• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
75- بَاب فِي الصَّائِمِ يُدْعَى إِلَى وَلِيمَةٍ
۷۵-باب: صائم کو ولیمہ کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے؟​


2460- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُوخَالِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ >، قَالَ هِشَامٌ: وَالصَّلاةُ الدُّعَاءُ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَيْضًا [عَنْ هِشَامٍ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۲)، دي/الصوم ۳۱ (۱۷۷۸) (صحیح)
۲۴۶۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہئے، اگر صیام سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر صیام سے ہو تو اس کے حق میں دعا کردے‘‘۔
ہشام کہتے ہیں: صلاۃ سے مراد دعا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب مَا يَقُولُ الصَّائِمُ إِذَا دُعِيَ إِلَى الطَّعَامِ
۷۶-باب: جب صائم کو کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا جواب دے؟​


2461- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ >۔
* تخريج: م/ الصیام ۲۸ (۱۱۵۰)، ت/الصوم ۶۴ (۷۸۱)، ق/الصیام ۴۷ (۱۷۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۲)، دی/المناسک ۳۱ (۱۷۷۸) (صحیح)
۲۴۶۱- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ صیام سے ہو تو اسے کہنا چاہئے کہ میں صیام سے ہوں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
77- بَاب الاعْتِكَافِ
۷۷-باب: اعتکاف کا بیان​


2462- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱ (۲۰۲۶)، م/الاعتکاف ۱ (۱۱۷۲)، ت/الصوم ۷۱ (۷۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۹، ۹۲، ۲۷۹) (صحیح)
۲۴۶۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ معمول وفات تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔


2463- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ [فِي] الْعَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ لَيْلَةً۔
* تخريج: ق/الصیام ۵۸ (۱۷۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۴۱) (صحیح)
۲۴۶۳- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، ایک سال(کسی وجہ سے) اعتکاف نہیں کرسکے تو اگلے سال آپ ﷺ نے بیس رات کا اعتکاف کیا۔


2464- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ، قَالَتْ: وَإِنَّهُ أَرَادَ مَرَّةً أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَمَرْتُ بِبِنَائِي فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَأَمَرَ غَيْرِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ، فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ نَظَرَ إِلَى الأَبْنِيَةِ فَقَالَ: < مَا هَذِهِ آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟ > قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَقُوِّضَ، وَأَمَرَ أَزْوَاجُهُ بِأَبْنِيَتِهِنَّ فَقُوِّضَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الاعْتِكَافَ إِلَى الْعَشْرِ الأُوَلِ، يَعْنِي مِنْ شَوَّالٍ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ وَالأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: اعْتَكَفَ عِشْرِينَ مِنْ شَوَّالٍ۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۶ (۲۰۳۳)، ۷ (۲۰۳۴)، ۱۴ (۲۰۴۱)، ۱۸ (۲۰۴۵)، م/الاعتکاف ۲ (۱۱۷۲)، ت/الصوم ۷۱ (۷۹۱)، ن/المساجد ۱۸ (۷۱۰)، ق/الصوم ۵۹ (۱۷۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۳۰)، وقد أخرجہ: ط/الاعتکاف ۴ (۷)، حم (۶/۸۴، ۲۲۶) (صحیح)
۲۴۶۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ ﷺ نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لئے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواجِ مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ ﷺ نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎ ، پھر آپ ﷺ نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لئے مؤخر کر دیا ۔
ابوداود کہتے ہیں:اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔
وضاحت ۱؎ : استفہام انکاری ہے یعنی اس کام سے تم سب کے پیش نظر نیکی نہیں ہے، غیرت کی وجہ سے یہ کام کر رہی ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
78- بَاب أَيْنَ يَكُونُ الاعْتِكَافُ؟
۷۸-باب: اعتکاف کس جگہ کرنا چاہئے؟​


2465- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ نَافِعٌ: وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُاللَّهِ الْمَكَانَ الَّذِي [كَانَ] يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنَ الْمَسْجِدِ۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱ (۲۰۲۵) (دون قولہ : قال نافع۔۔۔)، م/الاعتکاف ۱ (۱۷۷۱)، ق/الصیام ۶۱ (۱۷۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۳۳) (صحیح)
۲۴۶۵- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔
نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ ﷺ اعتکاف کیا کرتے تھے۔


