- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
کتاب السنن کا منہج اور مؤلف کی شرط
امام ابو داود نے اہل مکہ کے نام اپنے مکتوب میں کتاب السنن کے منہج اورطریقہ ٔ تالیف پر مفصل روشنی ڈالی ہے، ذیل میں ہم اس کے کچھ فقرات آپ کے منہج و طریقۂ تالیف کو بیان کرنے کے لئے نقل کر رہے ہیں:
۱- میں نے ہرباب میں صرف ایک یا دو حدیثیں نقل کی ہیں، گو اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں موجود ہیں، اگر ان سب کو میں ذکر کرتا تو ان کی تعداد کافی بڑھ جاتی، اس سلسلہ میں میرے پیش نظر صرف قرب منفعت رہاہے۔
۲- اگر کسی روایت کے دویا تین طرق سے آنے کی وجہ سے میں نے کسی باب میں اسے مکرر ذکر کیا ہے تو اس کی وجہ صرف سیاق کلام کی زیادتی ہے، بسا اوقات بعض سندوں میں کوئی لفظ زائد ہوتا ہے جو دوسری سند میں نہیں ہوتا،اس زائد لفظ کو بیان کرنے کے لئے میں نے ایسا کیا ہے۔
۳- بعض طویل حدیثوں کو میں نے اس لئے مختصر کر دیا ہے کہ اگر میں انہیں پوری ذکر کرتا تو بعض سامعین (وقراء) کی نگاہ سے اصل مقصد اوجھل رہ جاتا، اور وہ اصل نکتہ نہ سمجھ پاتے، اس وجہ سے میں نے زوائد کو حذف کر کے صرف اس ٹکڑے کو ذکر کیا ہے، جو اصل مقصد سے مناسبت و مطابقت رکھتا ہے۔
۴- کتاب السنن میں میں نے کسی متروک الحدیث شخص سے کوئی روایت نہیں نقل کی ہے، اور اگر صحیح روایت کے نہ ہونے کی وجہ سے اگر کسی باب میں کوئی منکر روایت آئی بھی ہے، تو اس کی نکارت واضح کردی گئی ہے۔
۵- میری اس کتاب میں اگر کوئی روایت ایسی آئی ہے جس میں شدید ضعف پایا جاتا ہے تو اس کا یہ ضعف بھی میں نے واضح کر دیا ہے، اور اگر کسی روایت کی سند صحیح نہیں اور میں نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے تو وہ میرے نزدیک صالح ہے، اور نسبتہً ان میں بعض بعض سے اصح ہیں۔
۶- اس کتاب میں بعض روایتیں ایسی بھی ہیں جو غیر متصل، مرسل اور مدلس ہیں، بیشتر محدثین ایسی روایتوں کو مستند و معتبر مانتے ہیں اور ان پر متصل ہی کا حکم لگاتے ہیں۔
۷- میں نے کتاب السنن میں صرف احکام کی حدیثوں کو شامل کیا ہے اس میں زہد اور فضائل اعمال وغیرہ سے متعلق حدیثیں درج نہیں کیں، یہ کتاب کل چار ہزار آٹھ سو احادیث پر مشتمل ہے، جو سب کی سب احکام کے سلسلہ کی ہیں۔