• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
200-بَاب مَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ
۲۰۰- باب: دو رکعت پر بغیر تشہد پڑھے اٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو کرے؟​


1034- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ وَانْتَظَرْنَا التَّسْلِيمَ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۴۶ (۸۲۹)، ۱۴۷ (۸۳۰)، والسھو ۱ (۱۲۲۴)، ۵ (۱۲۳۰)، والأیمان ۱۵ (۶۶۷۰)، م/المساجد ۱۹ (۵۷۰)، ت/الصلاۃ ۱۷۲ (۳۹۱)، ن/التطبیق ۱۰۶ (۱۱۷۸، ۱۱۷۹)، والسھو ۲۸ (۱۲۶۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۱ (۱۲۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۵۴)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۱۷(۶۵)، حم (۵/۳۴۵، ۳۴۶)، دي/الصلاۃ ۱۷۶ (۱۵۴۰) (صحیح)

۱۰۳۴- عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور قعدہ (تشھد) نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی صلاۃ پوری کر لی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے ’’الله أكبر‘‘ کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔

1035- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَبَقِيَّةُ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ وَحَدِيثِهِ، زَادَ: < وَكَانَ مِنَّا الْمُتَشَهِّدُ فِي قِيَامِهِ >.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ سَجَدَهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ وَهُوَ قَوْلُ الزُّهْرِيِّ.
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۵۴) (صحیح)

۱۰۳۵- اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
201-بَاب مَنْ نَسِيَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَهُوَ جَالِسٌ
۲۰۱- باب: جو شخص قعدہ میں بیٹھا ہو اور تشہد پڑھنا بھول جائے وہ کیا کرے؟​


1036- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ -يَعْنِي الْجُعْفِيَّ- قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الأَحْمَسِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < إِذَا قَامَ الإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ >.
[قَالَ أَبودَاود: وَلَيْسَ فِي كِتَابِي عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ إِلا هَذَا الْحَدِيثُ]۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۵۷ (۳۶۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۱ (۱۲۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۵۳، ۲۵۴)، دي/الصلاۃ ۱۷۶(۱۵۴۲)(صحیح)

(جابر جعفی کی کئی ایک متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ جابر ضعیف راوی ہیں، دیکھئے: ارواء الغلیل: ۳۸۸ و صحیح سنن أبی داود ۹۴۹)
۱۰۳۶- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے، اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔

1037- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاتَهُ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ .
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَرَفَعَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ.
قَالَ أَبودَاود: أَبُو عُمَيْسٍ أَخُو الْمَسْعُودِيِّ، وَفَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمُغِيرَةُ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ أَفْتَى بِذَلِكَ، وَعُمَرُ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
قَالَ أَبودَاود: وَهَذَا فِيمَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدُوا بَعْدَ مَا سَلَّمُوا۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۵۲ (۳۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۷، ۲۵۳، ۲۵۴)، دي/الصلاۃ ۱۷۶(۱۵۴۲)(صحیح)
(مسعودی مختلط راوی ہیں، لیکن ان کے کئی متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں)
۱۰۳۷- زیاد بن علا قہ کہتے ہیں: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں صلاۃ پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے، ہم نے ’’سبحان الله‘‘ کہا، انہوں نے بھی ’’سبحان الله‘‘ کہا اور (واپس نہیں ہوئے) صلاۃ پڑھتے رہے، پھر جب انہوں نے اپنی صلاۃ پوری کر لی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے، پھر جب صلاۃ سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے، جیسے میں نے کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح اِسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے مر فوع قرار دیا ہے، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبیدسے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں صلاۃ پڑھائی، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔
ابو داود کہتے ہیں: ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ، عمران بن حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان نے کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبد العزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لئے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں، انہیں چاہئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔

1038- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، بِمَعْنَى الإِسْنَادِ أَنَّ ابْنَ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلاعِيِّ، عَنْ زُهَيْرٍ -يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْعَنْسِيَّ- عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ عَمْرٌو وَحْدَهُ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ >، وَلَمْ يَذْكُرْ < عَنْ أَبِيهِ > غَيْرُ عَمْرٍو۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۶ (۱۲۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۰) (حسن)

۱۰۳۸- ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: آپ نے فرمایا: ’’ہر سہو کے لئے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں‘‘، عمرو کے سوا کسی نے بھی (اس سند میں) ’’عن أبيه‘‘ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
202- بَاب سَجْدَتَيِ السَّهْوِ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ
۲۰۲- باب: سجدہ سہو کر کے تشہد پڑھنے اور سلام پھیرنے کا بیان​


