- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
120- بَاب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلاةِ
۱۲۰- باب: صلاۃ میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
۱۲۰- باب: صلاۃ میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
754- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: صَفُّ الْقَدَمَيْنِ، وَوَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ مِنَ السُّنَّةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۶۰) (ضعیف) (اس کے راوی ’’زرعہ‘‘ لین الحدیث ہیں)
۷۵۴- زرعہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: دونوں قدموں کو برابر رکھنا، اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔
755- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَرَآهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى۔
* تخريج: ن/الافتتاح ۱۰ (۸۸۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۳ (۸۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۴۷) (حسن)
۷۵۵- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ وہ صلاۃ پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اس کیفیت میں) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔
756- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ عَلِيًّا -رَضِي اللَّه عَنْه- قَالَ: [مِنَ] السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۱۰) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبدالرحمن بن اسحاق واسطی‘‘ متروک ہیں)
۷۵۶- ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ صلاۃ میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔
757- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ -يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ- عَنْ أَبِي بَدْرٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ عَبْدِالسَّلامِ، عَنِ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ.
قَالَ أَبودَاود: وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ « فَوْقَ السُّرَّةِ »، وقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: « تَحْتَ السُّرَّةِ »، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۳۰) (ضعیف) (اس کے راوی ’’جریر ضبّی‘‘ لین الحدیث ہیں)
۷۵۷- جریر ضَبّی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا (گٹا) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے ’’فوق السرة‘‘ (ناف کے اوپر) مروی ہے اور ابو مجلز نے ’’تحت السرة‘‘ (ناف کے نیچے) کہا ہے اور یہ بات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔
758- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَخْذُ الأَكُفِّ عَلَى الأَكُفِّ فِي الصَّلاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ.
قَالَ أَبودَاود: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ الْكُوفِيَّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۹۴) (ضعیف) (اس سند میں بھی عبدا لرحمن بن اسحاق ہیں)
۷۵۸- ابو وائل کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صلاۃ میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا (سنت ہے)۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبد الرحمن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔
759- حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى؛ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ، وَهُوَ فِي الصَّلاةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۸۲۹) (صحیح) (دو صحابہ ’’وائل اور ہلب‘‘ رضی اللہ عنہما کی صحیح مرفوع روایات سے تقویت پا کر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے)
۷۵۹- طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ صلاۃ میں ہوتے۔