• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
73- بَاب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ الْقَضَاءَ
۷۳-باب: توڑے ہوئے نفلی صیام کی قضا کا بیان​


2457- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ، وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ، فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهَا فَأَفْطَرْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا عَلَيْكُمَا، صُومَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۳۷)، وقد أخرجہ: ت/الصوم ۳۶ (۷۳۵)، ط/الصیام ۱۸ (۵۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ''زُمَیل'' مجہول ہیں)
۲۴۵۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لئے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں صیام سے تھیں، ہم نے صیام توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا : اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو صیام تو ڑ دیا ( یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: ''صیام توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
74- بَاب الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا
۷۴-باب: شوہر کی اجازت کے بغیرعورت کے(نفل ) صیام رکھنے کے حکم کا بیان​


2458- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَلاتَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ >۔
* تخريج: خ/ البیوع ۱۲ (۲۰۶۶)، النکاح ۸۴ (۵۱۹۲)، النفقات ۵ ۵۳۶۰)، م/الزکاۃ ۲۶ (۱۰۲۶)، ت/الصوم ۶۵ (۷۸۲)، ق/الصیام ۵۳ (۱۷۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۹۵، ۱۴۷۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۶۱)، دي/الصوم ۲۰ (۱۷۶۱) (صحیح) دون ذکر رمضان
۲۴۵۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت صیام نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے''۔


2459- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا، قَالَ: فَقَالَ: < لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ >، وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَئِذٍ: < لا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا >، وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ، لا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: < فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ- عَنْ حُمَيْدٍ أَوْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۱۲)، وقد أخرجہ: ق/الصیام ۵۳ (۱۷۶۲)، حم (۳/۸۰، ۸۴)، دي/الصوم ۲۰ (۱۷۶۰) (صحیح)
۲۴۵۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب صلاۃ پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور صیام رکھتی ہوں تو صیام توڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔
صفوان اس وقت آپ ﷺ کے پاس موجود تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ صلاۃ پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے (دو دو سورتیں پڑھنے سے) منع کر رکھا ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا:'' لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے'' ۔
صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے صیام افطار کرا دیتا ہوں تو یہ صیام رکھتی چلی جاتی ہے ، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس دن فرمایا: '' کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ( نفل صیام) نہ رکھے''۔
رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے صلاۃ نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' جب بھی جاگو صلاۃ پڑھ لیا کرو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے یہ معلوم ہوا کہ گویا آپ شرعی طورپر اس بات میں معذور تھے، اور یہ واقعہ کبھی کبھار کا ہی ہو سکتا ہے، جس کو مسئلہ بنا کر ان کی بیوی نے عدالت نبوی میں پیش کیا ۔ صحابی رسول کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ قصداً وعمداً وہ صلاۃ میں تساہلی کرے گا، رات بھر کی محنت ومزدوری کے بعد آدمی تھک کر چور ہو جاتا ہے، اور فطری طورپر آخری رات کی نیند سے خود سے یا جلد ی بیدار ہونا مشکل مسئلہ ہے، اگر کبھی ایسی معذوری ہوجائے تو بیداری کے بعد صلاۃ ادا کرلی جائے، ایک بات یہ بھی واضح رہے کہ صفوان اور ان کے خاندان کے لوگ گہری نیند اور تاخیر سے اٹھنے کی عادت میں مشہور تھے، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں صراحت ہے، نیز مسند احمد میں صفوان کا قول ہے کہ: میں گہری نیند والا ہوں، اور ایسے خاندان سے ہوں جو اپنی گہری نیند کے بارے میں مشہور ہیں (۳؍۸۴- ۸۵)۔
نیز مسند احمد میں ہے کہ آپ نے رسول اکرم ﷺ سے سوال کیا تھا کہ کن وقتوں میں صلاۃ مکروہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''فجر کے بعد صلاۃ سے رک جاؤ حتی کہ سورج نکل آئے، جب سورج نکل آئے تو صلاۃ پڑھو ...'' (۵؍۳۱۲)۔
چنانچہ غزوات میں اپنی اسی عادت کی بنا پر قافلہء مجاہدین میں سب سے بعد میں لوگوں کے گرے پڑے سامان سمیٹ کر قافلہ سے مل جاتے (ملاحظہ ہو واقعہ إفک جو کہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا)۔
یہ بھی واضح رہے کہ فجر میں مسلسل غیر حاضری کا معاملہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخفی نہیں رہ سکتا ، بلکہ یہ حرکت تو منافقین سے سرزد ہوتی تھی، اور صحابہ کرام کے بارے میں یا صفوان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
75- بَاب فِي الصَّائِمِ يُدْعَى إِلَى وَلِيمَةٍ
۷۵-باب: صائم کو ولیمہ کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے؟​


