• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
59- بَاب فِي جُمَّاعِ الإِمَامَةِ وَفَضْلِهَا
۵۹-باب: امامت اور اس کی فضیلت کا بیان​

580- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلا عَلَيْهِمْ >۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۷ (۹۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۴۵، ۱۵۴، ۱۵۶) (حسن صحیح)

۵۸۰- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے سنا: ’’جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہو گا ان ( مقتدیوں) پر نہیں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَافُعِ عَلَى الإِمَامَةِ
۶۰-باب: امامت سے بچنا اور امامت کے لیے ایک کا دوسر ے کو آگے بڑھانا مکروہ ہے​


581- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ، عَنْ عَقِيلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلاةٍ لَهُمْ، عَنْ سَلامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ >.
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۸ (۹۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۸۱) (ضعیف)
(اس کی راویہ ’’عقیلہ‘‘ اور ’’طلحہ أم الغراب‘‘ مجہول ہیں)
۵۸۱- خرشہ بن حرّ فزاری کی بہن سلامہ بنت حرّ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لئے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو صلاۃ پڑھائے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
61- بَاب مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ؟
۶۱-باب: امامت کا زیادہ حق دار کون ہے ؟​

582- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَائٍ، سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَائَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَائَةِ سَوَائً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَائً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ وَلا فِي سُلْطَانِهِ، وَلا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ >.
قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ: مَا تَكْرِمَتُهُ؟ قَالَ: فِرَاشُهُ ۔
* تخريج: م/المساجد ۵۳ (۶۷۳)، ت/الصلاۃ ۶۲ (۲۳۵)، ن/الإمامۃ ۳، (۷۸۱)، ۶ (۷۸۴)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۶ (۹۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۷۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۱۱۸، ۱۲۱، ۱۲۲) (صحیح)

۵۸۲- ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی تکرمہ (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے‘‘۔
شعبہ کا بیان ہے: میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا: آدمی کا تکرمہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا فراش یعنی مسند وغیرہ۔

583- حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: < ولا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ >.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَا قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ شُعْبَةَ: < أَقْدَمُهُمْ قِرَائَةً >۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۷۶) (صحیح)

۵۸۳- اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ’’وَلا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ‘‘ (کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے) ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے ’’أقدمهم قرائة‘‘ (لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو) کی روایت کی ہے۔

584- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَائٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: <فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَائَةِ سَوَائً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَائً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً >، وَلَمْ يَقُلْ: < فَأَقْدَمُهُمْ قِرَائَةً >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: < وَلا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَةِ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِهِ >۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۷۶) (صحیح)

۵۸۴- ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو‘‘۔
اس روایت میں ’’فأقدمهم قرائة‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: ’’تم کسی کے تکرمہ (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو‘‘۔

585- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا النَّاسُ إِذَا أَتَوُا النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَكَانُوا إِذَا رَجَعُوا مَرُّوا بِنَا، فَأَخْبَرُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ كَذَا وَكَذَا، وَكُنْتُ غُلامًا حَافِظًا، فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا، فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَعَلَّمَهُمُ الصَّلاةَ فَقَالَ: <يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ>، وَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ، فَقَدَّمُونِي، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي صَغِيرَةٌ صَفْرَاءُ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ: وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ، فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْئٍ بَعْدَ الإِسْلامِ فَرَحِي بِهِ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ [سِنِينَ] أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ ۔
* تخريج: خ/المغازي ۵۳ (۴۳۰۲)، ن/الأذان ۸ (۶۳۷)، والقبلۃ ۱۶ (۷۶۸)، والإمامۃ ۱۱ (۷۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۷۵، ۵/۲۹، ۷۱) (صحیح)

