201-بَاب مَنْ نَسِيَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَهُوَ جَالِسٌ
۲۰۱- باب: جو شخص قعدہ میں بیٹھا ہو اور تشہد پڑھنا بھول جائے وہ کیا کرے؟
1036- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ -يَعْنِي الْجُعْفِيَّ- قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الأَحْمَسِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < إِذَا قَامَ الإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ >.
[قَالَ أَبودَاود: وَلَيْسَ فِي كِتَابِي عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ إِلا هَذَا الْحَدِيثُ]۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۵۷ (۳۶۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۱ (۱۲۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۵۳، ۲۵۴)، دي/الصلاۃ ۱۷۶(۱۵۴۲)(صحیح)
(جابر جعفی کی کئی ایک متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ جابر ضعیف راوی ہیں، دیکھئے: ارواء الغلیل: ۳۸۸ و صحیح سنن أبی داود ۹۴۹)
۱۰۳۶- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے، اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
1037- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاتَهُ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ .
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَرَفَعَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ.
قَالَ أَبودَاود: أَبُو عُمَيْسٍ أَخُو الْمَسْعُودِيِّ، وَفَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمُغِيرَةُ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ أَفْتَى بِذَلِكَ، وَعُمَرُ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
قَالَ أَبودَاود: وَهَذَا فِيمَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدُوا بَعْدَ مَا سَلَّمُوا۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۵۲ (۳۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۷، ۲۵۳، ۲۵۴)، دي/الصلاۃ ۱۷۶(۱۵۴۲)(صحیح) (مسعودی مختلط راوی ہیں، لیکن ان کے کئی متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں)
۱۰۳۷- زیاد بن علا قہ کہتے ہیں: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں صلاۃ پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے، ہم نے ’’سبحان الله‘‘ کہا، انہوں نے بھی ’’سبحان الله‘‘ کہا اور (واپس نہیں ہوئے) صلاۃ پڑھتے رہے، پھر جب انہوں نے اپنی صلاۃ پوری کر لی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے، پھر جب صلاۃ سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے، جیسے میں نے کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح اِسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے مر فوع قرار دیا ہے، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبیدسے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں صلاۃ پڑھائی، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔
ابو داود کہتے ہیں: ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ، عمران بن حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان نے کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبد العزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لئے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں، انہیں چاہئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔
1038- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، بِمَعْنَى الإِسْنَادِ أَنَّ ابْنَ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلاعِيِّ، عَنْ زُهَيْرٍ -يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْعَنْسِيَّ- عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ عَمْرٌو وَحْدَهُ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ >، وَلَمْ يَذْكُرْ < عَنْ أَبِيهِ > غَيْرُ عَمْرٍو۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۶ (۱۲۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۰) (حسن)
۱۰۳۸- ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: آپ نے فرمایا: ’’ہر سہو کے لئے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں‘‘، عمرو کے سوا کسی نے بھی (اس سند میں)
’’عن أبيه‘‘ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