2466- حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْتَكِفُ كُلَّ رَمَضَانَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱۷ (۲۰۴۴)، فضائل القرآن ۷ (۴۹۹۸)، ق/الصیام ۵۸ (۱۷۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۱، ۳۳۶، ۳۵۵، ۴۱۰)، دي/الصوم ۵۵ (۱۸۲۰) (حسن صحیح)
۲۴۶۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
79- بَاب الْمُعْتَكِفِ يَدْخُلُ الْبَيْتَ لِحَاجَتِهِ
۷۹-باب: معتکف اپنی ضرورت کے لئے گھر میں داخل ہو سکتا ہے​


2467- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ [بْنِ الزُّبَيْرِ] عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ۔
* تخريج: م/الحیض۳ (۲۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۰۸)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۲۸ (۱۰۲)، الاعتکاف ۱ (۱)، ۷ (۷)، حم (۶/۱۰۴، ۲۰۴، ۲۳۱، ۲۴۷، ۲۶۲، ۲۷۲، ۲۸۱)، دي/الطھارۃ ۱۰۷ (۱۰۸۵) (صحیح)
۲۴۶۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہو تے تو ( مسجد ہی سے) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ ﷺ گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔


2468- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، نَحْوَهُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يُتَابِعْ أَحَدٌ مَالِكًا عَلَى عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ وَزِيَادُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرِهِمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ۔
* تخريج: خ/ الاعتکاف ۳ (۲۰۲۹)، م/الحیض ۳ (۲۹۷)، ت/الصیام ۸۰ (۸۰۵)، ن/ الکبری/ الاعتکاف (۳۳۷۵)، ق/الصوم ۶۳ (۱۷۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸) (صحیح)
۲۴۶۸- اس سند سے بھی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔


2469- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ [بْنُ زَيْدٍ] عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَكُونُ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَيُنَاوِلُنِي رَأْسَهُ مِنْ خَلَلِ الْحُجْرَةِ فَأَغْسِلُ رَأْسَهُ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: فَأُرَجِّلُهُ، وَأَنَا حَائِضٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۷۰) (صحیح)
۲۴۶۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجر ے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ ﷺ کا سر دھو دیتی، کنگھی کردیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی ۔


2470- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلا، فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ ﷺ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ > قَالا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا >، أَوْ قَالَ: < شَرًّا >۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱۱ (۲۰۳۸)، ۱۲ (۲۰۳۹)، بدء الخلق ۱۱ (۳۲۸۱)، الأحکام ۲۱ (۷۱۷۱)، م/السلام ۹ (۲۱۷۵)، ق/الصیام ۶۵ (۱۷۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۵۶، ۲۸۵، ۳۰۹، ۶/۳۳۷)، دي/الصوم ۵۵ (۱۸۲۱)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (۴۹۹۴) (صحیح)
۲۴۷۰- ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ ﷺ بھی مجھے واپس کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ، (اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے)''، وہ بولے : سبحا ن اللہ! اللہ کے رسول!( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی) آپ ﷺ نے فرمایا: '' شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ،مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ (یا کہا: کوئی شر) نہ ڈال دے''۔


2471- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَتْ: حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ بِهِمَا رَجُلانِ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۰۱) (صحیح)
۲۴۷۱- زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ ﷺ مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
80- بَاب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ
۸۰-باب: اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟​


2472- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ، وَلايُعَرِّجُ، يَسْأَلُ عَنْهُ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: قَالَتْ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۱۵) (ضعیف)
(اس کے راوی'' لیث بن ابی سلیم ''ضعیف ہیں)
۲۴۷۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹہرے اس کا حال پوچھتے۔