2460- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُوخَالِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ >، قَالَ هِشَامٌ: وَالصَّلاةُ الدُّعَاءُ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَيْضًا [عَنْ هِشَامٍ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۲)، دي/الصوم ۳۱ (۱۷۷۸) (صحیح)
۲۴۶۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہئے، اگر صیام سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر صیام سے ہو تو اس کے حق میں دعا کردے‘‘۔
ہشام کہتے ہیں: صلاۃ سے مراد دعا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب مَا يَقُولُ الصَّائِمُ إِذَا دُعِيَ إِلَى الطَّعَامِ
۷۶-باب: جب صائم کو کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا جواب دے؟​


2461- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ >۔
* تخريج: م/ الصیام ۲۸ (۱۱۵۰)، ت/الصوم ۶۴ (۷۸۱)، ق/الصیام ۴۷ (۱۷۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۲)، دی/المناسک ۳۱ (۱۷۷۸) (صحیح)
۲۴۶۱- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ صیام سے ہو تو اسے کہنا چاہئے کہ میں صیام سے ہوں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
77- بَاب الاعْتِكَافِ
۷۷-باب: اعتکاف کا بیان​


2462- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱ (۲۰۲۶)، م/الاعتکاف ۱ (۱۱۷۲)، ت/الصوم ۷۱ (۷۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۹، ۹۲، ۲۷۹) (صحیح)
۲۴۶۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ معمول وفات تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔


2463- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ [فِي] الْعَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ لَيْلَةً۔
* تخريج: ق/الصیام ۵۸ (۱۷۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۴۱) (صحیح)
۲۴۶۳- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، ایک سال(کسی وجہ سے) اعتکاف نہیں کرسکے تو اگلے سال آپ ﷺ نے بیس رات کا اعتکاف کیا۔


2464- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ، قَالَتْ: وَإِنَّهُ أَرَادَ مَرَّةً أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَمَرْتُ بِبِنَائِي فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَأَمَرَ غَيْرِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ، فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ نَظَرَ إِلَى الأَبْنِيَةِ فَقَالَ: < مَا هَذِهِ آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟ > قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَقُوِّضَ، وَأَمَرَ أَزْوَاجُهُ بِأَبْنِيَتِهِنَّ فَقُوِّضَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الاعْتِكَافَ إِلَى الْعَشْرِ الأُوَلِ، يَعْنِي مِنْ شَوَّالٍ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ وَالأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: اعْتَكَفَ عِشْرِينَ مِنْ شَوَّالٍ۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۶ (۲۰۳۳)، ۷ (۲۰۳۴)، ۱۴ (۲۰۴۱)، ۱۸ (۲۰۴۵)، م/الاعتکاف ۲ (۱۱۷۲)، ت/الصوم ۷۱ (۷۹۱)، ن/المساجد ۱۸ (۷۱۰)، ق/الصوم ۵۹ (۱۷۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۳۰)، وقد أخرجہ: ط/الاعتکاف ۴ (۷)، حم (۶/۸۴، ۲۲۶) (صحیح)
۲۴۶۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ ﷺ نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لئے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواجِ مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ ﷺ نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎ ، پھر آپ ﷺ نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لئے مؤخر کر دیا ۔
ابوداود کہتے ہیں:اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔
وضاحت ۱؎ : استفہام انکاری ہے یعنی اس کام سے تم سب کے پیش نظر نیکی نہیں ہے، غیرت کی وجہ سے یہ کام کر رہی ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
78- بَاب أَيْنَ يَكُونُ الاعْتِكَافُ؟
۷۸-باب: اعتکاف کس جگہ کرنا چاہئے؟​


2465- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ نَافِعٌ: وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُاللَّهِ الْمَكَانَ الَّذِي [كَانَ] يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنَ الْمَسْجِدِ۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱ (۲۰۲۵) (دون قولہ : قال نافع۔۔۔)، م/الاعتکاف ۱ (۱۷۷۱)، ق/الصیام ۶۱ (۱۷۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۳۳) (صحیح)
۲۴۶۵- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔
نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ ﷺ اعتکاف کیا کرتے تھے۔


