• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
81- بَاب فِي الرَّجُلِ يَطَأُ الأَذَى [بِرِجْلِهِ]
۸۱- باب: نجاست اور گندگی پر چلے تو کیا حکم ہے؟​


204- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ (ح) وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي شَرِيكٌ وَجَرِيرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ: كُنَّا لا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ، وَلا نَكُفُّ شَعْرًا، وَلا ثَوْبًا.
قَالَ أَبودَاود: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ فِيهِ: عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ، وَقَالَ هَنَّادٌ: عَنْ شَقِيقٍ أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ، قَاْلَ: قَاْلَ عَبْدُاللهِ.
* تخريج: حدیث ابراہیم بن أبی معاویۃ عن أبی معاویۃ تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۶۴)، وحدیث ہناد عن أبی معاویۃ وعثمان عن شریک وجریر وعبداللہ بن ادریس، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۰۹ (۱۴۳) تعلیقًا: ق/الإقامۃ ۶۷ (۱۰۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۶۸)(صحیح)

۲۰۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم راستہ میں چل کر پاؤں نہیں دھوتے تھے، اور نہ ہی ہم بالوں اور کپڑوں کو سمیٹتے تھے (یعنی اسی طرح صلاۃ پڑھ لیتے تھے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
82- بَاب مَنْ يُحْدِثُ فِي الصَّلاةِ
۸۲- باب: صلاۃ میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا کرے؟​


205- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدِ الصَّلاةَ >۔
* تخريج: ت/الرضاع ۱۲ (۱۱۶۴)،ن/الکبری، عشرۃ النساء (۹۰۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۴۴)، وقد أخرجہ: دي/الطھارۃ ۱۱۴ (۱۱۸۱)، حم (۱/۸۶) (ویأتي عند المؤلف برقم : ۱۰۰۵) (ضعیف)
(اس کے دو راوی عیسیٰ اور مسلم لَیِّن الحدیث ہیں)

۲۰۵ - علی بن طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو صلاۃ میں ہوا خارج ہو جائے تو وہ صلاۃ چھوڑ کر چلا جائے، پھر وضو کرے، اور صلاۃ کا اعادہ کرے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
83- بَاب فِي الْمَذْي
۸۳- باب: مذی کا بیان​


206- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، عَنِ الرَّكِينِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّائً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < لاتَفْعَلْ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوئَكَ للصَّلاةِ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ >.
* تخريج: ن/الطھارۃ ۱۱۱ (۱۵۲)، والغسل ۲۸ (۴۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۷۹)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۱۳(۲۶۹)، ت/الطھارۃ ۸۳ (۱۱۴)، ق/الطھارۃ ۷۰ (۵۰۴)، حم (۱/۱۰۹، ۱۲۵، ۱۴۵) (صحیح)

۲۰۶- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے مذی۱؎ بہت نکلا کرتی تھی، تو میں بار بار غسل کرتا تھا، یہاں تک کہ میری پیٹھ پھٹ گئی۲؎ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، یا آپ سے اس کا ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کر لو، جیسے صلاۃ کے لئے وضو کرتے ہو، البتہ جب پانی۳ ؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو‘‘۔
وضاحت۱؎ : مذی ایسی رطوبت کو کہتے ہیں جو عورت سے بوس و کنار کے وقت مرد کے ذکر سے بغیر اچھلے نکلتی ہے ۔
وضاحت۲؎ : یعنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے کرتے پیٹھ کی کھال پھٹ گئی، جیسے سردی میں ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔
وضاحت ۳؎ : اس سے مراد منی ہے یعنی وہ رطوبت جو شہوت کے وقت اچھل کر نکلتی ہے۔

207- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ [لَهُ] رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: <إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوئَهُ لِلصَّلاةِ >۔
* تخريج: ن/الطہارۃ ۱۱۲ (۱۵۶)، ق/الطہارۃ ۷۰ (۵۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۴۴)، وقد أخرجہ: ت/الطہارۃ ۸۳ (۱۵۶)، ط/الطہارۃ ۱۳ (۵۳)، حم (۶/۴، ۵) (صحیح)

۲۰۷- مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنے لئے) یہ مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور مذی نکل آئے تو کیا کرے؟ (انہوں نے کہا) چونکہ میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) ہیں، اس لئے مجھے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم آتی ہے۔
مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے جا کر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اپنی شرم گاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے جیسے صلاۃ کے لئے وضو کرتا ہے‘‘۔

208- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ؛ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ لِلْمِقْدَادِ، وَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَسَأَلَهُ الْمِقْدَادُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: <لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ >.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَجَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمِقْدَادِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: ن/الطہارۃ ۱۱۲ (۱۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۲۴) (صحیح)

۲۰۸- عروہ سے روا یت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، پھر راوی نے آگے اسی طرح کی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ مقداد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چاہئے کہ وہ شرمگاہ (عضو مخصوص) اور فوطوں کو دھو ڈالے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں : اِسے ثوری اور ایک جماعت نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروۃ سے، عروۃ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے، مقداد رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے، اور علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

209- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَدِيثٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قُلْتُ لِلْمِقْدَادِ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَاهُ الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ [وَجَمَاعَةٌ] وَالثَّوْرِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِقْدَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ يَذْكُرْ أُنْثَيَيْهِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۴۱) (صحیح)

۲۰۹- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
ابو داود کہتے ہیں: اور اِسے مفضل بن فضالہ، ایک جماعت، ثوری اور ابن عیینہ نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروۃ سے، عروۃ نے علی بن ابی طالب سے روایت کیا ہے، نیز اِسے ابن اسحاق نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ سے، عروۃ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے اور مقداد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، مگر اس میں لفظ ’’أنثييه (دونوں فوطوں) کا‘‘ ذکر نہیں ہے۔

210- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الاغْتِسَالِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: <إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ >، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ: < يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءِ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ >۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۸۴ (۱۱۵)، ق/الطھارۃ ۷۰ (۵۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۸۵، دي/الطھارۃ ۴۹ (۷۵۰) (حسن)

۲۱۰- سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی سے بڑی تکلیف ہوتی تھی، بار بار غسل کرتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اس میں صرف وضو کافی ہے‘‘، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کپڑے میں جو لگ جائے اس کا کیا ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک چلو پانی لے کر کپڑے پر جہاں تم سمجھو کہ مذی لگ گئی ہے چھڑک لو‘‘۔

211- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ -يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ- عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِيِّ؛ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ، وَعَنِ الْمَاءِ يَكُون بَعْدَ الْمَاءِ، فَقَالَ: < ذَاكَ الْمَذْيُ ، وَكُلُّ فَحْلٍ يَمْذِي، فَتَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجَكَ وَأُنْثَيَيْكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوئَكَ لِلصَّلاةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۲۸)، وقد أخرجہ: ت/الطھارۃ ۱۰۰ (۱۳۳)، ق/الطھارۃ ۱۳۰ (۶۵۱)، حم (۴/۳۴۲، ۵/۲۹۳) (صحیح)

۲۱۱- عبد اللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جو غسل کو واجب کرتی ہے، اور اس پانی کے بارے میں پوچھا جو غسل کے بعد عضو مخصوص سے نکل آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہی مذی ہے، اور ہر مرد کو مذی نکلتی ہے، لہٰذا تم اپنی شرمگاہ اور اپنے دونوں فوطوں کو دھو ڈالو، اور وضو کرو جیسے صلاۃ کے لئے وضو کرتے ہو‘‘۔

212- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَا يَحِلُّ [لِي] مِنِ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ: < لَكَ مَا فَوْقَ الإِزَارِ > وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۱۰۰(۱۳۳)، ق/الطہارۃ ۱۳۰ (۶۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۲۶) (صحیح)

۲۱۲- عبد اللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جب میری بیوی حائضہ ہو تو اس کی کیا چیز میرے لئے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے لئے لنگی (تہبند) کے اوپر والے حصہ (سے لطف اندوز ہونا) درست ہے‘‘، نیز اس کے ساتھ حائضہ کے ساتھ کھانے کھلانے کا بھی ذکر کیا، پھر راوی نے (سابقہ) پوری حدیث بیان کی۔

213- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ [بْنُ الْوَلِيدِ] عَنْ سَعْدٍ الأَغْطَشِ -وَهُوَ ابْنُ عَبْدِاللَّهِ- عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الأَزْدِيِّ -قَالَ هِشَامٌ: [وَ] هُوَ ابْنُ قُرْطٍ أَمِيرُ حِمْصَ- عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ: فَقَالَ: < مَا فَوْقَ الإِزَارِ، وَالتَّعَفُّفُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ هُوَ -يَعْنِي الْحَدِيثَ- بِالْقَوِيِّ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۳۲) (ضعیف)

