• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
122-بَاب الاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ
۱۲۲- باب: حیض سے غسل کے طریقے کا بیان​


313- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ-، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ-، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَدْ سَمَّاهَا لِي قَالَتْ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى حَقِيبَةِ رَحْلِهِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى الصُّبْحِ، فَأَنَاخَ وَنَزَلْتُ عَنْ حَقِيبَةِ رَحْلِهِ فَإِذَا بِهَا دَمٌ مِنِّي، فَكَانَتْ أَوَّلُ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا، قَالَتْ: فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ وَاسْتَحْيَيْتُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا بِي وَرَأَى الدَّمَ قَالَ: < [مَا لَكِ؟] لَعَلَّكِ نَفِسْتِ >، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: < فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ ثُمَّ خُذِي إِنَائً مِنْ مَاءِ فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا، ثُمَّ اغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ مِنَ الدَّمِ، ثُمَّ عُودِي لِمَرْكَبِكِ>، قَالَتْ: فَلَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم خَيْبَرَ رَضَخَ لَنَا مِنَ الْفَيْئِ، قَالَتْ: وَكَانَتْ لا تَطَّهَّرُ مِنْ حَيْضَةٍ إِلا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ بِهِ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۸۰) (ضعیف)

(اس کی راویہ ’’اُمیہ بنت ابی الصلت‘‘ مجہول ہیں)
۳۱۳- ایک غفاری عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے اپنے کجاوے کے حقیبہ۱؎ پر بٹھایا پھر اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک مسلسل چلتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھا دیا، میں کجاوے کے حقیبہ پر سے اتری تو اس میں حیض کے خون کا نشان پایا، یہ میرا پہلا حیض تھا جو مجھے آیا، وہ کہتی ہیں: میں شرم کی وجہ سے اونٹنی کے پاس سمٹ گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حال دیکھا اور خون بھی دیکھا تو فرمایا: ’’تمہیں کیا ہوا؟ شاید حیض آ گیا ہے‘‘، میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنے آپ کو ٹھیک کر لو (کچھ باندھ لو تاکہ خون باہر نہ نکلے) پھر پانی کا ایک برتن لے کر اس میں نمک ڈال لو اور حقیبہ میں لگے ہوئے خون کو دھو ڈالو، پھر اپنی سواری پر واپس آ کر بیٹھ جاؤ‘‘۔
وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کیا تو مال فی میں سے ہمیں بھی ایک حصہ دیا۔
وہ کہتی ہیں: پھر وہ جب بھی حیض سے پاکی حاصل کرتیں تو اپنے پاکی کے پانی میں نمک ضرور ڈالتیں، اور جب ان کی وفات کا وقت آیا تو اپنے غسل کے پانی میں بھی نمک ڈالنے کی وصیت کر گئیں۔
وضاحت۱؎: ہر وہ چیز جو اونٹ کے پیچھے کجاوہ کے آخر میں باندھ دی جائے حقیبہ کہلاتی ہے۔

314- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ؟ قَالَ: < تَأْخُذُ سِدْرَهَا وَمَائَهَا فَتَوَضَّأُ ثُمَّ تَغْسِلُ رَأْسَهَا وَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءُ أُصُولَ شَعْرِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَى جَسَدِهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَتَهَا فَتَطَّهَّرُ بِهَا >، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَرَفْتُ الَّذِي يَكْنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقُلْتُ لَهَا: تَتَبَّعِينَ [بِهَا] آثَارَ الدَّمِ ۔
* تخريج: م/الحیض ۱۳ (۳۳۲)، ق/الطھارۃ ۱۲۴ (۶۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۴۷)، وقد أخرجہ: خ/الحیض۱۳ (۳۱۴)، ن/الطھارۃ ۱۵۹ (۲۵۲)، حم (۶/۱۴۷، دي/الطھارۃ ۸۳ (۸۰۰) (حسن صحیح)

۳۱۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء (بنت شکل انصاریہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو تو وہ کس طرح غسل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے کر وضو کرے، پھر اپنا سر دھوئے، اور اُسے ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہائے، پھر روئی کا پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرے‘‘۔
اسماء نے عرض کیا : اللہ کے رسول! میں اس (پھاہے) سے طہارت کس طرح حاصل کروں؟ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کنایۃً کہی وہ میں سمجھ گئی، چنانچہ میں نے ان سے کہا: تم اسے خون کے نشانات پر پھیرو۔

315- حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الأَنْصَارِ، فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا، وَقَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: فِرْصَةً مُمَسَّكَةً.
قَالَ مُسَدَّدٌ: كَانَ أَبُو عَوَانَةَ يَقُولُ: فِرْصَةً، وَكَانَ أَبُو الأَحْوَصِ يَقُولُ: قَرْصَةً ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۴۷) (حسن صحیح)

۳۱۵ - ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں: ’’ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی‘‘، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی، مگر اس میں انہوں نے ’’فِرْصَةٌ مُمَسَّكَة‘‘ (مشک میں بسا ہوا پھاہا) کہا۔
مسدد کا بیان ہے کہ ابو عوانہ ’’فِرْصَةٌ‘‘ (پھاہا) کہتے تھے اور ابو الاحوص ’’قَرْصَة‘‘ (روئی کا ٹکڑا) کہتے تھے ۔

316- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ [الْعَنْبَرِيُّ]، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ -يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ- عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم بِمَعْنَاهُ، قَالَ: <فِرْصَةً مُمَسَّكَةً> قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: < سُبْحَانَ اللَّهِ! تَطَهَّرِي بِهَا>، وَاسْتَتَرَ بِثَوْبٍ، وَزَادَ: وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: < تَأْخُذِينَ مَائَكِ فَتَطَّهَّرِينَ أَحْسَنَ الطُّهُورِ وَأَبْلَغَهُ ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَى رَأْسِكِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَدْلُكِينَهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِكِ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ >، قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَسْأَلْنَ عَنِ الدِّينِ وَ[أَنْ] يَتَفَقَّهْنَ فِيهِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۴۷) (حسن
)
۳۱۶ - ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مشک لگا ہوا روئی کا پھاہا (لے کر اس سے پاکی حاصل کرو)‘‘، اسما ء نے کہا: اس سے میں کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو‘‘، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے (اپنا چہرہ) چھپا لیا۔
اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم پانی لے لو، پھر اس سے خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرو، پھر اپنے سر پر پانی ڈالو، پھر اسے اتنا ملو کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی بہاؤ‘‘۔
راوی کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں انہیں دین کا مسئلہ دریافت کرنے اور اس کو سمجھنے میں حیا مانع نہیں ہوتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
123-بَاب التَّيَمُّمِ
۱۲۳- باب: تیمم کا بیان​


317- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ -الْمَعْنَى وَاحِدٌ- عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم اسيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَأُنَاسًا مَعَهُ فِي طَلَبِ قِلادَةٍ أَضَلَّتْهَا عَائِشَةُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءِ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ، فَقَالَ لَهَا أُسَيْدُ [بْنُ حُضَيْرٍ]: يَرْحَمُكِ اللَّهُ! مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَلَكِ فِيهِ فَرَجًا۔
* تخريج: خ/اللباس ۵۸ (۵۸۸۲)، التفسیر ۳ (۴۵۸۳)،(تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۰،۱۷۲۰۵)، وقد أخرجہ: خ/التیمم ۲ (۳۳۴)، م/التیمم ۲۸ (۳۶۷)، ن/الطھارۃ ۱۹۴ (۳۱۱)، ق/الطھارۃ ۹۰ (۶۵۸)، ط/الطھارۃ ۲۳(۸۹)، حم (۶/۵۷، ۱۷۹)، دي/الطھارۃ ۶۵ (۷۷۳) (صحیح)

۳۱۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو وہ ہار ڈھونڈنے کے لئے بھیجا جسے عائشہ نے کھو دیا تھا، وہاں صلاۃ کا وقت ہو گیا تو لو گوں نے بغیر وضو صلاۃ پڑھ لی، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت اتاری گئی۔
ابن نفیل نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! آپ کو جب بھی کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں تو اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لئے اور آپ کے لئے اس میں ضرور کشادگی پیدا کر دی ہے۔

318- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالصَّعِيدِ لِصَلاةِ الْفَجْرِ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ، ثُمَّ مَسَحُوا وُجُوهَهُمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى، فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالآبَاطِ مِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ۔
* تخريج: ق/الطھارۃ ۹۰ (۵۶۵)، ۹۲ (۵۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۳)، وقد أخرجہ: ت/الطھارۃ ۱۱۰ (۱۴۴)، ن/الطھارۃ ۱۹۶ (۳۱۳)، ۱۹۹ (۳۱۷)، ۲۰۰ (۳۱۸)، ۲۰۱ (۳۱۹)، ۲۰۲ (۳۲۰)، حم (۴/۲۶۳، ۲۶۴) (صحیح)

۳۱۸- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ لوگوں نے فجر کی صلاۃ کے لئے پاک مٹی سے تیمم کیا، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو انہوں نے مٹی پر اپنا ہاتھ مارا اور منہ پر ایک دفعہ پھیر لیا، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا اور اپنے پورے ہاتھوں پر پھیر لیا یعنی اپنی ہتھیلیوں سے لے کر کندھوں اور بغلوں تک ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎: تیمم کا طریقہ آگے حدیث نمبر (۳۲۰) میں آ رہا ہے، جس میں ہاتھ کو صرف ایک بار مٹی پر مار کر منہ اور ہتھیلی پر مسح کرنے کا بیان ہے اس حدیث کے سلسلہ میں علامہ محمد اسحاق دہلوی فرماتے ہیں کہ ابتداء میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی سمجھ اور قیاس سے ایسا کیا، لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کا طریقہ بتایا تو وہ اس کو سیکھ گئے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ امام شافعی نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مونڈھے تک تیمم کیا، اور آپ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے لئے چہرہ اور دونوں ہتھیلی تک مسح کا حکم دیا، تو گویا زیر نظر واقعہ میں مذکور تیمم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نہیں تھا (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۱؍۳۵۰ و ۳۵۱)

319- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَعَبْدُالْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: قَامَ الْمُسْلِمُونَ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ التُّرَابَ، وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَنَاكِبَ وَالآبَاطَ، قَالَ ابْنُ اللَّيْثِ: إِلَى مَا فَوْقَ الْمِرْفَقَيْنِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۳)، وقد أخرجہ: ن/الطھارۃ ۱۹۷ (۳۱۴)، حم (۴/۲۶۳، ۲۶۴) (صحیح)

۳۱۹ - اس سند سے ابن وہب سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ’’ مسلمان کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا اور مٹی بالکل نہیں لی‘‘، پھر راوی نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے ’’المناكب والآباط‘‘ (کندھوں اور بغلوں) کا ذکر نہیں کیا ‘‘۔
ابن لیث کہتے ہیں: انہوں نے اپنے ہاتھوں پر کہنیوں کے اوپر تک مسح کیا ۔

320- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَرَّسَ بِأَوَّلاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ، فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَائٌ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ صلی اللہ علیہ وسلم رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ إِلَى الأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بِطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الآبَاطِ، زَادَ ابْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فِي حَدِيثِهِ: وَلا يَعْتَبِرُ بِهَذَا النَّاسُ .
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ فِيهِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَذَكَرَ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا ذَكَرَ يُونُسُ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَرْبَتَيْنِ، وَقَالَ مَالِكٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ: [عَنِ الزُّهْرِيِّ] وَشَكَّ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ مَرَّةً: عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَرَّةً قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَمَرَّةً قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اضْطَرَبَ [ابْنُ عُيَيْنَةَ] فِيهِ وَفِي سَمَاعِهِ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الضَّرْبَتَيْنِ إِلا مَنْ سَمَّيْتُ۔
* تخريج: ن/الطہارۃ ۱۹۷ (۳۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۶۳) (صحیح)

