- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
64- بَاب فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ
۶۴-باب: یوم عاشورہ (دسویں محرم ) کے صیام کا بیان
2442- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ۔
* تخريج: خ/الصوم ۶۹ (۲۰۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۱۵۷)، وقد أخرجہ: م/الصیام ۱۹ (۱۱۲۵)، ت/الصوم ۴۹ (۷۵۳)، ط/الصیام ۱۱(۳۳)، دي/الصوم ۴۶ (۱۸۰۳) (صحیح)
۲۴۴۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا صیام رکھتے تھے ، اور رسول اللہ ﷺ بھی اس کا صیام جاہلیت میں رکھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے اس کا صیام رکھا، اور اس کے صیام کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے صیام فرض ہوئے تو رمضان کے صیام ہی فرض رہے، اور عاشورہ کا صیام چھوڑ دیا گیا اب اسے جو چاہے رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔
2443- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <هَذَا يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۶۹ (۲۰۰۲)، والتفسیر ۲۴ (۴۵۰۱)، م/الصیام ۲۰ (۱۱۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۱۴۶)، وقد أخرجہ: ق/الصیام ۴۱ (۱۷۳۷)، حم (۲/۵۷)، دي/الصوم ۴۶ (۱۸۰۳) (صحیح)
۲۴۴۳- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا صیام رکھتے تھے، پھر جب صیامِ رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' یہ (یوم عاشوراء ) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جوصیام رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے''۔
2444- حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ > وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ۔
* تخريج: خ/الصوم ۶۹ (۲۰۰۴)، أحادیث الأنبیاء ۲۴ (۳۳۹۷)، المناقب ۵۲ (۳۹۴۳)، التفسیر ۲ (۴۷۳۷)، م/الصیام ۱۹ (۱۱۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۵۰)، وقد أخرجہ: ت/الصوم ۴۹ (۷۵۳)، ق/الصیام ۴۱ (۱۷۳۴)، حم (۱/۲۳۶، ۳۴۰)، دي/الصوم ۴۶ (۱۸۰۰) (صحیح)
۲۴۴۴- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورہ کا صیام رکھتے ہوئے پایا ، اس کے متعلق جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (وضاحت) کو فرعون پر فتح نصیب کی تھی، چنانچہ تعظیم کے طور پر ہم اس دن کا صیام رکھتے ہیں ، ( یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ہم موسیٰ (وضاحت) کے تم سے زیادہ حق دار ہیں'' ، اور آپ ﷺ نے اس دن صیام رکھنے کا حکم فرمایا۔