• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
55- بَاب فِي صَوْمِ الْمُحَرَّمِ
۵۵-باب: محرم کے صیام کا بیان​


2429- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلاةٌ مِنَ اللَّيْلِ >، لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ: < شَهْرٌ >، قَالَ: < رَمَضَانُ >۔
* تخريج: م/الصیام ۳۸ (۱۱۶۳)، ت/الصلاۃ ۲۰۷ (۴۳۸)، الصوم ۴۰ (۷۴۰)، ن/قیام اللیل ۶ (۱۶۱۴)، ق/الصیام ۴۳ (۱۷۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۰۲، ۳۲۹، ۳۴۲، ۳۴۴، ۵۳۵) (صحیح)
۲۴۲۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ماہ رمضان کے صیام کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے صیام محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض صلاۃ کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی صلاۃ رات کی صلاۃ (تہجد) ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
55/أ- بَاب فِي صَوْمِ رَجَبٍ ۱ ؎
۵۵/أ-باب: رجب کے صیام کا بیان​


2430- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ- قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لا يَصُومُ۔
* تخريج: م/الصیام ۳۴ (۱۱۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۵۴)، وقد أخرجہ: ن/ الصیام ۴۱ (۲۳۴۸، ۲۳۴۸)، ق/الصیام ۳۰ (۱۷۱۱)، حم (۱/۲۲۶، ۲۲۷، ۲۳۱، ۳۲۶) (صحیح)
۲۴۳۰- عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیرسے رجب کے صیام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ صیام رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب صیام چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب صیام رکھیں گے ہی نہیں ۔
وضاحت ۱ ؎ : یہ باب کئی نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ مولانا وحیدالزماں کے نسخہ میں موجود ہے ، اور تبویب حدیث کے مطابق ہے، واللہ اعلم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
56- بَاب فِي صَوْمِ شَعْبَانَ
۵۶-باب: شعبان کے صیام کا بیان​


2431- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۲۸۰)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ الصیام (۲۶۵۹) (صحیح)
۲۴۳۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مہینوں میں سب سے زیادہ محبوب یہ تھا کہ آپ شعبان میں صیام رکھیں، پھر اسے رمضان سے ملا دیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
57- بَاب فِي صَوْمِ شَوَّالٍ
۵۷-باب: شوال کے صیام کا بیان​


2432- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ مُوسَى- عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: < إِنَّ لأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ، وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ >.
[قَالَ أَبو دَاود: وَافَقَهُ زَيْدٌ الْعُكْلِيُّ، وَخَالَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ]۔
* تخريج: ت/الصوم ۴۵ (۷۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۱۶، ۴/۷۸) (ضعیف)
(صحیح ''مسلم بن عبیداللہ ہے اور یہ لین الحدیث ہیں، ان کے والد کا نام عبیداللہ بن مسلم''اور یہ صحابی ہیں)
۲۴۳۲- مسلم قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پورے سال کے صیام کے متعلق پوچھا، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:'' تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے ، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد (والے ماہ میں) صیام رکھو، اور ہر بدھ اور جمعرات کا صیام رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا صیام رکھا ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
58- بَاب فِي صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ
۵۸-باب: شوال کے چھ صیام کا بیان​


2433- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ صَاحِبِ النَّبِيِّ ﷺ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ >۔
* تخريج: م/الصیام ۲۹ (۱۱۶۴)، ت/الصوم ۵۳ (۷۵۹)، ق/الصیام ۳۳ (۱۷۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۱۷، ۴۱۹)، دي/الصوم ۴۴ (۱۷۹۵) (صحیح)
۲۴۳۳- ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس نے رمضان کے صیام رکھے اور اس کے بعد چھ صیام شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے صیام رکھے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
59- بَاب كَيْفَ كَانَ يَصُومُ النَّبِيُّ ﷺ
۵۹-باب: نبی اکرم ﷺ کے صیام رکھنے کی کیفیت کا بیان​


2434- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ ۔
* تخريج: خ/الصوم ۵۲ (۱۹۶۹)، م/الصیام ۳۴ (۱۱۵۶)، ت/الصوم ۳۷ (۷۳۶)، ن/الصیام ۱۹ (۲۱۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۱۰)، وقد أخرجہ: ق/الصیام ۳۰ (۱۷۱۰)، ط/الصوم ۲۲ (۵۶)، حم (۶/۳۹، ۸۰، ۸۴، ۸۹، ۱۰۷، ۱۲۸، ۱۴۳، ۱۵۳، ۱۶۵، ۱۷۹، ۲۳۳، ۲۴۲، ۲۴۹، ۲۶۸) (صحیح)
۲۴۳۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صیام رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صیام رکھنا نہیں چھوڑیں گے ، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ ﷺ صیام نہیں رکھیں گے، میں نے آپ ﷺ کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل صیام رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ صیام شعبان میں رکھتے اتنے صیام کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔


2435- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: كَانَ يَصُومُهُ إِلا قَلِيلا، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۱۶) (حسن صحیح)
۲۴۳۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں،اس میں اتنا اضافہ ہے: ''آپ شعبان کے اکثر دنوں میں صیام رکھتے تھے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے شعبان میں صیام رکھتے تھے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب فِي صَوْمِ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ
۶۰-باب: دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے صیام کا بیان​