2466- حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْتَكِفُ كُلَّ رَمَضَانَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱۷ (۲۰۴۴)، فضائل القرآن ۷ (۴۹۹۸)، ق/الصیام ۵۸ (۱۷۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۱، ۳۳۶، ۳۵۵، ۴۱۰)، دي/الصوم ۵۵ (۱۸۲۰) (حسن صحیح)
۲۴۶۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
79- بَاب الْمُعْتَكِفِ يَدْخُلُ الْبَيْتَ لِحَاجَتِهِ
۷۹-باب: معتکف اپنی ضرورت کے لئے گھر میں داخل ہو سکتا ہے​


2467- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ [بْنِ الزُّبَيْرِ] عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ۔
* تخريج: م/الحیض۳ (۲۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۰۸)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۲۸ (۱۰۲)، الاعتکاف ۱ (۱)، ۷ (۷)، حم (۶/۱۰۴، ۲۰۴، ۲۳۱، ۲۴۷، ۲۶۲، ۲۷۲، ۲۸۱)، دي/الطھارۃ ۱۰۷ (۱۰۸۵) (صحیح)
۲۴۶۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہو تے تو ( مسجد ہی سے) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ ﷺ گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔


2468- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، نَحْوَهُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يُتَابِعْ أَحَدٌ مَالِكًا عَلَى عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ وَزِيَادُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرِهِمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ۔
* تخريج: خ/ الاعتکاف ۳ (۲۰۲۹)، م/الحیض ۳ (۲۹۷)، ت/الصیام ۸۰ (۸۰۵)، ن/ الکبری/ الاعتکاف (۳۳۷۵)، ق/الصوم ۶۳ (۱۷۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸) (صحیح)
۲۴۶۸- اس سند سے بھی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔


2469- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ [بْنُ زَيْدٍ] عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَكُونُ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَيُنَاوِلُنِي رَأْسَهُ مِنْ خَلَلِ الْحُجْرَةِ فَأَغْسِلُ رَأْسَهُ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: فَأُرَجِّلُهُ، وَأَنَا حَائِضٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۷۰) (صحیح)
۲۴۶۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجر ے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ ﷺ کا سر دھو دیتی، کنگھی کردیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی ۔


2470- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلا، فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ ﷺ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ > قَالا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا >، أَوْ قَالَ: < شَرًّا >۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱۱ (۲۰۳۸)، ۱۲ (۲۰۳۹)، بدء الخلق ۱۱ (۳۲۸۱)، الأحکام ۲۱ (۷۱۷۱)، م/السلام ۹ (۲۱۷۵)، ق/الصیام ۶۵ (۱۷۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۵۶، ۲۸۵، ۳۰۹، ۶/۳۳۷)، دي/الصوم ۵۵ (۱۸۲۱)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (۴۹۹۴) (صحیح)
۲۴۷۰- ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ ﷺ بھی مجھے واپس کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ، (اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے)''، وہ بولے : سبحا ن اللہ! اللہ کے رسول!( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی) آپ ﷺ نے فرمایا: '' شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ،مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ (یا کہا: کوئی شر) نہ ڈال دے''۔


2471- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَتْ: حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ بِهِمَا رَجُلانِ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۰۱) (صحیح)
۲۴۷۱- زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ ﷺ مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
80- بَاب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ
۸۰-باب: اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟​


2472- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ، وَلايُعَرِّجُ، يَسْأَلُ عَنْهُ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: قَالَتْ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۱۵) (ضعیف)
(اس کے راوی'' لیث بن ابی سلیم ''ضعیف ہیں)
۲۴۷۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹہرے اس کا حال پوچھتے۔


2473- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ- عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتِ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَعُودَ مَرِيضًا، وَلا يَشْهَدَ جَنَازَةً، وَلا يَمَسَّ امْرَأَةً، وَلا يُبَاشِرَهَا، وَلا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلا لِمَا لابُدَّ مِنْهُ، وَلا اعْتِكَافَ إِلابِصَوْمٍ، وَلااعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ.
قَالَ أَبو دَاود: غَيْرُ عَبْدِالرَّحْمَنِ لا يَقُولُ فِيهِ: < قَالَتِ السُّنَّةُ >.
قَالَ أَبو دَاود: جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴) (حسن صحیح)
۲۴۷۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر صیام کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔
ابوداود کہتے ہیں:عبدالرحمن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ''قَالَتْ: السُّنَّةُ'' کا لفظ نہیں ہے۔
ابوداود کہتے ہیں:انہوں نے اسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قراردیا ہے۔