(سعد الأغطش لین الحدیث اور بقیہ مدلس ہیں)
۲۱۳- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مرد کے لئے اس کی حائضہ بیوی کی کیا چیز حلال ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لنگی (تہبند) کے اوپر کا حصہ (اس سے لطف اندوز ہونا) جائز ہے، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
84- بَاب فِي الإِكْسَالِ
۸۴- باب: دخول سے انزال کے بغیر غسل کے حکم کا بیان​


214- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو- يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَى أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّمَا جعلَ ذَلِكَ رُخْصَةً لِلنَّاسِ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ لِقِلَّةِ الثِّيَابِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
قَالَ أَبودَاود: يَعْنِي الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۸۱ (۱۱۰)، ق/الطھارۃ ۱۱۱ (۶۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۱۲ (۲۶۷)، م/الحیض ۶ (۳۰۹)، ن/الطہارۃ ۱۷۰ (۲۶۴ ، ۲۶۵)، حم (۵/۱۱۵، ۱۱۶)، دي/الطھارۃ ۷۴ (۷۸۶) (صحیح)

(اگلی سند نیز دیگر اسانید سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں ایک مبہم راوی ہیں، علماء کی تصریح کے مطابق یہ مبہم راوی ابو حازم ہیں، نیز زہری خود سہل سے بھی براہ راست روایت کرتے ہیں)، (دیکھئے حاشیہ ترمذی از علامہ احمد محمد شاکر)۔
۲۱۴- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ رخصت ابتدائے اسلام میں کپڑوں کی کمی کی وجہ سے دی تھی (کہ اگر کوئی دخول کرے اور انزال نہ ہو تو غسل واجب نہ ہو گا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دخول کرنے اور انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنے کا حکم فرما دیا، اور غسل نہ کرنے کو منع فرما دیا۔
ابو داود کہتے ہیں: ’’نهى عن ذلك‘‘ یعنی ممانعت سے مراد ’’الماء من الماء‘‘ (غسل منی نکلنے کی صورت میں واجب ہے) والی حدیث پر عمل کرنے سے منع کر دیا ہے۔

215- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ [الْبَزَّازُ] الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ؛ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يَفْتُونَ أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ فِي بَدْءِ الإِسْلامِ ثُمَّ أَمَرَ بِالاغْتِسَالِ بَعْدُ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۲۷) (صحیح)

۲۱۵- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو یہ فتوی دیا کرتے تھے کہ منی کے انزال ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں دی تھی پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم دیا۔

216- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَرَاهِيدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ وَأَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ >۔
* تخريج: خ/الغسل ۲۸ (۲۹۱)، م/الطہارۃ ۲۲ (۳۴۸)، ن/الطھارۃ ۱۲۹ (۱۹۱)، ق/الطھارۃ ۱۱۱ (۶۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۴، ۲۴۷، ۳۹۳، ۴۷۱، ۵۲۰)، دي/الطھارۃ ۷۵ (۷۸۸) (صحیح)

۲۱۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب مرد عورت کی چاروں شاخوں (دونوں پنڈلیوں اور دونوں رانوں یا دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں) کے درمیان بیٹھے اور مرد کا ختنہ عورت کے ختنہ سے مل جائے (یعنی مرد کے عضو تناسل کی سپاری عورت کی شرمگاہ کے اند ر داخل ہو جائے) تو غسل واجب ہو گیا‘‘۔

217- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ >. وَكَانَ أَبُو سَلَمَةَ يَفْعَلُ ذَلِكَ۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۲۱ (۳۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۹، ۳۶، ۴۷) (صحیح)

۲۱۷- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پانی پانی سے ہے‘‘ (یعنی منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے) اور ابو سلمہ ایسا ہی کر تے تھے۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : کیونکہ وہ اسے منسوخ نہیں مانتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
85- بَاب فِي الْجُنُبِ يَعُودُ
۸۵- باب: جنبی غسل سے پہلے دوبارہ جماع کر سکتا ہے​


218- حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم طَافَ [ذَاتَ يَوْمٍ] عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ.
قَالَ أَبودَاود: وَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ وَمَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ كُلُّهُمْ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: ن/الطھارۃ ۱۷۰ (۱۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۳، ۵۶۸)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۱۲ (۲۶۸)، ۱۷ (۲۷۵)، والنکاح ۴ (۵۰۶۸)، ۱۰۲ (۵۲۱۵)، م/الطہارۃ ۶ (۳۰۹)، ت/الطھارۃ ۱۰۶ (۱۴۰)، ق/الطھارۃ ۱۰۱ (۱۴۰)، حم (۳/۲۲۵، دي/الطھارۃ ۷۱ (۷۸۰) (صحیح)

۲۱۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: اور اسی طرح اِسے ہشام بن زید نے انس سے اور معمر نے قتادہ سے، اور قتادہ نے انس سے اور صالح بن ابی الاخضر نے زہری سے اور ان سب نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
وضاحت۱؎ : یعنی سب سے صحبت کی، اور پھر آخر میں غسل کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
86- بَاب الْوُضُوءِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ
۸۶- باب: دوبارہ جماع کے لیے وضو کرنے کا بیان​


219- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ، يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ. قَالَ: فَقُلْتُ [لَهُ]: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلا تَجْعَلُهُ غُسْلا وَاحِدًا؟ قَالَ: < هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ >.
قَالَ أَبو دَاود : وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا۔
* تخريج: ق/الطھارۃ ۱۰۲ (۵۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۸، ۹، ۳۹۱) (حسن)

۲۱۹- ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے۱؎ ۔
ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ نے فرمایا: ’’یہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور اچھا ہے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے ۲؎ ۔
وضاحت۱؎ : یعنی ہر ایک سے جماع کرکے غسل کرتے تھے۔
وضاحت۲؎ : یعنی اس سے پہلے والی حدیث (۲۱۸)۔

220- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُعَاوِدَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوئًا >۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۶ (۳۰۸)، ت/الطھارۃ ۱۰۷ (۱۴۱)، ن/الطھارۃ ۱۶۹ (۲۶۳)، ق/الطھارۃ ۱۰۰ (۵۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۷، ۲۱، ۲۸) (صحیح)

۲۲۰ - ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے۱؎ پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو ان دونوں کے درمیان وضو کرے‘‘۔
وضاحت۱؎ : یعنی صحبت کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
87- بَاب [فِي] الْجُنُبِ يَنَامُ
۸۷- باب: جنبی غسل کے بغیر سونا چاہے تو کیا کرے؟​

221 - حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < تَوَضَّأْ، وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ >۔
* تخريج: خ/الغسل ۲۷ (۲۹۰)، م/الطہارۃ ۶ (۳۰۶)، ن/الطھارۃ ۱۶۷، (۲۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۲۴)، وقد أخرجہ: ق/الطھارۃ ۹۹ (۵۸۵)، ط/الطہارۃ۱۹(۷۶)، حم (۲/۶۴)، دي/الطھارۃ ۷۳ (۷۸۳) (صحیح)

۲۲۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’وضو کر لو، اور اپنا عضو تناسل دھو کر سو جاؤ‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
88-بَاب [في] الْجُنُبِ يَأْكُلُ
۸۸- باب: جنبی کھانا کھائے تو کیا کرے؟​


222 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلاةِ ۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۶ (۳۰۵)، ن/الطھارۃ ۱۶۴ (۲۵۶)، ۱۶۵ (۲۵۷)، ۱۶۶ (۲۵۸)، ق/الطھارۃ ۹۹ (۵۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۶۹)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۲۵ (۲۸۶)، حم (۶/۸۵)، دي/الطھارۃ ۷۳ (۷۸۴) (صحیح)

۲۲۲ - ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں جب سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے، جیسے صلاۃ کے لئے وضو کرتے تھے۔

223- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: < وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ يَدَيْهِ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، فَجَعَلَ قِصَّةَ الأَكْلِ قَوْلَ عَائِشَةَ مَقْصُورًا، وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: < عَنْ عُرْوَةَ أَوْ أَبِي سَلَمَةَ >.
وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۶۹) (صحیح)