۵۸۵- عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایسے مقام پر (آباد) تھے جہاں سے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے گزرتے تھے، تو جب وہ لوٹتے تو ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے، اور میں ایک اچھے حافظہ والا لڑکا تھا، اس طرح سے میں نے بہت سا قرآن یاد کر لیا تھا، چنانچہ میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صلاۃ سکھائی اور فرمایا: ’’تم میں لوگوں کی امامت وہ کرے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو‘‘، اور میں ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تھا اس لئے کہ میں قرآن یاد کیا کرتا تھا، لہٰذا لوگوں نے مجھے آگے بڑھا دیا، چنانچہ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میرے جسم پر ایک چھوٹی زرد رنگ کی چادر ہوتی، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، چنانچہ ایک عورت نے کہا: تم لوگ اپنے قاری(امام) کی شرمگاہ ہم سے چھپاؤ، تو لوگوں نے میرے لئے عمان کی بنی ہوئی ایک قمیص خرید دی، چنانچہ اسلام کے بعد مجھے جتنی خوشی اس سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی، ان کی امامت کے وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا ۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلاۃ فرض ہو یا نفل نابالغ لڑکا (جو اچھا قاری اور صلاۃ کے ضروری مسائل سے واقف ہو) امام ہو سکتا ہے۔

586- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مُوَصَّلَةٍ فِيهَا فَتْقٌ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتْ اِسْتِي۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۶۵) (صحیح)

۵۸۶- اس سند سے بھی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے: میں ایک پیوند لگی ہوئی پھٹی چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری سرین کھل جاتی تھی۔

587- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ يَؤُمُّنَا؟ قَالَ: < أكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ > أَوْ: < أَخْذًا [لِلْقُرْآنِ] > قَالَ: فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مَا جَمَعْتُهُ، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلامٌ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي، فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلا كُنْتُ إِمَامَهُمْ وَكُنْتُ أُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا.
قَالَ أَبودَاود : وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ [الْجَرْمِيِّ] عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ لَمَّا وَفَدَ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِيهِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۶۵) (صحیح)
لیکن: ’’عن أبيه‘‘ کا قول غیر محفوظ ہے۔
۵۸۷- عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کے والد سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور جب لوٹنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول!ہماری امامت کون کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کو قرآن زیادہ یاد ہو‘‘۔
راوی کو شک ہے ’’جمعًا للقرآن‘‘ کہا، یا: ’’أخذًا للقرآن‘‘ کہا، عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے برابر کسی کو قرآن یاد نہ تھا، تو لوگوں نے مجھ کو امامت کے لئے آگے بڑھا دیا، حالانکہ میں اس وقت لڑکا تھا، میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی، اس کے بعد سے میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی موجود رہا میں ہی ان کا امام رہا، اور آج تک میں ہی ان کے جنازوں کی صلاۃ پڑھاتا رہا ہوں۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے یزید بن ہارون نے مسعر بن حبیب جرمی سے اور مسعر نے عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب میری قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور اس میں انہوں نے ’’عن أبيه‘‘ نہیں کہا ہے ۔

588- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ -يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ- (ح) وَحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ -الْمَعْنَى- قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ؛ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، زَادَ الْهَيْثَمُ: وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالأَسَدِ۔
* تخريج: خ/الأذان ۵۴ (۶۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۰۰، ۸۰۰۷) (صحیح)

۵۸۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین (مدینہ) آئے اور عصبہ ۱؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کر تے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔
ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابو سلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے۔
وضاحت ۱؎: مدینہ میں قبا کے پاس ایک جگہ ہے۔

589- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ -الْمَعْنَى وَاحِدٌ- عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ: <إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا [سِنًّا] >، وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ قَالَ: وَكُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لأَبِي قِلابَةَ: فَأَيْنَ الْقُرْآنُ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۷ (۶۲۸)، ۳۵ (۶۵۸)، ۴۹ (۶۸۵)، ۱۴۰ (۸۱۹)، والجہاد ۴۲ (۲۸۴۸)، والأدب ۲۷ (۶۰۰۸)، وأخبار الآحاد ۱ (۷۲۴۶)، م/المساجد ۵۳ (۶۷۴)، ت/الصلاۃ ۳۷ (۲۰۵)، ن/الأذان ۷ (۶۳۵)، ۸ (۶۳۶)، ۲۹ (۶۷۰)، والإمامۃ ۴ (۷۸۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۶ (۹۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۳۶، ۵/۵۳)، دي/الصلاۃ ۴۲ (۱۲۸۸) (صحیح)