2436- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَا عِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى فِي طَلَبِ مَالٍ لَهُ، فَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَقَالَ لَهُ مَوْلاهُ: لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ؟ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: < إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ >.
قَالَ أَبو دَاود: كَذَا قَالَ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ۔
* تخريج: ن/الصیام ۴۱ (۲۳۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۰۰، ۲۰۱)، دي/الصوم ۴۱ (۱۷۹۱) (صحیح)
۲۴۳۶- اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے غلام کہتے ہیں کہ وہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وادی قری کی طرف ان کے مال (اونٹ) کی تلاش میں گئے (اسامہ کا معمول یہ تھا کہ ) دوشنبہ اور جمعرات کا صیام رکھتے تھے، اس پر ان کے غلام نے ان سے پوچھا: آپ دوشنبہ اورجمعرات کا صیام کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ بہت بوڑھے ہیں؟ کہنے لگے: نبی اکرم ﷺ دوشنبہ اور جمعرات کا صیام رکھتے تھے، اور جب آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:'' بندوں کے اعمال دوشنبہ اور جمعرات کو (بارگاہ الٰہی میں) پیش کئے جاتے ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
61- بَاب فِي صَوْمِ الْعَشْرِ
۶۱-باب: عشرئہ ذی الحجہ کے صیام کا بیان​


2437- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ: أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ۔
* تخريج: ن/الصیام ۴۱ (۲۳۷۱)، ۵۱ (۲۴۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۱)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (۲۴۵۲) (صحیح)

۲۴۳۷- ہنیدہ بن خالد کی بیوی سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے (شروع) کے نو دنوں کا صیام رکھتے، اور یوم عاشورہ( دسویںمحرم )کا صیام رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر اور جمعرات کا صیام رکھتے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ابوداود کی اس روایت میں اسی طرح واحد کے لفظ کے ساتھ ہے مگر نسائی کی روایت (رقم ۲۳۷۴) میں تثنیہ ''الخميسين''کے لفظ کے ساتھ ہے ، اورسیاق وسباق سے یہی متبادر ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تین دن کی تفصیل نہیں ہو پاتی۔


2438- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَمُجَاهِدٍ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَا مِنْ أَيَّامٍ: الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ > يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: < وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْئٍ >۔
* تخريج: خ/العیدین ۱۱ (۹۶۹)، ت/الصوم ۵۲ (۷۵۷)، ق/الصیام ۳۹ (۱۷۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۴، ۳۳۸، ۳۴۶)، دي/الصیام ۵۲ (۱۸۱۴) (صحیح)
۲۴۳۸- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالی کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے'' ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پاسکتا)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب فِي فِطْرِ الْعَشْرِ
۶۲-باب: عشرئہ ذی الحجہ میں صیام نہ رکھنے کا بیان​


2439- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَائِمًا الْعَشْرَ قَطُّ۔
* تخريج: م/الاعتکاف ۴ (۱۱۷۶)، ت/الصوم ۵۱ (۷۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۴۹)، وقد أخرجہ: ق/الصیام ۳۹ (۱۷۲۹)، حم (۶/۴۲، ۱۲۴، ۱۹۰) (صحیح)
۲۴۳۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عشرہ ذی الحجہ ۱؎ میں کبھی صیام رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
وضاحت ۱؎ : اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں صیام رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر یوم عرفہ (حاجیوں کے میدان عرفات میں وقوف کے دن )کے صیام کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے، ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی صیام نہ رکھا ہو نیز عائشہ رضی اللہ عنہا کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ صیام نہ رکھتے رہے ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
63- بَاب فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ
۶۳-باب: عرفہ کے دن عرفات میں صیام کی ممانعت ۱؎​


2440- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عُقَيْلٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ الْهَجَرِيِّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ۔
* تخريج: ق/الصیام ۴۰ (۱۷۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۰۴، ۴۴۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ''مہدیٰ الہجری '' لین الحدیث ہیں)
۲۴۴۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے صیام سے منع فرمایا۔
وضاحت ۱؎ : یوم عرفہ (عرفہ کے دن) کا صیام یعنی (۹) ذی الحجۃ کے دن کا صیام ، اور سعودی عرب کے ٹائم ٹیبل اور حج کے دن کے اعلان کے مطابق عرفات میں حجاج کے اجتماع کے دن کا صیام ہے، اور یہ امیر حج کے اعلان کے مطابق مکہ مکرمہ میں اس دن ذی الحجۃ کی (۹)تاریخ ہوگی، اختلاف مطالع کی وجہ سے تاریخوں کے فرق میں عام مسلمان مکہ کی تاریخ کا خیال رکھیں۔


2441- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَ۔
* تخريج: خ/الحج ۸۵ (۱۶۵۸)، الصوم ۶۵ (۱۹۸۸)، الأشربۃ ۱۲ (۵۶۰۴)، م/الصیام ۱۸ (۱۱۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۵۴)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۴۳ (۱۳۲)، حم (۶/۳۳۸، ۳۴۰) (صحیح)
۲۴۴۱- ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس لوگ رسول ﷺ کے یوم عرفہ( نویں ذی الحجہ) کے صیام سے متعلق جھگڑنے لگے، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ صیام سے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ صیام سیے نہیں ہیں چنانچہ میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اس وقت آپ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔
 
Top