۲۲۳- اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھا نے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھوتے۔
ابو داود کہتے ہیں: اِسے ابن وہب نے بھی یونس سے روایت کیا ہے، اور کھانے کے تذکہ کو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے، نیز اِسے صالح بن ابی الاخضر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے، مگر اس میں’’عَنْ عُرْوَةَ أَوْ أَبِي سَلَمَةَ‘‘ (شک کے ساتھ) ہے نیز اِسے اوزاعی نے بھی یونس سے، یونس نے زہری سے، اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
89- بَاب مَنْ قَالَ يَتَوَضَّأُ الْجُنُبُ
۸۹- باب: جنبی کھانے اور سونے سے پہلے وضو کرلے​

224- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ تَوَضَّأَ، تَعْنِي وَهُوَ جُنُبٌ۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۶(۳۰۵)، ن/الطہارۃ ۱۶۳ (۲۵۶)، ق/الطہارۃ ۱۰۳ (۵۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۲۶، ۱۹۱، ۱۹۲) (صحیح)

۲۲۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور آپ حالت جنابت میں ہوتے، تو وضو کر لیتے۔

225- حَدَّثَنَا مُوسَى [يَعْنِي] ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ [يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ] أَخْبَرَنَا عَطَائٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ.
قَالَ أَبودَاود: بَيْنَ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ.
وقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَابْنُ عُمَرَ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: < الْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ >۔
* تخريج: ت/الجمعۃ ۷۸ (۶۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۲۰) (ضعیف)
(اس میں دوعلتیں ہیں: سند میں انقطاع ہے اور عطاء خراسانی ضعیف ہیں)
۲۲۵- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ جب وہ کھانے پینے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔
ابو داود کہتے ہیں: یحییٰ بن یعمر اورعمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے درمیان اس حدیث میں ایک اور شخص ہے، علی بن ابی طالب، ابن عمر اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے کہا ہے کہ جنبی جب کھا نے کا ارادہ کرے تو وضو کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
90-بَاب فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ
۹۰- باب: جنبی نہانے میں دیر کرے اس کے حکم کا بیان​


226- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ (ح) وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالا: حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ أَمْ يَخْفُتُ بِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَفَتَ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً۔
* تخريج: ن/الطھارۃ ۱۴۱ (۲۲۳)، والغسل ۶ (۴۰۴)، ق/الطھارۃ ۱۷۹(۱۳۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۲۹)، وقد أخرجہ: م/الحیض ۶ (۳۰۷) (صحیح)

۲۲۶ - غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصہ میں غسلِ جنابت کرتے ہوئے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ رات کے پہلے حصہ میں غسل فرماتے، کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔
پھر میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصہ میں پڑھتے تھے اور کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔
پھر میں نے پو چھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن زور سے پڑھتے دیکھا ہے یا آہستہ سے؟ کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے پڑھتے اور کبھی آہستہ سے، میں نے کہا: اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس امر میں وسعت رکھی ہے۔

227- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ [النَّمَرِيُّ]، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ [ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه ]، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < لا تَدْخُلُ الْمَلائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلا كَلْبٌ وَلا جُنُبٌ >۔
* تخريج: ن/الطھارۃ ۱۶۸ (۲۶۲)، والصید ۱۱ (۴۲۸۶)، ق/اللباس ۴۴ (۳۶۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۳،۱۰۴)، دي/ الاستئذان ۳۴ (۲۷۰۵)، ویأتي عند المؤلف فی اللباس برقم (۴۱۵۲) (ضعیف)
(نجی راوی لین الحدیث ہیں)
۲۲۷- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویرہو، یا کتّا ہو، یا جنبی ہو‘‘۔

228 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَمَسَّ مَائً.
قَالَ أَبودَاود: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يَقُولُ: هَذَا الْحَدِيثُ وَهْمٌ، يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۸۷ (۱۱۹)، ق/الطھارۃ ۹۸ (۵۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳) (صحیح)

۲۲۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں بغیرغسل فرمائے سو جاتے تھے۔
ابو داود کہتے ہیں: ہم سے حسن بن علی واسطی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے یزید بن ہارون کو کہتے سنا کہ یہ حدیث یعنی ابو اسحاق کی حدیث وہم ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: امام ابن العربی کی تصریح کے مطابق یہ وہم ایک طویل حدیث کے اختصار میں واقع ہوا ہے، ورنہ اصل معنی صحیح ہے، یعنی کبھی کبھی بیان جواز کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ غسل کیا نہ ہی وضو، یا یہ مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی نہیں چھوا، یعنی غسل نہیں کیا، ہاں وضو کیا۔
 
Top