46- بَاب فِي الصَّلاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا
۴۶-باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں
539- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: <إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي >.
قَالَ أَبودَاود: وَهَكَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيِّ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، وَقَالا فِيهِ: < حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۲۲ (۶۳۷)، ۲۳ (۶۳۸)، والجمعۃ ۱۸ (۹۰۹)، م/المساجد ۲۹ (۶۰۴)، ت/الصلاۃ ۲۹۸ (۵۹۲)، ن/الأذان ۴۲ (۶۸۸)، والإمامۃ ۱۲ (۷۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۰۴، ۳۰۷، ۳۰۸)، دي/الصلاۃ ۴۷ (۱۲۹۶) (صحیح)
۵۳۹- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب صلاۃ کے لئے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح اسے ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔
اور ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ مجھے یحییٰ نے یہ حدیث لکھ کر بھیجی، نیز اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ سے روایت کیا ہے، ان دونوں کی روایت میں ہے: ’’یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو، اور سکون اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دو‘‘۔
540- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ قَالَ: < حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ >.
قَالَ أَبودَاود: لَمْ يَذْكُرْ: < قَدْ خَرَجْتُ > إِلا مَعْمَرٌ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ لَمْ يَقُلْ فِيهِ: < قَدْ خَرَجْتُ >۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۰۶)(صحیح)
۵۴۰- یحییٰ سے اسی سند سے گذشتہ حدیث کے ہم مثل حدیث مر وی ہے، اس میں ہے: ’’یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل چکا ہوں‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: معمر کے علاوہ کسی نے ’’قد خرجت‘‘ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
ابن عیینہ نے بھی اسے معمر سے روایت کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے ’’قد خرجت‘‘ نہیں کہا ہے ۔
541- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَمْرٍو (ح) وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ -وَهَذَا لَفْظُهُ-، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: انظر حديث رقم: 235، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۲۰۰) (صحیح)
۵۴۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب صلاۃ کی تکبیر کہی جاتی تھی تو لوگ اپنی اپنی جگہیں لے لیتے قبل اس کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ لیں۔
542- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَمَا تُقَامُ الصَّلاةُ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسِ [بْنِ مَالِكٍ ]قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ۔
* تخريج: خ/الأذان ۲۷ (۶۴۲)، ۲۸ (۶۴۳)، والاستئذان ۴۸ (۶۲۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۵)، وقد أخرجہ: م/الحیض ۳۳ (۳۷۶)، ن/الإمامۃ ۱۳ (۷۹۲)، حم (۳/۱۰۱، ۱۱۴، ۱۸۲) (صحیح)
۵۴۲- حمید کہتے ہیں: میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو صلاۃ کی تکبیر ہو جانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ صلاۃ کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہو جانے کے بعد (باتوں کے ذریعے) روکے رکھا۔
543- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ [بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ] السَّدُوسِيّ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، عَنْ أَبِيهِ كَهْمَسٍ، قَالَ: قُمْنَا إِلَى الصَّلاةِ بِمِنًى وَالإِمَامُ لَمْ يَخْرُجْ فَقَعَدَ بَعْضُنَا، فَقَالَ لِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: مَا يُقْعِدُكَ؟ قُلْتُ: ابْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: هَذَا السُّمُودُ، فَقَالَ لِيَ الشَّيْخُ: حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُومُ فِي الصُّفُوفِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم طَوِيلا قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، قَالَ: وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا يَصِلُ بِهَا صَفًّا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود،(تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۷) (ضعیف) (اس کی سند میں ’’شیخ من أہل الکوفۃ‘‘ مبہم راوی ہے)
۵۴۳- کہمس کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں صلاۃ کے لئے کھڑے ہوئے، امام ابھی صلاۃ کے لئے نہیں نکلا تھا کہ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ گئے، تو کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تمہیں کون سی چیز بٹھا رہی ہے؟ میں نے ان سے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں: یہی سمود ۱؎ ہے، یہ سن کر مذکورہ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبد الرحمن بن عوسجہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے تکبیر کہنے سے پہلے صفوں میں دیر تک کھڑے رہتے تھے ۲؎ براء کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں، جو پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور صف میں شامل ہونے کے لئے جو قدم اٹھایا جا ئے اس سے بہتر اللہ کے نزدیک کوئی قدم نہیں‘‘۔
وضاحت ۱؎: امام کے انتظار میں کھڑے رہنے کو سمود کہتے ہیں جو منع ہے، ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ صحابہ سمود کو مکروہ سمجھتے تھے۔
وضاحت ۲؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس کو کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
544- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ۔
* تخريج: خ/الأذان ۲۷ (۶۴۲)، م/الحیض ۳۳(۳۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۵) (صحیح)
۵۴۴- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صلاۃ (عشاء) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ صلاۃ کے لئے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔
545- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم حِينَ تُقَامُ الصَّلاةُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذَا رَآهُمْ قَلِيلا جَلَسَ لَمْ يُصَلِّ، وَإِذَا رَآهُمْ جَمَاعَةً صَلَّى۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۳۴، ۱۸۶۶۸)(ضعیف)
(یہ روایت مرسل ہے، سالم ابو النضر بہت چھوٹے تابعی ہیں اور ارسال کرتے ہیں)
۵۴۵- سالم ابو النضر کہتے ہیں: جب صلاۃ کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ (مسجد میں) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے، صلاۃ شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو صلاۃ پڑھاتے تھے۔
546- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الزُّرَقِيّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه مِثْلَ ذَلِكَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۳۴، ۱۸۶۶۸) (ضعیف)
( اس کے راوی ’’ابو مسعود زرقی‘‘ مجہول ہیں)
۵۴۶- اس سند سے ابو مسعود زرقی بھی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے گذشتہ روایت کے ہم مثل روایت کرتے ہیں۔