121-بَاب مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلاةُ مِنَ الدُّعَاءِ
۱۲۱-باب: صلاۃ کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے ؟
760- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ؛ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: < وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا [مُسْلِمًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ [لِي] إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، [إِنَّهُ] لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ [وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ >، وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: <اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي>، وَإِذَا رَفَعَ قَالَ: < سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَ[مِلْئَ] مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ >، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: <اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ >، وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ قَالَ: < اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۲۶ (۷۷۱)، ت/ الدعوات ۳۲ (۳۴۲۱، ۳۴۲۲)، ن/ الافتتاح ۱۷ (۸۹۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۵، (۸۶۴)،۷۰ (۱۰۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۳، ۹۵، ۱۰۲، ۱۰۳، ۱۱۹)، دي/الصلاۃ ۳۳ (۱۲۷۴)، ویأتي ہذا الحدیث برقم: (۱۵۰۹) (صحیح)
۷۶۰- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو
’’اللہ اکبر‘‘ کہتے پھر یہ دعا پڑھتے:
’’وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا [مُسْلِمًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ [لِي] إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، [إِنَّهُ] لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ [ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ‘‘،( میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری صلاۃ، میری قربانی، میرا جینا ا ور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے ،جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابع دار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بر ی عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جا سکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں)، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے:
’’اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي‘‘ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابع دار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لئے جھک گئے)، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فر ماتے:
’’سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَ[مِلْئَ] مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ‘‘ (اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کر لیا) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لئے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر)۔
اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے :
’’اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ‘‘ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بر دار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے)۔
اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے:
’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ‘‘ (اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں)۔
761- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ [الأَعْرَجِ]، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَائَتَهُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْئٍ مِنْ صَلاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ وَدَعَا، نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِالْعَزِيزِ فِي الدُّعَاءِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشَّيْئَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: < وَالْخَيْرُ [كُلُّهُ] فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ >، وَزَادَ فِيهِ: وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاةِ: < اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۷۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۸) (حسن صحیح)
۷۶۱- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب فرض صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب اپنی قرأت پوری کر چکتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کر تے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور صلاۃ میں بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہیں کرتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو تے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور
’’الله أكبر‘‘ کہتے، اور عبد العزیز کی سابقہ حدیث میں گزری ہوئی دعا کی طرح کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ دعا کرتے، البتہ اس روایت میں:
’’وَالْخَيْرُ [كُلُّهُ] فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ‘‘ کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: صلاۃ سے فارغ ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ‘‘ (اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہوں کی مغفرت فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں)۔
762- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ؛ حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ لِي [مُحَمَّدُ] بْنُ الْمُنْكَدِرِ وَابْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَغَيْرُهُمَا مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: فَإِذَا قُلْتَ أَنْتَ ذَاكَ فَقُلْ: < وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ > يَعْنِي قَوْلَهُ: < وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۲۳) (صحیح)
۷۶۲- شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن منکدر، ابن ابی فر وہ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا: جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو
’’وأنا أول المسلمين‘‘ کی جگہ
’’وأنا من المسلين‘‘ کہا کرو۔
763- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى الصَّلاةِ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلاتَهُ قَالَ: < أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا >، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِيَ النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: < لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا >، وَزَادَ حُمَيْدٌ فِيهِ: < وَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْشِ نَحْوَ مَا كَانَ يَمْشِي فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَهُ، وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ >۔
* تخريج: م/المساجد ۲۷ (۶۰۰)، ن/الافتتاح ۱۹ (۹۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۳، ۱۱۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۶۷، ۱۶۸، ۱۸۸، ۲۵۲) (صحیح)
۷۶۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص صلاۃ کے لئے آیا، اس کی سانس پھول رہی تھی، تو اس نے یہ دعا پڑھی:
’’اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ‘‘ (اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں، اور ہم خوب خوب اس کی پاکیزہ و بابرکت تعریفیں بیان کرتے ہیں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی‘‘، تب اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے (کہا ہے )، جب میں جماعت میں حاضر ہوا تو میرے سانس پھول گئے تھے، اس حالت میں میں نے یہ کلمات کہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے سبھی جلدی کر رہے تھے کہ ان کلما ت کو کون پہلے اٹھا لے جائے‘‘۔
حمید نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ’’جب تم میں سے کوئی آئے تو (اطمینان و سکون سے) اس طرح چل کر آئے جیسے وہ عام چال چلتا ہے پھر جتنی رکعتیں ملیں انہیں پڑھ لے اور جو چھوٹ جائیں انہیں پورا کر لے‘‘۔
764- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ؛ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي صَلاةً، قَالَ عَمْرٌو: لا أَدْرِي أَيَّ صَلاةٍ هِيَ؟ فَقَالَ: <اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً -ثَلاثًا- أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ>، قَالَ: نَفْثُهُ: الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۲ (۸۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۸۰، ۸۳، ۸۵، ۴/۸۰، ۸۲، ۸۵) (ضعیف)
(اس کے ایک راوی ’’عاصم‘‘ کے نام میں بہت اختلاف ہے، تو گویا وہ مجہول ہوئے، ابن حجر نے ان کو لین الحدیث کہا ہے)
۷۶۴- جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلاۃ پڑھتے دیکھا (عمرو کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی صلاۃ تھی؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار فر مایا:
’’اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً ‘‘ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں)، اور فرمایا:
’’أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ‘‘ (میں شیطان کے کبر و غرور، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں)۔
عمرو بن مرہ کہتے ہیں: اس کا
’’نفث‘‘ شعر ہے، اس کا
’’نفخ ‘‘ کبر ہے اور اس کا ’’ہمز ‘‘ جنون یا موت ہے ۔
765- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مِسْعَرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ، ذَكَرَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۹۹) (ضعیف)
(اس کے ایک راوی ’’رجل‘‘ مبہم ہیں، یہ وہی عاصم ہیں)
۷۶۵- جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل صلاۃ میں کہتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ۔
766- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَخْبَرَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَازِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْئٍ كَانَ يَفْتَتِحُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قِيَامَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْئٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ عَشْرًا، وَحَمِدَ اللَّهَ عَشْرًا، وَسَبَّحَ عَشْرًا، وَهَلَّلَ عَشْرًا، وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا، وَقَالَ: < اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي >، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
قَالَ ابو داود : وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۹ (۱۶۱۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۰ (۱۳۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۸۲، ۱۶۱۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴۳)، ویأتي عند المؤلف برقم: (۵۰۸۵) (حسن صحیح)
۷۶۶- عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل (تہجد) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو دس بار
’’الله أكبر‘‘، دس بار
’’الحمدلله‘‘، دس بار
’’سبحان الله‘‘، دس بار
’’لا إله إلا الله‘‘، اور دس با ر
’’أستغفر الله‘‘ کہتے اور یہ دعا کرتے:
’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي‘‘ (اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ)، پھر قیامت کے دن (سوال کے لئے) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پنا ہ مانگتے تھے۔
ابو داود کہتے ہیں: اِسے خالد بن معدان نے ربیعہ جر شی سے ربیعہ نے ام المومنین عائشہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
767- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْئٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَفْتَتِحُ صَلاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَفْتَتِحُ صَلاتَهُ: < اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ [أَنْتَ] تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ >۔
* تخريج: م/صلاۃ المسافرین ۲۶ (۷۷۰)، ت/الدعوات ۳۱ (۳۴۲۰)، ن/قیام اللیل ۱۱ (۱۶۲۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۰ (۱۳۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۵۶) (حسن)
۷۶۷- یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا : میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قیام اللیل (تہجد) کے لئے اٹھتے تو اپنی صلاۃ کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل کرتے تو اپنی صلاۃ اس دعا سے شروع کرتے تھے:
’’اللَّهُمَّ رَبّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ [أَنْتَ] تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ‘‘ (اے اللہ! جبریل و میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف کیا گیا ہے، ان میں اپنی مرضی سے حق کی طرف میری رہنمائی کر، بے شک تو جسے چاہتا ہے اُسے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے) ۔
768- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِلاإِخْبَارٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: كَانَ إِذَا قَامَ بِاللَّيْلِ كَبَّرَ وَيَقُولُ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۷۹) (حسن)
