- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
200- بَاب مَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ
۲۰۰- باب: دو رکعت پر بغیر تشہد پڑھے اٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو کرے؟
۲۰۰- باب: دو رکعت پر بغیر تشہد پڑھے اٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو کرے؟
1034- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ وَانْتَظَرْنَا التَّسْلِيمَ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۴۶ (۸۲۹)، ۱۴۷ (۸۳۰)، والسھو ۱ (۱۲۲۴)، ۵ (۱۲۳۰)، والأیمان ۱۵ (۶۶۷۰)، م/المساجد ۱۹ (۵۷۰)، ت/الصلاۃ ۱۷۲ (۳۹۱)، ن/التطبیق ۱۰۶ (۱۱۷۸، ۱۱۷۹)، والسھو ۲۸ (۱۲۶۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۱ (۱۲۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۵۴)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۱۷(۶۵)، حم (۵/۳۴۵، ۳۴۶)، دي/الصلاۃ ۱۷۶ (۱۵۴۰) (صحیح)
۱۰۳۴- عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور قعدہ (تشھد) نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی صلاۃ پوری کر لی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے ’’الله أكبر‘‘ کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
1035- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَبَقِيَّةُ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ وَحَدِيثِهِ، زَادَ: < وَكَانَ مِنَّا الْمُتَشَهِّدُ فِي قِيَامِهِ >.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ سَجَدَهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ وَهُوَ قَوْلُ الزُّهْرِيِّ.
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۵۴) (صحیح)
۱۰۳۵- اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