2474- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ [بْنُ بُدَيْلٍ] عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِي اللَّه عَنْه جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < اعْتَكِفْ وَصُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴)، وقد أخرجہ: خ/الاعتکاف ۱۶ (۲۰۴۳)، م/الأیمان والنذور ۷ (۱۶۵۶)، ت/الأیمان والنذور ۱۱ (۱۵۳۹)، ن/الکبری/ الاعتکاف (۳۳۵۵)، كلهم رووا هذا الحديث بلفظ: ''أوف بنذرك''۔ (صحیح) دون قوله: ''أو يومًا'' وقوله: ''وصم''
(سب کے یہاں صرف ''اپنی نذر پوری کر '' کا لفظ ہے اوربس)
۲۴۷۴- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا :'' اعتکاف کرو اور صیام رکھو''۔


2475- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ [يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ] عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَاللَّهِ؟ قَالَ: سَبْيُ هَوَازِنَ أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ ، قَالَ: وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴) (صحیح)
۲۴۷۵- اس سند سے بھی عبد اللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ (عمر رضی اللہ عنہ ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے ''الله أكبر'' کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ ﷺ نے آزاد کردیا ہے، کہا :یہ لونڈی بھی( تو انہیں میں سے ہے) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کردیا۔
وضاحت ۱؎ : مطلب یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ سے جب یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے تو اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ لونڈی جو میرے پاس ہے وہ بھی تو انہیں قیدیوں میں سے ہے پھر تم اسے کیسے روکے ہوئے ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
81- بَاب [فِي] الْمُسْتَحَاضَةِ تَعْتَكِفُ
۸۱-باب: مستحاضہ عورت اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے​


2476- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَقُتَيْبَةُ [بْنُ سَعِيدٍ] قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتِ: اعْتَكَفَتْ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي۔
* تخريج: خ/الحیض ۱۰ (۳۰۹)، ق/الصیام ۶۶ (۱۷۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۱)، دي/الطھارۃ ۹۳ (۹۰۶) (صحیح)
۲۴۷۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا وہ ( خو ن میں) پیلا پن اور سرخی دیکھتیں ( یعنی انہیں استحاضہ کا خون جاری رہتا) تو بسا اوقات ہم ان کے نیچے ( خون کے لئے) بڑا برتن رکھ دیتے اور وہ حالت صلاۃ میں ہوتیں۔



* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{ 9- كِتَاب الْجِهَادِ }
۹-کتاب: جہاد کے احکام و مسائل

1- بَاب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ
۱-باب: ہجرت کا ذکر اور صحراء وبیابان میں رہائش کا بیان​


2477- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: < وَيْحَكَ! إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ >، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟ >، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۳۶ (۱۴۵۲)، والھبۃ ۳۵ (۲۶۳۳)، ومناقب الأنصار ۴۵ (۳۹۲۳)، والأدب ۹۵ (۶۱۶۵)، م/الإمارۃ ۲۰ (۱۸۶۵)، ن/البیعۃ ۱۱ (۴۱۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۳، ۱۵۵۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۴، ۶۴) (صحیح)
۲۴۷۷- ابو سعید خد ری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہا تی) نے نبی اکرم ﷺ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا : ''تمہارے اوپر افسوس ہے! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟''، اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟''، اس نے کہا: ہاں(دیتے ہیں )، آپ ﷺ نے فرمایا:'' پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کر ے گا'' ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حدیث میں '' ویحک '' ( تمہارے اوپر افسوس ہے!)کا لفظ کلمہ ٔ ترحم وتوجع ہے اور اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ایسی تباہی میں پھنس گیا ہو جس کا وہ مستحق نہ ہو ۔
وضاحت ۲؎ : مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں ۔


2478- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا عَنِ الْبَدَاوَةِ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلاعِ، وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي: < يَاعَائِشَةُ! ارْفُقِي؛ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْئٍ قَطُّ إِلا زَانَهُ، وَلا نُزِعَ مِنْ شَيْئٍ قَطُّ إِلا شَانَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ویأتی ہذا الحدیث في الأدب (۴۸۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۵۰)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۲۳ (۲۵۹۴)، حم (۶/۵۸، ۲۲۲) (صحیح)
(اس میں سے صرف قول رسول ﷺ صحیح ہے اور اتنا ہی صحیح مسلم میں ہے، ٹیلوں پرجانے کا واقعہ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کا تفرد ہے)
۲۴۷۸- شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء وبیابان ( میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: ''عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اُسے عیب دار کر دیتی ہے''۔
 
Top