۷۶۸- اس طریق سے بھی عکرمہ سے اسی سند سے اسی معنی کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: جب آپ رات میں (صلاۃ کے لئے) کھڑ ے ہوتے تو
’’الله أكبر‘‘ کہتے اور یہ دعا پڑھتے ۔
769- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ قَالَ: لا بَأْسَ بِالدُّعَاءِ فِي الصَّلاةِ فِي أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَفِي آخِرِهِ، فِي الْفَرِيضَةِ وَغَيْرِهَا ۔
* تخريج: ط/کتاب القرآن ۹، عقیب حدیث (۳۹) (صحیح)
۷۶۹- مالک کہتے ہیں: صلاۃ کے شروع، بیچ اور اخیر میں دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، فرض صلاۃ ہو یا نفل ۔
770- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: كُنَّا [يَوْمًا] نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم [رَأْسَهُ] مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : [اللَّهُمَّ] رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < مَنِ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا آنِفًا؟ >، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۲۶ (۷۹۹)، ن/الافتتاح ۳۶ (۹۳۲)، التطبیق ۲۲ (۱۰۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۰۵)، ط/القرآن ۷ (۲۵)، حم (۴/۳۴۰)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۸۴ (۴۰۴) (صحیح)
۷۷۰- رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاۃ پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر
’’سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‘‘ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی نے
’’[اللَّهُمَّ] رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ‘‘ کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ’’ابھی ابھی یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں؟‘‘، اس آدمی نے کہا: میں نے، اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون پہلے ان کلمات کو لکھے ‘‘۔
771- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۲۶ (۷۶۹)، ت/الدعوات ۲۹ (۳۴۱۸)، ن/قیام اللیل ۹ (۱۶۲۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۰ (۱۳۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۵۱)، ط/القرآن ۸ (۳۴)، حم (۱/۲۹۸، ۳۵۸، ۳۶۶)، دي/الصلاۃ ۱۶۹ (۱۵۲۷)، وقد أخرجہ: خ/التھجد ۱ (۱۱۲۰)، والدعوات ۱۰ (۶۳۱۷)، والتوحید ۸ (۷۳۸۵)، ۲۴ (۷۴۴۲)، ۳۵ (۷۴۹۹) (صحیح)
۷۷۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جب صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:
’’اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ‘‘ (اے اللہ! تیرے لئے حمد و ثنا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، تیرے لئے حمد و ثنا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، تیرے لئے حمد و ثنا ہے، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، سب کا رب ہے، تو حق ہے، تیرا قول حق ہے، تیر اوعدہ حق ہے، تجھ سے ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرا فرماں بردار ہوا، تجھ پر ایمان لایا، صرف تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف توبہ کی، تیرے ہی لئے جھگڑا کیا، اور تیری ہی طرف فیصلہ کے لئے آیا، تو میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہ معاف فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں)۔
772- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَاوُسٌ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ فِي التَّهَجُّدِ يَقُولُ بَعْدَ مَا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۰۲، ۵۷۴۴) (صحیح)
۷۷۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں
’’الله أكبر‘‘ کہنے کے بعد دعا فرماتے تھے پھر انہوں نے اسی معنی کی حدیث ذکر کی ۔
773- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، [وَسَعِيدُ] بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ نَحْوَهُ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَعَطَسَ رِفَاعَةُ، لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ: رِفَاعَةُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم انْصَرَفَ فَقَالَ: <مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاةِ؟> ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَتَمَّ مِنْهُ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۸۰ (۴۰۴)، ن/الافتتاح ۳۶ (۹۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۰، ۳۶۰۶) (حسن)
۷۷۳- رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاۃ پڑھی، مجھ کو (رفاعہ) کو چھینک آئی - اور قتیبہ نے اپنی روایت میں
’’رفاعة‘‘ کا لفظ ذکر نہیں کیا- تو میں نے یہ دعا پڑھی:
’’الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى‘‘ ( اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، ایسی تعریف جو پاکیزہ، بابرکت اور پائیدار ہو، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے)، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو مڑے اور پوچھا: ’’صلاۃ میں کون بول رہا تھا؟‘‘، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے ہم مثل اور اس سے زیادہ کامل روایت ذکر کی ۔
774- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَطَسَ شَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَمَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ؟ >، قَالَ: فَسَكَتَ الشَّابُّ، ثُمَّ قَالَ: < مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا؟ >، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا قُلْتُهَا لَمْ أُرِدْ بِهَا إِلا خَيْرًا، قَالَ: < مَا تَنَاهَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى >۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۳۸) (ضعیف)
(اس کے دو راوی ’’شریک‘‘ اور ’’عاصم‘‘ ضعیف ہیں)
۷۷۴- عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حالت صلاۃ میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آگئی، تو اس نے کہا:
’’الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَمَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‘‘ (اللہ کے لئے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہو جائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہو جانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے)، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’یہ کلمات کس نے کہے؟‘‘، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا:ـ ’’یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا‘‘، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے (بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے)‘‘۔