1039- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ -يَعْنِي الْحَذَّاءَ- عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، ثُمَّ سَلَّمَ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۷۸ (۳۹۵)، ن/السہو ۲۳ (۱۲۳۷)، والکبری/ صفۃ الصلاۃ ۵۸ (۱۱۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۸۵) (شاذ)
(اشعث حمرانی کے سوا کسی کی روایت میں ’’تشھد‘‘ کا تذکرہ نہیں ہے)
۱۰۳۹- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صلاۃ پڑھائی اور آپ بھول گئے تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
203-بَاب انْصِرَافِ النِّسَاءِ قَبْلَ الرِّجَالِ مِنَ الصَّلاةِ
۲۰۳- باب: صلاۃ سے فارغ ہو کر مردوں سے پہلے عورتوں کے واپس جانے کا بیان​


1040- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلا، وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذُ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۵۲ (۸۳۷)، ۱۵۷ (۸۴۹)، ۱۶۳ (۸۶۶)، ۱۶۷ (۸۷۰)، ن/السھو۷۷ (۱۳۳۴)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۳۳ (۹۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۶، ۳۱۰، ۳۱۶) (صحیح)
(وکانوا یرون أن ذلک... مدرج اور زہری کا قول ہے)
۱۰۴۰- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (صلاۃ سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مر دوں سے پہلے چلی جائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
204-بَاب كَيْفَ الانْصِرَافُ مِنَ الصَّلاةِ؟
۲۰۴- باب: صلاۃ سے فارغ ہو کر کس طرف سے پلٹنا چاہئے؟​


1041- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ رَجُلٍ مِنْ طَيّئٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِقَّيْهِ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۱۳ (۳۰۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۳۳ (۹۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۶) (حسن صحیح)
(اگلی حدیث نمبر: (۱۰۴۲) سے تقویت پا کر یہ حسن صحیح ہے)
۱۰۴۱- ہلب طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (صلاۃ سے فا رغ ہو کر) اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے (کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے)۔

1042- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ [بْنِ عُمَيْرٍ]، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: لا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلاتِهِ أَنْ لايَنْصَرِفَ إِلا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَكْثَرُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ عُمَارَةُ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ يَسَارِهِ.
* تخريج: خ/الأذان ۱۵۹ (۸۵۲)، م/المسافرین ۷ (۷۰۷)، ن/السھو ۱۰۰ (۱۳۶۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۳۳ (۹۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۷۷)، و قد أخرجہ: حم (۱/۳۸۳، ۴۲۹، ۴۶۴)، دي/الصلاۃ ۸۹ (۱۳۹۰) (صحیح)

۱۰۴۲- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی صلاۃ کا کچھ حصہ شیطان کے لئے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے، عمارہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو (بحالتِ صلاۃ) آپ کے بائیں جانب دیکھا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے آپ کے مصلیٰ سے (بحالتِ صلاۃ) بائیں جانب پڑتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بائیں جانب مڑتے اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
205- بَاب صَلاةِ الرَّجُلِ التَّطَوُّعَ فِي بَيْتِهِ
۲۰۵- باب: آدمی کے اپنے گھر میں نفل پڑھنے کا بیان​


1043- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ [مُحَمَّدِ بْنِ] حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاتِكُمْ، وَلاتَتَّخِذُوهَا قُبُورًا >۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۵۲ (۴۳۲)، والتھجد ۳۷ (۱۱۸۷)، م/المسافرین ۲۹ (۷۷۷)، ت/الصلاۃ ۲۱۴ (۴۵۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۶ (۱۳۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۱۴۲)، وقد أخرجہ: ن/قیام اللیل ۱ (۱۵۹۹)، حم (۲/۶، ۱۶، ۱۲۳) ویأتي برقم: (۱۴۴۸) (صحیح)

۱۰۴۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم لوگ اپنی بعض صلاتیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ‘‘۔

1044- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < صَلاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاتِهِ فِي مَسْجِدِي هَذَا، إِلا الْمَكْتُوبَةَ>۔
* تخريج: خ/الأذان ۸۱ (۷۳۱)، والأدب ۷۵ (۶۱۱۳)، والاعتصام ۳ (۷۲۹۰)، م/المسافرین ۲۹ (۷۸۱)، ن/قیام اللیل ۱ (۱۶۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۹۸)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۱۹ (۴۵۰)، ط/ صلاۃ الجماعۃ ۱ (۴)، حم (۵/ ۱۸۲، ۱۸۴، ۱۸۶، ۱۸۷)، دي/الصلاۃ ۹۶ (۱۴۰۶) ویأتی ہذا الحدیث برقم (۱۴۴۷) (صحیح)