2473- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ- عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتِ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَعُودَ مَرِيضًا، وَلا يَشْهَدَ جَنَازَةً، وَلا يَمَسَّ امْرَأَةً، وَلا يُبَاشِرَهَا، وَلا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلا لِمَا لابُدَّ مِنْهُ، وَلا اعْتِكَافَ إِلابِصَوْمٍ، وَلااعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ.
قَالَ أَبو دَاود: غَيْرُ عَبْدِالرَّحْمَنِ لا يَقُولُ فِيهِ: < قَالَتِ السُّنَّةُ >.
قَالَ أَبو دَاود: جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴) (حسن صحیح)
۲۴۷۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر صیام کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔
ابوداود کہتے ہیں:عبدالرحمن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ''قَالَتْ: السُّنَّةُ'' کا لفظ نہیں ہے۔
ابوداود کہتے ہیں:انہوں نے اسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قراردیا ہے۔


2474- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ [بْنُ بُدَيْلٍ] عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِي اللَّه عَنْه جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < اعْتَكِفْ وَصُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴)، وقد أخرجہ: خ/الاعتکاف ۱۶ (۲۰۴۳)، م/الأیمان والنذور ۷ (۱۶۵۶)، ت/الأیمان والنذور ۱۱ (۱۵۳۹)، ن/الکبری/ الاعتکاف (۳۳۵۵)، كلهم رووا هذا الحديث بلفظ: ''أوف بنذرك''۔ (صحیح) دون قوله: ''أو يومًا'' وقوله: ''وصم''
(سب کے یہاں صرف ''اپنی نذر پوری کر '' کا لفظ ہے اوربس)
۲۴۷۴- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا :'' اعتکاف کرو اور صیام رکھو''۔


2475- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ [يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ] عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَاللَّهِ؟ قَالَ: سَبْيُ هَوَازِنَ أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ ، قَالَ: وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵۴) (صحیح)
۲۴۷۵- اس سند سے بھی عبد اللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ (عمر رضی اللہ عنہ ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے ''الله أكبر'' کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ ﷺ نے آزاد کردیا ہے، کہا :یہ لونڈی بھی( تو انہیں میں سے ہے) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کردیا۔
وضاحت ۱؎ : مطلب یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ سے جب یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے تو اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ لونڈی جو میرے پاس ہے وہ بھی تو انہیں قیدیوں میں سے ہے پھر تم اسے کیسے روکے ہوئے ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
81- بَاب [فِي] الْمُسْتَحَاضَةِ تَعْتَكِفُ
۸۱-باب: مستحاضہ عورت اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے​


2476- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَقُتَيْبَةُ [بْنُ سَعِيدٍ] قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتِ: اعْتَكَفَتْ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي۔
* تخريج: خ/الحیض ۱۰ (۳۰۹)، ق/الصیام ۶۶ (۱۷۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۱)، دي/الطھارۃ ۹۳ (۹۰۶) (صحیح)
۲۴۷۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا وہ ( خو ن میں) پیلا پن اور سرخی دیکھتیں ( یعنی انہیں استحاضہ کا خون جاری رہتا) تو بسا اوقات ہم ان کے نیچے ( خون کے لئے) بڑا برتن رکھ دیتے اور وہ حالت صلاۃ میں ہوتیں۔



* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{ 9- كِتَاب الْجِهَادِ }
۹-کتاب: جہاد کے احکام و مسائل

1- بَاب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ
۱-باب: ہجرت کا ذکر اور صحراء وبیابان میں رہائش کا بیان​


2477- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: < وَيْحَكَ! إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ >، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟ >، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۳۶ (۱۴۵۲)، والھبۃ ۳۵ (۲۶۳۳)، ومناقب الأنصار ۴۵ (۳۹۲۳)، والأدب ۹۵ (۶۱۶۵)، م/الإمارۃ ۲۰ (۱۸۶۵)، ن/البیعۃ ۱۱ (۴۱۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۳، ۱۵۵۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۴، ۶۴) (صحیح)
۲۴۷۷- ابو سعید خد ری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہا تی) نے نبی اکرم ﷺ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا : ''تمہارے اوپر افسوس ہے! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟''، اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟''، اس نے کہا: ہاں(دیتے ہیں )، آپ ﷺ نے فرمایا:'' پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کر ے گا'' ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حدیث میں '' ویحک '' ( تمہارے اوپر افسوس ہے!)کا لفظ کلمہ ٔ ترحم وتوجع ہے اور اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ایسی تباہی میں پھنس گیا ہو جس کا وہ مستحق نہ ہو ۔
وضاحت ۲؎ : مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں ۔