۳۲۰- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولات الجیش۱؎ میں رات گزارنے کے لئے ٹھہرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ہار جو ظفار کے مونگوں سے بنا تھا ٹوٹ کر گر گیا، چنانچہ ہار کی تلاش کے سبب لوگ روک لئے گئے یہاں تک کہ صبح روشن ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی موجود نہیں تھا، چنانچہ ابو بکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہو گئے اور کہا: ’’تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے، حالانکہ ان کے پاس پانی نہیں ہے‘‘، تو اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل فرمائی، مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اپنے ہاتھ زمین پر مار کر اسے اس طرح اٹھا لیا کہ مٹی بالکل نہیں لگی، پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مونڈھوں تک اور ہتھیلیوں سے بغلوں تک مسح کیا۔
ابن یحییٰ نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں کہا: لوگوں کے نزدیک اس فعل کا اعتبار نہیں ہے ۲؎۔
ابو داود کہتے ہیں: نیز اسی طرح ابن اسحاق نے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے دو ضربہ۳؎ کا ذکر کیا ہے جس طرح یونس نے ذکر کیا ہے، نیز معمر نے بھی زہری سے دو ضربہ کی روایت کی ہے۔
مالک نے زہری سے، زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے، عبید اللہ نے اپنے والد عبد اللہ سے، عبد اللہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اسی طرح ابو اویس نے زہری سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اس میں شک کیا ہے: کبھی انہوں نے ’’عن عبيدالله، عن أبيه‘‘ کہا، اور کبھی ’’عن عبيدالله عن ابن عباس‘‘ یعنی کبھی عن ابیہ اور کبھی عن ابن عباس ذکر کیا۔
ابن عیینہ اس میں ۴؎ اور زہری سے اپنے سماع میں ۵؎ مضطرب ہیں نیز زہری کے رواۃ میں سے کسی نے دو ضربہ کا ذکر نہیں کیا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کا میں نے نام لیا ہے۶؎۔
وضاحت ۱؎ : مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے ، اِسے ذات الجیش بھی کہا جاتا ہے ۔
وضاحت ۲؎: کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے پہلے اپنی رائے و قیاس سے انہوں نے ایسا کیا تھا۔
وضاحت ۳؎: ابن حجر کے قول کے مطابق صفت تیمم کے سلسلہ میں ابو جہیم اور عمار رضی اللہ عنہما کی حدیث کو چھوڑ کر باقی ساری روایات یا تو ضعیف ہیں یا ان کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے، یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ’’التيمم للوجه والكفين‘‘ کے ساتھ باب باندھا ہے (ملاحظہ ہو: فتح الباری)۔
علامہ البانی دو ضربہ والی روایات کو واہی اور معلول کہتے ہیں، اس لئے دو ضربہ کی ضرورت ہی نہیں صرف ایک ضربہ کافی ہے (ارواء الغلیل)۔
وضاحت ۴؎ : یعنی کبھی تو انہوں نے ’’عن أبيه‘‘ کہا اور کبھی اسے ساقط کرکے اس کی جگہ ’’عن ابن عباس‘‘ کہا ۔
وضاحت ۵؎: کبھی انہوں نے اسے زہری سے بلا واسطہ روایت کیا ہے اور کبھی اپنے اور زہری کے درمیان عمرو بن دینار کاواسطہ بڑھا دیا۔
وضاحت ۶؎: وہ نام یہ ہیں: یونس، ابن اسحاق اور معمر، زہری کے رواۃ میں صرف انہیں تینوں نے ضربتین کے لفظ کا ذکر کیا ہے، رہے زہری سے روایت کرنے والے باقی لوگ جیسے صالح بن کیسان ، لیث بن سعد، عمرو بن دینار، مالک، ابن ابی ذئب وغیرہم تو ان میں سے کسی نے ضربتین کا ذکر نہیں کیا ہے۔

321- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا بَيْنَ عَبْدِاللَّهِ وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَاأَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ! أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ: لا، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: {فَلَمْ تَجِدُوا مَائًا فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا}؟ فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا؟ قَالَ نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدَ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَتَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: < إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا >، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الأَرْضِ فَنَفَضَهَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ، وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، عَلَى الْكَفَّيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُاللَّهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ؟.
* تخريج: خ/التیمم ۷ (۳۴۵، ۳۴۶)، ۸ (۳۴۷)، م/الحیض ۲۸ (۳۶۸)، ت/الطہارۃ ۱۱۰ (۱۴۴ مختصراً)، ن/الطھارۃ ۲۰۳ (۳۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۶۴) (صحیح)

۳۲۱ - ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو عبد الرحمن! (یہ عبد اللہ بن مسعود کی کنیت ہے) اس مسئلے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور ایک مہینے تک پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کرتا رہے؟ عبد اللہ بن مسعو د نے کہا: تیمم نہ کرے، اگرچہ ایک مہینہ تک پانی نہ ملے۔
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ سورہ مائدہ کی اس آیت: {فَلَمْ تَجِدُوا مَائًا فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} (سورۃ النساء: ۴۳ ) ’’پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو‘‘ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو عبد اللہ بن مسعود نے کہا: اگر تیمم کی رخصت دی جائے تو قریب ہے کہ جب پانی ٹھنڈا ہو تو لوگ مٹی سے تیمم کرنے لگیں۔
اس پر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے اسی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات (جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی) نہیں سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لئے بھیجا تو میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہیں ملا تو میں مٹی (زمین) پر لوٹا جیسے جانور لوٹتا ہے، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں تو بس اس طرح کر لینا کافی تھا‘‘، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اسے جھاڑا، پھر اپنے بائیں سے اپنی دائیں ہتھیلی پر اور دائیں سے بائیں ہتھیلی پر مارا، پھر اپنے چہرے کا مسح کیا، تو عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی اس بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟ !۔

322- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَكَانِ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ أُصَلِّي حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، قَالَ: فَقَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الإِبِلِ فَأَصَابَتْنَا جَنَابَةٌ، فَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: < إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا >، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى نِصْفِ الذِّرَاعِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَمَّارُ! اتَّقِ اللَّهَ، فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْكُرْهُ أَبَدًا، فَقَالَ عُمَرُ: كَلا وَاللَّهِ لَنُوَلِّيَنَّكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف:: ۱۰۳۶۲) (صحیح)

(مگر ’’إلى نصف الذراعين‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے، یہ شاذ ہے اور صحیحین میں ہے بھی نہیں)
۳۲۲- عبد الرحمن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : بسا اوقات ہم کسی جگہ ماہ دو ماہ ٹھہرے رہتے ہیں (جہاں پانی موجود نہیں ہوتا اور ہم جنبی ہو جاتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟) عمر نے کہا: جہاں تک میرا معاملہ ہے تو جب تک مجھے پانی نہ ملے میں صلاۃ نہیں پڑھ سکتا، وہ کہتے ہیں: اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المومنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ اونٹوں میں تھے (اونٹ چراتے تھے) اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی، بہرحال میں تو مٹی (زمین) پر لوٹا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں بس اس طرح کر لینا کافی تھا‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر نصف ذراع تک پھیر لیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار ! اللہ سے ڈرو ۱؎، انہوں نے کہا: امیر المومنین منین! اگر آپ چاہیں تو قسم اللہ کی میں اسے کبھی ذکر نہ کروں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، قسم اللہ کی ہم تمہاری بات کا تمہیں اختیار دیتے ہیں، یعنی معاملہ تم پر چھوڑتے ہیں تم اسے بیان کرنا چاہو تو کرو۔
وضاحت ۱؎: اس بے اطمینانی کی وجہ یہ تھی کہ عمر رضی اللہ عنہ خود اس قضیہ میں عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے لیکن انہیں اس طرح کا کوئی واقعہ سرے سے یاد ہی نہیں آرہا تھا۔

323- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: <يَا عَمَّارُ! إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا>، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ، ثُمَّ ضَرَبَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى نِصْفِ السَّاعِدَيْنِ، وَلَمْ يَبْلُغِ الْمِرْفَقَيْنِ، ضَرْبَةً وَاحِدَةً.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ [بْنِ كُهَيْلٍ] عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۲) (صحیح)
(’’الذراعين...‘‘ کا جملہ صحیح نہیں ہے)
۳۲۳- ابن ابزی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے اس حدیث میں یہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عمار! تمہیں اس طرح کر لینا کافی تھا‘‘، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر ایک بار مارا پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر دونوں کلائیوں کے نصف تک پھیرا اور کہنیوں تک نہیں پہنچے۔
ابو داود کہتے ہیں: اِسے وکیع نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے اور سلمہ نے عبد الرحمن بن ابزی سے روایت کیا ہے، نیز اسے جریر نے اعمش سے، اعمش نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزی سے اور سعید نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ۔

324- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فَقَالَ: <إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ > وَضَرَبَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا، وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لا أَدْرِي فِيهِ: إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي، أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۳۸، ۱۰۳۶۲) (صحیح)

(شک والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ۳۲۶)
۳۲۴- اس سند سے بھی عبد الرحمن بن ابزی سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں بس اتنا کر لینا کافی تھا‘‘، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لیا، سلمہ کو شک ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ اس میں ’’إلى المرفقين‘‘ ہے یا ’’إلى الكفين‘‘ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنیوں تک پھیرا، یا پہونچوں تک)۔

325- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ -يَعْنِي الأَعْوَرَ-، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا، وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ [إِلَى] الذِّرَاعَيْنِ، قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَلَمَةُ يَقُولُ: الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ ذَاتَ يَوْمٍ: انْظُرْ مَا تَقُولَ فَإِنَّهُ لا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۲) (صحیح)

(’’المرفقين والذراعين‘‘ والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر : ۳۲۶)
۳۲۵- حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا۔
شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔
وضاحت ۱؎ : ذراع کا اطلاق بیچ کی انگلی کے سرے سے لے کر کہنی تک کے حصہ پر ہوتا ہے، یعنی مرفق اور ذراع دونوں ’’کہنی‘‘ کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

326- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقَالَ -يَعْنِي النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم -: <إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ إِلَى الأَرْضِ فَتَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ >، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ بِمِثْلِهِ إِلا أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَنْفُخْ، وَذَكَرَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الأَرْضِ وَنَفَخَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۲) (صحیح)

۳۲۶- اس طریق سے عبد الرحمن بن ابزیٰ سے بواسطہ عمار رضی اللہ عنہ اس حدیث میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صرف اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر انہیں اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لینا تمہارے لئے کافی تھا‘‘، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
ابو داود کہتے ہیں: اِسے شعبہ نے حصین سے ، حصین نے ابو مالک سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو اسی طرح خطبہ میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر اس میں انہوں نے کہا: ’’پھونک نہیں ماری‘‘، اور حسین بن محمد نے شعبہ سے اور انہوں نے حکم سے روایت کی ہے ، اس میں انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مارا اور اس میں پھونک ماری۔

327- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ التَّيَمُّمِ، فَأَمَرَنِي ضَرْبَةً وَاحِدَةً لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۲) (صحیح)

۳۲۷- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لئے ایک ضربہ ۱؎ کا حکم دیا ۔
وضاحت ۱؎: یعنی ایک بار مٹی پر ہاتھ مار کر چہرہ اور دونوں ہتھیلی پر پھیرا جائے۔

328- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ >۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۲) (منکر)
(اس کی سند میں’’محدث‘‘ ایک مبہم راوی ہے)
۳۲۸- موسیٰ بن اسماعیل کہتے ہیں : ہم سے ابان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ایک محدث نے بیان کیا ہے، اس نے شعبی سے شعبی نے عبد الرحمن بن ابزی سے ابزی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کہنیوں تک (مسح کرے)‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
124- بَاب التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ
۱۲۴- باب: حضر (اقامت) میں تیمم کا بیان​


329- حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ السَّلامَ، حَتَّى أَتَى عَلَى جِدَارٍ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ۔
* تخريج: خ/التیمم ۳ (۳۳۷)، م/الحیض ۲۸ (تعلیقاً) (۳۶۹)، ن/الطھارۃ ۱۹۵ (۳۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۹) (صحیح)

۳۲۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کہتے ہیں کہ میں اور ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبد اللہ بن یسار دونوں ابو جہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ابو جہیم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل (مدینے کے قریب ایک جگہ کا نام) کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے اور آپ نے (دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر) اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔

330- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ، فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلامَ، وَقَالَ: < إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلامَ إِلا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ >.
قَالَ أَبودَاود: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْكَرًا فِي التَّيَمُّمِ.
قَالَ ابْنُ دَاسَةَ: قَالَ أَبو دَاود: لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ [بْنُ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَلَى ’’ضَرْبَتَيْنِ‘‘ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَرَوَوْهُ فِعْلَ] ابْنِ عُمَرَ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۲۰) (ضعیف)

(محمد بن ثابت لین الحدیث ہیں ایک ضربہ والی اگلی حدیث صحیح ہے)
۳۳۰- نافع کہتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کسی ضرورت کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن ان کی گفتگو میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک آدمی ایک گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر گزرا اور آپ (ابھی) پا خانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے کہ اس آدمی نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جب وہ شخص گلی میں آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جانے کے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرا، پھر دوسری بار اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اس سے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ’’مجھے تیرے سلام کا جواب دینے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں پاکی کی حالت میں نہیں تھا‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے باب میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے ۔
ابن داسہ کہتے ہیں کہ ابو داود نے کہا ہے کہ اس قصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ضربہ پر محمد بن ثابت کی متابعت (موافقت) نہیں کی گئی ہے، صرف انہوں نے ہی دو ضربہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل قرار دیا ہے، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل روایت کیا ہے ۔

331- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْغَائِطِ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى الرَّجُلِ السَّلامَ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۳۳)(صحیح)

۳۳۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے تو بئر جمل کے پاس ایک آدمی کی ملاقات آپ سے ہو گئی، اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جو اب نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
125- بَاب الْجُنُبِ يَتَيَمَّمُ
۱۲۵- باب: جنبی تیمم کر سکتا ہے​


332- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ [الْوَاسِطِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ] (ح) وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِاللَّهِ الْوَاسِطِيَّ-، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: < يَا أَبَا ذَرٍّ! ابْدُ فِيهَا >، فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ، فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: <أَبُو ذَرٍّ> فَسَكَتُّ، فَقَالَ: <ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، أَبَا ذَرٍّ، لأُمِّكَ الْوَيْلُ>، فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ، فَجَائَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَائٌ، فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ، وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ، وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلا، فَقَالَ: <الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ [جِلْدَكَ]، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ>.
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : غُنَيْمَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَبودَاود: وَحَدِيثُ عَمْرٍو أَتَمُّ۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۹۲ (۱۲۴)، ن/الطھارۃ ۲۰۵ (۳۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۵۵، ۱۸۰) (صحیح)
(بزار وغیرہ کی روایت کردہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے ایک راوی ’’عمرو بن بجدان‘‘ مجہول ہیں)
۳۳۲- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابو ذر ! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ ‘‘، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کر تا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ’’ابوذر !‘‘، میں خاموش رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہاری ماں تم پر روئے، ابو ذر ! تمہا ری ماں کے لئے بربادی ہو ۱؎ ‘‘، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک کالی لونڈی بلائی، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی، اس نے میرے لئے ایک کپڑے کی آڑ کی اور (دوسری طرف سے) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا،(غسل کر کے مجھے ایسا لگا) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پاک مٹی مسلمان کے لئے وضو (کے پانی کے حکم میں) ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو، اس لئے کہ یہ بہتر ہے‘‘۔
مسدد کی روایت میں ’’غنيمة من الصدقة‘‘ کے الفاظ ہیں ۔
ابو داود کہتے ہیں: عمرو کی روایت زیادہ کامل ہے ۔
وضاحت ۱؎: اس طرح کے الفاظ زبان پر یوں ہی بطور تعجب جاری ہو جاتے ہیں ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔

333- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ فِي الإِسْلامِ، فَأَهَمَّنِي دِينِي، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُوذَرٍّ: إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ، فَقَالَ لِي: < اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا > قَالَ [حَمَّادٌ]: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا [هَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ] فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِنِصْفِ النَّهَارِ، وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: <أَبُوذَرٍّ؟> فَقُلْتُ: نَعَمْ، هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: <وَمَا أَهْلَكَكَ؟> قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُهُورٍ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِمَاءِ فَجَائَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلآنَ، فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ لَمْ يَذْكُرْ < أَبْوَالَهَا >.
قَالَ أَبودَاود: هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِهَا إِلا حَدِيثُ أَنَسٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۰۸) (صحیح)
(ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ایک راوی ’’رجل من بنی عامر‘‘ مبہم راوی ہیں اور یہ وہی’’عمرو بن بجدان‘‘ ہیں)
۳۳۳- قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو مجھے اپنا دین سیکھنے کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: مجھے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹ اور بکریاں دینے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا: ’’تم ان کا دودھ پیو‘‘، (حماد کا بیان ہے کہ مجھے شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیشاب بھی پینے کے لئے کہا یا نہیں، یہ حماد کا قول ہے)، پھر ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے ( اکثر) دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے صلاۃ پڑھ لیتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوپہر کے وقت آیا، آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں (بیٹھے) تھے، آپ نے فرمایا : ’’ابو ذر ؟‘‘، میں نے کہا: جی، اللہ کے رسول! میں تو ہلاک و برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کس چیز نے تمہیں ہلاک و برباد کیا؟‘‘، میں نے کہا: میں پانی سے دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے صلاۃ پڑھ لیتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے پانی لانے کا حکم دیا، چنانچہ ایک کالی لونڈی بڑے برتن میں پانی لے کر آئی جو برتن میں ہل رہا تھا، برتن بھرا ہوا نہیں تھا، پھر میں نے اپنے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، پھر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابو ذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ، لیکن جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی کھال پر بہاؤ (غسل کرو)‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اِسے حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے پیشاب کا ذکر نہیں کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، جس میں اہل بصرہ منفرد ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
126- بَاب إِذَا خَافَ الْجُنُبُ الْبَرْدَ أَيَتَيَمَّمُ
۱۲۶- باب: جب جنبی کو سردی کا ڈر ہو تو کیا وہ تیمم کر سکتا ہے؟​


334- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ [الْمِصْرِيِّ]، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السُّلاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: < يَا عَمْرُو، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟ > فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الاغْتِسَالِ وَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ يَقُولُ: {وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا.
قَالَ أَبودَاود: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ مِصْرِيٌّ، مَوْلَى خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۰۳) (صحیح)

۳۳۴- عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہو گیا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے غسل کر لیا تو مر جاؤں گا، چنانچہ میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر پڑھائی، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ’’عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو صلاۃ پڑھائی؟‘‘، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا: میں نے اللہ تعالی کا یہ فرمان سنا کہ {وَلاتَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} (سورۃ النساء: ۲۹) ’’تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور آپ نے کچھ نہیں کہا۔

335- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ [الْمُرَادِيُّ]، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلاةِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ التَّيَمُّمَ.
قَالَ أَبودَاود: وَرُوِى هَذِهِ الْقِصَّةُ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ فِيهِ: <فَتَيَمَّمَ>۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۵۰)(صحیح)

۳۳۵- عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ابو قیس سے روایت ہے کہ عمر و بن العاص ایک سریّہ کے سردار تھے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: تو انہوں نے اپنی شرمگاہ کے آس پاس کا حصہ دھویا، پھر وضو کیا جس طرح صلاۃ کے لئے وضو کرتے ہیں پھر لوگوں کو صلاۃ پڑھائی، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی مگر اس میں تیمم کا ذکر نہیں کیا ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ واقعہ اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے، اس میں ’’فَتَيَمَّمَ‘‘ کے الفاظ ہیں( یعنی انہوں نے تیمم کیا)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
127-بَاب في المجْرُوْح يَتَيَمَّمُ
۱۲۷- باب: زخمی تیمم کر سکتا ہے​


336- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ، فَأَصَابَ رَجُلا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ ثُمَّ احْتَلَمَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ فَقَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ: < قَتَلُوهُ، قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ -أَوْ: < يَعْصِبَ > شَكَّ مُوسَى- عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ >۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۱۳) (حسن)

(<إنما كان يكفيه...> یہ جملہ ثابت نہیں ہے)۔
۳۳۶- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے لئے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم تمہارے لئے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لئے کہ تم پانی پر قادر ہو، چنانچہ اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اُسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی با ندھ لیتا (یہ شک موسی کو ہوا ہے)، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا‘‘۔

337- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلا جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ احْتَلَمَ، فَأُمِرَ بِالاغْتِسَالِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: < قَتَلُوهُ، قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ >۔
* تخريج: أخرجہ ابن ماجہ موصولاً برقم (۵۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۹۷۲)، وقد أخرجہ: دي/الطھارۃ ۶۹ (۷۷۹) (حسن)

۳۳۷- عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، تو ا سے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لا علمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا؟‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
128- بَاب فِي الْمُتَيَمِّمِ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ مَا يُصَلّيِ فِي الْوَقْتِ
۱۲۸- باب: جو شخص تیمم کر کے صلاۃ پڑھ لے پھر وقت کے اندر پانی پالے تو کیا کرے؟​


338- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَسَيَّبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلانِ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَائٌ، فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا، فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ، فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلاةَ وَالْوُضُوءَ، وَلَمْ يُعِدِ الآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ، وَأَجْزَأَتْكَ صَلاتُكَ، وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: لَكَ الأَجْرُ مَرَّتَيْنِ.
قَالَ أَبودَاود: وَغَيْرُ ابْنِ نَافِعٍ يَرْوِيهِ عَنِ اللَّيْثِ عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم .
قَالَ أَبودَاود: وَذِكْرُ أَبِى سَعِيدٍ [الْخُدْرِيِّ] فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ۔
* تخريج: ن/الغسل والتیمم ۲۷ (۴۳۳) (تحفۃ الأشراف: ۴۱۷۶، ۱۹۰۸۹، ۱۶۵۹۹)، وقد أخرجہ: دي/الطھارۃ ۶۴ (۷۷۱) (صحیح)

(اس کا مرسل ہونا زیادہ صحیح ہے کیونکہ عبد اللہ بن نافع کے حفظ میں تھوڑی سی کمزوری ہے اور دیگر لوگوں نے اس کو مرسلاً ہی روایت کیا ہے)
۳۳۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک سفر میں نکلے تو صلاۃ کا وقت آگیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور صلاۃ پڑھی، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے صلاۃ اور وضو دونوں کو دوہرایا، اور دوسرے نے نہیں دوہرایا، پھر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان دونوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جس نے صلاۃ نہیں لوٹائی تھی: ’’تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری صلاۃ تمہیں کافی ہو گئی‘‘، اور جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ صلاۃ پڑھی تھی اس سے فرمایا: ’’تمہارے لئے دوگنا ثواب ہے ‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں:ابن نافع کے علاوہ دوسرے لوگ اس حدیث کو لیث سے، وہ عمیر بن ابی ناجیہ سے، وہ بکر بن سوادہ سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کرتے ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ذکر محفوظ نہیں ہے، یہ مر سل ہے۔

339- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ مَوْلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، بِمَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۷۶، ۱۹۰۸۹) (صحیح)

۳۳۹- عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ دو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں تھے)، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
129-بَاب فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
۱۲۹- باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان​


340- حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُوسَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتَحْتَبِسُونَ عَنِ الصَّلاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا هُوَ إِلا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا؟ أَوَ لَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ >۔
* تخريج: خ/الجمعۃ ۲ (۸۷۸)، ۵ (۸۸۲)، م/الجمعۃ ۱ (۸۴۵)، ط/النداء للصلاۃ ۱(۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۶۷)، وقد أخرجہ: ت/الجمعۃ ۳ (۴۹۴)، دي/الصلاۃ ۱۹۰ (۱۵۸۰) (صحیح)

۳۴۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی ۱؎ داخل ہوا تو آپ نے کہا: کیا تم لوگ صلاۃ (میں اول وقت آنے) سے رکے رہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: جوں ہی میں نے اذان سنی ہے وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا صرف وضو ہی؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا ہے: ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لئے آئے تو چاہئے کہ غسل کرے‘‘۔
وضاحت ۱ ؎: اس سے مراد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں ۔

341- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ ابْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۶۱ (۸۵۸)، والجمعۃ ۲ (۸۷۹)، ۱۲ (۸۹۵)، والشہادات ۱۸ (۲۶۶۵)، م/الجمعۃ ۱ (۸۴۶)، ن/الجمعۃ ۸ (۱۳۷۸)، ق/الإقامۃ ۸۰ (۱۰۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۶۱)، وقد أخرجہ: ط/الجمعۃ ۱(۴)، حم (۳/۶)، دي/الصلاۃ ۱۹۰ (۱۵۷۸) (صحیح)

۳۴۱- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ (مسلمان) پر واجب ہے ‘‘ ۱ ؎۔
وضاحت ۱؎: جمہور علماء حتی کہ ائمہ اربعہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، حدیث میں وجوب سے مراد وجوب اختیاری ہے نہ کہ وجوب لازمی، اگر غسل واجب ہوتا تو عمر رضی اللہ عنہ اس آدمی کو واپس جا کر غسل کرکے آنے کے لئے حکم دیتے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کے دن غسل مستحب ہے البتہ ایسے لوگ جن کے بدن سے تکلیف دہ پسینہ یا بو آتی ہو تو ان پر غسل واجب ہے ، واللہ اعلم ۔

342- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ -يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ-، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحٌ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْغُسْلُ >.
قَالَ أَبودَاود: إِذَا اغْتَسَلَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَجْزَأَهُ مِنْ غُسْلِ الْجُمُعَةِ وَإِنْ أَجْنَبَ۔
* تخريج: ن/الجمعۃ ۲ (۱۳۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۰۶) (صحیح)