۱۰۴۴- زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدمی کی صلاۃ اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں صلاۃ سے افضل ہے سوائے فرض صلاۃ کے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
206-بَاب مَنْ صَلَّى لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ عَلِمَ
۲۰۶- باب: غیر قبلہ کی طرف صلاۃ پڑھ رہا ہو پھر قبلے کا صحیح علم ہو جائے تو کیا کرے؟​

1045- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ: أَلا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ، مَرَّتَيْنِ، فَمَالُوا كَمَا هُمْ رُكُوعٌ إِلَى الْكَعْبَةِ۔
* تخريج: م/المساجد ۲ (۵۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۸۴) (صحیح)

۱۰۴۵- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے صلاۃ پڑھ رہے تھے، جب آیت کر یمہ:{فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ}۱؎ نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ صلاۃ فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دوبار آواز دی: لوگو! آگاہ ہو جاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے (یہ حکم سنتے ہی) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔
وضاحت۱؎: ’’یعنی اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں‘‘ (سورۃ البقرۃ:۱۵۰)۔


* * * * *
* * *
*​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ }
جمعہ کے احکام ومسائل


207- بَاب فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ
۲۰۷- باب: جمعہ کے دن اور رات کی فضیلت کا بیان​


1046- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : <خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ: فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ؛ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَامِنْ دَابَّةٍ إِلا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلا الْجِنَّ وَالإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا >، قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ، فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ سَلامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ، فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَلامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي بِهَا، فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَلامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي > وَتِلْكَ السَّاعَةُ لا يُصَلِّي فِيهَا؟ فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَلامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ فَهُوَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟ > قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هُوَ ذَاكَ۔
* تخريج: ت/الجمعۃ ۲ (۴۹۱)، ن/الجمعۃ ۴۴ (۱۴۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۲۵، ۱۵۰۰۰)، وقد أخرجہ: خ/الجمعۃ ۳۷ (۹۳۵)، والطلاق ۲۴ (۵۲۹۴)، والدعوات ۶۱ (۶۴۰۰)، (في جمیع المواضع مقتصراً علی قولہ: فیہ الساعۃ …) م/الجمعۃ ۴ (۸۵۲)، ۵ (۸۵۴ ببعضہ)، ن/الجمعۃ ۴ (۱۳۷۴)، ۴۵ (۱۴۳۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۹۹ (۱۱۳۷)، ط/صلاۃ الجمعۃ ۷ (۱۶)، حم (۲/۲۳۰، ۲۵۵، ۲۵۷، ۲۷۲، ۲۸۰، ۲۸۴، ۴۰۱، ۴۰۳، ۴۵۷، ۴۶۹، ۴۸۱، ۴۸۹)، دي/الصلاۃ ۲۰۴ (۱۶۱۰) (صحیح)


۱۰۴۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہو گی، انس و جن کے علاوہ سبھی جا ندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ صلاۃ پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پا لے، پھر اللہ تعالی سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو (ضرور) دے گا‘‘۔
کعب الا حبار نے کہا: یہ ساعت (گھڑی) ہر سال میں کسی ایک دن ہ تی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) کیسے ہو سکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ صلاۃ پڑھ رہا ہو‘‘ ، اور اس وقت میں صلاۃ تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ’’جو شخص صلاۃ کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماََ صلاۃ ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ صلاۃ نہ پڑھ لے‘‘، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے۱؎ ۔
وضاحت : صلاۃ پڑھتے ہوئے سے یہ مراد نہیں کہ وہ فی الواقع صلاۃ پڑھ رہا ہو بلکہ مقصود یہ ہے کہ جو صلاۃ کا انتظار کر رہا ہو وہ بھی اس شخص کے مثل ہے جو صلاۃ کی حالت میں ہو۔
اس ساعت (گھڑی) کے سلسلہ میں علماء کے درمیان بہت اختلاف ہے، راجح عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ گھڑی امام کے خطبہ کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر صلاۃ کے ختم ہونے تک ہے، اس گھڑی کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کی تلاش میں پورے دن عبادت و دعا میں مشغول و منہمک رہے۔

1047- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ >، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ يَقُولُونَ: بَلِيتَ، فَقَالَ: < إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ >۔
* تخريج: ن/الجمعۃ ۵ (۱۳۷۵)، ق/الجنائز ۶۵ (۱۶۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸)، دي/الصلاۃ ۲۰۶ (۱۶۱۳) (صحیح)