2478- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا عَنِ الْبَدَاوَةِ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلاعِ، وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي: < يَاعَائِشَةُ! ارْفُقِي؛ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْئٍ قَطُّ إِلا زَانَهُ، وَلا نُزِعَ مِنْ شَيْئٍ قَطُّ إِلا شَانَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ویأتی ہذا الحدیث في الأدب (۴۸۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۵۰)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۲۳ (۲۵۹۴)، حم (۶/۵۸، ۲۲۲) (صحیح)
(اس میں سے صرف قول رسول ﷺ صحیح ہے اور اتنا ہی صحیح مسلم میں ہے، ٹیلوں پرجانے کا واقعہ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کا تفرد ہے)
۲۴۷۸- شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء وبیابان ( میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: ''عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اُسے عیب دار کر دیتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب فِي الْهِجْرَةِ هَلِ انْقَطَعَتْ
۲-باب: کیا ہجرت ختم ہو گئی؟​


2479- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَرِيزِ [بْنِ عُثْمَانَ]، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۹۹)، دي / السیر ۷۰ (۲۵۵۵) (صحیح)
۲۴۷۹- معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس لئے اگر ممکن ہو تو دارلکفر سے دارالاسلام کی طرف، اور دارالمعاصی سے دارالصلاح کی طرف ہجرت ہمیشہ بہتر ہے، ورنہ فی زمانہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے شہری کو اپنے یہاں منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔


2480- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْفَتْحِ -فَتْحِ مَكَّةَ-: < لا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۲۰۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۴۸) (صحیح)
۲۴۸۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح (مکہ) کے دن فرمایا :'' اب (مکہ فتح ہو جانے کے بعد مکہ سے) ہجرت نہیں( کیو ں کہ مکہ خود دارالاسلام ہو گیا ) لیکن جہاد اور( ہجرت کی) نیت باقی ہے، جب تمہیں جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑو''۔


2481- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَعِنْدَهُ الْقَوْمُ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِشَيْئٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ >۔
* تخريج: خ/الإیمان ۴ (۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۳۴)، وقد أخرجہ: م/الإیمان ۹ (۴۰)، حم (۲/۱۶۰، ۱۶۳، ۱۹۲، ۱۹۳، ۲۰۵، ۲۱۲، ۲۲۴)، دي/الرقاق ۸ (۲۷۸۵) (صحیح)
۲۴۸۱- عامر شعبی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے یہاں تک کہ وہ بھی آکر آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا : مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:''مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑدے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب فِي سُكْنَى الشَّامِ
۳-باب: شام میں رہنے کی فضیلت کا بیان​


2482- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ ابْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، فَخِيَارُ أَهْلِ الأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ، وَيَبْقَى فِي الأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا، تَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ، تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ، وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۰۹، ۱۹۸) (حسن)
(لیکن دوسرے طریق اور شاہد سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحۃ: ۳۲۰۳، وتراجع الالبانی: ۴)
۲۴۸۲- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:'' عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ (شام ) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ۱؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کر ے گی'' ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی وہ ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگتے پھریں گے۔
وضاحت ۲؎ : اس سے قیامت کے دن والا حشر مراد نہیں ہے نیز یہاں آگ سے مراد فتنے کی آگ ہے ۔


2483- حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ -يَعْنِي ابْنَ مَعْدَانَ- عَنِ ابْنِ أَبِي قُتَيْلَةَ، عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < سَيَصِيرُ الأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً، جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ >، قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ، فَقَالَ: <عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ، فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ، وَاسْقُوا مِنْ غُدُرِكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱۰) (صحیح)
۲۴۸۳- عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے، ایک ٹکڑی شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں''۔
ابن حوالہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پائوں تو کس ٹکڑی میں رہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اپنے اوپر شام کو لازم کر لو، کیوں کہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : شام فتنوں سے محفوظ رہے گا اور وہاں کے رہنے والوں کو اللہ فتنہ کے ذریعہ ہلاک نہیں کرے گا۔
 
Top