- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
140- بَاب تَمَامِ التَّكْبِيرِ
۱۴۰- باب: تکبیر پوری کہنے کا بیان
۱۴۰- باب: تکبیر پوری کہنے کا بیان
835- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي وَقَالَ: لَقَدْ صَلَّى هَذَا قَبْلُ، أَوْ قَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا قَبْل صَلاة مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۱۶ (۷۸۶)، ۱۴۴ (۸۲۶)، م/الصلاۃ ۱۰ (۳۹۳)، ن/الافتتاح ۱۲۴ (۱۰۸۳)، والسھو ۱ (۱۱۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۴۲۹، ۴۳۲،۴۰۰، ۴۴۴) (صحیح)
۸۳۵- مطرف کہتے ہیں: میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے صلاۃ پڑھی تو جب وہ سجدہ کرتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے، جب رکوع کرتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے اور جب دو رکعت پڑھ کر تیسری کے لئے اٹھتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے، جب ہم فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابھی انہوں نے ایسی صلاۃ پڑھی ہے (راوی کو شک ہے) یا ابھی ہمیں ایسی صلاۃ پڑھائی ہے، جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ ہوتی تھی۔
836- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أُبَيٌّ، وَبَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا: يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي اثْنَتَيْنِ، فَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلاةِ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، إِنْ كَانَتْ [هَذِهِ] لَصَلاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.
قَالَ ابو داود : هَذَا الْكَلامُ الأَخِيرُ يَجْعَلُهُ مَالِكٌ [وَالزُّبَيْدِيُّ] وَغَيْرُهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ ابْنِ حُسَيْنٍ، وَوَافَقَ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۱۵ (۷۸۵)، ۱۲۸ (۸۰۳)، ن/الافتتاح ۸۴ (۱۰۲۴)، والتطبیق ۹۴ (۱۱۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۶۴)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۴ (۱۹)، حم (۲/۲۳۶، ۲۷۰، ۳۰۰، ۳۱۹، ۴۵۲، ۴۹۷، ۵۰۲، ۵۲۷، ۵۳۳)، دي/الصلاۃ ۴۰ (۱۲۸۳) (صحیح)
۸۳۶- زہری کہتے ہیں: مجھے ابو بکر بن عبد الرحمن اور ابو سلمہ نے خبر دی ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرض ہو یا نفل ہر صلاۃ میں تکبیر کہتے تھے خواہ فرض ہو یا نفل، صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے وقت تکبیر (تحریمہ) کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر ’’سمع الله لمن حمده‘‘ کہتے، اس کے بعد سجدہ کرنے سے پہلے ’’ربنا ولك الحمد‘‘ کہتے، پھر جب سجدے میں جانے لگتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے ، پھر جب (دوسرے) سجدے میں جاتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے، پھر جب دو رکعت پڑھ کر اٹھتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے، ایسے ہی ہر رکعت میں صلاۃ سے فارغ ہونے تک (تکبیر) کہتے ۱؎، پھر جب صلاۃ سے فارغ ہو جاتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ سے، اسی طرح آپ کی صلاۃ تھی یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
ابو داود کہتے ہیں:اس کے آخری ٹکڑے یعنی ’’إِنْ كَانَتْ [هَذِهِ] لَصَلاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا‘‘ کو مالک اور زبیدی وغیرہ زہری کے واسطہ سے علی بن حسین سے مرسلاً نقل کرتے ہیں اور عبد الاعلی نے بواسطہ معمر زہری کے دونوں شیوخ ابو بکر بن عبدالرحمن اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن کے ذکر کرنے میں شعیب بن ابی حمزہ کی موافقت کی ہے ۲؎۔
وضاحت۱؎: اس طرح دو رکعت والی صلاۃ میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت کی صلاۃ میں ۲۲ تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض صلاۃ میں کل (۹۴) تکبیریں ہوئیں جس میں سے صرف تکبیر تحریمہ فرض ہے اور باقی سبھی سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں توصلاۃ ہو جائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہو جائے گی۔
وضاحت۲؎: جب کہ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے صرف ’’أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن‘‘ کہا ہے ابو سلمہ کا ذکر نہیں کیا ہے اور مالک نے ابن شہاب سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے صرف ’’عن أبي سلمة بن عبدالرحمن‘‘ کہا ہے ابو بکر بن عبد الرحمن کا ذکر نہیں کیا ہے اس کے برخلاف ابن شہاب کے تلامذہ میں سے شعیب بن ابی حمزہ نے ابن شہاب کے دونوں شیوخ کا ذکر کیا ہے اسی طرح عبد الاعلیٰ نے بواسطہ معمر عن زہری دونوں کا ذکر کیا ہے۔
837- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: الشَّامِيِّ، وقَالَ ابو داود : أَبُو عَبْدِاللَّهِ الْعَسْقَلانِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَكَانَ لا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ.
قَالَ أَبودَاود: مَعْنَاهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَأَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ لَمْ يُكَبِّرْ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يُكَبِّرْ۔
* تخريج:تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۰۷) (ضعیف) (اس کے راوی ’’حسن بن عمران‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز حدیث میں اضطراب ہے)
۸۳۷- عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھی اور آپ تکبیر مکمل نہیں کرتے تھے۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے اور جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے اور جب سجدے سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے۱؎۔
وضاحت۱؎: صحیح روایتوں سے سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے باقی سبھی حرکات میں اللہ اکبر کہنا ثابت ہے۔