۳۴۲- ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہر بالغ پر جمعہ کی حاضری اور جمعہ کے لئے ہر آنے والے پر غسل ہے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں:جب آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کر لے تو یہ غسل جمعہ کے لئے کافی ہے اگرچہ وہ جنبی رہا ہو۔

343- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ (ح) حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ (ح) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ.
قَالَ أَبودَاود: قَالَ يَزِيدُ وَعَبْدُالْعَزِيزِ فِي حَدِيثِهِمَا: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ وَأَبِي أُمَامَةَ ابْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: <مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلاتِهِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا>، قَالَ: وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَة: <وَزِيَادَةٌ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ>، وَيَقُولُ: <إِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا>.
قَالَ أَبودَاود: وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ كَلامَ أَبِي هُرَيْرَةَ۔
* تخريج: وقد تفرد بہ أبو داود (تحفۃ الأشراف: ۴۴۳۰)، وقد أخرجہ: م/الجمعۃ ۸ (۸۵۸) من حديث أبي هريرة مختصرًا ومن غير هذا السند، وأدرج قوله: ’’وثلاثة أيام‘‘ في قوله صلی اللہ علیہ وسلم (حسن)

۳۴۳- ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے، اور اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائے، پھر جمعہ کے لئے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے، پھر اللہ نے جو صلاۃ اس کے لئے مقدر کر رکھی ہے پڑھے، پھر امام کے (خطبہ کے لئے) نکلنے سے لے کر صلاۃ سے فارغ ہونے تک خاموش رہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوں گی جو اس جمعہ اور اس کے پہلے والے جمعہ کے درمیان اس سے سر زد ہوئے ہیں‘‘، راوی کہتے ہیں: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اور مزید تین دن کے گناہوں کا بھی، اس لئے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں : محمد بن سلمہ کی حدیث زیادہ کامل ہے اور حما د نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام ذکر نہیں کیا ہے۔

344- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ ابْنَ أَبِي هِلالٍ وَبُكَيْرَ [بْنَ عَبْدِاللَّهِ] بْنِ الأَشَجِّ حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَالسِّوَاكُ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قُدِّرَ لَهُ > إِلا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَالرَّحْمَنِ، وَقَالَ فِي الطِّيبِ: < وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ >۔
* تخريج: خ/الجمعۃ ۳ (۸۸۰) (نحوہ)، م/الجمعۃ ۲ (۸۴۶)، ن/الجمعۃ ۶ (۱۳۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۱۶، ۴۲۶۷)، وقد أخرجہ: (۳/۳۰، ۶۵، ۶۶، ۶۹) (صحیح)

۳۴۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا جو اسے نصیب ہو لازم ہے‘‘ ، مگر بکیر نے(عمر و بن سلیم اور ابو سعید خدری کے درمیان) عبدالرحمن بن ابی سعید کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور خوشبو کے بارے میں انہوں نے کہا: اگرچہ عورت ہی کی خوشبو سے ہو۔

345- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ حُبِّي، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ، وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۳۹ (۴۹۶)، ن/الجمعۃ ۱۰ (۱۳۸۲)، ق/الإقامۃ ۸۰ (۱۰۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۵) وقد أخرجہ: حم (۴/۸، ۹، ۱۰)، دي/الصلاۃ ۱۹۴ (۱۵۸۸) (صحیح)

۳۴۵- اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’جو شخص جمعہ کے دن نہلائے اور خود بھی نہائے ۱؎ پھر صبح سویرے اول وقت میں (مسجد) جائے، شروع سے خطبہ میں رہے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنے، اور لغو بات نہ کہے تو اس کو ہر قدم پر ایک سال کے صیام ا ورشب بیداری کا ثواب ملے گا‘‘۔
وضاحت ۱؎ : یعنی اپنی بیوی سے صحبت کرنے کے بعد اسے نہلائے اور خود بھی نہائے۔

346- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: < مَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْتَسَلَ > ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۵) (صحیح)

۳۴۶- اس سند سے بھی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا‘‘، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔

347- حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو اْبنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: < مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا، وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا >۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۵۹)(حسن)

۳۴۷- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنی عورت کی خوشبو میں سے اگر اس کے پاس ہو لگائے، اپنے اچھے کپڑے زیب تن کرے، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے اور خطبہ کے وقت بیکار کام نہ کر ے، تو یہ اس جمعہ سے اس (یعنی پچھلے) جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا، اور جو بلا ضرورت (بیہودہ) باتیں بکے، اور لوگوں کی گردنیں پھاندے، تو وہ جمعہ اس کے لئے ظہر ہو گا‘‘۔

348- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ ابْنُ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمِنَ الْحِجَامَةِ، وَمِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۹۳)، ویأتی عند المؤلف فی الجنازۃ برقم (۳۱۶۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’مصعب بن شیبہ‘‘ ضعیف ہیں)
۳۴۸- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: (ا) جنابت کی وجہ سے، (۲) جمعہ کے دن، (۳) پچھنے لگانے سے، (۴) اور میت کو نہلانے سے۔

349- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَوْشَبٍ [قَالَ]: سَأَلْتُ مَكْحُولا عَنْ هَذَا الْقَوْلِ: < غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ > فَقَالَ: غَسَّلَ رَأْسَهُ [وَغَسَلَ] جَسَدَهُ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۷۱) (صحیح)

۳۴۹- علی بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مکحول سے اس قول ’’غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ‘‘ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنا سر اور بدن دھوئے ۔

350- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ؛ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ فِي: < غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ > قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۶۹۱) (صحیح)

۳۵۰- سعید بن عبد العزیز سے ’’غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ‘‘ کے بارے میں مروی ہے، ابو مسہر کہتے ہیں کہ سعید کا کہنا ہے کہ ’’غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ‘‘ کے معنی ہیں: وہ اپنا سر اور اپنا بدن خوب دھوئے۔

351- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ >۔
* تخريج: خ/الجمعۃ ۴ (۸۸۱)، وبدء الخلق ۶ (۳۲۱۱)، م/الجمعۃ ۷ (۸۵۰)، ت/الجمعۃ ۶ (۴۹۹)، ن/۱۷۰۸، من الکبریٰ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۶۹)، وقد أخرجہ : ن/الإمامۃ ۵۹ (۸۶۵)، والجمعۃ ۱۳ (۱۳۸۶)، ق/الإقامۃ ۸۲ (۱۰۹۲)، ط/الجمعۃ ۱(۱)، حم (۲/۲۳۹، ۲۵۹، ۲۸۰، ۵۰۵، ۵۱۲)، دي/الصلاۃ ۱۹۳ (۱۵۸۵) (صحیح)

