ان کے خاندان کے لوگ گہری نیند اور تاخیر سے اٹھنے کی عادت میں مشہور تھے، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں صراحت ہے، نیز مسند احمد میں صفوان کا قول ہے کہ: میں گہری نیند والا ہوں، اور ایسے خاندان سے ہوں جو اپنی گہری نیند کے بارے میں مشہور ہیں (۳؍۸۴- ۸۵)۔
نیز مسند احمد میں ہے کہ آپ نے رسول اکرم ﷺ سے سوال کیا تھا کہ کن وقتوں میں صلاۃ مکروہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''فجر کے بعد صلاۃ سے رک جاؤ حتی کہ سورج نکل آئے، جب سورج نکل آئے تو صلاۃ پڑھو ...'' (۵؍۳۱۲)۔
چنانچہ غزوات میں اپنی اسی عادت کی بنا پر قافلہء مجاہدین میں سب سے بعد میں لوگوں کے گرے پڑے سامان سمیٹ کر قافلہ سے مل جاتے (ملاحظہ ہو واقعہ إفک جو کہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا)۔
یہ بھی واضح رہے کہ فجر میں مسلسل غیر حاضری کا معاملہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخفی نہیں رہ سکتا ، بلکہ یہ حرکت تو منافقین سے سرزد ہوتی تھی، اور صحابہ کرام کے بارے میں یا صفوان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔
 
Top