۱۰۴۷- اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی۱؎ اس لئے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے‘‘۔
اوس بن اوس کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ (مر کر) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کر دیا ہے‘‘۔
وضاحت : جس کی ہولناکی سے سارے لوگ مر جائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
208- بَاب الإِجَابَةِ أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟
۲۰۸-باب: جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی گھڑی کون سی ہے؟​


1048- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- أَنَّ الْجُلاحَ مَوْلَى عَبْدِالْعَزِيزِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ- حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: < يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ -يُرِيدُ سَاعَةً- لا يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلا أَتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ >۔
* تخريج: ن/الجمعۃ ۱۴ (۱۳۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۵۷) (صحیح)

۱۰۴۸- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جمعہ کا دن بارہ ساعت (گھڑی) کا ہے، اس میں ایک سا عت (گھڑی) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالی سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت (گھڑی) میں تلا ش کرو‘‘۔

1049- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي شَأْنِ الْجُمُعَةِ يَعْنِي السَّاعَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلاةُ >.
قَالَ أَبودَاود: يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ.
* تخريج: م/الجمعۃ ۴ (۸۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۷۸) (صحیح)
(بعض حفاظ نے اس کو ابو بردہ کا قول بتایا ہے، اور بعض نے اس کو مرفوع حدیث کے مخالف گردانا ہے، جس میں صراحت ہے کہ یہ عصر کے بعد کی گھڑی ہے، (جبکہ ابو ہریرہ و جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے یہاں یہ ساعت (گھڑی) دن کی آخری گھڑی ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری)
۱۰۴۹- ابو بردہ بن ابی موسی اشعری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ (ساعت) امام کے بیٹھنے سے لے کر صلاۃ کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یعنی منبر پر (بیٹھنے سے لے کر)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
209-بَاب فَضْلِ الْجُمُعَةِ
۲۰۹- باب: جمعہ کی فضیلت کا بیان​

1050- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا>۔
* تخريج: م/الجمعۃ ۸ (۸۵۷)، ت/الجمعۃ ۵ (۴۹۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۶۲ (۱۰۲۵)، ۸۱ (۱۰۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۲۴) (صحیح)

۱۰۵۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لئے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی‘‘۔
وضاحت: مراد گناہ صغیرہ ہیں۔

1051- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَائٌ الْخُرَاسَانِيُّ؛ عَنْ مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ يَقُولُ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ غَدَتِ الشَّيَاطِينُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الأَسْوَاقِ فَيَرْمُونَ النَّاسَ بِالتَّرَابِيثِ، أَوِالرَّبَائِثِ وَيُثَبِّطُونَهُمْ عَنِ الْجُمُعَةِ، وَتَغْدُو الْمَلائِكَةُ فَيَجْلِسُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَيَكْتُبُونَ الرَّجُلَ مِنْ سَاعَةٍ وَالرَّجُلَ مِنْ سَاعَتَيْنِ حَتَّى يَخْرُجَ الإِمَامُ، فَإِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلانِ مِنْ أَجْرٍ [فَإِنْ نَأَى وَجَلَسَ حَيْثُ لا يَسْمَعُ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ لَهُ كِفْلٌ مِنْ أَجْرٍ] وَإِنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنَ الاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ وِزْرٍ، وَمَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِصَاحِبِهِ: صَهٍ، فَقَدْ لَغَا، وَمَنْ لَغَا فَلَيْسَ لَهُ فِي جُمُعَتِهِ تِلْكَ شَيْئٌ، ثُمَّ يَقُولُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ ذَلِكَ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ قَالَ: بِالرَّبَائِثِ، وَقَالَ: مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ ابْنِ عَطَاء۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۳) (ضعیف)

(اس کے راوی ’’عطاء خراسانی‘‘ ضعیف، اور ’’مولی امرأتہ‘‘ مجہول ہیں)
۱۰۵۱- عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے کوفہ کے منبر پر علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتے ہیں اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کران کو جمعہ میں آنے سے روکتے ہیں اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آکر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت (گھڑی) میں آیا، اور کون دوسری ساعت (گھڑی) میں آیا، یہاں تک کہ امام (خطبہ جمعہ کے لئے) نکلتا ہے، پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے، جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور (دوران خطبہ) چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا، لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا، جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن (دوران خطبہ) بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے (بغل کے) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اُسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا، پھر وہ اس روایت کے اخیرمیں کہتے ہیں: میں نے اِسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔
ابو داود کہتے ہیں: اِسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔ اس میں بغیر شک کے ’’بِالرَّبَاْئِثْ‘‘ ہے، نیز اس میں ’’مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍٰ‘‘ ہے۔
 
Top