۳۵۱- ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کیا پھر (پہلی گھڑی میں) جمعہ کے لئے (مسجد) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا ، جو دوسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک گائے اللہ کی راہ میں پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک سینگ دار مینڈھا اللہ کی راہ میں پیش کیا، جو چوتھی گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک مرغی اللہ کی راہ میں پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں پیش کیا، پھرجب امام (خطبہ کے لئے) نکل آتا ہے تو فرشتے بھی آجاتے ہیں اور ذکر (خطبہ) سننے لگتے ہیں ‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
130-بَاب فِي الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
۱۳۰- باب: جمعہ کے دن غسل چھوڑ دینے کی اجازت کا بیان​


352- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ مُهَّانَ أَنْفُسِهِمْ، فَيَرُوحُونَ إِلَى الْجُمُعَةِ بِهَيْئَتِهِمْ، فَقِيلَ لَهُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ۔
* تخريج: خ/الجمعۃ ۱۶ (۹۰۳)، والبیوع ۱۵ (۲۰۷۱)، م/الجمعۃ ۱ (۸۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۳۵)، وقد أخرجہ: ن/الجمعۃ ۹ (۱۳۸۰)، حم (۶/۶۲) (صحیح)

۳۵۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ اپنے کام خود کرتے تھے، اور جمعہ کے لئے اسی حالت میں چلے جاتے تھے (ان کی بو سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، جب اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا) تو ان لوگوں سے کہا گیا: ’’کاش تم لوگ غسل کرکے آتے‘‘۔

353- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَائُوا فَقَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ أَطْهَرُ، وَخَيْرٌ لِمَنِ اغْتَسَلَ، وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ، وَسَأُخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدْءُ الْغُسْلِ؟ كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ، إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَرِقَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الصُّوفِ حَتَّى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ آذَى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَلَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تِلْكَ الرِّيحَ قَالَ: < أَيُّهَا النَّاسُ! إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمَ فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ >، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ جَاءَ اللَّهُ بِالْخَيْرِ، وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ، وَكُفُوا الْعَمَلَ، وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمْ، وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۷۹)، وقد أخرجہ: خ/الجمعۃ ۶ (۸۸۳)، حم (۶/۲۷۶) (حسن)

۳۵۳- عکرمہ کہتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: اے ابن عباس! کیا جمعہ کے روز غسل کو آپ واجب سمجھتے ہیں؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن جو غسل کرے اس کے لئے یہ بہتر اور پاکیزگی کا باعث ہے، اور جو غسل نہ کرے اس پر واجب نہیں ہے، اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ غسل کی ابتداء کیسے ہوئی: لو گ پریشان حال تھے، اون پہنا کرتے تھے، اپنی پیٹھوں پر بوجھ ڈھوتے تھے، ان کی مسجد بھی تنگ تھی، اس کی چھت نیچی تھی بس کھجور کی شاخوں کا ایک چھپر تھا ، (ایک بار) ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن نکلے لوگوں کو کمبل پہننے کی وجہ سے بے حد پسینہ آیا یہاں تک کہ ان کی بدبو پھیلی اور اس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوئی، تو جب یہ بو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’لوگو! جب یہ دن ہوا کرے تو تم غسل کر لیا کرو، اور اچھے سے اچھا جو تیل اور خوشبو میسر ہو لگایا کرو‘‘، ابن عباس کہتے ہیں: پھر اللہ تعالی نے لوگوں کو وسعت دی، وہ لوگ اون کے علاوہ کپڑے پہننے لگے، خود محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہی، ان کی مسجد بھی کشادہ ہو گئی، اور پسینے کی بو سے ایک دوسرے کو جو تکلیف ہوتی تھی ختم ہو گئی۔

354- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < مَنْ تَوَضَّأَ [يَوْمَ الْجُمُعَةِ] فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ >۔
* تخريج: ت/الجمعۃ ۵ (۴۹۷)، ن/الجمعۃ ۹ (۱۳۸۱)، حم (۵/۱۵، ۱۶، ۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۷) (حسن)
(یہ حدیث متعدد صحابہ سے مروی ہے اور سب کی سندیں ضعیف ہیں، یہ سند بھی ضعیف ہے کیونکہ حسن بصری کا سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع ثابت نہیں، ہاں تمام طرق سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے، متن کی تائید صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے)۔
۳۵۴- سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ اچھی بات ہے، اور جس نے غسل کیا تو یہ افضل ہے ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ جمعہ کے لئے وضو کافی ہے اور غسل افضل ہے فرض نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
131-بَاب فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُؤْمَرُ بِالْغُسْلِ
۱۳۱- باب: آدمی اسلام لائے تو اسے غسل کا حکم دیا جائے گا​


355- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَغَرُّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم أُرِيدُ الإِسْلامَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ بِمَاءِ وَسِدْرٍ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۳۰۳ (۶۰۵)، ن/الطھارۃ ۱۲۶ (۱۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۶۱) (صحیح)

۳۵۵- قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پانی اور بیر کی پتی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔

356- حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ، عَنْ عُثَيْمِ ابْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمْتُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : < أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ >، يَقُولُ: < احْلِقْ >، قَالَ: وأَخْبَرَنِي آخَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لآخَرَ مَعَهُ: < أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ >.
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۶۸، ۱۵۶۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۱۵) (حسن)

(اس کی سند میں ضعف ہے: ابن جریج اور عثیم کے درمیان ایک راوی مجہول ہے، نیز خود عثیم اور ان کے والد کثیر بن کلیب بھی مجہول ہیں، اس کو تقویت قتادہ اور ابو ہشام کی حدیث سے ہے جو طبرانی میں ہے ۱۹؍۱۴) (صحیح ابی داود: ۳۸۳)۔
۳۵۶- کلیب کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: میں اسلام لے آیا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ’’تم اپنے (بدن) سے کفر کے بال صاف کراؤ‘‘، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ’’بال منڈوا لو‘‘، عثیم کے والد کا بیان ہے کہ ایک دوسرے شخص نے مجھے یہ خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے جو ان کے ساتھ تھا فرمایا: ’’تم اپنے (بدن) سے کفر کے بال صاف کرو اور ختنہ کرو‘‘۔
 
Top