۵۸۹- مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: ’’جب صلاۃ کا وقت ہو جائے تو تم اذان دو، پھر تکبیر کہو، پھر جو تم دونوں میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے‘‘ ۔
مسلمہ کی روایت میں ہے: اور ہم دونوں علم میں قریب قریب تھے۔
اسماعیل کی روایت میں ہے: خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ سے پوچھا: پھر قرآن کہاں رہا؟ انہوں نے کہا: اس میں بھی وہ دونوں قریب قریب تھے ۔

590- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ >۔
* تخريج: ق/الأذان ۵ (۷۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۳۹) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’حسین حنفی‘‘ ضعیف ہیں)
۵۹۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہا ری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں‘‘۔[/ARB]
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب إِمَامَةِ النِّسَاءِ
۶۲-باب: عورتوں کی امامت کا بیان​


591- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ جُمَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ خَلادٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ نَوْفَلٍ الأَنْصَارِيَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم لَمَّا غَزَا بَدْرًا قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً، قَالَ: <قَرِّي فِي بَيْتِكِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ >، قَالَ: فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا فَأَذِنَ لَهَا، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلامًا لَهَا وَجَارِيَةً، فَقَامَا إِلَيْهَا بِاللَّيْلِ فَغَمَّاهَا بِقَطِيفَةٍ لَهَا حَتَّى مَاتَتْ وَذَهَبَا، فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَيْنِ عِلْمٌ، أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْيَجِئْ بِهِمَا، فَأَمَرَ بِهِمَا، فَصُلِبَا، فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ ۔
* تخريج: تفرد به ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۰۵) (حسن)

(اس کے دو راوی ’’ولید کی دادی‘‘ اور ’’عبدالرحمن بن خلاد‘‘ دونوں مجہول ہیں، لیکن ایک دوسرے کے لئے تقویت کا باعث ہیں، ابن خزیمہ نے حدیث کو صحیح کہا ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۳؍۱۴۲)
۵۹۱- امّ ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالی مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا‘‘۔
راوی کہتے ہیں : چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: امّ ورقہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پڑھ رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی، چنانچہ وہ دونوں (یعنی غلام اور لو نڈی) رات کو امّ ورقہ کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، (چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔

592- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ خَلادٍ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَالأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا، وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا، قَالَ عَبْدُالرَّحْمَنِ: فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۶۴) (حسن)
(ملاحظہ ہو حدیث سابق)
۵۹۲- اس سند سے بھی امّ ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مر وی ہے، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے، اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امّ ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جا تے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ایک موذن مقرر کر دیا تھا، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کر یں۔
عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے ان کے موذن کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
63- بَاب الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ
۶۳-باب: آدمی لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں​


593- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَقُولُ: < ثَلاثَةٌ لايَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَلاةً: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلاةَ دِبَارًا -وَالدِّبَارُ: أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ- وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ >۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۳ (۹۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۰۳) (ضعیف)

(اس کے دو راوی ’’عبدالرحمن افریقی‘‘ اور ’’عمران‘‘ ضعیف ہیں، مگر اس کا پہلا جزء شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے)
۵۹۳- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’تین آدمیوں کی صلاۃ اللہ قبول نہیں فرماتا: ایک تو وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لو گ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ شخص جو صلاۃ میں پیچھے آئے، پیچھے آنا یہ ہے کہ جماعت فوت ہو جانے یا وقت گزر جانے کے بعد آئے، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کئے ہوئے شخص کو دوبارہ غلام بنا لے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
64- بَاب إِمَامَةِ الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ
۶۴-باب: نیک اور فاجر کی امامت کا بیان​


594- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < الصَّلاةُ الْمَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۱۹) (ضعیف)
(علاء بن حارث مختلط ہو گئے تھے اور مکحول کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں)
۵۹۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرض صلاۃ ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
66- بَاب إِمَامَةِ الزَّائِرِ
۶۶-باب: زائر کی امامت کا بیان​


596- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ بُدَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى مِنَّا قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ حُوَيْرِثٍ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلانَا هَذَا، فَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ، فَقَالَ لَنَا: قَدِّمُوا رَجُلا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لا أُصَلِّي بِكُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلا يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۴۸ (۳۵۶)، ن/الإمامۃ ۹ (۷۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۳۶) (صحیح)
(مالک بن حویرث کے قصہ کے بغیر حدیث صحیح ہے)
۵۹۶- بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابو عطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری اس مسجد میں آتے تھے، (ایک بار) صلاۃ کے لئے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھئے اور صلاۃ پڑھائیے، انہوں نے ہم سے کہا: تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں صلاۃ پڑھائے، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں صلاۃ کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ’’جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لئے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے‘‘ ۱؎۔
وضاحت ۱؎ : اگر خوشی و رضا مندی سے لوگ زائر کو امام بنانا چاہیں اور وہ امامت کا مستحق بھی ہو تو اس کا امام بننا جائز ہے، کیونکہ ابو مسعود کی ایک روایت میں ’’إلا بإذنه‘‘ کا اضافہ ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب الإِمَامِ يَقُومُ مَكَانًا أَرْفَعَ مِنْ مَكَانِ الْقَوْمِ
۶۷-باب: امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر صلاۃ پڑھائے تو اس کے حکم کا بیان​


597- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ -الْمَعْنَى- قَالا: حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ أَنَّ حُذَيْفَةَ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: بَلَى، قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۸۸) (صحیح)

۵۹۷- ہما م کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن (کوفہ کے پاس ایک شہر ہے) میں ایک چبوترہ (اونچی جگہ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی (اور لوگ نیچے تھے)، ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں (نیچے) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو ابو مسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔

598- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُوخَالِدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِالْمَدَائِنِ، فَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَتَقَدَّمَ عَمَّارٌ، وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ، فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلاتِهِ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلا يَقُمْ فِي مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ > أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ؟ قَالَ عَمَّارٌ: لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدَيَّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۹۶) (حسن)

(اس کا جتنا حصہ پچھلی حدیث کے موافق ہے اتنا اس سے تقویت پا کر درجۂ حسن تک پہنچ جاتا ہے، باقی باتیں سند میں ایک مجہول راوی (رجل) کے سبب ضعیف ہیں اس میں امام عمار رضی اللہ عنہ کو اور کھینچنے والا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ںنا دیا ہے)
۵۹۸- عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدائن میں تھا کہ صلاۃ کے لئے اقامت کہی گئی تو عمار آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے، یہ دیکھ کر حذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عمار بن یاسر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے لانے لگے، عمار بن یاسر بھی پیچھے ہٹتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار اپنی صلاۃ سے فارغ ہوئے تو حذیفہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرے تو ان سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو؟ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لئے جب آپ نے میرا ہا تھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
68- بَاب إِمَامَةِ مَنْ يُصَلِّي بِقَوْمٍ وَقَدْ صَلَّى تِلْكَ الصَّلاةَ
۶۸-باب: جو شخص صلاۃ پڑھ چکا ہو کیا وہ وہی صلاۃ دوسروں کو پڑھا سکتا ہے؟​


599- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ [عُمَرَ بْنِ] مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلاةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۹۱)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۶۰ (۷۰۰)، والأدب ۷۴ (۶۱۰۶)، م/الصلاۃ ۳۶ (۴۶۵)، ن/الإمامۃ ۳۹ (۸۳۲)، ۴۱ (۸۳۶)، والافتتاح ۶۳ (۹۸۵)، ۷۰ (۹۹۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۸ (۹۸۶)، حم (۳/ ۲۹۹، ۳۰۸، ۳۶۹)، دي/ الصلاۃ ۶۵ (۱۳۳۳)، ویأتي برقم : (۷۹۰) (حسن صحیح)
(مؤلف کی سند سے’’حسن صحیح‘‘ ہے ورنہ ’’صحیح‘‘ ہے)
۵۹۹- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عشاء کی صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم میں آتے اور وہی صلاۃ انہیں پڑھاتے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فرض پڑھنے والے کی صلاۃ نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست اور صحیح ہے کیونکہ معاذ رضی اللہ عنہ فرض صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، اور واپس آکر اپنی قوم کو صلاۃ پڑھاتے تھے، معاذ رضی اللہ عنہ کی دوسری صلاۃ نفل ہوتی اور مقتدیوں کی فرض ہوتی تھی۔

600- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ يَقُولُ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ۔
* تخريج: م/الصلاۃ (۳۶ (۴۶۵)، ن/الإمامۃ ۴۱ (۸۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۳۳) (صحیح)

۶۰۰- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھتے، پھر لو ٹ کر جاتے اور اپنی قوم کی امامت کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
69- بَاب الإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ
۶۹-باب: امام کے بیٹھ کر صلاۃ پڑھانے کا بیان​


601- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَصَلَّيْنَا وَرَائَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: < إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ>۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۱۸ (۳۷۸)، والأذان ۵۱ (۶۸۹)، ۸۲ (۷۳۲)، ۱۲۸ (۸۰۵)، وتقصیر الصلاۃ ۱۷ (۱۱۱۴)، م/الصلاۃ ۱۹ (۴۱۱)، ن/امامۃ ۱۶ (۷۹۵)، ۴۰ (۸۳۳)، والتطبیق ۲۲ (۱۰۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۲۹)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۵۵ (۳۶۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۴ (۱۲۳۸)، ط/صلاۃ الجماعۃ ۵ (۱۶)، حم (۳/۱۱۰، ۱۶۲)، دي/الصلاۃ ۴۴ (۱۲۹۱) (صحیح)

۶۰۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے پھر اس سے گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو میں خراش آگئی جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صلاۃ بیٹھ کر پڑھی، تو ہم لوگوں نے بھی وہ صلاۃ آپ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی، پھر جب آپ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، جب وہ کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھو ، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ ’’سمع الله لمن حمده‘‘ کہے تو تم ’’ربنا ولك الحمد‘‘ کہو، اور جب امام بیٹھ کر صلاۃ پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس باب میں جو حدیثیں بیان کی گئی ہیں وہ جمہور علماء کے نزدیک منسوخ ہیں کیونکہ مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر صلاۃ پڑھائی اور صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھی ۔

602- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْمِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ، فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرُبَةٍ لِعَائِشَةَ يُسَبِّحُ جَالِسًا، قَالَ: فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَسَكَتَ عَنَّا، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نَعُودُهُ، فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ جَالِسًا، فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، قَالَ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ قَالَ: < إذَا صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَإِذَا صَلَّى الإِمَامُ قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا >.
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۴ (۱۲۴۰)، الطب ۲۱ (۳۴۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۱۰)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۱۹ (۴۱۱)، ن/الإفتتاح ۲۰۷ (۱۲۰۱)، حم (۳/۳۳۴) (صحیح)

۶۰۲- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ایک کھجور کے درخت کی جڑ پر گرا دیا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی، ہم لوگ آپ کی عیادت کے لئے آئے، اس وقت ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم امّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں بیٹھ کر نفل صلاۃ پڑھتے ملے، ہم لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں خامو ش رہے (ہمیں بیٹھنے کے لئے نہیں کہا)۔
پھر ہم دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے آئے تو آپ نے فرض صلاۃ بیٹھ کر ادا کی، ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ صلاۃ پڑھ چکے تو فرمایا: ’’جب امام بیٹھ کر صلاۃ پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو، اور جب امام کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور اس طرح نہ کرو جس طرح فارس کے لوگ اپنے سرکردہ لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں‘‘ ۱؎۔
وضاحت ۱؎: اہل فارس و روم اپنے امراء و سلاطین کے سامنے بیٹھتے نہیں، کھڑے رہتے تھے۔

603- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ [الْمَعْنَى]، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَلا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَلا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ -قَالَ مُسْلِمٌ: وَلَكَ الْحَمْدُ-، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ >.
قَالَ أَبودَاود: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ سُلَيْمَانَ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۸۲)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۲۰ (۴۱۷)، ن/الافتتاح ۳۰ (۹۲۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳ (۸۴۶)، ۱۴۴ (۱۲۳۸)، حم (۲/۳۷۶، ۴۲۰) (صحیح)

۶۰۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’امام بنایا ہی اس لئے گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب امام ’’الله أكبر‘‘ کہے تو تم بھی ’’الله أكبر‘‘ کہو، تم اس وقت تک ’’الله أكبر‘‘ نہ کہو جب تک کہ امام ’’الله أكبر‘‘ نہ کہہ لے، اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک کہ وہ رکوع میں نہ چلا جائے، جب امام ’’سمع الله لمن حمده‘‘ کہے تو تم ’’اللهم ربنا لك الحمد‘‘ کہو (مسلم کی روایت میں ’’ولك الحمد‘‘ واو کے ساتھ ہے)، پھر جب امام سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور تم اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب تک کہ وہ سجدہ میں نہ چلا جائے، اور جب وہ کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: ’’اللهم ربنا لك الحمد‘‘ کو مجھے میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان کے واسطہ سے سمجھایا ہے ۱؎۔
وضاحت ۱؎: یعنی جب میں نے یہ حدیث سلیمان بن حرب سے سنی تو ’’اللهم ربنا لك الحمد‘‘ کے الفاظ میری سمجھ میں نہیں آئے تو میرے بعض ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ سلیمان نے: ’’اللهم ربنا لك الحمد‘‘ کہا ہے ۔

604- حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قالَ: < إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ> بِهَذَا الْخَبَرِ، زَادَ: <وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا >.
قَالَ أَبودَاود: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ: <وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا> لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ الْوَهْمُ [عِنْدَنَا] مِنْ أَبِي خَالِدٍ۔
* تخريج: ن/الإفتتاح ۲۰(۹۲۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳ (۸۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۳۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۲۰) (صحیح)

۶۰۴- اس طریق سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ’’إنما جعل الإمام ليؤتم به‘‘ والی یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں راوی نے ’’وإذا قرأ فأنصتوا ‘‘ (جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو) کا اضافہ کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں : ’’وإذا قرأ فأنصتوا‘‘ کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابو خالد کو یہ وہم ہوا ہے۔

605- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي بَيْتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ فَصَلَّى وَرَائَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: < إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ: فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا >۔
* تخريج: خ/الأذان ۵۱ (۶۸۸)، وتقصیر الصلاۃ ۱۷ (۱۱۱۳)، ۲۰ (۱۱۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۱۵۶)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۱۹ (۴۱۲)، ق/ إقامۃ الصلاۃ ۱۴۴ (۱۲۳۷)، ط/ صلاۃ الجماعۃ ۵ (۱۷)، حم (۶/۱۱۴،۱۶۹) (صحیح)

۶۰۵- امّ المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر صلاۃ پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ صلاۃ سے فا رغ ہوئے تو فرمایا: ’’امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو‘‘ ۔

606- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، [الْمَعْنَى] أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: اشْتَكَى النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلَّيْنَا وَرَائَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ لِيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۱۹ (۲۱۳)، ن/الإفتتاح ۲۰۷ (۱۲۰۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۵ (۱۲۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۹۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۳۴) (صحیح)

۶۰۶- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے صلاۃ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔

607- حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَيْدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَعُودُهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ إِمَامَنَا مَرِيضٌ فَقَالَ: < إِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا >.
قَالَ أَبودَاود: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۲) (صحیح)
(سابقہ حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث معنیً صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں انقطاع ہے، حصین کی اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے لقاء ثابت نہیں ہے)
۶۰۷- اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی امامت کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے امام بیمار ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب امام بیٹھ کر صلاۃ پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر پڑھو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث متصل نہیں ہے۔
 
Top